مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے

مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے
تقریباً ہر چوتھا بندہ آئی-ایس-پی-آر کے نغمے کے پیچھے پڑ گیا ہے کہ کیا پڑھانا ہے؟ کیوں پڑھانا ہے؟ پہلے اپنے بچوں کو پڑھاو! تقریباً دو دن اس نغمے کو غور سے دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر ہنچا ہوں کہ پیغام امن کی تعلیم کا دیا جا رہا ہے۔ تنقید اچھی چیز ہوتی ہے، یہ ہمیں اپنی کمزوریاں دکھاتی ہے اور ان کا حل ڈھونڈنے میں مدد دیتی ہے، لیکن سوشل میڈٰیا پر اکثر ناقد شاید فنِ تنقید بھی نہیں جانتے ہیں۔ اچھا ناقد وہ ہے جو تنقید کرے اور پھر کوئی حل بیان کرے، پھبتی کسنے اور تنقید کرنے میں بڑا فرق ہے۔ نیز ہر چیز میں کیڑے نکال کر ہم خود کو تجزیہ کار یا دانشور ثابت نہیں کرسکتے ہیں۔ تنقید پسندوں کو خود پرتنقید بھی برداشت کرنی چاہیئے اور اگر پیش کیے گئے دلائل پر بہتر رد پیش کیا جائے تو اپنی رائے تبدیل کر لینی چاہیئے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں لگتا ہے کچھ لوگوں نے افواجِ پاکستان یا کم از کم آئی-ایس-پر-آر کے ساتھ رنج پال رکھا ہے۔

تقریباً ہر چوتھا بندہ آئی-ایس-پی-آر کے نغمے کے پیچھے پڑ گیا ہے کہ کیا پڑھانا ہے؟ کیوں پڑھانا ہے؟ پہلے اپنے بچوں کو پڑھاو! تقریباً دو دن اس نغمے کو غور سے دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر ہنچا ہوں کہ پیغام امن کی تعلیم کا دیا جا رہا ہے۔
پہلی بات تو یہ کہ آئی-ایس-پر-آر کا کام جنگ لڑنا نہیں ہے، یہ ادارہ نوے کی دہائی میں پاسبان نامی پروگرام نشر کیا کرتا تھا، اس نے پاکستان کو کچھ بہترین ڈرامے دیئے، اب فلمیں بھی بنا رہا ہے اور یہ ملی نغمے بھی تواتر سے بناتا ہے۔ پبلک رلیشنز ڈیپارٹمنٹ جو دوسری جنگِ عظیم سے پہلے پروپگنڈا ڈیپارٹمنٹ کہلاتا تھا اور اردو میں دفترِ تریج و ابلاغ کہلائے گا، اس کا کام لوگوں تک معلومات پہنچانا، افواج اور عوام کا مورال بلند کرنا اور دشمن کا مورال گرانا بھی ہوتا ہے۔ رہ گئی بات لڑائی کی تو پچھلے ایک سال سے پاکستانی ہر محاذ پر دہشت گری سے نبرد آزما ہیں، افواج اور عوام دونوں شہید ہو رہے ہیں۔

پھر پوچھتے ہیں پہلے خود تو پڑھ لیں، اپنے بچوں کو تو پڑھا لیں پھر کسی اور کے بچوں کو پڑھائیے گا! تو پھر سنئیے، پچھلے دورِ حکومت میں آئین میں آرٹیکل 25 الف کی شق شامل کی گئی تھی۔ یہ شق ریاست کو پابند کرتی ہے کہ وہ6 تا 12 سال کے ہر بچے کو مفت تعلیم فراہم کرے۔ یہ الگ بات ہے کہ ریاست ایسا کر نہیں پا رہی ہے، ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، تعلیم کا بجٹ 2 فیصد کے لگ بھگ ہے وہ بھی پورا خرچ نہیں ہوتا ہے اور واپس لوٹ جاتا ہے، ہر صوبے میں گھوسٹ اسکول اور گھوسٹ اساتذہ مجود ہیں جو ہمارے ٹیکس ڈکارے جارہے ہیں۔ اگر آپ کو اتنا ہی درد ہے تو اپنے علاقے میں قائم سرکاری اسکول پر دھاوا بول دیں جی ہاں! دھاوا! اسکول کی اسکول مینجمنٹ کمیٹی کے رکن بن جائیں، اساتذہ کو پابند کریں کہ غیر حاضر نہ ہوں، علاقے کے مستحق بچوں کو اسکول لایئں، عوام کو آرٹیکل 25اے کے بارے میں بتائیں۔ اور اگر یہ کام کرنے کی ہمت نہیں ہے تو چپ ہوجائیں۔ اگر آپ تعلیم کے لیے کچھ نہیں کر سکتے اور اگر بچے یہ عہد کر رہے ہیں تو کم سے کم ان کی حوصلہ شکنی نہ کریں۔

پھر سوال کرتے ہیں کون سی تعلیم دیں گے؟ کون سا نصاب پڑھائیں گے؟ کون سے بوڑد کا اطلاق ہوگا؟ ویڈیو غور سے دیکھیں بچے امن کا پرچار کر رہے ہیں۔ امن، انسانی حقوق، انسانیت اور خود شناسی سے قائم ہوتا ہے۔ البتہ یہ مضامین عموماً ہمارے اسکولوں بطور نصاب پڑھائے ہی نہیں جاتے ہیں، لیکن ان کو بڑے آرام سے ڈھونڈا، سیکھا اور سکھایا جاسکتا ہے، جیسے یہ بچے پر امن پیغامات بنا اور دکھا رہے تھے۔ اگر ہمیں موجودہ نصاب سے اختلاف ہے تو خود آگے بڑھنا چاہیئے اور اس میں موجود خامیوں کو اجاگر کر کے ان کا حل پیش کرنا چاہیئے۔

یہ نغمہ 'مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے' اور اس پہلے آنے والا نغمہ دونوں ایک بچے کی منظر کشی کرتے ہیں جو اپنے والدین اور پورے معاشرے سے ہم کلام ہے۔ پچھلے نغمے میں اس بچے نے اپنے دشمنوں کو آئینہ دکھایا تھا کہ تم نے پھول سے بچوں کو جان بوجھ کر کچلا ہے۔ اور نئے نغمے میں وہی بچہ ایک نئے عزم کا اظہار کر رہا ہے، لیکن یہ بچہ کم ظرف نہیں ہے! یہ ایک معصوم طالبعلم تھا اور اس کا بدلہ بھی بے ضرر اور معصومانہ ہے، یہ اپنے اوپر حملہ کرنے والوں کے بچوں کو پڑھانا چاہتا ہے۔ آخر تعلیم کے دشمنوں سے اس سے بہتر بدلہ کیا لیا جا سکتا ہے کہ اس کی آنے والی نسلوں کو تعلیم دی جائے۔ ہاں تعلیم دینے سے پہلے یہ فیصلہ بھی ضروری ہے کہ تعلیم سب کے لیے ہو اور ایسی نہ ہو جو ہمارے تعلیمی اداروں میں ہی شدت پسند پیدا کر تی ہے۔

اچھا اگر ناقدین کی بات مان لیں اور یہ جملہ تبدیل کردیں تو، اس کی جگہ یہ بچہ کیا کہے؟
مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے!
مجھے دشمن کے بچوں کو سولی چڑھانا ہے؟ یا پھر مجھے دشمن کے بچوں کو موت کے گھاٹ اتارنا ہے؟
ہم اپنے بچوں کو کیسا بیانیہ دینا چاہتے ہیں؟

اس نغمے پر کیے جانے والے اعتراضات کو بھی ایک مثبت صورت میں قبول کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ ماضی میں ہم اپنے بچوں کو شدت پسند بناتے رہے ہیں، ہماری افواج اور ریاست بچوں کو جہاد اور قتال کا نصاب پڑھاتی رہی ہے اور یقیناً اس روش کو بدلنا ضروری ہے اور مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچنے کا سبق صرف بچوں کو ہی نہیں بڑوں کو بھی سیکھنا ہے۔
بہت سے لوگ شاید بھولے بن گئے ہیں، میڈیا تو شاید ڈر، خوف یا پھر کسی اور مصلحت کے باعث دشمن کا نام نہیں لیتا ہے لیکن دشمن نے خود اس جرم کا اقبال کیا تھا اور اپنے آئندہ عزائم کا بھی عندیہ بھی دے دیا تھا۔ یہی عزم ملالہ یوسف زئی کا بھی ہے جس نے طالبان اور دہشت گردی کو تعلیم سے شکست دینے کی بات کی۔ اس نغمے پر کیے جانے والے اعتراضات کو بھی ایک مثبت صورت میں قبول کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ ماضی میں ہم اپنے بچوں کو شدت پسند بناتے رہے ہیں، ہماری افواج اور ریاست بچوں کو جہاد اور قتال کا نصاب پڑھاتی رہی ہے اور یقیناً اس روش کو بدلنا ضروری ہے اور مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچنے کا سبق صرف بچوں کو ہی نہیں بڑوں کو بھی سیکھنا ہے۔
پچھلے سال جب اس سانحہ کے بعد پہلا نغمہ جاری کیا گیا تھا تو اس کے چند دن بعد ہی طالبان نے اس کا جوابی نغمہ جاری کردیا تھا، اس میں دشمن نے اقرار کیا تھا کے یہ حملہ اس نے کیا ہے اور اس کے بعد اس کا بھائی یہ عمل دہرائے گا (اس موقع پر ایک کم سن بچہ بندوق تھامے نظر آتا ہے)۔ یہ ان کا بیانیہ اور ان کا نظریہ تھا، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم اپنے بچوں کو امن کا پرچار کرنے کی تلقین کر رہے ہیں نہ کے خون خرابے کی۔

ایک اعتراض بجا ہے، کہ صرف اس سانحہ پر ہی نغمات کا اجرا کیوں کیا گیا اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کا اعادہ کیوں ہوا؟ تھر میں بھی تو بچے بھوک سے بلک بلک کر جاں بحق ہوگئے تھے، ہزاروں نوجوانان اور بچے امام بارگاہوں، مساجد اور گرجا گھروں میں ہونے والے خود کش حملوں میں جاں بحق ہوئے ہیں، ان کے لواحقین کی بھی دل جوئی ہونی چاہیئے تھی، ان کی بھی ڈھارس بندھانی چاہیئے تھی، ان کی شہادت کو بھی سلام پیش کرنا چاہیئے تھا۔ ہم سب کو یہ سمجھنا ہے کہ غیر ضروری پراپیگنڈے اور غیر ضروری تنقید کی بجائے آگے بڑھنے کا راستہ تعلیم اور سب بچوں کی تعلیم ہے۔ بچوں سے ان کی معصومیت نہ چھینیں، اس عزم پر لبیک کہیں اور اگر کوئی کمی بیشی ہے تو مدلل اعتراضات ضرور کیجیے اور اپنا نقطہ نظر غلط ہونے پر تبدیل کرنے کو بھی تیار رہیں۔
Andeel Ali

Andeel Ali

Andeel Ali is a training and development consultant associated with multiple organizations, having over seven years of experience in the Civil Society Sector. He blogs at Laaltain regularly and host shows at Radio Pakistan FM 93.


Related Articles

دو قومی نظریہ اور تقسیم ہند: تقسیم در تقسیم کی نفسیات

تقسیمِ ہند، تاریخ کا جبر تھا جو گیا۔ اب ہمارے مستقبل کا تحفظ اور فلاح، بالغ نظر ممالک کی طرح کنفیڈریشن بنا کر رہنے میں ہے۔ جہاں سرحدیں بس نام کی ہوں۔

The Saga of No Peace But Shariah

The Shariah that TTP wants is based on compulsion which is absolutely against the spirit of Quran and Sunnah and the principles of Islamic jurisprudence.

Public Trust and the Rise of Polio in Pakistan

Polio is an infectious viral disease which, if not prevented through administering polio drops in infants and children up to