مجھے معلوم کر لینا

مجھے معلوم کر لینا
مجھے معلوم کر لینا
مجھے معلوم کر لینا
کسی بجھتی ہوئی تاریخ کے ان حاشیوں اندر
جہاں کچھ ان کہی باتیں
ہمارے مشترک احساس کی تسبیح شاید اب بھی پڑھتی ہوں
مجھے لوگوں کے قصّوں میں نہ ملنا
اس کہانی کی طرف جانا
کہ جو تم نے ابھی لکھّی نہیں ھَے
صرف سوچی ھے .. !!
کبھی باہر گلی سے
گھر سے
یا دنیا کے دروازوں سے آتے شور سے تم تنگ آ جاو
تو کانوں سے نہ لڑ پڑنا
مجھے سننا
مِری آواز تم کو خامشی کے معبدوں کی یاترا پر لے کے جائے گی .. !
اگر یہ زندگی اپنے سوالوں میں کوئی خالی جگہ لائے
تمھیں محسوس ہو اب وقت بالکل بھی نہیں ھے
سوچنا مت
اور مجھے تحریر کر لینا
میں ہر خالی جگہ میں کام آوں گا .. !

(مجھے یہ نظم لکھتے وقت جن مصرعوں سے بچنا پڑ رھا ھے
خود سمجھ لینا)

کبھی بیٹھے بٹھائے
بے خیالی میں تمھاری انگلیاں ازخود تمھارے ہونٹ چھو جائیں
تو شرمندہ نہ ہونا
مسکرا دینا
یقیں کرنا
وہ لمحہ مجھ سوا کوئی نہیں ہو گا
اسے منظوم کر لینا
مجھے معلوم کر لینا ۔۔۔۔ !!

Image: Peter Zelei

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Join the debate

Your opinion, analysis and feedbacks are welcomed.

  • Razi Haider

    لکھنےوالے ان خالی جگہوں کی ٹوہ میں رہتے ہی ہیں۔اب ہم اپنی تصانیف سے وارد ہوتے ہیں یا وہ ہم سے ، وہ ھمیں لکھتی ہیں یا ھم انھیں ۔ معلوم نہیں ۔ علی آباد رہیں ، تم اور تمہاری تصانیف ۔ آفرین

Read More...

حسن چوزہ گر

پری زاد نیچے گٹر پر تیرے در کے آگے
یہ میں سوختہ سر حسن چوزہ گر ہوں
تجھے صبح بازار میں بوڑھے غدار ساجد کی دکان پر میں نے دیکھا
تو تیری نگاہوں میں وہ خوفناکی تھی، میں جس کی شدت سے نو ماہ مستانہ پھرتا رہا ہوں

کوئی ایسا شبد لکھے کوئی

کوئی ایسا شبد لکھے کوئی
جسے پڑھ کر اک حیرانی ہو
جسے کھول کے دیکھیں تو اس میں
ہر مشکل کی آسانی ہو

26 Poems on Physical Love and Sex

Did you enjoy reading this article?Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on