مجھے نہ کر وداع

مجھے نہ کر وداع

(جامعات کی سطح پر درس و تدریس میں ساٹھ برس گذارنے پر میرا حلفیہ بیان)

اس نظم کا فارمیٹ ن م راشد کی نظم کا مرہون منت ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے نہ کر وداع

مجھے نہ کر وداع پھر

 کہ اس سے پیشتر بھی میں

اناتھ، ناتواں، یتیم طفل

 اپنے آپ ہی

 تمہاری انگلی چھوڑ کر

 بچھڑ گیا تھا رونق ِ حیات کی فروش گاہ ِ علم  میں    ٰ؎

میں بے خبر

 اکھڑ گیا تھا سر بسر 

نہ چاہتے ہوئے بھی میں 

بھـٹک گیا تھا

 علم و فن کی جامعات کی اندھیری کھوہ میں 

نکل پڑا تھا

  ہفت خواں مفکروں کے قافلوں کی ٹوہ میں 

میں بے ریا تھا

 بات کا کھرا، مگر 

مجھے وداع کر کے، مجھ کو 

علم کی فسوں گری کی بھٹیوں میں جھونک کر

 مری اُٹھان روک دی

 مجھے نحیف کر دیا  

طبیعی سِن سے پیشتر 

مجھے ضعیف کر دیا!

 

مجھے نہ کر وداع پھر

کہ سر بہت کھپا چکا

دماغ اپنا کھا چکا

ادب کی درس گاہوں کے

قدیم مرگھٹوں میں لاکھوں بار پہلے جل چکی

پرانی میّتوں کے ساتھ

میں بھی اپنا جسم و جاں جلا چکا

مجھے نہ کر وداع!

 

مجھے نہ کر وداع پھر

کہ چاہتا ہوں اپنی رہتی عمر تک

میں تم سے منسلک رہوں

تمہارے ساتھ رہ کے میں بھی سُن سکوں

جو ’بے صدائی‘

 ’آنسوئوں کے آئینوں‘ کے آب میں اسیر ہے

جو ’حرف زیر ِ لب‘سی مست اَلست ہے

جو ’دست و پا کی نارسائی‘

عام آدمی کی زندگی کی چیز بست ہے

’سلام ِ روستائی‘ جو پِسے ہوئے ، دبے ہوئے

عوام کے جنم جنم کے دُکھ کی باز گشت ہے!

 

مجھے نہ کر وداع پھر

کہ ’حرف زیر ِ لب سا‘  میں

دبا دبا، رُکا رُکا

زباں کی بے صدائیوں کے گوش و ہوش کھو چھکا

میں بار بار، بار بار، بار بار رو چکا

مری زبان گُنگ ہے

سماع پردہ گوش ہے

کہ چھند، گائیکی، بھجن

غزل، سلام، مرثیہ

درود، حمد و نعت

مجھ سے ثقل گوش کے لیے

صدا و صوت کی نفی

اصم برائے ہوش ہے!

 

مجھے نہ کر وداع پھر

’شجر حجر ‘، وہ جانور، وہ طائران ِ خستہ پر

جو میرے حلفیہ بیان کے لیے

کھڑے ہیں نیچے باغ میں

میں کیا مکالمہ کروں گا اُن سے، میری ذات، بول

کہ مجھ سے تو سماع و صوت چھِن گئے

میں ’شہر ِ ہست‘ کی گلی میں

’نیستی کی گرد کی قبا میں سے سے پائوں تک

ڈھکا ہوا

مدام اپنا سر چھکائے

ملزموں سا صم بکم کھڑا ہوا

مجسمّہ ہوں سنگ کا

سماع ہوں نہ صوت ہوں

تواتر ِ حیات میں ہوں منجمد

نہ زندگی، نہ موت ہوں!

 

مجھے نہ کر وداع پھر

کہ یہ مکالمہ توعدلیہ کے بینچ و بار پر ڈٹے ہوئے

حکومتوں کی انتظامیہ میں حکمتوں کے پختہ کار

ٓآمروں کے حکم ِ خویش کا مطیع ہے

ذرا سمجھ یہ، ذات ِ من

کہ من وعن

مرا کمال صرف شعر و شاعری کے دائو گھات

کرتبوں کے فن کی ساحری نہ تھی

مرا ہنر نہیں تھا

بیچنا دکان ِ علم میں      ؎ٰ

پرائی عقل و فہم مہنگے نرخ پر!

مجھے تو نیچے ’ہال‘  میں

جو لوگ ہیں

انہی کے ساتھ

ہاتھ ہاتھ میں دیے

عَلم اٹھائے بڑھتے رہنا چاہیے تھا

آمروں کے سنگ گوش

عدلیوں، حکومتوں کی اونچی بلڈنگوں

 کے پھاٹکوں تلک!

 

مجھے نہ کر وداع پھر

کہ ایک بار مجھ کو خود سے دور کر کے

تم نے، میری ذات، مجھ کو

 جامعات کی غلام گردشوں میں

ایک چوکیدار سا

’ہمیشہ جاگتے رہو‘   ۲؎کے نا شنیدہ ورد پر لگا دیا

مجھے سبق پڑھا دیا

کہ سحر کار ِ بے نشاں

(جو شرق کا خدا نہ تھا!)

وہ خالق ِ جہاں

جو لازماں ارب کھرب  برس

فضول، بے ثمر حیاتِ خام جی چکا تھا۔۔۔۔

آج اپنی موت مر گیا!

کہ ’در رسالتوں ‘ کے بند ہو گئے

کہ ’مشرقی افق پہ عارفوں کے خواب‘

اپنے بے نمود بیج بو گئے

کہ ’شاعران ِ نو‘ ۔۔۔ ’رسالتوں کا بار‘

اپنے ناتواں ، نحیف کندوں پر لیے ہوئے

تھکے تھکے، قضا کی نیند سو گئے!

مجھے نہ کر وداع!

 

سمجھ تو، میری ذات، میری بات سُن

یہ درس درس ِ حق نہ تھا

خدا کی موت کب ہوئی؟

’شجر شجر، وہ جانور، وہ طائران ِ خستہ پر

عباد ِ آب و گل بشر‘

وبائوں کا شکار، بھُکمری کی مار سے تباہ

یہ بشر

کہ جن کی خستگی کا مستقل سبب

دیار ِ غرب کے خدائوں کی ہوس تو تھی، مگر

یہ خستہ حال لوگ خود تو گہری نیند سو گئے

اور اپنے سربراہ آمروں کے ظلم کا شکار ہو گئے

وہ سر براہ شرق کے

جنہیں کبھی عوام نے الیکشنوں میں اختیار ِ کل دیا

کبھی یہ مطلق العنان

اپنی عسکری کے زور و زعم میں

دیار شرق کی زمیں لتاڑتے پھرے

بلا دریغ سالہا تلک!

بہت غلط خیال تھا

کہ زرق و غرب کی حدود

ٹین کی سلیٹ پر

کھنچی لکیر سی مٹیں کی جلد یا بدیر

آخرش !

 

میں بوچھتا ہوں، ذاتِ من

خدا کو کیوں برا کہیں

یہ سوچ کر کہ اس نے اہلِ غرب کو

عنانِ کل کا اختیار دے دیا

یہ فرض کیوں کریں

کہ نیتشے کی بات عین حسبِ حال تھی  ؎۳

دیار ِ شرق کی رفاہ جس کا  مدّعا نہ تھا

 

مجھے نہ کر وداع

کہ میں تو، میری ذاتِ خاص

منکرِ مسیح تھا

وہ پطرسِ خدا شناس

اس گھمنڈ میں کہ خود کفیل و خود شناس تھا

مچل گیا

رفاہِ خود کے چکنے چُپڑے وعدوں پر پھسل گیا

یہ منقسم، یہ نا تمام

قطع دائرہ سا جزو

لخت لخت، بخت بخت ٹوٹ کر

صلیب اپنی اُلٹے رُخ اُٹھائے

صراطِ مستقیم پر رُکا رہا

کھڑا کھڑا جھکا رہا

 

مجھے اٹھا

مجھے گلے لگا

نہ کر وداع، میری ذات آج

 الٹے رُخ کی یہ صلیب

میں نے اپنے کندھوں سے اتاردی !!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

عدالت کو کیا معلوم!

نصیر احمد ناصر: عدالت کو کیا معلوم
کہ خدا دکھی لوگوں کی گواہی دینے
کبھی کبھی خود کٹہرے میں آ جاتا ہے

اَلایَلَلّی

جون ایلیا:میں اپنے چاروں طرف سے کتنی ہی اپنی لاشوں کا انبوہ سَہ رہا ہوں
میں اپنے بیروں کے اندروں میں نڈھال ہوں اور ڈھے رہا ہوں
مرے جنازے اٹھائے جاتے ہیں، مرے کاندھوں پہ لائے جاتے ہیں

مجھے اپنے خدا کے خواب سننا ہیں

ثاقب ندیم: میں اب ایک خدا خریدوں گا
جو خود خواب دیکھتا ہو
ایسے خواب جن میں
صرف شانتی ہو اور محبت
اور وہ روزانہ مجھے اپنے خواب سنائے
کیونکہ مجھے اپنے بھیجے کا بم نہیں بنانا