مجھے ڈوبنا نہیں آتا

مجھے ڈوبنا نہیں آتا

مجھے ڈوبنا نہیں آتا
مگر
جانا تو ہے
جانا پڑے گا
پہاڑوں کے پیچھے سورج کے ساتھ
کئی سائے ڈوب جاتے ہیں

مجھے چلنا نہیں آتا
کیا تم نے ٹوٹتے تارے دیکھے ہیں
وہ قدموں پر
اور گھنٹوں میں سفر نہیں کرتے
کیا تم نے کبھی ان کی رفتار ناپی ہے؟
کیا تم نے کبھی ان کا درد بانٹا ہے؟
یا صرف اپنے دل کی امید باندھی ہے

میں بولنا بھی نہیں جانتا
کیا تم نے کبھی خاموش کنویں دیکھے ہیں؟
جن میں سے
کائی اگ آتی ہے
جو شہر بھر کے گند اور گناہوں میں
چپکے سے شریک ہوجاتے ہیں

Image: Ruslan Isinev

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

عمر کے رقص میں

نصیر احمد ناصر: لاجوردی خلا
ہے ازل تا ابد
جست بھر فاصلہ
روشنی! روشنی!!

کہیں ایک رستہ مِلے گا

نصیر احمد ناصر:کہیں ایک لمحہ ہے
عمروں کا حاصل ہے
بوسیدگی سے بھرا اک مکاں ہے
کسی یادِ کہنہ کا جالا ہے، مکڑی ہے
سانپوں کا بِل ہے
کہیں ایک صدیوں پرانی سی چکی ہے، ونڈ مِل ہے
جس کے گھماؤ میں
پانی ہے، پتھر کی سِل ہے
تِری سبز آنکھیں، مِرا سرخ دِل ہے !!

کجلا چکے جذبوں سے آخری مصافحہ

محمد حمید شاہد: تمہاری انا زدگی نے
مجھے گھسیٹ کر
ڈوبتی امید کے اس چوبی زینے پر لاکھڑا کیا ہے