مجھے ڈوبنا نہیں آتا

مجھے ڈوبنا نہیں آتا

مجھے ڈوبنا نہیں آتا
مگر
جانا تو ہے
جانا پڑے گا
پہاڑوں کے پیچھے سورج کے ساتھ
کئی سائے ڈوب جاتے ہیں

مجھے چلنا نہیں آتا
کیا تم نے ٹوٹتے تارے دیکھے ہیں
وہ قدموں پر
اور گھنٹوں میں سفر نہیں کرتے
کیا تم نے کبھی ان کی رفتار ناپی ہے؟
کیا تم نے کبھی ان کا درد بانٹا ہے؟
یا صرف اپنے دل کی امید باندھی ہے

میں بولنا بھی نہیں جانتا
کیا تم نے کبھی خاموش کنویں دیکھے ہیں؟
جن میں سے
کائی اگ آتی ہے
جو شہر بھر کے گند اور گناہوں میں
چپکے سے شریک ہوجاتے ہیں

Image: Ruslan Isinev


Related Articles

بے مصرف اور بے قیمت

لاشیں سب اٹھوا لی گئی ہیں
جتنے زخمی تھے اُن کو امداد فراہم کردی گئی ہے
جسموں کے بکھرے اعضا اب وہاں نہیں ہیں، جہاں پڑے تھے

میں بالکل ٹھیک ہوں

تنویر انجم: تم پوچھتے ہو کیسی ہو؟
میں کہتی ہوں بالکل ٹھیک
میں پوچھتی ہوں تم کیسے ہو؟
تم ایک نئے قصے کا آغاز کرتے ہو
تفصیلات کے ساتھ

تمثیل

سُرمئی شام کے بڑھتے ہوئے سنّاٹوں میں
دف کی آواز پہ اک شور بپا ہوتا ہے
پھیلتا جاتا ہے آسیب گُذرگاہوں پر
آگ کا شعلہ سرِ شام رہا ہوتا ہے
مشعلیں لے کے نکل آئے ہیں بستی والے
دیکھیے رات کی آغوش میں کیا ہوتا ہے؟