مجھے ڈوبنا نہیں آتا

مجھے ڈوبنا نہیں آتا

مجھے ڈوبنا نہیں آتا
مگر
جانا تو ہے
جانا پڑے گا
پہاڑوں کے پیچھے سورج کے ساتھ
کئی سائے ڈوب جاتے ہیں

مجھے چلنا نہیں آتا
کیا تم نے ٹوٹتے تارے دیکھے ہیں
وہ قدموں پر
اور گھنٹوں میں سفر نہیں کرتے
کیا تم نے کبھی ان کی رفتار ناپی ہے؟
کیا تم نے کبھی ان کا درد بانٹا ہے؟
یا صرف اپنے دل کی امید باندھی ہے

میں بولنا بھی نہیں جانتا
کیا تم نے کبھی خاموش کنویں دیکھے ہیں؟
جن میں سے
کائی اگ آتی ہے
جو شہر بھر کے گند اور گناہوں میں
چپکے سے شریک ہوجاتے ہیں

Image: Ruslan Isinev

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

روشنی کا لہو

عمران ازفر: وہ رات تھی
بہت سیاہ رات تھی
جو ہاتھ بھر کے فاصلے سے کیسے مُجھ کو ڈس گئی

راز

وجیہہ وارثی: عشق کے بعد میرا بھی یہی حال ہے
تالا لگاتا ہوں تو لوگ مڑ مڑ کے دیکھتے ہیں
تالا کھلا رکھتا ہوں تو لوگ دل میں جھانکتے ہیں

خودفریبی کے سرد خانے میں

یہ راز نہیں حقیقت ہے
کہ تنکا اپنے باطن میں
آگ کے علاوہ نمی بھی رکھتا ہے