محبت اور متوسط طبقے کا المیہ

محبت اور متوسط طبقے کا المیہ
مذہبی اور ثقافتی اقدارکے ذریعے مردوں اور عورتوں میں ناروا دوری قائم رکھی جاتی ہے۔
محبت ایک بے حد پیچیدہ معاملہ ہے، خاص طور پر متوسط طبقے کے افراد کے لئے۔ ہماری سوسائٹی میں یہ ایسا طبقہ ہے جو نمائشی مگر ناقابلِ عمل اخلاقیات کا اسیر ہوتا ہے۔ اس طبقے کے لئے مذہب ایک ایسی مجبوری ہوتا ہے جسے نہ تو یہ پوری طرح اپنا سکتا ہے اور نہ ہی اسے ترک کر سکتا ہے۔ بس یوں جانئے کہ اس طبقے کے افراد اس کی دم پکڑے گھسٹتے رہتے ہیں۔

مذہبی اور ثقافتی اقدارکے ذریعے مردوں اور عورتوں میں ناروا دوری قائم رکھی جاتی ہے۔ اور یہی دوری عورت اور مرد کو ایک دوسرے کے لئے معمہ بنا دیتی ہے۔ اور یوں ایک دوسرے کے لئے تجسس اور کشش غیر ضروری حد تک انگیخت ہونے لگتی ہے۔ دونوں کے بیچ ایک خلا اگ آتا ہے۔ اور جب کبھی کسی بہانے سے رابطے کا موقع ملتا ہے تو وہ اس بے جا کشش کے باعث فوراً ہی ایک دوسرے پر دل و جان سے مر مٹتے ہیں۔ کئی بار یہ سانحہ صرف ایک فریق کے ساتھ ہی پیش آتا ھے جس کی وجہ سے اسے طویل عرصہ تک یکطرفہ محبت کا عذاب جھیلنا پڑتا ہے۔

دونوں فریق اپنے بیچ موجود خلاء کو ایک دوسرے کے تخیلاتی محاسن سے بھرنا شروع کر دیتے ہیں۔
یہ معاملہ دو طرفہ بھی ہو تو بے جا کشش انہیں ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع نہیں دیتی اور ویسے بھی سماجی پابندیوں کے باعث براہِ راست ملاقات کے مواقع کم ہی نصیب ہوتے ہیں۔ ایسے میں دونوں فریق اپنے بیچ موجود خلاء کو ایک دوسرے کے تخیلاتی محاسن سے بھرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور یوں خود کو اس یقین کا اسیر کر لیتے ہیں کہ ان کا محبوب دنیا کا نایاب ترین فرد ھے۔ اور یہی تخیلاتی محاسن جب شادی کے بعد ناپید ملتے ہیں تو معلوم پڑتا ہے کہ اوہو ہم جسے سونا سمجھے تھے وہ تو پیتل نکل آیا۔ اب ایسے حالات میں بھلا شادی سے پہلے کی افسانوی محبت کیونکر باقی رہ سکتی ہے جبکہ اس میں ایک دوسرے کی شخصیت کے بارے میں دھوکے اور مایوسی کا عنصر بھی شامل ہوچکا ہو۔

Related Articles

صنفی تشدد اور استحصال کے خلاف آواز کیوں اٹھائیں؟

حقوق نسواں کے لیے کوشش انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کا لازمی جز ہے اور خواتین کے خلاف امتیازی سلوک، جنسی تشدد اور استحصال کا خاتمہ مردوں کی بھی اسی قدر ذمہ داری ہے جس قدر خواتین کی۔

سُسرالی سالیاں اور مسیتیِ سالے

اوّل تو میں مسجد جاتا نہیں اور اگر اپنی مصروف ترین فارغ زندگی میں سے کچھ وقت نکال کر ہفتے میں ایک بار جمعہ پڑھنے چلا ہی گیا تو مسیتی سالوں کو جوتا چھپائی کی رسم یاد آگئی۔

عورتیں جنسی جرائم رپورٹ کیوں نہیں کرتیں؟

ملیحہ سرور: بہت سی خواتین راستے میں، بازار میں، دفتر میں، کالج اور یونیورسٹی میں ہونے والی جنسی ہراسانی کو اس لیے بھی برداشت کرنے پر مجبور ہیں کہ اگر وہ ایسے واقعات رپورٹ کریں گی تو انہیں پہلے سے بھی زیادہ شدید نگرانی اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔