محبت کی گیارہ کہانیاں (تیسری کہانی)

محبت کی گیارہ کہانیاں (تیسری کہانی)

وقاص اپنی گرل فرینڈ سمیت آدھمکا تھا اور مجھے فضا بوجھل سی محسوس ہورہی تھی۔میں محبت کے پیلے پنوں کو دیکھ دیکھ کر ہمیشہ سے بہت اکتاتی رہی ہوں۔اور جب کوئی جان بوجھ کر انہیں دھوپ میں پھیلانے کی کوشش کرے تو مجھے ابکائی آنے لگتی ہے۔بہرحال، میں وہاں سے اٹھی اور پاس ہی اوک کے پتلے سے جھنڈ میں غائب ہوگئی۔آگے کچا راستہ تھا، جو تھوڑی دور پیدل چلنے کے بعد یونیورسٹی کی ایک دوسری پکی سڑک پر جانکلتا تھا۔میرا کیمپس میری زندگی سا بن گیا تھا،زندگی جو کتنی ہی روکھی پھیکی ہو، انسان اس پر نمک لگا لگا کر اسے زہر مار کرتا ہی رہتا ہے، پھر مجھے تو ایسا زہر مار کرنے کی بھی ضرورت نہ تھی۔کچھ باتیں مجھے یہاں کی بڑی اچھی بھی معلوم ہوا کرتی تھیں، ہلکے پھلکے ثقافتی پروگراموں میں لڑکے لڑکیاں روایتی طرز کے لباس پہن کر شریک ہوا کرتے تھے، میں عام طور پر جینز اور شرٹ میں ملبوس رہا کرتی تھی، مگر ایک آدھ دفعہ اپنی دوست کے ایک مقامی قسم کے لباس کو میں نے پہن کر تین چار تصاویر کھنچوائی تھیں۔روایتی طرز کا یہ لباس آگے سے ہلکا سا جھولا نما تھا،شاید پرانے زمانوں میں اسے برقعے کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہوگا، کچھ نمائشی قسم کے ننھے ننھے کانچ کے ٹکڑے اس لباس میں ٹانکے گئے تھے۔کندھوں سے کمر تک لمبی لال دھاریاں تھیں، جن میں جان بوجھ کر پھندنے سے نکالے گئے تھے۔شلوار بالکل چست تھی،چوڑی دار پاجامے کی طرح، بس فرق اتنا تھا کہ اس کی موریاں بہت تنگ نہیں تھیں۔میں نے اپنے کیش کھول رکھے تھے ، جو کندھے سے کچھ نیچے تک بے نیازی کے ساتھ ڈھلک گئے تھے۔میں تصویر میں ایک معصوم سی مقامی لڑکی معلوم ہورہی تھی، بس فرق اتنا تھا کہ میرا رنگ ذرا زیادہ گہرا تھا۔اکثر دھوپ میں کھینچی جانے والی بہت سی تصویروں میں میرا رنگ کچھ گہرا سانولا دکھائی دیتا ہے۔حالانکہ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ساحل سمندر کی ایک ایسی ہی تصویر تھی، جس میں میں نے لال لباس پہن رکھا تھا اور دوپٹہ دونوں ہاتھوں سے لہرایا تھا، میرے عقب میں نیلا سمندر تھا، جس کے کنارے پر جھاگ کی ایک زپ سے گویا اس کا منہ بند کردیا گیا تھا، پیلی دھوپ کے پلاسٹک جیسے جھولے میں پڑا ہوا یہ سمندر بڑا خوبصورت معلوم ہورہا تھا۔میں ایک پتھر پر کھڑی تھی،تصویر کس نے کھینچی اب مجھے یاد نہیں، مگر شاید دھوپ کا رخ کچھ ایسا تھا کہ میرے چہرے پر بالکل فوکس نہیں کیا جاسکا تھا۔مگر اس وقت وہ میرا مسئلہ نہیں تھا، میں نے اس تصویر کو جب سوشل میڈیا ویب سائٹ پر اپلوڈ کیا تو اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ میری یہ باغیانہ حرکت دیکھ کر کھلکھلا اٹھے۔ایک لمبے بالوں والے نقاد نے مجھے 'بدمعاش' کا لقب عطا کیا تھا، جو کہ ان کا ایک قسم کا انداز توصیف تھا۔کیمپس میں بہت کم لوگ ایسے تھے، جو میری پروفائل کو دیکھ پاتے، کیونکہ میں نے اسے پرائیوٹ رکھا تھا۔صرف لائق اعتبار دوستوں کے علاوہ اس میں کسی اور کو ایڈ نہیں کیا تھا، یہاں تک کہ اپنے ان بہنوئی صاحب کو بھی نہیں، جو مجھے تھوڑا بہت سمجھ سکتے تھے۔یہ لکھتے لکھتے جو مصنف صاحب ابھی مجھ پر طنز کرگئے، آپ ان کی طرف توجہ نہ کیجیے، انہیں علم ہی نہیں ہے کہ اصلی زندگی کتابوں کی تصوراتی دنیا سے بڑی مختلف ہوتی ہے اسی لیے میں ان کی خود زیادہ پروا نہیں کرتی ہوں۔

یونیورسٹی کا ماحول ویسے اتنا عجیب بھی نہیں ہے،بس کلاس میں آنے والی چار چھ ٹیچرز کو چھوڑ دیجیے تو مجھے اس جگہ سے کوئی خاص بیر نہیں ہے۔کلاس روم میرے لیے اکثر اونگھنے کا مقام ہوتا ہے یا پھر باہر دیکھنے کا۔میں جب کبھی سوال پوچھنا چاہتی ہوں تو مجھے میرے برابر بیٹھی کلاس میٹ اکثر روک دیا کرتی ہے، اس کا بھی خیال ٹھیک ہے کہ میں اپنے ذہن کے ناپختہ اندیشوں کو بیان کرکے کہیں اپنے لیے یونیورسٹی میں بے کار کی مصیبت نہ مول لوں۔لوگوں کا کیا ہے، وہ تو بغیر کسی بات کے ، عقیدوں کی تلوار نکال کر حملہ آور ہوجاتے ہیں، مگر یونیورسٹی میں گھومتے پھرتے مجھے کبھی اس حبس کا احساس نہیں ہوا، ایک دفعہ ایک گارڈ نے البتہ ضرور پوچھا تھا کہ آپ جینز کیوں پہنتی ہیں، اس روز مجھے بہت غصہ آیا، تھوڑا رونا بھی آیا، مگر پھر میں نے اس کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دی، وہ کوئی یونیورسٹی کا پروکٹر تو تھا نہیں۔ہوسکتا ہے کہ اس کا جذبہ ایمانی بہت پختہ ہو اور وہ اسی کے زیر اثر مجھ سے باز پرس کرنے کی ہمت کربیٹھا ہو۔میں چاہتی تو اس کی شکایت بھی کرسکتی تھی،مگر میری روم میٹ نے مجھے منع کیا، اور جہاں تک ہوسکے مجھے خود بھی یہی لگتا ہے کہ ایسی باتوں کو نظر انداز کردینا چاہیے۔میں یونیورسٹی کے کچے راستے پر چل رہی تھی، ہوا میں اونگھتے ہوئے پیڑوں پر سے مختلف قسم کی صدائیں آرہی تھیں، ہلکی سی دھوپ اور تیز خنکی کے درمیان کبھی ہوا میری کمر کو اپنی سخت بانہوں میں جکڑ لیتی تو کبھی دھوپ کی چھوٹی چھوٹی برچھیاں اس کے تانے ہوئے خود کو کاٹ ڈالا کرتی تھیں۔میں ہوا کا بھی لطف لے رہی تھی۔میں نے اپنی جینز کی چھوٹی جیب میں ہاتھ ڈال کر ایئر فون نکالا ، جس کی حالت برسوں سے بند کسی سٹور روم میں رکھی ، الجھی ہوئی رسی کی سی ہورہی تھی، اسے سلجھاکر میں نے موبائل میں ایک خوبصورت سا علاقائی گانا لگا دیا۔حالانکہ نغمہ بے حد مایوس کن تھا اور موسیقی دل کو تار تار کررہی تھی، مگر مجھے لطف آرہا تھا، میں نے خیال کیا کہ میں کسی ایسی کہانی کی افسردہ ولن ہوں، جسے ہیرو کو حاصل کرنے میں سخت ناکامی ہوئی ہے،اور میرے رچائے گئے سارے شڑینتر دوسروں پر واضح ہوگئے ہیں، میں عدالت کے بیچ اپنے گناہوں کے بوجھ سے لدی پھندی ، خشک آنکھوں میں یہ نغمہ لیے دو وردی پوش خاتون سپاہیوں کے بیچ کھڑی ہوں۔میں یہ سوچتی جارہی تھی، اور میں نے دیکھا کہ آس پاس کی اوبڑ کھابڑ زمین پر لپٹی ہوئی مختلف گھانسیں میرے پاوں سے بیڑیوں کی طرح لپٹتی جارہی ہیں۔نغمہ ختم ہوتے ہوتے نہ جانے کیوں میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، میں نے اسے ری پلے کرنے کے لیے موبائل کو جیب سے نکالا، وہ نہیں نکل سکا تو ایک جھٹکا دیا، نتیجے کے طور پر ائیر فون سے لپٹا ہوا موبائل تو کھنچا چلا آیا مگر پینٹ کی کگار سے اس کے پچھلے حصے کے گھسڑ کھانے کی وجہ سے بیٹری اور اس کا ڈھکن کہیں دور جاگرا۔بیٹری تو میں نے دیکھ لی تھی کہ گھانس میں کہاں گری ہے، مگر ڈھکن ادھر ادھر کھوجنے سے نظر نہیں آیا۔میں ایک ڈھلوان پر کھڑی تھی، تھوڑا نیچے اترنا چاہا مگر ایک کن کھجورا ٹھیک میرے پاوں کے نیچے سے رینگتا ہوا، اورنیچے کی طرف بھاگنے لگا، اس کی رفتار کافی تیز تھی، میں کن کھجوروں سے کچھ زیادہ ہی خوف کھاتی ہوں، میں نے سن رکھا تھا کہ وہ راتوں کو انسانوں کی چمڑی چھیدتے ہوئے ان کے بدن میں بھی گھس جایا کرتے ہیں، امی خاص طور پرزمین پر لیٹنے والوں کو ہدایت کیا کرتی تھیں کہ اپنے کان ہرگز کھلے رکھ کر نہ سوئیں۔خیر، ڈھکن نہیں ملا تو میں نے بیٹری کو موبائل میں چسپاں کیا اور اس پر ہاتھ رکھ کر اسے دوبارہ آن کیا، نغمہ سننے کی طلب بہت زیادہ تھی، اور مجھے معلوم تھا کہ چار قدم اور چلوں گی تو پکی سڑک آجائے گی، چنانچہ میں وہیں ایک پیڑ سے سر ٹکا کر نغمہ سننے لگی، جب تک کہ وہ پورا نہ ہوگیا میں نے قدم آگے نہ بڑھایا۔

دھوپ غائب ہوچکی تھی اور ہوا اچانک کافی تیز چلنے لگی تھی، میری ہاف سلیو کی شرٹ پھڑپھڑ کررہی تھی، جب گانا ختم ہوا تو مجھے محسوس ہوا کہ میری ناک سن ہورہی ہے،میں نے ائیر فون نکال کر اسے پھر چھوٹی سی جیب میں ٹھونسا اور سڑک پر آگئی۔یونیورسٹی کی یہ سڑک بہت مشہور سڑک تھی، کوئی احتجاجی جلوس ہو، کوئی دھرنا ہو یا کوئی تقریر ، وی آئی پی آئیں یا جائیں۔کیا پروفیسر ، کیا لکچرار اور کیا طالب علم ، سبھی کے جوتے چپلوں کی تھکن کو اس سڑک نے اپنی پیٹھ پر لاد کر الگ الگ منزلوں تک چھوڑا تھا۔مذہبی جماعتوں کے امیر اور سیکولر سیاسی پارٹیوں کے سفیر اس سڑک کے مرہون احسان رہے تھے۔ہم نے بھی کئی دفعہ مختلف قسم کے پلے کارڈ اٹھائے اور انگلی کٹاکر شہیدوں میں نام لکھوایا۔میری کلاس میٹ نصرت البتہ بہت ڈرتی تھی، وہ کہتی تھی کہ اسے ان سب چیزوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، وہ یہاں تعلیم حاصل کرنے آئی ہے،اور اس کا مقصد یہاں سے ایک بہتر مستقبل کی طرف قدم بڑھانا ہے، چنانچہ اگر ثابت قدم رہنا ہو تو یونیورسٹی کی اس ٹیڑھی سڑک سے جس قدر ہوسکے دور رہو۔بعض لوگ اسی نسبت سے اس سڑک کو صراط نیش عقرب بھی کہا کرتے تھے۔کچھ نے اس کا نام 'راہ افعی' رکھا تھا اور سیدھی سادی مذہبی جماعتیں جب کبھی اس سڑک کا رخ کرتیں تو اسے صراط مستقیم کے نام سے پکارا کرتیں۔کئی دفعہ طلبا کے بیچ اسی سڑک پر دھکامکی بھی ہوئی تھی، مگر یہ سڑک ایک بوڑھی صلاح کار کی طرح ان کے بیچ مصالحت کی کوئی راہ نکال دیا کرتی تھی۔

مجھے اس سڑک سے زیادہ اس پر بنے ہوئے چھوٹے سے بس سٹاپ میں دلچسپی تھی، جو بالکل کسی کھلونے کی طرح معلوم ہوتا تھا۔کسی تنازعے کے سبب یونیورسٹی کے اس اندرونی حصے میں اب بسیں نہیں آتی تھیں، مگر چھ سات سال پہلے تک یہ ایک فعال بس سٹاپ تھا۔اب اس پر کچھ کٹے پھٹے پوسٹر ہر طرف چسپاں تھے اور اس کی دھول بھری پوشاک پر کتے لوٹیں لگایا کرتے تھے۔اس وقت بھی اس کی کاہی سل پر ایک موٹا کتا اپنا منہ ٹانگوں میں دیے سورہا تھا۔اس کی پھولتی پچکتی ہوئی پسلیوں کو دیکھ کر مجھے پتہ نہیں کیوں خوشی کا سا احساس ہوا اور ایسا لگا کہ یونیورسٹی کا ماحول جانوروں کے لیے انسانوں سے زیادہ سازگار ہے۔میں نے سوچا کہ رات گئے، نصرت کو چھیڑنے کے لیے اس کے سامنے یہ نکتہ رکھوں گی، پھر وہ طرح طرح سے مجھے سمجھانے کی کوشش کرے گی کہ الٹے سیدھے یا ٹچے سیاسی قسم کے طلبا کے ساتھ رہنا اور ملنا جلنا بند کرکے پڑھائی پر توجہ دو۔ایسی باتیں دماغی خلل کا ثبوت ہیں، تم رائٹر بننا چاہتی ہو تو پہلے یونیورسٹی میں فلسفے کا امتحان تو پاس کرکے دکھاو۔اسے معلوم تھا کہ میں نے فلسفے کے امتحان میں ناکام ہونے کے بعد سکینڈ ائیر میں یہ مضمون ہی بدل دیا تھا اور جہاں تک میرے دماغ کا تعلق ہے ، مجھے پورا یقین تھا کہ یونیورسٹی کا وہ استاد مجھ سے کسی خاص قسم کا بیر رکھتا تھا، اب یہ بات آپ کو اخلاقی طور پر کتنی بھی بری معلوم ہو، مگر جب اس پر کسی پاکباز لڑکی نے چھیڑ خانی اور دست درازی کا آروپ منڈھا تو مجھے بے حد خوشی ہوئی۔حالانکہ میں نے اس خوشی کو سب پر ظاہر نہیں کیا۔مگر نصرت مجھے فلسفے کے مضمون کا طعنہ دیا کرتی تھی، میں کبھی اس کی بات ہوا میں اڑا دیتی اور کبھی اس قدر چڑ جاتی کہ اس سے تین تین دنوں تک بات نہ کرتی تھی۔نصرت کے ساتھ میرے تعلق کی روداد بھی جناب مصنف کو اچھی طرح معلوم ہے۔

لیجیے صاحب چلتے چلتے میرا شعبہ آگیا، مرجھایا ہوا معصوم بس سٹاپ بھی پیچھے چھوٹ گیا، ہنگاموں سے لپٹی ہوئی کج رو سڑک بھی اور فرفر کرتی ہوئی ہوا بھی۔میرا شعبہ، علم سماجیات کا شعبہ۔جس میں نیچے والے فلور پر مختلف اساتذہ کے کمرے ہیں اور اوپر کی دو منزلوں میں بی اے ، ایم اے کے طلبا کی کلاسیں ہیں۔میں بی اے سکینڈ ائیر کی طالبہ ہوں اور اب میں کلاس میں جارہی ہوں ، جو میرے اونگھنے اور باہر دیکھتے رہنے کی سب سے پسندیدہ جگہ ہے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Tasneef Haider

Tasneef Haider

Tasneef Haider is running Adabi Dunya. He is working as a freelance scriptwriter and trying to promote Urdu literature through internet.


Related Articles

یااللہ حفاظت فرما! ۔

"بیٹا !آرام سے بیٹھو،یہ مسجد ہے یہاں شرارت کرنے سے اللہ ناراض ہوتا ہے"
ریحان نے اپنے چار سالہ بیٹے کو پیار سے سمجھایا۔

بنجارا

بنجارے نے کاندھے سے مکان اتارا اور زمین پر بچھا دیا۔

وہ آنکھیں

محمد جمیل اختر: صبح صبح ایسی آنکھیں بالکل نہیں دیکھنی چاہئیں کیونکہ ایسی آنکھیں دیکھ کر آپ بھی میری طرح اداس ہو جائیں گے اور سارا دن دفتر میں آپ سے کام نہیں ہو سکے گا، سو میں کوشش کرتا ہوں کہ ان گاڑیوں کا بلکہ ان آنکھوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔