محبت کی گیارہ کہانیاں (دوسری کہانی)

محبت کی گیارہ کہانیاں (دوسری کہانی)

وہ شام ایک خواب کی مانند تھی، میرے دوسرے خوابوں کی طرح۔میں اپنی ذات کی الجھنوں کو اتنی آسانی سے نہیں بتا سکتی۔بدن تو خیر جو الٹ پھیر کررہا تھا وہ ایک دوسری بات ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ ذہن میں بھی تبدیلیاں رونما ہورہی تھیں۔ایسا لگتا تھا کہ پہلے جو کچھ سیکھا سکھایا تھا، سمجھاسمجھایا تھا وہ سب اب میرے کسی کام کا نہیں تھا۔یعنی آپ یہ سمجھیے کہ تہذیب کی حروف تہجی کا علم اگر نکال دیں تو میں بعض اوقات اپنی پوشاک اور علیک سلیک سے بھی بغاوت پر اتر سکتی تھی۔دل کبھی مایوس ہوتا تو اتنا بیٹھنے لگتا جیسے ہتھیلی پر امید کی کوئی لکیر ہی نہ بنی ہو، خوش ہوتی تو اس قدر چہچہاتی جیسے تمام دنیا کو اسیر کرلیا ہو، چاند سورج مسخر کرلیے ہوں، دریائوں، سمندروں اور آسمانوں کو اپنا مطیع کرلیا ہو۔میں وقت کے ساتھ ساتھ ہر اس چیز سے جو مجھے سونپی گئی تھی، کچھ بیزاری محسوس کرنے لگی، تعلیم، تہذیب،مذہب اور یہاں تک کہ دوست احباب، جو انسان کی تنہائی اور اداسی کا آخری سہارا سمجھے جاتے ہیں۔میرا اندرون کچھ بدل رہا تھا، کیا کروں، کسے دکھائوں۔ایک سخت گیر مذہبی معاشرے میں پروان چڑھنے کے باوجود میں دوسروں کی طرح کیوں نہیں ہوں۔میری شادی گھروالوں نے ایک لڑکے سے طے کردی تھی، جب کبھی میں چھٹپھٹا کر امی سے اس بات پر احتجاج کرنا چاہتی تو وہ مرحوم ابو کا حوالہ دے کر مجھے جذباتی طور پر قائل کرنا چاہتی تھیں، مجھ جیسی بگڑیل گھوڑی کے لیے شاید ان کے آنسو ہی لگام کا کام کرسکتے تھے۔میں چپ ہوجاتی اور وہ یہ سمجھتیں کہ میں مان گئی ہوں۔کوئی بہت بڑا دکھ نہیں تھا یہ کہ میں اس شخص سے شادی کروں، جسے میری ماں نے میرے لیے منتخب کیا ہے۔مگر میں اس شخص میں اپنا بدلا ہوا روپ منتقل کرسکتی تھی، میں اسے اپنے اندرون کی بھیانک تبدیلیوں کا گواہ نہیں بناسکتی تھی۔میں ایک پاکباز سماج میں اپنے خوابوں کے بدن سے جمپر ہٹادوں تو سب دیکھ سکیں گے کہ میں ایک فاحشہ ہوں، گندی خواہشیں رکھنے والی، ناجائزرشتوں کی تلاش میں گھومنے والی، بدتمیز اور بداطوارفاحشہ۔جسے خود پر رونے کی اجازت نہیں ہے۔میں ایک ایسے شخص سے شادی کرنا چاہتی تھی، جو مجھے ننگا دیکھنے کی ہمت رکھتا ہو۔صرف مجھے ہی کیا، میرے جلتے ہوئے سانسوں کی خونی خواہشوں اور بدکردار سوچوں کی تپش کو مسکراتے ہوئے اپنی زبان پر اکیر لے۔یہ سب ناممکن تھا، اس سخت گیر مذہبی معاشرے میں تو کیا۔کہیں بھی ممکن نہیں تھا۔کہانی کا مصنف سمجھتا ہے کہ وہ مجھے جھیل لے گا، میرے بدن کی تپتی ہوئی بد آموز اور بدہیت خواہشوں کو خوشی خوشی اپنی آنکھوں اور رانوں کا گواہ بنالے گا لیکن میں مشکوک ہوں اس کے معاملے میں بھی۔وہ بھی ایک مرد ہے، اور دنیا کا ہر مرد عورت کو اپنے جسم کے چھلکے میں قید کردینا چاہتا ہے اور اس کی لذت سے اپنے سوا کسی کو بھی آگاہ نہیں کرنا چاہتا۔

زبیر چلا گیا، اس کی شادی ہوگئی۔لیکن میں رات کے جھروکوں سے اب بھی اپنی امید کے چاند کو دیکھنا نہیں بھولی تھی۔کبھی کبھی یونیورسٹی ہاسٹل سے رات کے تین بجے میں سرد کہرے میں باہر نکل جایا کرتی۔میری جلد کو ٹھنڈا اور سفید دھواں اپنی گرفت میں لے لیا کرتا تھا۔میں ہاتھوں سے آنکھوں کے دائرے پر موجود دھوئیں کی اجلی لکیروں کو کاٹ کر سامنے بنے ہوئے چھوٹے سے پارک کی بینچ ڈھونڈتی اور اس پر بیٹھ جاتی۔اسی کے سامنے ایک درخت تھا، یہ درخت میری گونگی تابناکیوں اور اندھی خواہشوں کا گواہ تھا۔میں اس کی آبنوسی چھال اور اس کے گرد لپٹی ہوئی ایک موٹی شیشم کی آنت سے گھنٹوں محو گفتگو رہتی۔وہ مجھے دیکھتا اور سوچتا کہ کاش میں آدمی ہوتا، ایک ایسا آدمی جس کو صبا کے بدن کی حدت کا سکون میسر آسکتا اور جو یہاں رات کے کالے اکھاڑے میں کھڑا سفید ٹھنڈ سے یوں بے فائدہ کشتی میں مصروف نہ ہوتا۔میں اس کے بالکل برخلاف سوچا کرتی تھی، بلکہ اس سے کہا بھی کرتی کہ میں ایک لڑکی ہونے کے بجائے اس پتھریلے اور کاٹ دار معاشرے میں ایک بودا پیڑ ہونا زیادہ پسند کروں گی، جو اپنی خاموشی کی لپیٹ میں کسی محبوب درخت کو زمین کے اندر اندر جڑوں کے مضبوط پنجوں میں جکڑ لینے کا روادار تو ہوسکتا ہے۔میں پیڑ ہوجانا چاہتی تھی، چاہے بودا ہی سہی، کمزور ہی سہی، ہوا کے تیز جھونکے میں اکھڑ جانے والا ایک پتلا دبلا درخت۔مگر شاید قدرت کا طریقہ یہی ہے، وہ ہماری دشمن ہے۔وہ ہمیں ویسا بناتی ہے، جیسے ہم نہیں ہونا نہیں چاہتے۔میری ننگی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتا ہوا سفید دھواں، میری ناک کی سرخی اور نتھنوں کے تیزابی سبز پانی سے عجیب سی بحثوں میں مصروف ہے۔یہ نہ سمجھ میں آنے والی بحث میرے ماتھے کا درجہ حرارت بڑھا دیتی ہے اور میں اپنی ننگی بانہیں لیے ہوئے آگے بڑھ کر بھوکے پیڑ کی موٹی آنت پر ہاتھ پھراتی ہوں۔اف۔۔۔کتنی تیز للک ہے اس پیڑ میں، اس کی چیخ سے میرے بدن کی ننھی جڑوں میں دھڑکتا ہوا گرم لہو اچھال مارنے لگتا ہے۔میں ایک نکیلا پتھر اٹھا کر اس کے بدن پر بڑا سا صاد بنادیتی ہوں۔پھر اس صاد پر اپنے گرم گلابی ہونٹوں سے بوسہ دے کر وہاں سے ہٹنے لگتی ہوں، یہ کیا۔۔۔ایک فی میل گارڈ بڑی حیرت سے میری طرف دیکھ رہی ہے۔اس کے نینوں پر بھی اوس نے ٹھنڈی جالیاں تان دی ہیں، وہ ان جالیوں سے نکل کر، انہیں چھاٹ کر میرا چہرہ پہچاننے کی کوشش کرتی ہے، اس سے پہلے کہ وہ مجھے جان لے، میں وہاں سے چھو ہوجاتی ہوں۔

میرے خاندان میں صرف ایک صاحب ایسے ہیں، جن سے مجھے امید ہے کہ وہ مجھے سمجھ سکتے ہیں۔وہ میرے بہنوئی ہیں، ان کا نام تو آدرش ہونا چاہیے، مگر لوگ انہیں عقیل کے نام سے جانتے ہیں۔آدرش کے نام سے انہوں نے اپنی کچھ ٹوٹی پھوٹی تحریریں لکھی ہیں، کتنا اچھا نام چنا ہے لکھنے کے لیے، حالانکہ یہ لفظ اپنے معانی کے ساتھ اتنا زیادہ متاثر کن نہیں ہے، مگر مجھے سننے میں ہمیشہ اتنا ہی خوبصورت معلوم ہوتا ہے جتنی کوئی نہ سمجھ میں آنے والی نظم یا پینٹنگ، غیر مانوس شخصیت، اجنبی جگہ یا ناقابل فہم جادو۔خیر، وہ لکھتے ہیں، یعنی ادب تخلیق کرتے ہیں، کہانیاں۔۔۔اف ! کہانیاں مجھے کتنا متاثر کرتی ہیں،کاش میرے پاس یہ قوت ہوتی کہ میں مختلف کہانیاں پڑھ کر اپنے من پسند کرداروں میں خود کو ڈھال کر انہیں جی سکتی۔میں بہت سے کردار ادا کرتی، بہت سی مٹیوں کی گود سے اٹھنے والی مہک کے دامنوں میں پناہ لیتی اور سرحدوں اور زمانوں کی قید سے آزاد ہوکر کہانیوں کے دور میں جی سکتی۔کبھی جے گیٹسبی بن جاتی، کبھی ڈیوڈ کوپر فیلڈ، کبھی نستاسیا فلوپوونا، کبھی گوتم نیلمبر۔الغرض، ہواوں میں اڑتی پھرتی۔میں اس معاملے میں اتنی ہی مجبور تھی جتنی کہ میرے کمرے کے باہر پارک میں موجود وہ موٹا اور بھوکا درخت۔ہم دونوں اپنی زمین چھوڑ کر ،اپنی جون بدل کر کچھ اور ہوجانے پر قادر نہیں تھے۔خیر، ایسا بھی نہیں کہ میں بالکل ہی مجبور ہوں، میں بدلتی رہی ہوں، میں نے ڈائری لکھنا بالکل ترک کردیا ہے۔حالانکہ میری ڈائری کون سی اینی فرینک جتنی مشہور ہوجاتی، مگر میں اسے لکھتی تھی۔میرا ارادہ تھا کہ ایک روز میں اسے شائع کروائوں گی، مگر پھر پتہ نہیں وہ کہاں گم ہوگئی۔میں ڈائری کو تاریخ، دن یا مہینے کے حساب سے نہیں لکھتی تھی، بلکہ میری ڈائری میرا خفیہ ہتھیار تھا، اس زمانے میں میں نے اس میں کچھ چھوٹے موٹے وظیفے لکھے تھے، کچھ شعر اور پھر بعد میں کچھ اچھے نثری نمونوں کو بھی ان میں شامل کیا تھا۔پھر میں نقل کرنے سے تنگ آگئی اور میں نے اول جلول شبدوں میں ہی سہی، اپنی بات لکھنی شروع کردی۔ہائے کیا زمانہ تھا، میں ہر ایک بات پر تنقید کرنے کی کوشش کرتی تھی۔۔میری عقل کا چشمہ باریک نہیں تھا، میں بس چاہتی تھی کہ ہر بات کو کسی دوسرے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کروں۔امی کہتی تھیں کہ جلدی سوجائو تو ڈائری میں اس کی مخالفت درج کرتی۔شلوار ٹھیک کرو، ایسے بیٹھو، ویسے کھائو، ادھر مت جائو، لڑکوں کے ساتھ مت کھیلو اور بھائیوں کے ساتھ چوما چاٹی نہ کرو۔ان سب باتوں کے خلاف میں نے اس میں لکھا، کیا آپ یقین کریں گے اگر میں آپ کو بتائوں کہ میں نے اپنی ڈائری میں ایک روز امی کے شیر خرما بنانے کے طریقے پر بھی تنقید کی تھی۔وہ شیر بہت میٹھی کردیا کرتی تھیں، ہمارے مرحوم ابو پیار سے چھیڑتے ہوئے انہیں کہتے'لگتا ہے تم نے شکر کو کفگیر سے نہیں، اپنی انگلیوں سے گھولا ہے۔'

شاید اس دن کے بعد میں نے ڈائری لکھنی بند کردی تھی۔اس شرم میں کہ میں تنقید کی کتنی عادی ہوگئی ہوں۔نہیں۔۔۔مگر اس واقعے کے بعد نہیں، ایک واقعہ اور ہوا تھا۔ابو کے سانحہ ارتحال کے بعد سب لوگ گھر میں جمع تھے۔امی بے سدھ تھیں اور بہنیں خاموش۔ایسے میں پتہ نہیں کب میرے جی میں آئی کہ میں رونے دھونے کی متحمل نہیں ہوسکتی، خاموشی اور مایوسی کا بھی ڈھونگ نہیں کروں گی۔جو مایوسی میرے اندر ہے، اس کی گھنیری طاقت مجھ سے یہ منوانے پر راضی ہوگئی تھی کہ میرے والد اس دنیا میں ٹھیک ویسے ہی نہیں ہیں، جیسے بہت سی لڑکیوں کے نہیں ہوا کرتے۔حالانکہ میں غمگین تھی اور اب بھی کبھی کبھی ان کی یاد مجھے اپنے دکھ کے حصار میں ڈھانک لیتی ہے مگر میں اور معاملوں کی طرح اس میں بھی عقلی طور پر سوچنے کو زیادہ ترجیح دیتی ہوں، میں بھی تو مرہی جاوں گی اور کیا پتہ کسی بیماری یا کسی حادثے کا شکار ہوکر مرجاوں۔دونوں صورتوں بلکہ طبعی قسم کی موت میں بھی مجھے اس مرحلے سے آزادی تو نہیں ملنی، پھر میں یہ سب کچھ کیوں سوچوں اور محض دنیا کو یہ دکھانے کے لیے کہ مجھے اس وقت خاص ہمدردی کی ضرورت ہے، اپنا منہ کیوں بسور لوں۔میں نے ڈائری میں یہ سب کچھ لکھا اور پھر پتہ نہیں ڈائری کہاں رکھ دی۔مجھے شک ہے کہ میری بہن کے ہاتھ وہ ڈائری لگ گئی تھی، حالانکہ اس نے کبھی ایسا مجھ پر ظاہر نہیں کیا، مگر وہ اکثر مجھے انسانی رشتوں اور تہذیب و اخلاق کے تعلق سے جو بنیادی اسباق کے گھول پلاتی ہے، اس سے مجھے یہ شک ضرور ہوتا ہے۔بہرحال وہ ڈائری کھو گئی۔ڈائری نہ بھی کھوتی تو مجھے اپنے سنگدل ہونے کا مسلسل افسوس ہوتا اور کیا پتہ میں کسی رات کو اس پیڑ کی ننھی کھوہ میں جاچھپاتی۔

دوپہر تک میں نے ناشتہ نہیں کیا،اور سوچتی رہی کہ کیا کھاوں، میں اکثر برنچ کرلیا کرتی ہوں۔کیمپس کی زندگی ہی ایسی ہے۔جتنی آزادانہ اتنی ہی منحوس۔جتنی اچھی، اتنی ہی خراب، جتنی سرخ، اتنی ہی سیاہ۔الغرض میں باہر نکلی اورایک ڈھابے پر جاکر کچھ کھاپی لیا۔۔۔۔کندھے پر ایک نیلا بیگ ٹنگا تھا اور میں جھولتی ہوئی ننگی بانہیں ہاف سلیو شرٹ سے باہر نکلی ہوئی ٹھنڈ کو اب بھی منہ چڑا رہی تھیں، حالانکہ دھوپ بھی نکلی ہوئی تھی، مگر بہت مریل سی، پیڑوں پر کچھ انجان چڑیائیں لوک گیت گاتی محسوس ہوتی تھیں۔آگے پکی سڑک پر دو کتے دھوپ میں لوٹ پوٹ ہورہے تھے۔میں نے دور سے آتے ہوئے وقاص کو دیکھا، وہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ تھا۔میں بددل ہوگئی، آج کل اسے دیکھنے کا میرا بالکل جی نہیں چاہتا تھا۔حالانکہ ابھی پچھلے سال تک میں اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر فوٹوزکھنچواتے نہیں تھکتی تھی۔

وقاص اپنے سیاسی کیرئیر کے لیے سرگرم تھا۔یونیورسٹی میں اسے کافی مقبولیت حاصل ہورہی تھی مگر اس کی آنکھوں میں بھی میرے اندرون کی تبدیلی بہت حد تک چبھنے لگی تھی۔وہ بھی میرے معاملے میں عام مردوں کی سی حسد رکھنے والا ایک عجیب و غریب محبت کا نمونہ بن کر پیش آتا تھا۔شاید اسے بھی سینکڑوں لڑکوں کی طرح لگتا ہے کہ وہ اپنے خود ساختہ حسد کے جذبے سے لڑکیوں کو متاثر اور مطیع کرسکتے ہیں، مگر میں اس کی توقعات پر پوری نہیں اتری تھی، وہ قدیم آریائی ثقافت کے ایک پروہت کی طرح معلوم ہوتا تھا، اس کا چہرہ ہڈیوں کے ابھار سے کچھ سخت ہوچلا تھا، کھال پر جگہ جگہ بالوں کے گچھے اگے ہوئے تھے اور وہ ان بے طرح اور بے مصرف گچھوں کو داڑھی مونچھ کہا کرتا تھا۔حالانکہ ابھی کچھ وقت پہلے مجھے یہ سب بہت اچھا لگتا تھا، مگر اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب شاید۔۔۔۔آپ سمجھ ہی گئے ہونگے۔اس نے میری طرف دیکھ کر ہاتھ ہلایا تو میں جواب میں مسکرادی، مجھے معلوم تھا کہ وہ اسی طرف آرہا ہے، میں نے گھوم کر اپنے ہاسٹل اور کیمپس کے بیچ حائل لال اینٹوں کی دیوار کو دیکھا، وہی پرانا او ربھوکا پیڑ اپنی ڈالیوں پر مایوس چہرہ لیے مجھے ڈھلتی بڑھتی دھوپ میں چکن کے ریشے چباتے ہوئے غور سے دیکھ رہا تھا۔
Image: Gyuri Lohmuller

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

مماثلت

جیم عباسی: اس نےبلی کو گود میں بٹھایا اور رکشا گھر کی جانب موڑ دیا۔ بلی کی مرہم پٹی کرتے اچانک اسے حسنہ کی آنکھیں یاد آگئیں۔بلی کی آنکھوں میں اور ان میں کوئی فرق نہ تھا۔

سیاہ تر حاشیے

جامع مسجد نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ مولانا کا خطبہ جاری تھا۔ الفاظ بجلی کے کوڑوں کی طرح برس رہے تھے۔ نمازیوں میں جوش اُبل رہا تھا۔ اہلِ ایمان اور اہلِ کُفرکے جنگی معرکوں کا تذکرہ تھا۔

تیز دھوپ میں کھلا گلاب

کتا زور زور سے بھونک رہا تھا۔میں نے بہت کوشش کی کہ ارسطو کے نظریہ حکومت کا بغور مطالعہ کر سکوں لیکن شور بڑھتا ہی جا رہا تھا۔