محبت کی گیارہ کہانیاں (پہلی کہانی)

محبت کی گیارہ کہانیاں (پہلی کہانی)

اس قدر شام پہلی بار زندگی میں ہوئی تھی، مطلب یہ ہے کہ شامیں اس سے پہلے بھی دھوپ کی ہلکی یا تیز تمازتوں کے بعد لکڑی کے ان کھرے دروازوں پر دستکیں دیتی تھیں، ان کے نارنگی ہاتھ بتایا کرتے تھے کہ وہ کتنی ملائم اور پراسرار ہیں، مگر ان پر کبھی خواب کے در نہیں کھلا کرتے تھے۔شور کا ملگجا رنگ ان کے دامن پر میری ننھی ہتھیلیاں لگا کر رخصت ہوجاتیں اور شام سوچتی رہ جاتی کہ کب اس محلے میں اس کی میزبانی میرے ہاتھوں ہوگی۔میں دراصل بدن کی میزبانیوں میں لگی تھی، اپنے ہی بدن کی۔وجود کی شاخ سے طرح طرح کی ذیلی ڈالیاں پھوٹ رہی تھیں، ان پر ہرے ہرے نوکیلے اور تازہ سبز پتے کھل رہے تھے، جن کے بدن پر پچھلے جنم میں زندگی کے داغے گئے کوڑوں کے اجلے نشان ابھی تک موجود تھے۔اور پھر جب کبھی رات گئے، ان سبز خطوں پر پھیلی ان لکیروں پر خواہشوں کے رینگتے ہوئے سانپ کی لجلجی جلد رگڑ کھاتی تو میں آنکھ کھول دیتی تھی۔میرا نام صبا ہے، پورا نام مت پوچھیے کیونکہ میری دو زندگیاں ہیں، ایک سماجی اور دوسری ذاتی، میری ذاتی زندگی کو سماجی زندگی سے کوئی خاص لینا دینا نہیں ہے، مگر سماجی زندگی کو میری ذاتی زندگی سے جیسے نفرت کی حد تک محبت ہے۔وہ میری خواہشوں، عادتوں اور ردعمل کی چھوٹی بڑی پتیلیوں اور بھگونوں میں منہ ڈال ڈال کر دیکھتی رہتی ہے کہ میں کیا کررہی ہوں۔کیا چاہتی ہوں اور نئے تازہ پھلوں کی پڑنے والی موسمی پھوار سے مجھ میں کون سا نیا لذت کا دروازہ کھل گیا ہے۔اس سماجی زندگی کو دراصل سب سے پہلے انسان نے جنم دیا تھا کیونکہ وہ اکیلا رہنا پسند نہیں کرتا تھا، مگر اس کا بیج بوتے سمے شاید وہ یہ بھول گیا کہ تنہائی ایک نعمت ہے، جس نعمت کی مٹی کھرچ کر وہ ایک نئی پودے کی قلم تیار کررہا ہے، وہ قلم انسان کے اندر جبلتوں کا طوفان پیدا کردے گی، اکیلا آدمی موت کی طرح بے ضرر ہوتا ہے، اس کے پاس آر یا پار گزر جانے کی طاقت ہوتی ہے، ہواؤں ، دشاؤں اور فضاؤں میں پرپھیلانے کا حوصلہ ہوتا ہے، کسی کے دیکھنے دکھانے کی فکر نہیں ہوتی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے انسان کے مل جانے سے اپنی تنہائی کا یہ سارا لطف اس کے ساتھ بانٹ سکتا ہے، اس کے بدن، سانسوں ، تیرگی اور روشنی کو دونوں کی مشترکہ وراثت بنا سکتا ہے۔تنہائی کسی ایک کے ملنے سے ختم نہیں ہوتی، تنہائی ایک سے زیادہ کے تصور کے ساتھ دم توڑتی ہے ۔میری سماجی زندگی بھی اس ایک سے زیادہ کی داستان ہے ، میں نے جب دیکھا کہ میری سماجی زندگی ، ذاتی زندگی سے طرح طرح کی ٹوہ لینے میں لگی ہے،تو ایک دن اس کے کان اینٹھ کر اسے بھی اپنی ذاتی زندگی کا ہی حصہ بنانے کی کوشش کربیٹھی۔اس میں مجھے اس حدتک کامیابی تو مل گئی کہ میری تنہائی کسی ایک سے زیادہ کے ہونے پر بھی متاثر نہیں ہوئی۔میں اپنی تنہائی کو اپنے ہی جیسے سوچ بچار رکھنے والے دماغوں کے ساتھ غل مچانے کے لیے آمادہ کرنے لگی اور اس میں کامیاب بھی ہوئی۔مجھے یاد ہے، اس تربیت گاہ میں جہاں میں رہتی تھی۔ایک لڑکاجس کانام مصنف اپنی بزدلی کی وجہ سے بدل بھی سکتا ہے، مجھے بدن کی حراستوں سے آزاد کرانے پر مصر تھا۔میں نے بھی منٹو کی موذیل کی طرح سارے بدن کو اپنے گلابی ہونٹوں میں اتار لیا اور اس سے کہا کہ اب آہستہ آہستہ میرے پورے جسم کو کشید کرلو۔ہوا بھی یہی، وہ دنیا کے مختلف ذائقوں سمیت، جو اس کے منہ میں گھلے ہوئے تھے، سگریٹ کے دھوؤں اور غصے بھری گالیوں سمیت میرے قریب آکر تازہ فتنہ انگیزیاں جگانے لگا۔اس سے میری قربت کی گواہیاں اتنی اجلی تھیں کہ چاند دن میں انہیں دیکھ لیتا تھا اور سورج رات گئے،مشرق کے پیٹھ پیچھے اس قرب کو محسوس کرکے بادل کی ردائیں اوڑھ کر جھرجھریاں لیتا اور اپنی تمازتوں میں رانوں تلے بھیگا کرتا۔مگر یہ کہانی اس شام کی ہے، جو لمبی تھی، طویل تھی، جس کے لیے میں نے بغیر کسی دستک اور آہٹ کو سنے لکڑی کے ان کھرے دروازوں کو کھول دیا تھا ، یہ کہانی میری اور اس دوسرے لڑکے کی ہے، جسے تربیت گاہ میں زبیر کے نام سے پکارا جاتا تھا۔

زبیر کے گورے چٹے چہرے، لمبے قد اور چھریرے بدن پر ایک چیز اس کی مردانگی اور وجاہت کو اور زیادہ گاڑھا کردیا کرتی تھی، وہ تھیں کسی قدرتی بیل کی طرح سندر اور سیاہ مونچھیں۔میں ان پستہ قد بالوں کی آراستگی اور تراش پر جتنی حیران ہوسکتی تھی، ہوئی اور لگاتار ان مونچھوں کے نیچے موجود اس کے اوپری ہونٹ کی ترشی ہوئی لکیر کو دیکھ کر نہال ہواٹھی۔بدن سب سے پہلے کسی کو پسند کرنے کی جو گواہی دیتا ہے، وہ اپنے آپ میں مکمل تھی، میری صنف اور وجود کی آدھی گواہیوں کی طرح نہیں۔مجھ پر تو خدا نے بھی کبھی مکمل یقین نہیں کیا، سو زبیر کیا کرتا۔وہ میری وارفتگی اور وابستگی کو سمجھنے سے قاصر ایک بزدل شخص تھا۔بالکل اس کہانی کے مصنف کی طرح، جس کی ہمت بند کمرے کی ایک چھلی ہوئی کالی کرسی پر اپنا زور صرف کرلیتی ہے۔محبت کرنا ، خواہ وہ کتنے ہی کم لمحوں کے لیے کیوں نہ ہو، ہمت اور جرات کا کام ہے۔اس کے لیے بدن کو خطرے کی آنچ اگلتی ہوئی گرم بھٹی میں جھونکنا پڑتا ہے، ہوا میں چھلانگ لگانی پڑتی ہے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ کی کمر سے کوئی رسی نہیں باندھی گئی ہے۔

میں یہاں اپنی ناکامیوں کا رونا رونے نہیں بیٹھی ہوں، میں تو اس شام کی کہانی لے کر آئی ہوں، جس کے لفظ میری پیٹھ اور سینے پر گدے ہوئے ہیں، جنہیں مجھ سے الگ کرنا ، میری اپنی حرارت اور آشفتگی کو بدن سے نکال دینے جیسا ہے، مجھے پتہ ہے کہ اب میں زبیر سے اس طرح نہیں مل سکتی، اس کی شادی ہوگئی ہے اور اس کے شیر آشام ملائم بچوں کو میرے سخت اور سچے جذبات شاید ہی سمجھ میں آسکیں۔ایک جذبہ جسے محبت کا وہ طول طویل پیریڈ نہیں کہا جاسکتا، جس میں کوئی ٹیچر بچوں کو یہ پاٹھ پڑھا رہا ہو کہ وہ کس طرح ایک بدن سے دوسرے بدن کے ساتھ لمس کا رشتہ پیدا کریں، کون سے فرقے، مذہب، ملک اور ریاست کے لوگوں سے محبت کا پرمٹ حاصل کرسکیں اور کون سے لوگوں کی پشت پر نفرت کے موٹے موٹے گملے رکھ کر انہیں دن رات پانی پہنچاتے رہیں۔دنیا نے ہر چیز کے اصول بنالیے ہیں، شادی بیاہ تو ٹھیک سہاگ رات اور پھر اسے بھی سہاگ کے سابقے کے ساتھ جوڑ کر لطف اور لذت کی دنیاؤں میں اپنی تدبیر سے ایک نیا سنگ میل رکھ دیا ہے۔لیکن میں سہاگ کو شادی کے ساتھ وابستہ کرکے نہیں دیکھتی۔سہاگ میرے لیے عطر اور راگ کے مانند ہے، میں اس عطر کو اپنی مرضی سے کسی بھی بدن پر مل سکتی ہوں اور اس راگ کو کسی بھی ساز پر چھیڑ سکتی ہوں۔اس لیے میرے لیے سہاگ رات کوئی موقع کی رات نہیں، کوئی بھی غیر معمولی رات ہوسکتی ہے، جب میں اس عمل کو انجام دے رہی ہوں۔وہ شام بھی ایسی ہی خوشبوداراور راگ سے بھرپور باجے کے مانند تھی،جس کی تپش میری پنڈلیوں میں اتر آئی۔میں کیا دیکھتی ہوں کہ زبیر اور میں اس شام کو کسی ریستوراں میں بیٹھے چائے پی رہے ہیں اور چائے کی پیالی میں چاند دکھائی دے رہا ہے، جس کا عکس دراصل میری اور زبیر کی آنکھوں سے نکلنے والی روشنیوں کا ایک مشترک دائرہ ہے۔میرے بال کمر سے بڑھ کر رانوں تک اور پھر وہاں سے ٹخنوں تک پھیل گئے ہیں، اور زبیر کے چہرے سے لیزر بیم کی طرح نکلتی ہوئی حدت میں ڈوبی رنگارنگ لکیریں مجھے اپنے حصار میں لے رہی ہیں، میں نے اپنے اوپری ہونٹ کو ہلکا سا سانس لینے کے لیے کیا کھولا ایسا محسوس ہوا جیسے میرے نچلے ہونٹ پر اس کے انگوٹھے نے ہلکے ہلکے رقص کرنا شروع کردیا ہے، میرے لعاب کی ندی میں ایسا اشتعال شاید ہی کبھی اس سے پہلےآیا ہو، ہم ریستوراں سے نکل آئے اور پھوس سے لدے ایک یکے میں چاروں طرف سے گھرے ہوئے خود کر دیکھ کر حیران رہ گئے، باہر ٹاپوں کی آواز تھی، موسم کی سرمئی چمک بتاتی تھی کہ سردی زیادہ ہے، جھریوں سے باہر اوس کی ہلکی موٹی مگر شفاف بوندوں کا منظر دیکھا جاسکتا تھا۔ہمارے بدن بالکل ننگے اور ایک دوسرے سے گتھے ہوئے تھے، درمیان میں کچھ لمبے خاکی تنکے تھے، جو بدن کی ابرقوں میں گدگدی کرکے شراروں کو نکلتا دیکھ کر تالیاں بجارہے تھے۔

میں نے اس کی ران پر لیٹ کراس کا عضو تناسل اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ایسا لگتا تھا جیسے چٹانوں کی ساری سختیاں اس نرم مزاج عضو کا حصہ بن گئی ہیں، ایسے وقت میں جب میں اسے تھامے ہوئے ہوں، زبیر کا چہرہ لال ہوگیا تھا، اسی لعل پتھر کی طرح ، جس میں لیزر بیم کی سرخ شعاعیں ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی گزرجاتی ہیں۔اس وقت ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میرے کولہوں کی ہڈیوں میں کوئی کیچوا اتر گیا ہو ۔موسم نے پورے دن کو ایک سرمئی شام میں تبدیل کردیا تھا، جس میں سورج کی ہلکی پھلکی ناکام کوششیں نارنگی دھجیوں سے بنے لباس پہنے کسی کسی برفانی ٹکڑے پر مایوس بیٹھی دکھائی دیتی تھیں۔ یکایک یکہ رک گیا اور یکہ بان کے بوٹوں کی ٹپیلی آوازیں دور تک سنائی دیں، ہمارے پیٹ میں اترتی ہوئی سانسیں اپنے ہنر میں گربہ مثال ہوگئی تھیں۔گھوڑوں پر لدی ہوئی زینیں چرچرائیں اور ان کے گدرائے ہوئے بدن کی پھولتی ہوئی آوازوں نے فضا میں دھمک پیدا کی۔ ہلکی سی ہنہناہٹ کے بعد وہ خاموش ہوگئے مگر میں نے اس پورے وقفے میں اس کے عضوتناسل سے نکلنے والی سفید ماورائی رسیلی رسیوں کو اپنی زبان کی بھیگی گلیوں میں جگہ جگہ ٹانگ دیا۔یہ رسیاں انگڑائی لے لے کر برقی تاروں میں بدلنے لگیں اور جب اس نے ہاتھ پھیلا کر ایک گہری سسکی لیتے ہوئے میرا نام لیا اور میرے ننھے گول پستان پر دھپ سے اپنی ہتھیلی کو گرا کر اسے مٹھی میں تبدیل کرلیا تو میرے زبان کی بھیگی ہوئی گلیوں میں یکدم سیلاب سا آگیا، ہر شے ، ہر تار اس تیز بھاگتے ہوئے پانی کے قدموں تلے بے بس ہوگیا اور ہم دونوں ایک دوسرے کی نہایت نسوانی سسکیوں میں ڈوبتے ہوئے نہ جانے کب اغل بغل پہنچ گئے، معلوم ہی نہ ہوا۔

زبیر جانتا تھا کہ میرے اوپری ہونٹ کی خوبصورتی اپنے تابناکی رنگ کی وجہ سے اور زیادہ ہوس پرست معلوم ہوتی ہے۔وہ مجھے کہانی کے مصنف کی طرح ندیدوں کی طرح شیشوں کی جالیوں سے گھورا کرتا تھا، مگر اس شام میرے اوپری ہونٹ پر جب اس نے دانت گاڑے تو ایسا لگا جیسے بدن کے انتہائی غار پر عرب بدوؤں نے حملہ کردیا ہے، وہ ایک ساتھ چھوٹے سے دہانے میں اپنے بڑے بھاری سر لیے کچھ عجیب سے نعرے لگاتے ہوئے گھسے چلے آرہے ہوں، ان کے ہاتھوں سے نیلی اور پیلی روشنیاں نکل رہی تھیں، جن سے میرے جسم کی آنتوں میں چھپے چمگادڑوں کی چمکتی آنکھیں یکدم اندھی ہوگئیں۔ میں نے زور سے چیخنا چاہا مگر غار کے دہانے پر اب صرف پھنسی ہوئی چمگادڑوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا، ان کے بے ترتیب ، دبے کچلے جسم ایک بڑے سے الو کا پر بن گئے تھے، اور اس کی آنکھیں، میرے گول سیب نما چہرے پر ٹانک دی گئی تھیں۔ الو سے زیادہ حیرت سے دنیا کو شاید ہی کسی دوسرے پرانی نے دیکھا ہو، میں اس وقت زبیر کی رانوں میں دبی اس کے فوتوں کی کھال کو دانتوں سے دباتی اور ان کا عرق نکالتی ہوئی اتنی ہی حیرت انگیز لذت میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اس وقت میں اپنی عمر ، اپنا وجود اور اپنے بدن کی تمام حدتوں کو بھلا کرصرف اپنے منہ میں اتر آئی تھی، حلق کی نالیوں سے بہتا ہوا یہ سفید سیال میرے جسم کی گلابی گھلاوٹوں میں انگلیاں گڑاتا ہوا لبڑ سبڑ دوڑنے لگا، اسی طرح جس طرح کوئی دلدلی زمین میں دوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔

زبیر جاگ رہا تھا، اس کی ہتھیلیاں میرے بالوں کی سیاہ لپٹوں سے الجھی ہوئی خود کو برباد ہوا دیکھ رہی تھیں، میں نے دیکھا، کن انکھیوں سے، اس کے لال چہرے پر اب اودا پن پھیلنے لگا تھا، جیسے زہر کی ایک ہلکی پرت، میرے منہ سے بھاپ بن کر نکلی ہواور اس پر غالب آگئی ہو،گھوڑوں کی ٹاپیں رفتہ رفتہ فوجیوں کے قدموں میں بدل گئیں، جن کے ہاتھوں میں زہریلی برچھیاں تھیں۔شام کسی چریل کی طرح یکے کے چاروں طرف اپنی جنگلی خواہشوں کی جھاڑوؤں پر بیٹھ کر اڑتی پھررہی تھی۔آس پاس موجود درخت سہم کر اور زیادہ تن گئے تھے، پتوں،ڈالیوں اور پرندوں پر ایک مردنی سی چھاگئی تھی، ایسی طویل سانسیں شاید موسم نے پھر کبھی زندہ رہنے کی جد و جہد میں پھر کبھی نہ لی ہوں، جیسی اس شام لی تھیں۔

اچانک موسم کو ہچکی آئی، بدن کے دونوں طرف سسکیوں کی آخری گونج پھوٹی اور میں نے دیکھا کہ شام کے ساڑھے سات بج رہے تھے۔زبیر کا کہیں نام و نشان نہ تھا، میں ایک درخت کی اوٹ سے ٹیک لگائے لکڑی کی بینچ پر بیٹھی تھی، اور ٹھنڈی باسی چائے کا کپ میرے قریب رکھا اپنی موت پر نوحہ کناں تھا۔سامنے ریستوران کی کھڑکی بسے جھانکتی ہوئی روشنیاں مجھے خوبصورت ہونے کے باوجود بے مصرف دکھائی دے رہی تھیں۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Tasneef Haider

Tasneef Haider

Tasneef Haider is running Adabi Dunya. He is working as a freelance scriptwriter and trying to promote Urdu literature through internet.


Related Articles

کج فہمیاں

ایک بین الااقوامی کارپوریش نے صاف آکسیجن فراہم کرنے کا ٹھیکہ لے لیا۔ایک بین الاقوامی قانون کے ذریعے، جس کے تحت منظور شدہ سلنڈر اور ماسک کے بغیر سانس لینا جرم قرار دیا گیا جس کی سزاعمر قید طے پائی۔

وہ آنکھیں

محمد جمیل اختر: صبح صبح ایسی آنکھیں بالکل نہیں دیکھنی چاہئیں کیونکہ ایسی آنکھیں دیکھ کر آپ بھی میری طرح اداس ہو جائیں گے اور سارا دن دفتر میں آپ سے کام نہیں ہو سکے گا، سو میں کوشش کرتا ہوں کہ ان گاڑیوں کا بلکہ ان آنکھوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

کیران کا میلہ

بوڑھے سادھو نے یہ بھی بتایا کہ حضرت شاہ کیران کی زندگی میں کوڑھ کی وبا عام ہوئی تو آپ نے گاؤں کی ایک بدمزاج لڑکی کو اپنے حریم میں پیش کیے جانے کا حکم دیا۔