محبت کی گیارہ کہانیاں (چوتھی کہانی)

محبت کی گیارہ کہانیاں (چوتھی کہانی)

کلاس میں بہت شور ہوتا ہے، مگر آج خلاف توقع کافی خاموشی ہے، کوئی استاد بھی موجود نہیں۔خیر،میں جاکر کھڑکی سے سٹی ہوئی بینچ پر بیٹھ گئی ہوں۔پچھلے تین دنوں سے میری دوست نہیں آسکی ہے، اس کی شاید کچھ طبیعت خراب ہے۔پچھلے ہفتے تو بڑا عجیب قصہ ہوا۔میں اور وہ حسب معمول اسی بینچ پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اس نے اپنی شلوار کی جانب اشارہ کیا۔میں نے پہلے پائنچوں کی جانب نظر ڈالی، مگر پھر اس کا اشارہ سمجھ کر ٹانگوں کے بیچ ٹھنسی ہوئی رومالی کو دیکھا۔اف، بڑی عجیب سیاہی مائل لالی اس کی رانوں تک پھیلی ہوئی تھی، میں نے اشاروں میں حیرت سے بھرا سوال کیا تو اس نے منہ بسورتے ہوئے شور میں ہی بتایا کہ اس نے جو کپڑا باندھا تھا، شاید پھٹ گیا ہے۔میرا یہ سوچ کر ہی دم نکلتا ہے کہ اگر میں بغیر کسی دن پیڈ کی لعنت کے گھر سے باہر نکل جائوں اور سڑک پر یا کلاس میں کہیں حیض ابل پڑے تو کیا ہو۔حالانکہ اس کی مدت ہوا کرتی ہے، مگر پچھلے تین مہینوں سے یہ خود مجھےاپنی مقررہ تاریخوں سے پہلے ہی پریشان کردیا کرتا ہے۔ایسا کبھی ہو تو کیا میں اپنی اس دوست سے کوئی مدد لے سکتی ہوں؟ میں نے کئی بار ایسے بھیانک خواب بھی دیکھے ہیں، جیسے میں بازار سے جارہی ہوں اور اچانک میری شرم گاہ اداسی کی ایک کریہہ چیخ کے ساتھ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور اس کی لال اور میلی برساتوں سے سڑک تر ہوتی جارہی ہے، لوگ دکھ اور کراہت کے ساتھ میری طرف دیکھ رہے ہیں۔مجھے تو خیر درد بھی بہت ہوتا ہے، ان دنوں میں ابتدائی دو دن تو آپ میری حالت کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے، میں نے ایک دفعہ جھنجھلا کر سوشل میڈیا پر حیض کے بارے میں لکھا تھا کہ یہ عورتوں کے ساتھ کی جانے والی قدرت کی سب سے بڑی ناانصافی ہے۔ایک ہی ناانصافی کی کیا بات ہے، عورتوں کے درد زہ کو بھی دیکھ لیجیے، ایک تحقیق کے مطابق درد زہ، ہارٹ اٹیک سے شدید تکلف دہ ہوتا ہے۔ایک دوسری تحقیق بتاتی ہے کہ مردوں کو اتنے پھوڑے پھنسیاں بھی نہیں نکلتے، جتنے عورتوں کو ہوتے ہیں۔عجیب سی بات ہے۔ہمارے استاد نے ایک روز بتایا کہ ایک جینی سماجی خدمت گار کہتا تھا کہ عورتوں میں تکلیف جھیلنے کا جذبہ زیادہ ہے، اس لیے انہیں زیادہ طاقتور کہنا چاہیے کیونکہ طاقت کی سائنسی تعریف بھی یہی ہے۔میں نے کئی بار سوچا ہے کہ میں وہ تھیلی ہی نکلوادوں جس کے ذریعے یہ ساری تکلیفیں جنم لیتی ہیں، مجھے بانجھ وانجھ کہلوانے کا کوئی دکھ نہیں ہے، مسئلہ صرف یہ ہے کہ میں اتنے ترقی یافتہ ملک میں نہیں رہتی ، جہاں یہ سب کام کروانا آسان ہو۔

میری ایک دوست نے ایک روز مجھ سے بڑی سرگوشی میں پوچھا کہ کیا کبھی مجھے طوائف بننے کی خواہش ہوئی ہے۔کیمپس میں اس طرح کی گفتگو عام تھی۔موبائلز میں میری اکثر سہیلیاں نئی نئی نیلی فلمیں دیکھا کرتی تھیں، مجھے بھی نیلی فلموں کا بہت شوق ہے۔ایک ہالی ووڈ کی فلم میں نے دیکھی تھی، نام اب یاد نہیں۔جس میں ایک شخص کو جلق لگانے کی زبردست عادت ہوتی ہے، اس سے چھٹکارا ہی نہیں ملتا۔اس کا موقف یہ ہوتا ہے کہ جلق لگانا اصل جنسی تعلق بنانے سے زیادہ مزیدار اور جمالیت آمیز ہے۔لڑکیاں نیلی فلمیں دیکھتے وقت اکثر اپنی شرمگاہوں میں انگلی ڈال کر ان کے ساتھ چھیڑ خانی کرتی ہیں۔میں لاکھ کوشش کرتی ہوں، مگر میری تو آدھی انگلی بھی اندر تک نہیں جاتی، اصل میں مجھے ڈر بہت لگتا ہے، کسی اور بات سے نہیں، اس تکلیف سے جو اس عمل کے دوران ہوسکتی ہے۔خیرہالی ووڈ کی فلم کے اس مرکزی کردار کی طرح مانتی تو میں بھی یہی ہوں کہ اصل سیکس بھی نیلی فلموں کا متبادل نہیں ہوسکتا۔بہت سی ایسی چیزیں ہیں، جو آپ دوران سیکس کر ہی نہیں سکتے، بہت سی ایسی جبلی خواہشات، جنگلی حسرتیں، دیوانگی کے عالم میں بولنے، چیخنے اور ضرب لگانے جیسے کام صرف وہیں ممکن ہیں۔میں سوچتی ہوں کہ اگر سیکس کے دوران کوئی میرے کولہے زور سے تھپتھپا کر 'ہوزیور ڈیڈی؟' کہے تو کیا میں اس عمل کو پسند کروں گی؟جواب شاید نہیں میں ہے۔مجھے نیلی فلموں اور اصلی دنیا کے اس فاصلے کی ہی وجہ سے انہیں دیکھنا زیادہ پسند آتا ہے۔ایک ناول نگار کے بارے میں ہمارے انگریزی کے استاد نے بتایا تھا ، جن کا مانناتھا کہ ناول اصل میں کہا ہی اس تخلیق کو جاتا ہے جسے پکچرائز نہ کیا جاسکے۔سو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ نیلی فلم اصل میں اسی انسانی خواہش کی تکمیل کا نام ہے، جو بستر پر دو عام انسان کبھی پوری نہیں کرسکتے۔

خیر، میں کلاس کی بینچ پر تنہا بیٹھی ہوئی ہوں۔زینت مجھے دیکھ کر اجنبیوں کی طرح مسکرائی اور پھر اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔اصل میں وہ مجھ سے خوف کھانے لگی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ پچھلے دنوں میں نے سب کو حیران کردیا تھا۔پتہ نہیں اس روز میرے جی میں کیا آئی کہ میں اپنے لبوں پر کالی لپ سٹک پوت کر کالج چلی آئی۔اب باہر سے لے کر کلاس تک، کلاس سے لے کر کینٹین تک، جو کوئی مجھے دیکھتا ،ہلکا سا چونک جاتا۔اس سے پہلے یہاں کسی نے بھی کالی لپ سٹک نہیں آزمائی تھی۔کچھ جماعتیے تو استغفراللہ کہتے ہوئے قریب سے گزرے۔میں نے یہ کام صرف تھوڑی سی تبدیلی کے نقطہ نظر سے کیا تھا۔مجھے یہ علم نہیں تھا کہ سبھی لوگ مجھے اس طرح کی خوف ناک یا بالکل ہی دنیا سے باہر کی کوئی چیز سمجھنے لگیں گے۔زینت نے مجھ سے کہا کہ میں اس کی جگہ اگر جامنی یا گہری سبز لپ سٹک بھی لگاتی تو اتنی بھیانک نہ دکھائی دیتی، مگر مجھے تو میں بالکل نارمل معلوم ہوئی تھی، بلکہ خوبصورتی سے تراشے گئے میرے بالوں کے درمیان میرا سیب جیسا سانولا چہرہ اپنے کالے لبوں کے ساتھ قیامت ڈھاتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔وقاص نے مجھے ایک دو بار سخت سست کہنے کی کوشش کی، مگر میں جانتی تھی کہ وہ دکھاوا کررہا ہے، اسے بھی میری اس جرات نے بہت متاثر کیا تھا۔مجھے اصل خوف جماعتیوں کا تھا، یہ کیمپس میں ہلہ کرسکتے تھے، خاص طور پر ان سکارف میں پھنسی ہوئی شکلوں کا جو جمائی لیتے وقت بھی اللہ ہی کا نام پکارا کرتی تھیں۔

آپ کو شاید علم نہیں، مگر ایک دفعہ ان جماعتی لڑکیوں نے مجھے گھیر لیا تھا۔ہوا یہ کہ میں کیمپس میں ایک سنسان جگہ سے گزر رہی تھی اور میں نے دیکھا کہ وہ ایک لڑکی کو کچھ سمجھا رہی ہیں۔وہ اتفاق سے میری شناسا تھی۔میں نے اسے اپنے ساتھ لیا اور ان سے الجھ پڑی کہ کسی کے ساتھ زبردستی کرنے کا انہیں کوئی حق نہیں۔اب وہ تو مجھ پر ہی پل پڑیں اور چاروں طرف سے چیائوں میائوں کرتی ہوئی چلی آئیں کہ یہ خدا کے کام میں بھی خلل ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔بات اور بڑھتی اور ان میں سے کوئی موقع نکال کر مجھ پر ہاتھ اٹھا بیٹھتی اس سے پہلے ہی میں اپنی دوست کو لے کر وہاں سے چمپت ہوگئی۔مگر اس کے بعد بھی کبھی ان کی ٹولی نظر آتی تو وہ مجھے اپنا تعاقب کرتی ہوئی محسوس ہوتیں۔کئی دنوں کے بعد میرے دل سے یہ خوف دور ہوا۔خیر، زینت مجھ سے خوف زدہ اس وجہ سے نہیں تھی کہ میں نے کالی لپ سٹک لگائی تھی، ہوا یہ تھا کہ میں ، وہ ، وقاص اور بلال گھانس پر بیٹھے ہوئے باتیں کررہے تھے، میں ساتھ ساتھ چپس بھی کھارہی تھی۔اس نے کہا کہ تم تو بس بلاوجہ اپنی جرات دکھانے کے لیے اس طرح کے کام کیا کرتی ہو، کل کو کوئی تمہیں کہے گا کہ کسی کو کیمپس میں چوم کر دکھادو، تو کیا وہ بھی کردو گی۔میں نے پورے ماحول کا جائزہ ، ایک ساعت میں چیل کی نگاہ سے لیا اور موقع دیکھ کر پاس بیٹھے ہوئے بلال کے گال پر ایک بوسہ چپکا دیا۔وہ مجھے چونک کر دیکھنے لگا ، وقاص نے مجھے صبا کہہ کر حیرت اور دکھ سے پکارا مگر دیکھنے جیسی حالت تو زینت کی تھی، وہ پتھر بنی ہوئی ایک ٹک مجھے گھور رہی تھی۔میں نے زور سے قہقہہ لگایا اور اتنا زیادہ ہنسی کہ دوہری ہوگئی۔وقاص ناراض ہوکر چلا گیا، بلال بلاوجہ شرمانے لگا اور زینت مجھے پاگل سمجھ کر اگلے دن سے مجھ سے کنارہ کرگئی۔
ابھی میں یہی سب کچھ سوچ رہی تھی کہ کلاس میں ایک استانی صاحبہ تشریف لائیں۔اف ان ٹیچرز کا مطالعہ کتنا ناقص اور عجیب ہوتا ہے، اس کا اندازہ لگا پاناذرا بھی مشکل نہیں ہے۔آپ یہ سمجھیے کہ ہمارے بیشتر اساتذہ برصغیر کا جغرافیہ بھی ٹھیک سے نہیں سمجھتے اور اپنی اس تاریخ پر فخر کرتے ہیں کہ سندھ ہمارے ہی ہم مذہبوں نے فتح کیا تھا۔میں اس بارے میں زیادہ تو نہیں جانتی مگر مجھے ان لوگوں کی باتوں سے اکثر بہت تکلیف ہوتی ہے۔یہ کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب اعلیٰ ہے، ہماری اخلاقیات بہتر ہے، ہم سب سے افضل ہیں وغیرہ وغیرہ، ایسی ابکائی آتی ہے، جیسے ان کی باتوں نے منہ میں اپنی گھنونی انگلیاں ڈال کر اسے ایک بڑے سے غار میں تبدیل کردیا ہو اور وہاں سے ان کی پلائی گئی ساری باتیں، عجیب سے لبلبے مادے کی صورت گھر گھر کرکے بہتی چلی جارہی ہوں، سچ میں یہ باتیں مجھے بہت تکلیف پہنچاتی ہیں ، حیض کی تکلیف سے بھی زیادہ، ہارٹ اٹیک سے بھی زیادہ اور بعض اوقات شاید درد زہ سے بھی زیادہ۔

جیسے تیسے ان کی کلاس ختم ہوئی اور میں کینٹین میں جاکر بیٹھ گئی، آج دور دور تک کوئی نہیں تھا۔مطلب تھے تو سب شناسا ہی، مگر میرے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا۔بلال اس روزکے بعد دکھائی ہی نہیں دیا، پتہ نہیں کہاں مرگیا تھا، ایک دو دفعہ دکھا تو ایسے شرمایا جیسے میں نے اسے بوسہ نہ دیا ہوبلکہ سڑک پر اپنے گول، چکنے اور ملائم کولہے دکھادیے ہوں۔وقاص ناراض تو تھا، مگر تھا میرا شیدائی، چنانچہ مجھے یقین تھا کہ وہ میرے پاس ہی آئے گا،مگر میں اس سے خود بچنے لگی تھی، کیونکہ مجھے اس کی بے وقوفانہ حرکتوں سے چڑ ہوتی جارہی تھی، شاید یہی وجہ تھی کہ میں نے اسے مزید چڑانے کے لیے بلال کو بوسہ دیا۔میں نے اسے چھیڑنے کے لیے اکثر یہ بھی کہا کہ کتنا اچھا ہو اگر ایک ہی بستر پر میں تمہارے اور کسی اور لڑکے کے ہمراہ جنسی لذت حاصل کرنے کا کوئی راستہ پیدا کرسکوں۔ان سب باتوں کو وہ یوں تو ہنسی میں اڑاتا تھا، مگر اندر سے کافی کڑھتا تھا۔اور پتہ نہیں کیوں اس کی یہ کڑھن مجھے ایک عجیب سا مزہ دیا کرتی تھی۔کیا زینت کی میرے بارے میں قائم کی جانے والے کچھ حد تک درست تھی، کیا میں سچ مچ پاگل ہوتی جارہی تھی؟

کینٹین میں میں نے صرف چائے پی، چائے میری واحد رفیق حیات ہے، جس کا ساتھ میں زندگی کے کسی موڑ پر نہیں چھوڑ سکتی، سخت سے سخت گرمی ہو یا سردی۔برسات ہو یا حبس۔مجھے چائےہمیشہ اور ہرحال میں سکون ہی عطا کرتی ہے۔میں اس کی قتیل رہی ہوں، جب وہ اپنا ایک بڑا سا گھونٹ میرے حلق میں اتار کر اسے ایک گرم بوسہ دیا کرتی ہے، تو ایسا لگتا ہے، جیسے کسی نے نسوں میں جمی ہوئی لال دھند کو چھانٹ دیا ہو۔اف۔۔۔کتنا حسین موسم ہوجاتا ہے، میرے اندر کا۔چائے سے اپنے تعلق کی بنیاد پر میں کہہ سکتی ہوں کہ مرتے دم تک میں اس کا پیچھا نہیں چھوڑوں گی، اگر اس دھرتی پر کوئی آخری پودا بھی چائے کا بچ جائے تو میں اپنے وجود کی جنگ کے لیے لوگوں کو قتل کرکے بھی اسے حاصل کرنے کی جدوجہد کرسکتی ہوں۔چائے کا رنگ بالکل میری بغلوں اور چھاتیوں کے کلس جیسا ہے، مجھے اس کے ساتھ اپنی یکسانیت کا ایک ثبوت اس کے کیف آور ہونے میں بھی ملتا ہے۔میں اور وہ دونوں بظاہر بڑے ہی بے ضرر سے نشے ہیں، مگر جس کی زندگی میں بھی داخل ہوجائیں، اسے اپنا عادی بنائے بغیر نہ چھوڑیں۔چائے کی ایسی ہی محبت نے مجھے اس پر ایک کتاب پڑھنے کے لیے راضی کیا، حالانکہ میں نے ابھی وہ کتاب مکمل نہیں کی ہے، مگر اس میں بیشتر ایسی چیزیں ہیں، جو بڑی دلچسپ ہیں، یعنی مجھے اسی سے پتہ چلا کہ چائے دراصل چینی لوگوں کی نہیں بلکہ ہم بھارتی لوگوں کی دریافت ہے۔ہمارے ہی آبا و اجداد نے اسےکھوجا اور لوگوں تک پہنچایا۔چائے میں دودھ کی آمیزش تو خیر اس کتاب کے مطابق قریب تین ، ساڑھے تین سو سال پہلے کی بدعت ہے، اس سے پہلے چائے کے ساتھ اس قسم کا کوئی تکلف نہیں برتا جاتا تھا، مگر دودھ کے بغیر چائے کا تصور میرے جیسے لوگوں کے لیے اب اتنا ہی کریہہ ہوگیا ہے، جتنے میرے ہم جماعتوں کے لیے میرے کالی لپ سٹک سے تھپے ہوئے دو ننھے ننھے معصوم سے لب۔
Image: Jenny Terasaki

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Tasneef Haider

Tasneef Haider

Tasneef Haider is running Adabi Dunya. He is working as a freelance scriptwriter and trying to promote Urdu literature through internet.


Related Articles

خالہ اُمّہ مر گئی

"مر گئی بے چاری! سسکیاں لیتی، آہیں بھرتی، آ ہا، افسوس، صد افسوس ! "

خواہش کی گھنٹیاں

دریا کنارے کے درختوں نے یہ منظر انتہائی خوف کے عالم میں دیکھا۔ انہیں اب تک گھنٹیوں کی آواز سنائی نہ دی تھی۔ چھوٹا درخت اس سارے ہنگامے سے بےنیاز اپنی خواہش کی گھنٹیاں بجاتا رہا۔

سچ

گو کہ میں نے تمام عمر اسی بے چینی کے عالم میں بسر کر دی، مگر کیا یہ مسرت کا مقام نہیں کہ میں اپنی شکل میں ماضی کے انسانوں اور ان کی کی روایت کو زندہ رکھنے کا ایک سبب ہوں، اور کسی اور کی شکل میں خود بھی زندہ رہوں گا۔