مخصوص نشستوں کے بلدیاتی انتخابات؛ سیاسی جماعتوں کے عدم تحفظ کا شکار

مخصوص نشستوں کے بلدیاتی انتخابات؛ سیاسی جماعتوں کے عدم تحفظ کا شکار
حکومتی آرڈیننس کے جاری ہونے اور سیاسی جماعتوں کے عدالت میں اس کو چیلنج کرنے کے بعد دو ہفتوں تک الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
ڈیرہ غازیخان سمیت پنجاب کی 11 میونسپل کارپوریشنوں اور 35 ڈسٹرکٹ کونسلوں میں مخصوص نشستوں کے انتخابات 8 فروری کو شیڈول کے مطابق ہونا تھے، اس کے بعد میونسپل کمیٹیوں اور یونین کونسلوں کی سطح پر بھی ان نشستوں کے انتخابات ہونا تھے۔ مگر 20 جنوری کو گورنر پنجاب کی جانب سے لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس جاری کیا گیا جس کے تحت یہ انتخابات براہ راست چناؤ کی بجائے متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہونا قرار پائے اسی طرح میئرز اور چیئرمینوں کا انتخاب بھی اب خفیہ رائے شماری بجائے کھلے بندوں (Open Division) کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس آرڈیننس کے آتے ہی حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے شیدید مخالفت کی گئی ہے اور عدالت سے بی رجوع کیا گیا ہے۔ اس امر کو آئین کی دفعہ 226 سے متصادم قرار دیتے ہوئے عدالت میں چیلنج کیا گیا۔

اس سارے عمل سے بلدیاتی اداروں کے لیے انتخابات کا عمل تعطل کا شکار ہوا ہے اور ان اداروں کے قیام اور استحکام کے حوالے سے بے یقینی کی کیفیت بڑھ رہی ہے۔ حکومتی آرڈیننس کے جاری ہونے اور سیاسی جماعتوں کے عدالت میں اس کو چیلنج کرنے کے بعد دو ہفتوں تک الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ اس دوران امیدواروں کو نشانات عطا کر دیے گئے، ریٹرننگ افسران کو پولنگ سکیم فراہم کر دی گئی اور پھر انتخابات سے تین دن پہلے الیکشن کمیشن نے اپنا شیڈول واپس لے لیا۔

حکومت نے اسمبلی سے آرڈیننس کو قانونی بل کی صورت میں منظور کرا لیا جس کے بعد اب قانونی طور پر لازمی ہو گیا ہے کہ یہ انتخابات متناسب نمائندگی اور کھلے عام رائے دہندگی کے اصول کی بنیاد پر منعقد کرائے جائیں لیکن صورت حال تاحال واضح نہیں ہو سکی۔ شیڈول واپس لیتے وقت مخصوص نشستوں کے انتخابات کے انعقاد کو عدالتی فیصلے سے جوڑ دیا گیا ہے، نیا شیڈول عدالتی فیصلہ کے بعد دیا جائے گا۔ اب عدالت کی جانب سے فیصلہ کتنے عرصہ میں آئے گا اس حوالے سے کوئی بات یقین سے نہیں کی جا سکتی۔ اب بلدیاتی انتخابات کا آخری مرحلہ کب مکمل ہو گا اس حوالے سے کچھ بھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا سوائے اس کے کہ یہ صورت حال بلدیاتی اداروں کے مستقبل کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔

آئین کی دفعہ 226 کے مطابق صدر اور وزیر اعظم کے انتخاب کے علاوہ باقی تمام انتخابات خفیہ رائے شماری کے ذریعے کرانا ضروری ہے، پنجاب حکومت کے نئے قانون کے مطابق اب ایسا نہیں ہوگا، میئرز اور چیئرمینوں کے انتخابات ہاتھ کھڑے کر کے کرائے جائیں گے جو جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔
ڈیرہ غازی خان سمیت تمام اضلاع کی میونسپل کارپوریشنوں اور ڈسٹرکٹ کونسلوں اور لاہور کی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں نوجوانو ں، مذہبی اقلیتوں، خواتین، کسان/ مزدور اور ٹیکنوکریٹ کی نشستوں کے لیے مجموعی طور پر 40 ہزار سے زائد امیدواران نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے جن کی اب نئے قانون (منظور کئے گئے بل) کے مطابق کوئی حیثیت نہیں رہی۔ اب جب کبھی بھی مخصوص نشستوں کے انتخابات ہوئے اور ان کے لیے نیا شیڈول جاری کیا گیا تو ہو سکتا ہے کہ ان خواتین و حضرات کو نئے سرے سے کاغذات جمع کرانے پڑیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جو فہرست برائے امیدواران سیاسی جماعتوں کی جانب سے الیکشن کمشن کو جمع کرائی جائے اس فہرست میں ان خواتین و حضرات کے سوا کئی اور نام بھی ہوں۔ الیکشن کمیشن کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت جو ناقابل واپسی فیس کروڑوں روپے کی صورت میں جمع کرائی گئی وہ بھی اب سرکاری خزانے کی نذر ہو چکی ہے۔ یہ کون سا جرمانہ ہے جو انتخابات کے نام پر عوام (امیدوار) سے وصول کئے جاتے ہیں اور جس مقصد کے لیے یہ رقم وصول کی جاتی ہے وہ تقریب مسلس التوا کا شکار ہوتی چلی جاتی ہے؟ ماضی میں بلدیاتی انتخابات بھی کئی بار ملتوی ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے جمہوری نظام کی نچلی سطح سے افزائش کا عمل بھی معطل ہوا ہے۔

عدلیہ، انتظامیہ اور اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے جو بھی ہوں مگر کیا یہ فیصلے عوامی امنگوں کے ترجمان ہوتے ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ مسلم لیگ نواز پنجاب میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے باوجود خوف زدہ اور عدم اعتماد کا شکار ہے، کیا انہیں آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے امیدواران کی جانب سے کسی قسم کے غیر متوقع فیصلے کا خدشہ ہے یا اپنی ہی جماعت کے لوگوں کی جانب سے وفاداریاں تبدیل کرنے کا خوف ہے؟ کیا وجہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات کی تکمیل کی راہ میں روکاوٹ بنی ہوئی ہیں؟ جمہوری حکومتیں اپنے فائدے کے لیے اگر جمہوریت کی روح سے منافی ترامیم اور قوانین منظور کرائے تو اسے کیا کہا جائے؟ آئین کی دفعہ 226 کے مطابق صدر اور وزیر اعظم کے انتخاب کے علاوہ باقی تمام انتخابات خفیہ رائے شماری کے ذریعے کرانا ضروری ہے، پنجاب حکومت کے نئے قانون کے مطابق اب ایسا نہیں ہوگا، میئرز اور چیئرمینوں کے انتخابات ہاتھ کھڑے کر کے کرائے جائیں گے جو جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔

Image: Sabir Nazar


Related Articles

ہمارا مبہم قومی بیانیہ

ریاست کی بنیاد میں موجود مبہم بیانیے نے ہمیں مسلسل نقصان سے دوچار کر کے اس کی قلعی کھولی مگر ہم آج بھی اسی بیانیے سے چمٹے ہوئے ہیں۔

PEGIDA – What is Currently Happening in Germany?

Kirsten Danner and Niklas Mengel Just while writing this article, terrorists attacked Charlie Hebdo, a satirical newspaper that published cartoons

کومبنگ آپریشن بلوچوں کے خلاف جنگ میں تیزی لانے کا بہانہ ہے

زہری مشک اور محمد تاوہ میں داعش کے کیمپ موجود ہیں، جن کی سرپرستی بعض سیاسی رہنما خود کر رہے ہیں۔