مذہب، تصوف اور انسانی معاشرہ

مذہب، تصوف اور انسانی معاشرہ

یہ بات کہ کائنات خدا کے وجود کا مظہر ہے بلا واسطہ اس نقطے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کی بنائی ہوئی چیزیں انسانی ذہن اور اس کے جذبات کی عکاسی کرتی ہیں۔خدا کی تخلیق اور اس کے بندوں کی تخلیق میں یہ مماثلت دو دو چار کی طرح واضح نہیں ہو سکتی کیوں کہ خدا کی ذات لطیف اور لا متنٰہی ہے۔اسے سمجھنا فہم انسانی کے بس کی بات نہیں ، لیکن اس سیاق میں کائنات کے مظہر خدا ہونے کے فلسفے پر اگر قیاس کیا جائے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسان کی اپنی تخلیق بھی اس کے جذبات ، احساسات اور ضرورتوں کا مظہر ہوتی ہے۔ انسان نے اپنی ذہنی اور جسمانی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے طرح طرح کے نظام تشکیل دئے اور ان کے ارد گرد فلسفے اور نظریات کےجال بچھائے۔ گھروں کی آرائش سے لے کر فنون لطیفہ کے بڑے بڑے مظاہر انسانی جزبات و احساسات کی عکاسی کرتے ہیں۔ عظیم فلسفی ارسطو کا ماننا ہے کہ انسان کی ضرورتیں ہی اسے ایک معاشرہ تشکیل دینے اور اس کا پابند رہنے پر مجبور کرتی ہیں۔ فلسفہ، مذہب، سیاست انسانی معاشرے کے اہم اجزا ہیں جو انسان کی معاشرے میں رہنے لائق تربیت کرتے ہیں اور ایک معاشرے سے پنپنے والی تہذیب کے خدوخال بھی وہی متعین کرتے ہیں۔ ان تمام اجزا کا ایک دوسرے کےساتھ بڑا پیچیدہ تعلق ہوتا ہے حالانکہ سب ہی ایک دوسرے کو متاثر کرتے ہیں۔ انسانی تاریخ میں عام طور سے مذہبی جز کو برتری حاصل رہی۔ خدائی پیغام کی حیثیت سے مذہب ہر معاملے میں انسانوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتا رہا۔ دور جدید میں حالانکہ مذہب کی اس حیثیت میں زوال آیا ہے۔

مذہب اور معاشرے کے تعلق کو یک طرفہ دیکھنے کے بجائے دوطرفہ دیکھنا چاہئے۔ایک طرف جہاں مذہب معاشرے کو متاثر کرتا ہے وہیں دوسری طرف معاشرے کے مذہب کے ساتھ پیہم تجربات بھی مذہب کو متاثر کرتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں مذہب کے اندر ہی مختلف جہات نظر آتی ہیں۔بعض بڑے مذاہب نے انسانی معاشرے پر ہمہ جہت اثرات مرتب کئے، ان میں ایک اسلام بھی ہے۔ یہاں بعض باتوں کی وضاحت ضروری ہے۔ اول یہ کہ مذہب اور اس کی تشریح دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ اسلام جیسے بڑے مذہب کے حوالے سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ بحیثیت مذہب کلی طور پر یہ قرآن میں موجود ہےجبکہ قرآن کے خارج میں موجود جو اسلام کی تعبیر و تشریح ہے وہ جزوی ہے۔ صحیفے میں موجود مذہب کی مثال ایک بڑے عام تالاب میں موجود پانی کی سی ہے جس میں مختلف لوگ الگ الگ سائز اور ڈیزائن کے برتنوں سے پانی بھر کر پیتے ہیں۔لہذا اسلام کی تعبیر سے صحیفے میں موجود کلام الہی اور انسانی تجربات و احساسات کا امتزاج مراد ہوگا۔ دوم یہ کہ مذہب کی تعبیر کی ضرورت بھی معاشرتی تقاضوں کے تحت وجود میں آتی ہے۔ شبلی نے اپنے مقالات کی تیسری جلد میں علوم اسلامی کی ترقی کے لحاظ سے اسلامی ممالک کی تقسیم کی ہے۔ مثالا ایران میں اسلامی فلسفے کو زیادہ ترقی حاصل ہوئی جبکہ مصر و شام کے علاقوں میں علوم حدیث کو۔ وہ اسے ان علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں کے مختلف مزاج پر محمو ل کرتے ہیں جو کہ ایک اہم معاشرتی تقاضہ ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ انسانی مزاج یا معاشرتی مزاج کو تشکیل پانے میں ایک زمانہ درکا ر ہوتا ہے۔ اسلام دوسرے مذاہب کے مقابلے میں بہت بعد میں آیا اور جن معاشروں میں یہ پھیلا وہ پہلے سے ہی ایک خاص مزاج میں ڈھل چکے تھے۔ یہ بات سچ ہے کہ اسلام نے ان معاشروں کو متاثر کیا لیکن یہ معاشرے بھی اپنے مزاج کے اعتبار سے اسلام کو متاثر کرتے رہے۔تشریحات اسلام کی صورت میں جو مختلف تفہیمات ہم تک پہنچیں وہ اسی کا نتیجہ ہیں۔

اسلامی تاریخ میں معاشرتی تقاضوں اور مذہبی نصوص کے باہمی مکالمے نے بہت سارے علوم کو پروان چڑھایا۔ ان میں سے بعض خالص مذہبی تھے، جو مذہبی علوم نہیں تھےاور اسلام سے پہلے سے موجود تھےان پر بھی مذہبی نصوص اور اس سے پیدا ہونے والی ذہنیت نے بڑے اثرات مرتب کئے۔ مذہبی علوم کا اگر ہم جائزہ لیں تووہ قرآن کے متن کی حفاظت اور مختلف شعبہائے زندگی سےمتعلق اس کی تفہیم کی ایک کوشش ہے اور یہی ان علوم کا مرکز و محور ہے۔ اگرچہ یہ علوم ایک ہی متن کی تشریح کرتے ہیں لیکن چونکہ ان کے مقاصد اور خاص نقطہ نظر انہیں ایک دوسرے سے جدا کر دیتا ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ مذہبی نصوص کی تفسیر و تاویل، یا ان سے قوانین و روحانیت یا اخلاقیات کے لئے اصول اخذ کرنا صرف مسلم تاریخ کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ اسلام سے پہلے جو مذاہب تھے ان کے ماننے والے بھی اپنے مذہبی نصوص کے ساتھ اسی طرح کا تعلق رکھتے تھے۔ مسلمانوں کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے باضابطہ اس اخذ و استفادہ کے لئے علوم مدون کئے۔

اہل علم پرواضح ہےکہ کلام،فقہ، حدیث، لسانیات وغیرہ مذہب کی تفہیم کے لحاظ سے بہت ہی اعلی علوم ہیں لیکن تصوف کے مقابلے میں ان کا اسکوپ محدود ہے۔ فقہ و حدیث کی طرح تصوف بھی اسلامی علوم کا ایک حصہ ہے اور یہ مذہبی نصوص و انسان کے قلبی احساسات کے باہمی اشتراک سے وجود میں آیا۔ قلبی احساسات جو خدا پر ظاہر ہیں کی پاکیزگی پر اصرار کے علاوہ تصوف میں عالمی اخلاقیات کا تصور بنیادی طور پر موجود ہے۔ کلام، فقہ و حدیث کی بحثیں بھی اگرچہ علم تصوف میں موجود ہیں لیکن مجموعی سطح پر مخلوق میں اس کےخالق کی تخلیق کردہ جمالیات کو عملی طور پر ٹٹولنااس کا امتیاز ہے۔ یہی سبب ہے کہ تصوف پر عمل کرنے والوں میں شعر، سماع، اعلی اخلاقیات اور مساوات کو فروغ ہوا۔ تصوف میں موجود ان اقدار، علوم او ر اعمال نےمعاشرے میں اطمینان پیدا کرنے اور اسے متواضع بنانے میں اہم کردار نبھایا اور اس حوالے سے تصوف کا مستقبل بھی تابناک ہے۔
یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ تصوف نے دوسری تہذیبوں سے بھی استفادہ کیا، لیکن یہ کوئی عیب نہیں ہے۔ جب ہم انسانی تجربے کی بات کرتے ہیں تو یہ وہی تہذیبی اور ثقافتی تجربہ ہےجس کی روشنی میں ہم نصوص کی تعبیر کرتے ہیں۔ تعبیر کا خلا میں پیدا ہونا محال ہے۔ دوسرے اسلامی علوم میں بھی موجودہ تہذیبوں سے اخذ و استفادے کی مثالیں موجود ہیں۔ اس اخذ و استفادہ کے عمل میں افراط وتفریط کے شکار نظریات پر ضرور قدغن لگائی جائے گی۔ تصوف کے ماننے والے بھی افراط و تفریط کا شکار ہوئے لیکن عظیم صوفیہ کی معتدل روایات نے ایک عالم کو تصوف کا گرویدہ بنا دیا۔

بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تصوف کو مسلمانوں کے زوال کی ذمہ داری لینا چاہئے۔ انیسویں صدی میں جب مسلم تہذیب کے سیاسی احیا کی تحریکات شروعات ہوئیں تو تصوف جو ایک غیر سیاسی روایت کا حامل رہا ہے اسے مسلمانوں کے سیاسی و تہذیبی زوال کا ذمہ دار مان لیا گیا۔ حالانکہ یہ بات مسلم تہذیب کی تاریخ کے ناقص تجزیہ کی ایک مثال ہے۔ اول تو یہ کہ جس طرح تہذیبوں کا عروج معاشرے کے تمام تر عناصر کے تعاون سے عمل میں آتا ہے اسی طرح ان عناصر کے زوال پذیر ہونے کی صورت میں تہذیب کو زوال لاحق ہوتا ہے۔ مسلم تہذیب نے جن عناصر کی بنیاد پر عروج حاصل کیا تھا ان میں جمود پیدا ہونے کی وجہ سےہی مسلم تہذیب کو زوال ہوا ۔ سترہویں اور اٹھارویں صدی میں دوسرے علوم کی طرح تصوف میں بھی تحریک مفقود ہو گئی، نتیجتا بدلتے ہوئے معاشرے کے ساتھ اس کا عملی تعلق قائم نہ رہ سکا۔ جس تصوف کو مسلم مصلحین نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ صرف روایتوں کا ایک ڈھانچہ تھا جسے انہوں نے خواجہ نظام الدین اولیا کے عہد کے تصوف کی مانند سمجھ لیا۔اگر یہی مصلحین شبلی، معین الدین چشتی، نظام الدین اولیا یا شیخ عبدالقادر کے عہد کے تصوف کو ملاحظہ کرتے تو ان کی رائے یکسترمختلف ہوتی۔ اس دور میں تصوف کو الزام دینے کے بجائے اسلامی اخلاقیات اور روحانیت کی حامل اس روایت کے احیا کی کوشش اسلامی نشاۃ ثانیہ کے لئے زیادہ مفید ثابت ہوتی۔

اخلاقیات، شعر، موسیقی، فنون وغیرہ میں موجود اسلامی جمالیات کے فروغ میں بھی تصوف کی روایت نے اہم کردار ادا کیا۔ اس خیال کے ثبوت میں اسلامی تاریخ میں مذہب کے حوالے سے تصوف اور فقہ کے دو غالب رجحانات کا تقابلی مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ صوفیہ خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو عشق جیسی لطیف اصطلاح سے تعبیر کرتے ہیں جبکہ فقہا کے یہاں یہی تعلق حاکم و محکوم کے تعلق کا سا ہے۔ بنیادی طور پر دونوں ہی درست ہیں (حالانکہ بعض لوگوں کو اس بات سے اختلاف ہو سکتا ہے) لیکن ان تصورات سے جو نفسیات پیدا ہوتی ہیں ان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ تصوف کے زوال کا اثر اسلامی جمالیات پر بھی ہوا۔

موجودہ عہد کو تصوف کے زوال کا عہد تصور کیا جانا چاہئے۔موجودہ خانقاہیں، پیری مریدی و سالانہ اعراس و لنگر تصوف کی روایت کا حصہ ہیں خود تصوف نہیں ہیں۔ ہمارے زمانے کا تصوف مولویت زدہ تصوف ہے جسے عہد وسطی کے عظیم صوفیہ کے تصوف سے کوئی نسبت نہیں ہے۔ تصوف کے اپنے صحیح معنوں کے ساتھ احیا کی ضرورت ہے۔ تصوف کے حاملین کو چاہئے کہ وہ اس کے مستقبل کے بارے میں غور و فکر کریں آیا اس کا احیا عہد وسطی کے ہی خطوط پر عمل میں آئے گا یا پھر عہد جدید کے حوالے سے اس میں نئے خطوط کھینچنے کی بھی گنجائش ہے۔ مخلوق کے حوالے سے صوفیہ کا نقطہ نظر دور جدید کے بہت سارے اہم مسائل مثلا ماحولیاتی آلودگی، دہشت گردی، تکثیریت، سیکولرزم وغیرہ کو حل کرنے کے لئے عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ خانقاہیں درسگاہوں، اسلامی مراکز اور این جی اوز کے طور پر بہترین خدمات انجام دے سکتی ہیں۔ لیکن یہ سب اس وقت ممکن ہو سکتا ہے جب تصوف کے حاملین صوفی روایت اور معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور انہیں بروئے کار لائیں۔

Image: Emil Bisttram


Related Articles

دعوتِ اسلام، چند واقعات (شعیب محمد)

1) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی اور وہاں پہنچنے کے بعد یہودیوں کے ساتھ

درزی اوشو

اوشو کو عیسیٰ، گاندھی یا مدر ٹریسا جیسے لوگوں سے کوئی علاقہ نہیں تھا، اس کا اصل مقصد دنیا کی ایک چھوٹی اور بے وقوف آبادی کو اس چھلاوے کی نذر کرنا تھا، جو بس بغیر سوچے سمجھے تالیاں بجانا جانتی ہو۔

میں ضرور پوچھتا

میں اگر نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ سکتا تو ضرور پوچھتا کہ کیا ایک احمدی، عیسائی، یہودی، ہندو اور ملحد کا ناحق قتل بھی پوری انسانیت کا قتل ہے؟