مذہب کا موجودہ دائرۂ عمل

مذہب کا موجودہ دائرۂ عمل

چودھری محمد علی ردولوی ایک زبردست عالم اور اردو کے ادیب و افسانہ نگار تھے۔انہوں نے اردومیں سب سے پہلے ہم جنس پرستی پر 'تیسری جنس'کے عنوان سے ایک کہانی بھی لکھی تھی، جو کہ بہت مشہور ہوئی۔ترقی پسندتحریک کے اجلاس میں انہوں نے افتتاحی تقریر بھی دی تھی، جس کو کہا جاتا ہے کہ بعد میں کنہی وجوہ پر شائع نہیں کیا گیا بلکہ پوری طرح نظر انداز کردیا گیا۔صاف گوادیب ہونے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ مسلمانوں بلکہ انسانوں کے درمیان مصالحت کی کوئی بہترین صورت نکلے اور لوگ ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک میں کسی مخصوص مذہب و مسلک سے وابستہ ہونے کے باوجود سیکولر رویے کے حامل ہوں ، ان کا زیر نظر مضمون اردو ادب کے شمارے سے ماخوذ ہے۔جناب اطہر فاروقی، جنرل سکریٹری ،انجمن ترقی اردو ہند کے شکریے کے ساتھ شائع کیا جارہا ہے۔

ایک آزاد خیال مصنف نے مسخرہ پن کیا ہے۔ پہلے انجیل مقدس سے حسبِ ذیل جملہ نقل کیا ہے۔ خدائے عزّ و جل نے چھ دنوں میں دنیا بنائی اور فرمایا کہ ’’خوب بنی‘‘۔ اس کے بعد اپنا قول لکھتا ہے کہ ’’اب آکر دیکھیں تو کیا دیکھیں‘‘ دریدہ دہنی سے قطع نظر کرکے اگر دیکھا جائے تو یہ شوخی کسی اور چیز پر صادق آتی ہو یا نہ ہو، اسلام کے لیے ضرور موزوں ہے۔ اسلام کون چیز تھا، اور کون چیز ہے مگر لوگوں نے اپنی خود غرضی سے اس کو کیا بنا دیا ہے کہ خدا کا بھیجا ہوا نام، رسول کا لایا ہوا نام ’مسلم‘ مجہول المعنی ہوکر رہ گیا ہے۔ جب تک شیعہ، سنی، صوفی، وہابی کا دُم چھلا نہ لگایا جائے سننے والے کو تسکین نہیں ہوتی۔ نہ کہنے والا ہی محسوس کرتا ہے کہ میں پوری بات کہہ چکا۔

اسلام کون چیز تھا، اور کون چیز ہے مگر لوگوں نے اپنی خود غرضی سے اس کو کیا بنا دیا ہے کہ خدا کا بھیجا ہوا نام، رسول کا لایا ہوا نام ’مسلم‘ مجہول المعنی ہوکر رہ گیا ہے۔ جب تک شیعہ، سنی، صوفی، وہابی کا دُم چھلا نہ لگایا جائے سننے والے کو تسکین نہیں ہوتی۔
اگر اس کا رونا روئے تو جواب میں حضرات علما کے پاس تالیف قلوب کا عمدہ نسخہ ہے۔ اصول دین تمام فرقہ ہائے اسلام میں ایک ہیں، خدا ایک، رسول ایک، قبلہ ایک، قرآن ایک۔ پھر آپ کو شکایت کس بات کی؟ انسانوں کے طبائع مختلف ہیں لہٰذا خیالات میں کچھ نہ کچھ اختلاف تو ہووے گا۔ اس سے نفس اسلام پر کیا اثر پڑتا ہے۔ یہ ایسا چلتا ہوا فقرہ ہے کہ زیادہ تر لوگ مرعوب ہوکر چپ ہوجاتے ہیں اور معترض کو تسکین ہو یا نہ ہو لیکن زبان گلہ ضرور بند ہوجاتی ہے۔ میں نے بھی مسکت مگر غیر تسکین بخش جملے اکثر مذہبی حضرات کے منہ سے سنے ہیں اور پیچ و تاب کھاکر رہ گیا ہوں۔ میں نے تو یہی غور کیا ہے کہ یہ حربہ ہمیشہ اس وقت کام میں لایا جاتا ہے، جس وقت مخلوط صحبت ہوتی ہے۔ اگر خالص جلسہ ہو تو بلا ارادہ طرزِ گفتگو دوسرا ہوجاتا ہے۔ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ اگر ہوسکے تو دوسرے کو خفا نہ کرو۔ ضمناً یہ پہلو بھی نکلتا ہے کہ ایسے اعتراض کو کیوں تسلیم کرو جس میں مدمقابل کے نقصان کے ساتھ اپنے نقصان کا بھی خدشہ ہے۔

اگر اکھاڑے میں دو پہلوان نہ ہوں تو کشتی کا لطف کیوں کر آئے۔ اگر یہ فروعی اختلاف نہ رہ گئے تو فرقہ علما کی ضرورت بہت کم ہوجائے گی، پیشے کی صورت ہی نہ باقی رہے گی۔ بالکل کاغذ کے پھول کی سی حالت ہوجائے گی، کہ دیکھنے میں بالکل ویسا ہی مگر سونگھنے (کذا) سے رہ جاتا ہے۔ قصہ مشہور ہے کہ انگلستان میں دو اخبار تھے جن میں اتنی سخت چلی ہوئی تھی۔ اور وہ جلی کٹی ایک دوسرے کو سناتے تھے کہ نفس مسئلہ کو چھوڑکر لوگ گرماگرم الفاظ کے مزے لیتے تھے۔ اور اخبار کی بکری خوب ہوتی تھی۔ قضائے کار ایک اڈیٹر مرگیا ساتھ ہی دوسرا اخبار بھی بند ہوگیا۔ لوگوں کی دل چسپی جاتی رہی۔ دریافت سے معلوم ہوا کہ مرحوم مغفور خود ہی بہ نفس نفیس دونوں اخبار نکالا کرتے تھے۔

فروعات کے اختلاف صرف کہنے ہی کے لیے معمولی اختلاف ہیں ورنہ اہمیت ان کی بہت زیادہ ہے اگر نہ یقین ہو تو آپس کی دشمنیاں دیکھ لیجیے۔ جو کوششیں دریا کا پاٹ اور وسیع کرنے کی محرم، میلاد اور دوسری مذہبی مراسم کے پردے میں ہوتی ہیں وہ اس کی شاہد ہیں۔

خدا کی وحدانیت میں معنی پہنائے۔ رسول کی رسالت میں توجیہیں لگائے۔ مخالفت اختلاف رائے کی حد سے نہیں بڑھتی۔ اگر کہیں فروعات میں اختلاف ہوا تو دوسرے فرقہ والے خون کے پیاسے ہیں۔ کافر مارنے کا ثواب گھر ہی میں حاصل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر خدا ناکردہ فروعی فرق دور ہوجائے تو سیکڑوں حضرات والا صفات بھوکوں مرجائیں۔ مریدین، معتقدین، مقلدین ہاتھ سے نکل جائیں، ججمانی خاک میں مل جائے اور مذہب روزی کا ٹھیکرا نہ بن سکے۔ ذاتی اغراض تھے جنھوں نے مذہب کے بہتّر ٹکڑے کردیے اور وہی خود غرضیاں ہیں جو آج ملنے نہیں دیتیں۔ اسی وجہ سے کلام اللہ پر زیادہ زور نہیں دیا جاتا اور حدیث شریف کے نام سے مسلمان مرعوب کیا جاتا ہے۔ یہ حدیث شریف حضرت امام بخاری سے مروی ہے، یہ امام جعفر صادق سے منقول ہے۔ مجال ہے کہ اتنے اتنے بڑے ناموں کے بعد کوئی دم مارسکے حالاں کہ جانتے ہیں کہ دو تین، انتہائی چار احادیث ایسی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ الفاظ بھی جناب رسالت مآب صلعم کے ہیں، باقی میں صرف مفہوم ہے۔ الفاظ حضرات راویان کے ہیں جن کی نسبت یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ معصوم عن الخطا تھے۔ بہت سے مہتم بالشان اسمائے گرامی ہیں جن کی نسبت ان سے بھی بڑے افراد اسلام نے شک ظاہر کیا ہے، لیکن چوں کہ وہی حضرات ایک ایک فرقے سے مختص ہوگئے ہیں۔ لہٰذا ہم لوگ ان کی صحت بیان پر جان دینے کو تیار ہیں۔ ایک فرقہ ہے جن کے بیان (کے مطابق) انھیں روایات کی بنا پر چودہ افراد ایسے ہیں کہ ان سے غلطی کا امکان ہی نہیں گویا وہ انا بشرُٗ مثلکم کے درجے سے بلند ہیں۔ دوسرا فرقہ اس کا قائل نہیں ہے، لیکن وہ بارہ ہزار مسلمانوں کو ایک طرح کا دودھ کا دھویاماننے پر تیار ہے۔ گویا قرآن میں ’’سورۂ منافقون‘‘ ہی غائب ہے گویا دائرۂ اسلام میں ایسے لوگ تھے ہی نہیں جو پشت در پشت لڑتے چلے آئے تھے اور ایک بارگی یہ دیکھ کر کہ رسول اللہ کی فوج ہماری فوج سے زبردست ہے اور اگر کامیابی کی امید ہوسکتی ہے تو اسی طرح کہ مسلمان ہوجاؤ۔ طُرفۃ العین میں مسلمان ہوگئے اور اپنے مقاصد میں بھرپور کامیاب ہوئے۔ جب یہ حال بہترین زمانے کا ہو تو بعد والوں کے لیے کیا کہا جاسکتا ہے۔ لیکن نہیں، اگر ان حضرات کی روایات میں شک کیا جائے تو فرقہ بندی کیوں کر قائم رہ سکتی ہے۔

فروعات کے اختلاف صرف کہنے ہی کے لیے معمولی اختلاف ہیں ورنہ اہمیت ان کی بہت زیادہ ہے اگر نہ یقین ہو تو آپس کی دشمنیاں دیکھ لیجیے۔ جو کوششیں دریا کا پاٹ اور وسیع کرنے کی محرم، میلاد اور دوسری مذہبی مراسم کے پردے میں ہوتی ہیں وہ اس کی شاہد ہیں۔
روایات کا معاملہ بڑا نازک ہے۔ اختلاف رائے دو طرح سے ممکن ہے۔ ایک یہ کہ انسان غلطی کر جائے، دوسرے یہ کہ عمداً غلط بیانی کرے۔ فرض کیجیے پانی کھڑے ہوکر پینا چاہیے یا بیٹھ کر، مثال کے طور پر عرض کیا جاتا ہے کسی نے کھڑے ہوکر پانی پیا، کسی صحابی نے کہا کہ آنحضرت صلعم کے سامنے ایک مرتبہ مجھے کھڑے ہوکر پانی پینے کا اتفاق ہوا تھا اور جناب ختمی مآب صلعم نے فرمایا تھا کہ بیٹھ جاؤ۔ پانی پینے والے نے یہ مزید احتیاط کسی دوسرے صحابی سے دریافت کیا، انھوں نے اپنی یاد پر زور دے کر فرمایا کہ نہیں تو ایک بار میدانِ جنگ میں خود رسالت مآب صلعم نے پانی مانگا تھا اور کھڑے ہی کھڑے نوش فرمایا تھا۔ ان دو روایات میں گمان کیا جاسکتا ہے کہ دونوں حضرات صحیح فرماتے ہوں۔ لیکن آیا آخری حکم ہاتھ کھول کر نماز پڑھنے کا تھا یا ہاتھ باندھ کر۔ وضو میں آنحضرت صلعم پاؤں دھوتے تھے یا مسح فرماتے تھے۔ اس میں اگر اختلاف ہے تو معاف کیجیے گا۔ عمداً غلط بیانی کا یقین ہے۔ جب تک دو راویوں میں سے ایک نے جھوٹ کی پُٹہ نہ دی ہو ممکن نہیں ہوسکتا، کیوں کہ کوئی فریق یہ نہیں کہتا کہ دونوں طریق جائز و رائج تھے۔

علم الالفاظ میں یہ بڑا اہم مسئلہ ہے کہ آیا ایک زبان کی دو لفظیں پوری طور سے مترادف المعنی ہو بھی سکتی ہیں۔ عربی میں گھوڑے کے بہت سے نام ہیں۔ اونٹ کے ناموں کی انتہا نہیں۔ شراب کے لیے نہ معلوم کتنے الفاظ موجود ہیں۔ لیکن کوئی کہہ سکتا ہے کہ تمام الفاظ ہر پہلو سے ایک ہی کیفیت دل میں پیدا کرتے ہیں۔ نود و نُہ (۹۹) اسمائے حسنہ ہیں، ہر نام اسم ذات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ لیکن از روئے صفات سننے والے کا دل و دماغ کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے کہنے والے کی اور ہر نقل کرنے والے کی آواز کی زیادتی وغیرہ وغیرہ۔ اس کا چہرہ، حالت سوال کرنے والے پر وقتی اثرات۔ جواب دینے والے پر جو کیفیات قلبی اور دماغی پیدا ہوئے ہیں۔ موسم وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام امور اور اسی قبیل کے سیکڑوں امور پر غور کرنے کے بعد پتا چلتا ہے کہ روایت کس قدر مشکل چیز ہے اور روایت پر اندھا دھند عقیدت کتنا سخت معاملہ ہے۔

ایک دوسرا امر بھی قابلِ لحاظ ہے۔ اپنے ہم عصروں کی نظر کسی شخص پر اُس طرح نہیں پڑتی جیسی بعد والوں کی ہوتی ہے۔ نہ اُن کے دلوں میں اس کی وہ اہمیت ہوسکتی ہے جو سیکڑوں برس گزرنے کے بعد جب تاریخ اپنا حکم سنادیتی ہے تب ہوئی ہے۔ ۲۳ برس زمانہ بعثت رہا۔ اس دوران میں اصحابِؓ رسول جس میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے، مختلف مواقع پر، مختلف معاملات پر، طرح طرح کے ارشادات و اقوال سنا کیے یا عمل دیکھا کیے۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ تمام ان حضرات نے جن کو یہ نعمت نصیب ہوئی، ایک ہی اندازسے ہر لفظ کو سنا، ایک ہی طرح کا اثر لیا اور حافظے نے ایک ہی طرح اس کو اپنی تحویل میں باقی رکھا۔

ایک فرقہ ہے جن کے بیان (کے مطابق) انھیں روایات کی بنا پر چودہ افراد ایسے ہیں کہ ان سے غلطی کا امکان ہی نہیں گویا وہ انا بشرُٗ مثلکم کے درجے سے بلند ہیں۔ دوسرا فرقہ اس کا قائل نہیں ہے، لیکن وہ بارہ ہزار مسلمانوں کو ایک طرح کا دودھ کا دھویاماننے پر تیار ہے
ہم دیکھتے ہیں کہ دو احباب آپس میں باتیں کرتے ہیں۔ اور ایک کا قول دوسرے سے نقل کرتے ہیں اور وہ تیسرے سے نقل کرتا ہے۔ اور وہ اول کہنے والے سے جب تحقیق کرتا ہے تو کچھ نہ کچھ فرق الفاظ میں یا ترتیب میں ایسا نکلتا ہے کہ قائل کو درست کرنا پڑتا ہے۔ حالاں کہ کسی بیان کرنے والے کی نیک نیتی میں شک نہیں ہوتا۔ یہ اس وجہ سے کہ انسان خطا و نسیان کا پُتلا ہے۔

روایات کی تفتیش ممکن ہے بعض موقعوں پر زمان رسالت میں بھی ہوئی ہو، لیکن اصل ضرورت بعد کو شروع ہوئی۔ اگر ذاتی اغراض سے قطع نظر کرکے مان بھی لیا جائے کہ خود راویوں کے خیالات کا اثر بلا ارادہ بھی ان کے حافظے پر نہیں پڑا، تب بھی غور و تامّل کی جا ہے کہ آیا وہ باتیں جو مختلف مواقع پر مختلف کیفیتوں کے تحت ہیں، کلام کے مختلف سلسلوں میں سنی گئی تھیں، برسوں کے بعد اسی طرح سے پیش بھی ہوسکتی ہیں؟ آواز کا اتار چڑھاؤ الفاظ پر مختلف درجے کا زور جس سے معنی بدل جاتے ہیں، نقل بھی کیا جاسکتا ہے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسروں کے اقوال اور جناب رسالت مآب صلعم کے ارشادات ایک طرح نہیں سنے گئے ہوں گے۔ لیکن آیا انسان ہر زمان و مکان میں ایک ہی طرح دماغ کو ہر بات یاد رکھنے پر آمادہ کرسکتا ہے۔ آپ دھوپ میں چل کر آتے ہیں اور راستے میں جوتا کاٹتا ہوتا ہے او رکسی سے الجھن کی نوبت آجاتی ہے تو آپ کا مزاج ہرگز اس طرح کا نہیں رہتا جیساکہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ ہوا خوشگوار ہو اور بی بی نے پیار کیا ہو۔ اور گھر سے باہر نکلتے ہی کسی شخص نے خلاف امید آپ کی خدمات پر اظہار احسان مندی کیا ہو۔ یہ وہ امکانات ہیں جن سے کوئی محفوظ نہیں۔ یہ بھی ملحوظ رکھیے کہ اگر آپ کی طبیعت کا رجحان ایک طرف ہے تو حافظہ انھیں باتوں کو پیش کرتا ہے جو اس خیال کی ممد ہیں۔ دوسرے رخ کی باتیں صرف اس وجہ سے یاد آتی ہیں کہ کڑی سے کڑی ملی ہے۔ لیکن جب تک ارادہ کرکے ان پر نظر نہ ڈالو۔ آخر الذکر باتوں کا عکس لوح دل پر ہلکا پڑتا ہے۔ ایماندار آدمی ہمیشہ یہ احتیاط کرلیتا ہے کہ دوسرے پہلو کی باتوں کو بھی تول لیتا ہے اوریہ ہی خیالات ہم کو راویان رضوان اللہ علیہم کی طرف سے رکھنا چاہیے۔ لیکن پھر بھی یہ بات ذہن میں رکھنے کے قابل ہے کہ صرف فروع میں اختلاف کو جگہ دی ہے۔ فرائض میں اختلاف قریب نہیں آنے پایا۔ ہمارے یہاں بھی زراعت (کذا) کے اصول موجود ہیں جو اپنے وقت میں کافی اور وافی تھے۔ لیکن وہ معلوم کس کو ہیں، صرف انھیں حضرات کو جو سنّی عالم یا شیعہ مجتہد یا صوفی باصفا کہلاتے ہیں اور صرف دوسروں کی کمائی پر زندہ رہتے ہیں۔ دست بوسی کرواتے ہیں اور صدر کی جگہ کو اپنی میراث جانتے ہیں۔ ان کے نزدیک تاریخی جانچ پڑتال کا اگر کوئی نیا طریقہ نکلے تو اس کو برتنا بدتر از کفر ہے۔ خود ان کے یہاں نئی سے نئی کتاب جو درس میں شامل ہے وہ بھی کئی سو برس کی ہے، مگر باوجود ان باتوں کے یہ خیال کہ اختلافات اتفاقی نہیں ہیں بلکہ عمداً لائے گئے ہیں، ایک اور وجہ سے بھی مضبوط ہوتا ہے، وہ یہ کہ فرائض جس میں خود مفتی کے دائرۂ اسلام سے خارج ہو جانے کا خوف تھا اس میں اختلاف کہیں نہ پائیے گا۔

تئیس برس زمانہ بعثت رہا۔ اس دوران میں اصحابِؓ رسول جس میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے، مختلف مواقع پر، مختلف معاملات پر، طرح طرح کے ارشادات و اقوال سنا کیے یا عمل دیکھا کیے۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ تمام ان حضرات نے جن کو یہ نعمت نصیب ہوئی، ایک ہی اندازسے ہر لفظ کو سنا، ایک ہی طرح کا اثر لیا اور حافظے نے ایک ہی طرح اس کو اپنی تحویل میں باقی رکھا۔
ظہر کی چار رکعت اور مغرب کی تین رکعت قرآن شریف بھر میں ڈھونڈھ ڈالیے کہیں نہ پائیے گا۔ مگر اس میں حضرات علما نے فرق نہیں آنے دیا۔ رکوع، سجود، سلام وغیرہ میں بھی تفرقہ نہ دکھائی دیا۔ ہاں البتہ فروع میں اگر ایک ہی شان رہنے دیتے تو مابہ الامتیاز کون چیز ٹھہرتی۔ مثال کے طور پر عرض کرتا ہوں۔ تشہّد اور سلام شیعہ سنّی سب کے یہاں ایک طرح سے فرض میں داخل ہے اور دونوں پڑھتے ہیں جس میں کسی طرح کا فرق نہیں ہے۔ لیکن دونوں سے کہیے تو کہ ادل بدل کر پڑھیں۔ دلوں پرحضرات مولویان کا وہ سکّہ بیٹھا ہے کہ منہ میں زبان مشکل سے پھرے گی۔

نکاح میں لے لیجیے۔ شیعہ سنّی کے یہاں طریق عقد میں کس قدر علاحدگی دکھائی جاتی ہے لیکن یہ سب علاحدگی صرف دیکھنے ہی کی ہے اصل میں چیز ایک ہی ہے ایجاب و قبول صداق۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو پوری طرح سے دونوں جگہ موجود ہیں اور صرف یہی ضروری ہیں لیکن کوئی صاحب دوسرے فرقے کے طریق سے عقد نکاح کریں تو کہاں تک عرض کیا جائے۔ ہر چیز میں یہ ہی احوال ہے۔ ہر کس از دست غیر نالہ کنند/ سعدی از دست خویشتن فریاد۔ اس مقام پر ایک اپنی ذاتی سرگذشت بیان کردوں۔ گو کہ اس میں ذاتی مباہات اور افتخار کا پہلو نکلتا ہے۔ جیساکہ ایک مرتبہ ایک مولوی صاحب نے طنزاً فرمایا تھا مگر اس کی پروا نہ میں نے تب کی تھی نہ اب کرتا ہوں۔ اگر مطالب بیان ہوجائیں تو ایک فرد کی تعریف یا مذمت دنیا میں کیا وقعت رکھتی ہے۔

خوش نصیبی سے مجھ کو ایک مرتبہ دولت حج نصیب ہوگئی تھی۔ طواف و سعی وغیرہ سنی اور شیعہ دونوں معلّمین کے ساتھ کرتا تھا بلکہ زیادہ سنّی ہی معلّمین کے ساتھ اتفاق ہوتا تھا کیوں کہ میں وہیں ٹھہرا تھا اور کثرت بھی انھیں حضرات کی تھی۔ اور غور کرکے پیچ و تاب کھاتا تھا کہ چند ضروری الفاظ میں صرف افتراق پیدا کرنے کے لیے کس قدر زوائد مستحبّات کے نام سے ٹھونس دیے گئے تھے۔ بہرحال مضی ما مضی۔

منا کی واپسی پر طواف اور سعی کرنے کے بعد سب چیزیں حلال ہوجاتی ہیں، مگر شیعوں کے یہاں طواف نساء علاحدہ بھی کرنا پڑتا ہے۔ چوں کہ اس میں میری شریک زندگی کے اوپر بھی طعنہ زنی ہوتی اور یوں بھی مجھ کو شیعوں کی فقہ عموماً زیادہ پسند ہے۔ لہٰذا میں نے تلاش کرکے شیعہ معلم کے ساتھ طواف کرلیا، اب رہی سعی، اس میں ذرا لمبی دوڑ ہے اور معلم صاحب بیچارے ادھیڑ عمر کے آدمی اور موٹے بھی تھے، فرمانے لگے کہ میں تمھاری نیت درست کروا دوں گا اس کے بعد تم سعی سنّی معلم کے ساتھ کرسکتے ہو۔ میں راضی ہوگیا۔ سنّی معلمین عربی میں نیت کرواتے ہیں۔ آپ نے بالکل وہی فارسی میں شروع کروائی۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت نیت ارادہ دلی ہے جس میں زبان کی شرط نہیں۔ یا نیت میں عربی میں کروں گا جو میرے پیغمبر کی زبان ہے یا اردو میں کروں گا جو میری ماں کی زبان ہے۔ آخر فارسی میں کیوں کروں۔ بیچارے کھسیانے ہوگئے۔ خدا ان کو معاف کرے اور مجھ کو بھی معاف کرے۔

ایک طریقہ اس اختلاف کو بڑھانے اور قائم رکھنے کا اور بھی ہے یعنی مناظرہ۔ اکثر ارشاد ہوتا ہے کہ دنگل بد دیا جائے۔ ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ اس سے بہتر مفاہمت کی کون ترکیب ہوسکتی ہے۔ لیکن اس سے بڑا دھوکا دوسرا ہو نہیں سکتا ہے۔ مناظرے کے لغوی معنی یہ ہیں ’’فکر کردن در حقیقت و ماہیت چیزے‘‘ یعنی دو آدمی اپنے اپنے خیالات ایک دوسرے پر ظاہر کریں جس میں نہ جنبہ داری ہو نہ اپنی رائے کو صحیح منوانے کی کوشش۔ اپنے خیالات کی پچ نہ کی جائے اور مقابل کی رائے بالکل اسی نظر سے دیکھی جائے جیسے غور کرنے سے پہلے خود اپنی رائے کو دیکھتے ہیں آیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ مناظرے اس انداز سے کیے جاتے ہیں؟ اس معاملے میں تجربہ جو کچھ بتاتا ہے وہ تو یہ ہے کہ بجائے صحیح نظریہ دریافت کرنے کے، کوشش کرکے لوگ مباحثہ اس طرح کرتے ہیں جیسے دو پہلوان اکھاڑے میں اترتے ہیں جہاں صرف یہ نیت ہوتی ہے کہ جس طرح ممکن ہو دوسرے کو نیچا دکھایا جائے اور شکست بچانے کی جو امکانی کوشش ہوسکتی ہو اٹھا نہ رکھی جائے۔ یہ طریقہ بھی مغربی منطق کے تحت میں آتا ہے جس کی غلطی ظاہر ہے اگر بجائے معقول کرنے کی کوشش کے مناظرے اس طرح ہوا کرتے کہ ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تو کچھ اچھا نتیجہ ضرور نکل آتا۔ جیسے میاں بی بی کے اختلاط میں موتیوں کا ہار ٹوٹ جائے اور دونوں فریق موتی جمع کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔ اس کے بعد جو ہار گوندھا جائے وہ انشاء اللہ تعالیٰ پہلے سے بہتر ہو۔ مگر بدقسمتی سے مناظرے کے یہ معنی اس وقت مفقود ہوگئے جب منطق کا رواج ہوا۔ اب تو مناظرے سے مقصود وہ طریق ہے جس میں ہر فریق کا وکیل صرف اپنے موافق دلائل دے اور سننے والے کو رائے قائم کرنا مشکل پڑے۔ خلفائے بنی عباس کے زمانے میں بڑے بڑے مناظرے قرار پائے اور آج تک یہ سنت خلفائے بنی عباس کی جاری ہے۔ کبھی بھی ایسا ہوا ہے کہ سو گتھیاں بڑھانے کے سلجھاؤ کی کوئی بھی صورت نکلی ہو۔

بسیار کاز مودم ازوے نہ بود سو دم
من جرب المجرب حلت بہ النّدامہ

قرآن کو سمجھنے کے لیے علوم متعارفہ اور اصول موضوعہ کے جاننے کی ضرورت نہیں صرف نیک نیتی کی ضرورت ہے۔ بچہ نہ خود بول سکتا ہے نہ ماں کی زبان سمجھتا ہے لیکن چوں کہ دونوں طرف نیک نیتی ہوتی ہے اس لیے دونوں ایک دوسرے کا مفہوم خوب سمجھ لیتے ہیں اور اس زمانے کی تعلیم بعد کی تمام تعلیموں پر ہمیشہ بھاری رہتی ہے۔ اسی طرح ام الکتاب کا حال ہے کہ روز مرہ کی زبان میں آیا ہے۔ علمی زبان میں نہیں آیا ہے۔ تم کو بتایا گیا ہے کہ تم خود تدبر کرو، غور کرو اور سمجھ لو۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی حکم ہے کہ جہاں نہ سمجھ میں آئے اہل الذکر سے پوچھ لو۔ اہل الذکر کے معنی کے لیے سمندر کی تہ میں یا پہاڑوں کی چوٹی پر جانے کی ضرورت نہیں۔ جو لوگ قرآن کی مزاولت تم سے زیادہ رکھتے ہیں، انھیں لوگوں سے دریافت کرتے رہو۔ اگر ایک سے تسکین نہ ہو تو دو سے پوچھو۔ دو سے تسکین نہ ہو تین سے پوچھو۔ یہاں تک کہ تمھارے دل کو اطمینان ہوجائے۔

نکاح میں لے لیجیے۔ شیعہ سنّی کے یہاں طریق عقد میں کس قدر علاحدگی دکھائی جاتی ہے لیکن یہ سب علاحدگی صرف دیکھنے ہی کی ہے اصل میں چیز ایک ہی ہے ایجاب و قبول صداق۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو پوری طرح سے دونوں جگہ موجود ہیں اور صرف یہی ضروری ہیں لیکن کوئی صاحب دوسرے فرقے کے طریق سے عقد نکاح کریں تو کہاں تک عرض کیا جائے۔
آخر اپنے معاملات میں کیا ہوتا ہے۔ جس معاملے میں رائے نہیں قائم ہوتی سمجھ دار آدمی ایک سے مشورہ کرتا ہے، دو سے مشورہ کرتا ہے، تین سے مشورہ کرتا ہے یہاں تک کہ رائے قائم ہوجاتی ہے۔ یہ ہرگز نہیں کرتا کہ اندھا دھند اپنے مشیر کار کا پیرو ہوجائے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ سمجھ دار نہیں کہلاتے۔ مذہب کے معاملات میں برسہا برس کی غلط روی کی وجہ سے یہ ہوگیا ہے کہ اس میں برخلاف دیگر معاملات کے تقلید ہی کی لکڑی سے راستہ ٹٹولتے ہیں جو بالکل خلافِ فطرت اور اسی وجہ سے خلافِ حکمِ خداوندی ہے۔

ایسا کیوں ہوگیا ہے، اس کے وجوہ صاف ہیں۔ جو شخص کچھ بھی واقف کاری رکھتا ہے، جانتا ہے کہ تمام معاملات زندگی کی طرح اسلام میں بھی اختلاف کی بڑی وجہ خود غرضی ہوئی ہے۔ خود غرضی کا مفہوم یہ ہرگز نہیں کہ ہر شخص نے بدنیتی کے ساتھ جعل و فریب ہی تیار کیا گو ایسوں کی بھی کمی نہیں رہی بلکہ یہ مطلب کہ جو رائے اپنی نظر میں صحیح ہوئے اس کو قوی کرنے میں دوسرے پہلو پر نظر کم کی گئی۔ ایسا ہونا فطرت کے نقائص میں سے ہیں جو صرف بہ نظرِ عبرت دیکھی جاسکتی ہیں۔

ایک تو کڑوا کریلا دوسرے نیم چڑھا، امتدادِ زمانہ کے ساتھ یورپ کے نئے علوم داخل ہوئے۔ اب کیا تھا منطق کے وہ زور بندھے کہ بادشاہوں کے دربار سے لے کر مُلاّ کے مکاتب تک سب اسی رنگ میں رنگ گئے اور وہ علم جو رائے کو خطا سے بچانے کے نام سے آیا تھا، غول بیابانی کا کام کرنے لگا۔ منطق ایسے بلند پایہ علم کے لیے ایسی بات کہنا چھوٹا منہ بڑی بات ہے۔ مگر یہ اعتراض نفس علم پر نہیں ہے بلکہ انسانی طبائع پر ہے۔

انگریزی قوانین کی بنا منطق پر ہے۔ عدالتوں میں جس طرح کا انصاف ہوتا ہے اور جو کارروائیاں احاطۂ عدالت کے اندر پہنچ کر ناگزیر ہوتی ہیں وہ سب پر ظاہر ہیں کہ بغیر جھوٹ کی چاشنی کے ہانڈی مزیدار نہیں اترتی۔ حالاں کہ ضابطۂ قانون میں منطق کا دامن ہاتھ سے چھوٹنا ناممکن ہے۔

کلامِ خدا میں متشابہات ہیں جن کا علم سوا خدا کے خاص بندوں کے کسی کو نہیں ہے اور نہ وہ ہماری زندگی میں ہمارے لیے ضروری ہیں۔ دوسرا حصہ محکمات کا ہے اور وہی اصل کتاب ہیں جو ہماری زندگی کے لیے ضروری ہیں۔ وہ بالکل صاف ہیں۔ کہو کہ خدا ایک ہے۔ جو شخص موحد ہے وہ جنت کا مستحق ہے۔ چیزیں تولنے میں ڈنڈی مت مارو۔ کسی کے گھر کے اندر جاؤ تو پکار لو، وغیرہ وغیرہ۔

کلام الٰہی کے سمجھنے میں سب سے بڑی چیز جو حائل ہے وہ غیر زبان ہے۔ اس کا علاج سوا اس کے اور کیا ہے کہ ترجمہ کیا جائے۔ مشکل آکر یہ پڑتی ہے کہ کسی زبان کا ترجمہ دوسری زبان میں صرف ترجمہ ہی رہے گا، اصل نہ ہوجائے گا۔ یہ خامی کسی کے بس کی نہیں ہے لیکن اگر ہر شخص کے ہاتھ میں لفظی اور صحیح ترجمہ پہنچ جائے تو اس اندھی کوٹھری سے تو غنیمت ہوگا۔ اگر کسی کتاب کی شرحیں، فرہنگیں، تفسیریں نہ ہوں تو بڑی مشکل درپیش ہو۔ لیکن کلام خدا کی سیکڑوں تفسیریں موجود ہیں۔ تاریخیں موجود ہیں، روایتیں موجود ہیں، جن کی بنا پر قرآن کے معنی ہم پر کھلتے ہیں۔ مختلف رائے رکھنے والے، مختلف عقائد رکھنے والے، مختلف روایتوں کو صحیح ماننے والے، اسلام میں مختلف فرقوں کے قائم کرنے والے، سب ہی کچھ تو موجود ہے اگر آدمی ان سب پر نظر ڈال لے تو قرآن کے مفہوم سمجھنے میں وہ خامی جو غیر زبان کی وجہ سے آن پڑی ہے بہت کم ہوجائے۔ عقل سلیم جو بات سب سے زیادہ خدا لگتی دیکھے گی، خود ہی قبول کرلے گی۔

کلام الٰہی کے سمجھنے میں سب سے بڑی چیز جو حائل ہے وہ غیر زبان ہے۔ اس کا علاج سوا اس کے اور کیا ہے کہ ترجمہ کیا جائے۔ مشکل آکر یہ پڑتی ہے کہ کسی زبان کا ترجمہ دوسری زبان میں صرف ترجمہ ہی رہے گا، اصل نہ ہوجائے گا۔
متذکرہ بالا خیالات کو غلط ثابت کردینا مناظرے اور مباحثے میں کوئی مشکل بات نہیں لیکن میرے معروضے کی کسوٹی یہ نہیں ہے۔ اس کی کسوٹی اگر ہے تو حسبِ ذیل ہے۔ آپ سنّی، شیعہ، وہابی وغیرہ وغیرہ حضرات کی تفسیریں دیکھیے اور کلام پاک کا ترجمہ پڑھیے، اس کے بعد غور فرمائیے کہ جو کچھ میں نے عرض کیا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں۔ اگر آپ محسوس کریں کہ پہلے سے زیادہ آپ کے دل و دماغ پر روشنی پڑی تو خیر، ورنہ میرا کہنا ازسرتاپا غلط۔ ہر شخص مافی الضمیر اس طرح ادا کردینے پر قادر نہیں ہے کہ دوسرے کے دل میں اسی طرح سے اتر جائے، لیکن دماغ کم و بیش ہر آدمی رکھتا ہے۔ خالی محتاجی اس کی ہے کہ (کذا) 'بہ اعتبار عینک' ہم صرف دوسرے کے احکامات پر عمل کرتے ہیں اور جو ’نیت امام کی وہ میری‘ پر پشتوں سے کاربند ہیں۔

لیوتھر کے پہلے انجیل صرف علمی زبانوں میں تھی جس کی وجہ سے پادریوں کا عیسائیوں پر وہی اثر تھا جو آج ہمارے یہاں ہے۔ مختلف زبانوں میں انجیل کا ترجمہ ہوجانے کے بعد یہ بات مٹ گئی، لیکن ان کے یہاں یہ غضب ہوا کہ ترجمہ بعض خود غرضیوں کی وجہ سے غلط کیا گیا۔ دوسرے کی غلطی سے فائدہ اٹھاکر اگر ہم اس کی احتیاط کرلیں تو اس نقصان کا خدشہ نہ رہے۔ عیسائیوں کے یہاں عمدہ ترجمے کہیں خواب و خیال میں بھی نہیں تھے۔ ہمارے یہاں ماشاء اللہ اس وقت عمدہ ترجموں کی کمی نہیں۔ صرف ان کو علاحدہ چھاپ دینے کی ضرورت ہے کہ جن کو لوگ بلاوضو بھی چھو سکیں اور علاوہ ایصالِ ثواب کے واقف کاری بڑھانے کے لیے بھی کام میں لاسکیں۔

Image: Sadequain


Related Articles

عہدِ وسطیٰ کے شاعروں کے نام ایک غنائیہ

جو شعر در شعر کہے بہ راہے مدح سرائی
بہ اندازِ رعد خوش گذران مہینہِ جُون جب شجر ارغوان ہو پورا کِھلا،
لیکن یہ علم میری زبان گنگ کرائے کہ
تم لوگوں نے اسے کیسے اندازِ گراں قدر صنّاعی سے موزوں کیا ہوگا۔

لہوالحدیث-چند توضیحات

امام مالک تو نکاح کے درست ہونے کی شرائط میں دف کا ذکر بھی کرتے ہیں جس نکاح میں لہو(دف) نہ ہو وہ اسے درست نہیں سمجھتے۔

نیا والو

لارا سالومن: میرے خاندان میں دل کے امراض عام ہیں۔ میرے والد کو اپنے تیسرے عشرے کے آغاز میں اپنا ایک والو، سور کے والو سے بدلوانا پڑا اور میرے چچا کی وفات پچاس کے پیٹے میں ہارٹ فیل ہونے سے ہوئی۔