مردہ انگلیوں کی وکٹری

مردہ انگلیوں کی وکٹری
قبر کی سیاہ تاریکی نے
 دن کی روشنی کو قتل کر دیا  
چوہے بلوں سے نکل کر 
دستاویز  
کے ساتھ وہ قلم بھی 
کتر گئے 
جن سے کبھی سچائی 
سنہرے لفظ لکھتی تھی 
انصاف کی دیوی نے 
مفاد کی چربی اندھی آنکھوں پر باندھی   
تو مردہ انگلیوں نے وکٹری کا نشان بنایا 
انسانیت کی مسخ لاش  سے 
خوں ٹپکنے لگا  
 ماں اور بہنیں چیختی رہیں 
 قصاص !!!
 جواں لہو کا 
مگر باپ نے 
عصمتوں کی دھجیوں کی سلائی 
 کی خاطر 
اسٹامپ پیپر ماتھے پر سجا لیا 
جس پر سونے کی تاروں سے
صلح لکھا تھا 
آنکھوں سے اب پانی نہیں 
زر انگار سکوں کی تھیلیاں ہر سمت میں   
برستی ہیں
دلوں سے کوئی دعا اوپر نہیں اٹھتی 
مایوسی کی کثیف دلدل کی
لجلجی بانہوں میں لپٹی پڑی ہے 
گلی کے بوڑھے برگد نے سورج کو فریاد بھیجی
ہچکیاں لیتے منتظر ہیں 
شائد کبھی اسے جلال آئے 
اور 
گھور اندھیرے کو جلاوطن کر دے
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Salma Jilani

Salma Jilani

Salma Jilani is originally from Karachi, Pakistan, she worked as a lecturer for eight years in Govt Commerce College Karachi. In 2001 she moved to New Zealand with her family and completed M.Business from Auckland University. She has been teaching in different international tertiary institutes on and off basis. Writing short stories in Urdu is her passion which have been published in renowned quarterly and monthly Urdu literary magazine such as Funoon, Shayer, Adab e Latif, Salis , Sangat and Penslips magazine and in children’s magazines as she writes stories for children as well. She also translates several poems of contemporary poets from all over the world into Urdu and vice versa, since she considers translations work as a bridge among different cultures which bring them closer and remove stereotyping.


Related Articles

نامکمل

سلمان حیدر: نظمیں روتی ہوئی پیدا ہوتی ہیں
اور میں ان کے استقبال میں مسکراتا ہوں

تنہائی ایک ملاقات سے شروع ہوتی ہے

نصیر احمد ناصر: تنہائی کے اعداد و شمار میں فرق نہیں پڑتا
یہ گنتی میں ستاروں کی طرح بے حساب
رقبے میں آسمان جیسی بے کنار
اور حجم میں کائنات سے بڑی ہے
تنہائی کا ٹھور ٹھکانہ بتانا مشکل ہے !

ہماری خاموشی، تمہاری داستانیں

تنویر انجم: ہمیشہ رہے گا
ہماری خاموشی اور تمہاری داستانوں کے درمیان
ایک گہرا ربط
جوتمہیں نہیں معلوم