اسکیچ اور سایہ

اسکیچ اور سایہ
مرد کی آنکھ میں عورت کا اسکیچ ہے
مرد کی آنکھ میں عورت کا اسکیچ ہے
عورت کے دل میں مرد کا سایہ ہے
مرد دیوار چاٹ رہا ہے
عورت سائے میں لیٹی ہوئی ہے
قالین بچھایا جا سکتا ہے
دیوار کو سجایا جا سکتا ہے
کھولتے خون کی خوشبو میٹھی ہوتی ہے
اس کی نیلی روشنی میں/
ایک دوسرے کا سراغ لگایا جا سکتا ہے
سائے کو پھول مار کے جگایا جا سکتا ہے
اور اسکیچ پر غور کرنے کے لیے
برقی چراغ جلایا جا سکتا ہے

Image: Julio Cesar Rodriguez


Related Articles

ناقابل اشاعت آدمی

ایک فرض کیے ہوئے مکان میں
کرائے کی زندگی گزارنے کے بعد

قید

حسین عابد: محبت
کھُلے بادباں کا بُلاوا ہے
لیکن ہوا
پانیوں پہ گزرتی ہوا
جنگلوں کو نکل جاتی ہے

ہمارے ساتھ چلنا ہے تو آؤ

علی زریون: یہ رستہ
ایسے بازارِ ملامت سے گزرتا ہے
جہاں ہر سمت سے طعنوں کے پتھر مارے جاتے ہیں