مرے چراغ

مرے چراغ
مرے چراغ
مرے چراغ بجھ گئے
میں تیرگی سے روشنی کی بھیک مانگتا رہا
ہوائیں ساز باز کر رہی تھیں جن دنوں سیاہ رات سے
اُنھی سیاہ ساعتوں میں سانحہ ہوا
تمام آئینے غبار سے بے نور ہو گئے

سرا کے چار سمت ہول ناک شب کی خامشی
چمکتی آنکھ والے بھیڑیوں کے غول لے کے آ گئی
قبائے زندگی وہ پھاڑ لے گئے نکیلے ناخنوں سے اس طرح
کہ روح چیتھڑوں میں بٹ گئی

خراب موسموں کی چال تھی کہ آس پاس بانبیوں سے
آ گئے ہوس کے سانپ جھومتے ہوئے
بجھا دیا سفید روشنی کا دل
مدد کو مَیں پکارتا تھا اور دیکھتی تھیں پُتلیاں تماشا غور سے
مگر نہ آئیں بین لے کے امن والی بستیوں سے جوگیوں کی ٹولیاں

سیاہ آندھیوں کا زور کب تلک سہارتے
مرے چراغ بجھ گئے
Ali Akbar Natiq

Ali Akbar Natiq

Ali akbar Natiq, a renowned poet, short story writer and a novelist, hails from Okara, Punjab. He is currently teaching at a private university. His books "Yaqoot k Warq", "Be Yaqeen Bastio'n Mein" and "Nau Lakhi Kothi" have been praised by readers and critics alike.


Related Articles

بارہ سال کی ماں

سعد منیر: دنیا میں دو لوگ ہیں
ہندسے
اور
نظمیں

موت مجھے بلاتی ہے

ابرار احمد: میں ایک خواب سے دوسرے خواب میں
اس شام سے گزر کر جانا چاہتا ہوں
تم کہاں ہو
موت مجھے بلاتی ہے

ان چکھے گناہ کی مٹھاس

محمد حمید شاہد: میں لذت کی شیرینی میں لتھڑے ہونٹ
اپنی ہوس کی بے صبری زبان سے چاٹ رہا ہوں