مسکراہٹ

مسکراہٹ

">رفاقت حیات کو موم کے نشتر بنانے کا ہنر آتا ہے، ان کا فکشن چونکانے کے لئے کسی شعبدہ باز کی طرح چھتری کو پھول بنانے یا ٹوپی سے کبوتر برآمد کرنے کا کام نہیں، یہ ایک بازی گر کی طرح تنے ہوئے رسے پر ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنے کی مشق ہے۔ یہاں کردار کسی غیر مرئی کائنات میں معلق رہنے کی بجائے زمین پر چھلتے پھرتے اور ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے قائل ہیں۔ 'مسکراہٹ' میں بھی ایک تکلیف دہ واقعے کا ارتعاش حال کے آئینے میں مختلف عکس تخلیق کر رہا ہے، اس افسانے کی ایک خوبی اس کے بیان کی لطافت بھی ہے جو موضوع کی سنگینی کے باوجود برقرار ہے۔ (مدیر)  </

 

اس نے میری گردن کو بازوؤں میں جکڑ لیا اور میرے گالوں کو چومنے لگا۔ پھر اس کے دانت گالوں میں پیوست ہوتے چلے گئے۔ اس کی غلیظ رال چہرے پر پھیل گئی۔ میں نے اس کے بال کھینچے، پرے دھکیلنے کی کوشش کی۔ لیکن اس کے نتھنوں سے گرم سانسیں میری جلد کے مساموں میں گھسنے لگیں۔

بے چار گی سے میری ہچکی بندھ گئی۔ مگر اس پر کوئی اثر نہ تھا۔ گالوں سے خون بہنے لگا۔ زخم کی جلن زیادہ ہو گئی۔پھر اس نے اپنی گرفت سے آزاد کیا تو میں زمین پرجا گرا۔

آنکھ کھلی تو رواں رواں کانپ رہا تھا۔لباس پسینے میں تربتر تھا۔ میں نے بہ مشکل کروٹ لی۔حیرت زدہ آنکھوں سے اندھیرے کو محسوس کیا۔اسے ڈھونڈنے کے لیے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی۔

شایدیہ کوئی خواب تھا۔کسی خواب کا حصہ تھا۔میں نے ٹھنڈا سانس بھرا۔ آنکھیں میچ لیں گرم ہاتھوں سے چہرے کو ٹٹولاگالوں کی نرمی کو محسوس کیا۔سب ٹھیک تھا۔

میں اٹھ بیٹھا۔ آنکھیں اندھیرے سے مانوس ہو گئیں۔ میرے بھائی اپنی کھاٹوں پر سو رہے تھے۔

باہر ہوا سنسنا رہی تھی۔ ٹٹیہر آسمان میں شور مچا رہا تھا۔

میں حیران تھافور اً سارا خواب یاد داشت سے محو ہو گیا۔بس ایک تلخی رہ گئی۔اس کیفیت کی دھندلی یاد باقی بچی مجھے لگ رہا تھا۔میں سویا ہی نہیں آنکھوں میں جلن تھی۔ جسم نڈھال ہو رہا تھا۔ پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔

کل سارا دن ابو کے دوست کو پہاڑی والے قبرستان کی سیر کرواتا رہا تھا۔ مزاروں کے بیچ گھماتا رہا تھا۔ سات کلومیٹر پر پھیلے قبرستان کی کوئی قبر ایسی نہیں تھی جو نہ دکھائی ہو۔میں تھکا ہوا گھر پہنچا تھا۔پھر کرکٹ کھیلنے چلا گیا تھا۔ بستر پر لیٹتے ہی نیند آگئی تھی۔مگر ایسا کیوں لگ رہا تھا۔

میں نے پاؤں کے ذریعے کھاٹ کے نیچے سے سلیپر نکالے۔باورچی خانے تک گیا۔مٹکے سے پانی نکال کر پیا۔

دوبارہ بستر پر لیٹ گیا مگر دیر تک نیند نہیں آئی۔

کسی ایک لمحے میں خواب کی ساری جزئیات یاد آگئیں۔

میں کسی گلی میں چلا جارہا تھا۔ وہ سایہ دار ٹھنڈی گلی تھی۔ میں ایک خوبصورت عمارت کو دیکھنے ٹھہر گیا۔بہت سحر انگیز نقاشی تھی۔ دلکش رنگوں سے بہترین باریک سے نقش و نگار۔ پتھر کا کام بھی شاندار تھا۔عمارت کے جھروکے میں ایک شخص نظر آیا۔وہ انتہائی بدصورت تھا۔میں اسے دیکھ کر سہم گیا۔وہ مجھے گھور رہا تھا۔میں نے ڈر کے مارے دوڑ لگا دی۔پل بھر میں جانی پہچانی گلیاں اجنبی ہو گئیں۔مجھے لگا کہ وہ میرے پیچھے آ رہا ہے۔میں نے مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔ گلیوں میں اندھیرا پھیل گیا۔مجھے گھر کا راستہ نہیں مل رہا تھا۔ میں دوڑتے ہوئے کسی چیز سے ٹکرا گیا۔ میںنے سر اٹھا کے دیکھا تو آگے پتھر یا دیوار نہیں تھی بلکہ وہی شخص کھڑا تھا۔ اس نے مجھے بازوؤں میں جکڑ لیا۔ اور اپنے سوکھے ہونٹوں سے گالوں کو چومنے لگا۔

میں نے بہت کروٹیں بدلیں مگر سو نہ سکا۔

کھاٹ سے اترا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔

آسمان پر چاند نہیں تھا۔ستارے ٹمٹما رہے تھے۔ ہوا دیواروں سے ٹکرا رہی تھی۔صحن میں رات کی رانی کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔

میں نے افسردگی سے مہمان خانے کی طرف دیکھا۔ اس کے دروازے تک گیا۔

میں خوفزدہ تھا یا ڈرپوک آدمی تھا۔ میرے اندر اس وقت بھی غصہ یا نفرت نہیں تھی۔ بس ایک سبکی کا احساس تھا۔

میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔

 

مجھے نیند سے جگانے کے لیے آوازیں دی جارہی تھیں۔پہلے چھوٹے بھائی بلاتے رہے۔ پھر امی نے لحاف اتار کر مجھے جھنجھوڑا۔ میں اٹھ بیٹھا مگر جسم ٹوٹ رہا تھا۔سر بوجھل تھا۔ میں نے کہہ دیا۔ ’’اچھا جاگتا ہوں۔‘‘

آوازیں تھم گئیں۔میں لحاف تان کر لیٹا رہا۔ شاید میری آنکھ لگ گئی۔

ابا کی گرجدار آواز نے ہڑ بڑا دیا۔ ’’ساجد اب اٹھ جاؤ، مہمان کو ناشتہ کروانا ہے۔‘‘

میں بستر سے اتر کے غسل خانے کی طرف چلا گیا۔ آئینہ دیکھا تو آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور چہرہ زرد ہو رہا تھا۔میں نے رگڑ کر چہرہ دھویا، آنکھوں پر پانی مارا۔

مجھے غصہ آ رہا تھا۔ کہ دوسرے بھائی موجود تھے۔ پھر مجھے کیوں مہمان کی خدمت پر مامور کر دیا گیا۔ٹھیک ہے۔ انہیں اسکول جانا تھا۔ لیکن ابھی تو بہت وقت پڑا تھا اس میں۔مہمان ابو کا دوست تھا۔ وہ خود کیوں نہیں اس کے لیے چائے ناشتہ لیے کر جاتے۔میں نے کل کا سارا دن اس کے ساتھ گزارا تھا۔یہ کافی نہیں تھاکیا۔ ہماری عمروں میں فرق تھا۔میں اس سے کھل کر کوئی بات نہ کر سکا تھا۔وہ مجھے اچھا بھی نہیں لگتا تھا۔مگر کیا کرتا، ابو کا دوست جو تھا۔کاش بی، اے کا امتحان اتنی جلدی نہ ہو گیا ہوتا۔

میں نے امی سے اپنی خفگی کا اظہار کیا تو وہ نصیحت کرنے لگیں۔ میں نے اپنی چائے ختم کی اور مہمان کے لیے ناشتہ لے کر چلا گیا۔

وہ پہلے ہی جاگ اٹھا تھا۔اس نے غسل کر کے کپڑے بھی بدل لیے تھے۔اور اب تکیے پر کہنی جمائے سگریٹ پی رہا تھا۔

وہ مجھے دیکھ کر مسکرایا۔

اس پر ایک نظر ڈال کر میں کہیں اور دیکھنے لگا۔میں نے ناشتہ میز پر رکھ د یا۔

اس نے کش لگا کر دھواں میری طرف پھینکا اور سگریٹ کو ایش ٹرے پر مسل دیا۔

میں بے آرامی سے صوفے پر بیٹھ گیا۔

اس نے پراٹھے کا نوالہ توڑا، اسے دہی میں ڈبویا اور منہ میں ڈال کر چبانے لگا۔

میں بار بار پہلو بدل رہا تھا۔میں کمرے سے نکل بھاگنا چاہتا تھا۔ اس کی نوالہ چبانے کی آواز مجھے ناگوار لگ رہی تھی۔لیکن مجھے ناشتہ ختم ہونے تک بیٹھنا تھا اور برتن واپس لے کر جانے تھے۔مجھے بچپن سے یہی سکھایا گیا تھا۔اور میں اب تک اس پر عمل کرتا آیا تھا۔مگر آج یہ ذمہ داری نبھاتے کوفت ہو رہی تھی۔

مجھے نجانے کیوں لگ رہا تھا کہ مہمان مجھے پر حملہ کر دے گا۔

شاید وہ جان بوجھ کر آہستگی سے نوالے چبا رہا تھا۔

میں نے خود کو پورا مرد ظاہر کرنے کے لیے ناف کے نیچے کھجایا بھی۔لیکن پریشانی کم نہ ہو سکی۔

اس نے ابو کے متعلق پوچھا تو میں نے بتا دیا کہ اٹھ گئے ہیں اور تیار ہو رہے ہیں۔ 

وہ ناشتہ ختم کر کے غسل خانے کی طرف گیا تو میں برتن اٹھا کر نکل آیا۔

وہ ابو کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا تھا۔ابو نے کار اسٹارٹ کی۔

میں نے پورچ کا گیٹ کھول دیا۔گاڑی میرے نزدیک سے گزری تو وہ مجھے دیکھ کر مسکرایا۔

میں گلی کے کونے تک کار کو دیکھتا رہا۔پھر وہ موڑ کاٹ کے غائب ہو گئی۔

وہ کیوں مسکرا رہا تھا؟ اس کی مسکراہٹ کا مفہوم کیا تھا ؟۔

 

ہم نے وہ رات پلیٹ فارم پر گزاری تھی۔ہم اسکاؤٹنگ کی جمبوری میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔صبح کو پتہ چلاکہ ٹرین لیٹ ہو گئی ہے۔

میں پہلی مرتبہ گھر والوں کے بغیر لمبے سفر پہ نکلا تھا۔ہم رات بھر ٹرک سے سامان اتار کر پلیٹ فارم پر پہنچاتے رہے تھے۔اسی لیے سوتے وقت گھر کے بستر کی نرمی یاد نہیں آئی تھی۔صبح کو آنکھ کھلتے ہی سوچا تھا کہ ہم کہاں ہیں۔پھر ساری بات یاد آ گئی تھی۔میں اپنے بیگ سے ٹوتھ پیسٹ، برش، صابن اور تولیہ نکال کر پانی کے نل پر لگی بھیڑ میں شامل ہو گیا تھا۔میں نے اپنی نئی چیزوں کا دوسروں کی چیزوں سے موازنہ کیا تھا۔مجھے اپنی چیزیں پسند آئی تھیں۔پھر ہمارے اسکاؤٹ ماسٹر اسٹیشن سے باہر ہوٹل میں ناشتہ کروانے لے گئے تھے۔مجھے وہ گھر کے ناشتے سے لذیذ معلوم ہوا تھا۔

ہم لوگ ماسٹر صاحب کی تنبیہہ کے باوجود اسٹیشن پر دندناتے پھرتے تھے۔وہ جگہ ہمارے لیے حیرت انگیز تھی۔پلیٹ فارموں کے بیچ پٹٹریوں کا جال بچھا تھا۔رنگ برنگے ڈبوں وا لی گاڑیاں کچھ دیر ٹھہر کر چلی جاتیں ۔ میں ہر گاڑی کے ڈبے گننے لگتا۔شور مچاتے اکیلے انجن عجیب نظر آتے جیسے بوگیوں کی جدائی میں شور مچا رہے ہوں۔ہر نئی ریل کے ساتھ پلیٹ فارم لوگوں سے بھر جاتا۔وہ دروازوں سے اس طرح چھلانگیں مار کر اترتے، جیسے ریل برسوں بعد کسی اسٹیشن پر پہنچی ہو۔وہ چائے کے اسٹالوں پر مکھیوں پر مکھیوں کی طرح بھنبھنانے لگتے۔میں اپنے ساتھیوں کے منع کرنے کے باوجودریل پر جا کھڑا ہوتا۔جھک کر، گزرتی ہوئی بوگیوں کو دیکھتا۔اسطرح پُل بھی ریل گاڑی کے ساتھ چلتا محسوس ہوتا۔میں بھانت بھانت کے لوگوں کے مشاہدے سے لطف اندوز ہوتا۔جوگی، سپاہی، فقیر، قلی، ہر کوئی اپنے منفرد حلیے میں تھا۔مجھے ریلوے کے نیلے کوٹ والے افسروں نے مرعوب کیا تھا اور میں نے ان جیسا بننے کی خواہش بھی کی تھی۔

میں نے صبح کو وہ سامان بھی غور سے دیکھا، ہم جسے رات بھر ڈھوتے رہے تھے۔ چار مختلف رنگوں والا ملک کا نقشہ بہت اچھا لگا تھا۔ جس کے چاروں حصے الگ ہو جاتے تھے۔خیمے، موٹے موٹے بانس، لکڑیاں، رسیاں، جھنڈیاں، قومی رہنماؤں کی تصویریں۔میں لارڈ بیڈن پاول کی تصویر کو دیر تک دیکھتا رہا تھا۔ہمارے بستروں اور تھیلوں کا ڈھیر بھی ایک طرف لگا ہوا تھا۔

اسکا ؤٹ ماسٹر نے مجھے سامان کی نگرانی پر مامور کر دیا۔دو لڑکے اور بھی تھے۔میں کچھ دیر بستروں پر اونگھتا رہا، پھر ایک ہم جماعت کی منت کر کے اسے اپنی جگہ کھڑا کر دیا۔

بہت سے لڑکے اپنے کیمرے ساتھ لائے تھے۔وہ اِدھر اُدھر تصویریں کھینچتے پھر رہے تھے۔میرے پاس کیمرہ نہیں تھا۔زبردستی تصویر بنوانے کی کوشش میں کچھ لڑکوں نے دھتکار دیا تھا اور کچھ نے بخوشی اپنے ساتھ لے لیا تھا۔

میرے گھر میں کیمرہ تھا لیکن بڑے بھائی نے خراب کر دیا تھا۔میں پل پر جا کھڑا ہوا اور چلتی ہوئی ریل گاڑی کو دیکھنے لگا۔کچھ فاصلے پر ایک لڑکا ریلوے اسٹیشن کی تصویریں بنا رہا تھا۔میں اداس ہو گیا۔

سیڑھیاں اترتے ہوئے مجھے اپنا نام سنائی دیا۔

میںنے پلیٹ فارم پر نگاہ دوڑائی۔مڑ کر پل کی طرف دیکھا۔کوئی بھی نہیں تھا۔

میں دو چار سیڑھیاں اترا تو کسی نے پھر میرا نام پکارا۔

وہ پل پر دوڑتا میری طرف آ رہا تھا۔تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا، میرے پاس پہنچا۔

میں نے اسے نہیں پہچانا تھا۔

وہ میرے ابو کا دوست تھا۔میں نے مسکراتے ہوئے مصافحہ کیا۔

اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔وہ مجھے یہاں دیکھ کر حیران تھا۔

میں نے جمبوری کے متعلق بتایا۔

اس نے اسٹیشن سے باہر ہوٹل میں چلنے کی پیشکش کی۔

میں شرماتے ہوئے اس کے ساتھ چل دیا۔

اس کا قد مجھ سے لمبا تھا پھر بھی اس نے میرے کندھے سے ہاتھ نہیں ہٹایا۔ اس کا بار بار میرے گالوں میں چٹکی لینابھی مجھے بہت ناگوار لگا تھا۔

میں ہوٹل میں اس کے مقابل نشست پر بیٹھا مگر وہ اگلے ہی لمحے میرے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا۔

اس نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ ‘‘کیا کھاؤ گئے؟۔جو دل چاہے، بتاؤ۔‘‘

میں نے بتایا کہ ناشتہ کر چکا ہوں، کوکا کولا پیوںگا۔

وہ بتانے لگا کہ اسی شہر میں نوکری کرتا ہے۔اسٹیشن کے نزدیک ایک مکان میں رہتا ہے۔بیوی بچے گاؤں میں ہیں۔

اس نے مجھ سے پوچھا۔ ’’کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بتاؤ۔‘‘

میں نے لجاتے ہوئے کہا۔میرے پاس کیمرہ نہیں ہے۔ آپ کے پاس ہو تو دے دیں۔ واپسی پر لوٹا دونگا۔

وہ ہنستے ہوئے بولا۔ ’’مکان میں رکھا ہوا ہے۔ چلو میں تمہیں دے دیتا ہوں۔‘‘

اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ میں اس کے ساتھ چلنے لگا۔

میں خوش تھا۔ کیمرہ مل جائے گا تو میں اپنی تصویریں کھینچ سکوں گا۔جس شہر میں جمبوری لگ رہی تھی۔وہاں بہت سے تفریحی مقامات تھے۔خوبصورت جگہیں تھیں۔میرے پاس کیمرہ دیکھ کر دوست حیرت میں پڑ جائیں گے۔گھر والے بھی تصویریں دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔

میں گلیوں اور مکانوں کو غور سے دیکھ رہا تھا کہ لوٹتے ہوئے راستہ نہ بھول جاؤں۔

وہ جیب سے چابیاں نکالتا ایک مکان کے آگے ٹھہر گیا۔اس نے زنگ آلودتا لاکھولا۔

میں اس کے پیچھے داخل ہوا۔وہ ایک کمرے اور مختصر صحن والا مکان تھا۔

میں کمرے میں چار پائی پر بیٹھ گیا۔

وہ اپنے بارے میں باتیں کرنے لگا۔

میں نے کیمرے کا ذکر کیا تو وہ ہنستے ہوئے میرے ساتھ آ بیٹھا۔ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا اور میرے گالوں پر چٹکیاں لینے لگا۔میں نے پرے ہٹنا چاہا تو وہ مجھ سے لپٹ گیا اور زبردستی بوسے لینے لگا۔

وہ بار بار کہہ رہا تھا۔ ’’تمہیں کیمرہ مل جائے گا، بیگ میں رکھا ہوا ہے۔وہ تمہارا ہے۔‘‘

وہ میری شلوار اتارنے لگا تو میں نے اس کے چہرے پر زور سے کاٹ لیا۔وہ کلبلا کر چار پائی سے اترا۔میں باہر کی طرف بھاگا تو اس نے مجھے پکڑنے کی کوشش کی۔میں نے اس کی کلائی پر دانت پیوست کر دیے۔میں اس کی گرفت سے چھوٹ کر مکان سے نکل گیا۔

میں تیز رفتاری سے دوڑتا ہوا اسٹیشن تک پہنچا۔

اسکاؤٹ ماسٹر نے باز پرس کی تو میں نے جھوٹ بول دیا۔

 

آج بھی کل کی طرح نیند ٹوٹ گئی، میں، آنکھ کھلنے کے بعدکسی کھائی میں گرتا چلا گیا۔برابر والے کمرے سے ابو کے خراٹوں کی آواز کان پڑی تو میں خواب کے جادو سے نکلا۔لحاف کو دانتوں میں دبا کر، دو تین بار کسماتے ہوئے مجھے حقیقت کا یقین آ گیا۔میں نے تکیے کو چھوا تو وہ گیلا تھا۔میرے منہ سے پانی بہہ کر اس میں جذب ہو گیا تھا۔

جانے رات کا کونسا پہر تھا۔گھڑیال کی ٹک ٹک سے بھی اندازہ نہیں ہوا۔

میرا جسم کا نپ رہا تھا۔میں نے لحاف اتار پھینکا۔

کمرہ بھی تو کھائی جیسا تاریک تھا۔اسی لیے پتہ نہیں چل سکا۔میں نے سوچا۔

گھٹن بڑھنے لگی تو میں کھاٹ سے اترا۔دروازہ کھول کر صحن میں گیا۔

’’پہلے تو ایسے خواب نہیں آتے تھے۔‘‘ میں نے سوچا۔

ہوا خاموش تھی مگر رات کی رانی کی خوشبو سارے میں پھیلی ہوئی تھی۔

میرا دل بوجھل تھا۔

ابو کے دوست کی پر اسرار مسکرہٹ یاد آئی تو ایک گرم آنسو آنکھ سے گال پر لڑھکتا چلا گیا۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری - 11 دسمبر 1971- "یومِ بختیار صاحب"۔

آج چونکہ کیمپ کی کمان صوبیدار بختیار صاحب کے سپرد تھی لہٰذہ آدھی نفری تو سارا دن" چِندی اور پُھلترُو "لئےرائفلیں صاف کرتی رہی۔باقی نفری صوبیدار صاحب کے اخلاقیات، ملٹری، سیاست اور جنسیات کے موضوع پر دیئے گئے درس سے لطف اندوز ہوتی رہی۔

سرخ شہر اور دوسری کہانیاں

شین زاد: اس نے محسوس کیا اس کا قد مسلسل بڑھ رہا ہے اور پھر چند ہی دہائیوں میں دیکھتے دیکھتے اس کا سر آسمان سے جا لگا وہ جب چاہتا آسمان کی دوسری طرف جھانک سکتا تھا

وہ آنکھیں

محمد جمیل اختر: صبح صبح ایسی آنکھیں بالکل نہیں دیکھنی چاہئیں کیونکہ ایسی آنکھیں دیکھ کر آپ بھی میری طرح اداس ہو جائیں گے اور سارا دن دفتر میں آپ سے کام نہیں ہو سکے گا، سو میں کوشش کرتا ہوں کہ ان گاڑیوں کا بلکہ ان آنکھوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔