معصوم امنگوں کا ترجمان چہرہ؛ کیرا نائٹلی

معصوم امنگوں کا ترجمان چہرہ؛ کیرا نائٹلی

'بدن کی بینائی' سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

کیرا کرسٹینا نائٹلی۔ Keira Chirstina Knightleyکا شمار ہالی ووڈ کی اُن حسین عورتوں میں ہوتا ہے، جن پر پہلی نظر پڑتے ہی سینکڑوں نظروں میں تبدیل ہو جاتی ہے، اسی لیے جب وہ کوئی کردار نبھاتی ہے، تو فلم بین اس کی کرشمہ سازی میں کھوئے ہوتے ہیں۔ معصوم چہرہ اور حسین سراپا دیکھنے والوں کے دل چھو لیتا ہے، اداکاری سونے پر سہاگے کا کام کرتی ہے۔ ہالی ووڈ اور یورپی سینما میں، جن لوگوں نے اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے اونچی پرواز بھری، یہ ان میں سے ایک ہے۔ اب عالم یہ ہے بین الاقوامی فلمی دنیا میں، اس کا فن عروج پر اور حسن کی حشرسامانیاں زوروں پر ہیں۔

1985 کو برطانیہ کے شہر لندن میں پیدا ہونے والی اس لڑکی نے کم عمری میں ہی، انتہائی برق رفتاری سے آگے بڑھنے کے سارے راستے ڈھونڈ نکالے۔ بچپن میں اس پر اداکاری کا بھوت سوار ہوا، جس عمر میں لڑکیاں گڑیا سے کھیلتی ہیں، یہ جذبات اور احساسات سے کھیلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ 1995 میں، اپنی عمر کے ٹھیک 10 برس مکمل ہونے پر، زندگی کی پہلی فلم’’Innocent Lies‘‘میں کام کیا، پھر اداکاری سے دامن چھڑا نہ سکی۔ اُس وقت سے لے کر اب تک یہ تقریباً کوئی 40سے زائد فلموں میں کام کر چکی ہے، ٹیلی وژن اور تھیٹرکا کام اس کے علاوہ ہے۔ ماڈلنگ کی مصروفیات بھی ساتھ ساتھ جاری ہیں۔ مستقبل قریب میں اس کی فلموں کے کئی منصوبے بھی زیر تکمیل ہیں۔

کیرانائٹلی نے یوں تو کئی فلموں میں کام کیا، مگر اس کی بین الاقوامی شہرت 2003میں ریلیز ہونے والی فلم’’Pirates of The Caribben‘‘ سے ہوئی۔ فلم کی کامیابی نے اس پر شہرت اور دولت کے سارے دروازے کھول دیے۔ اس کا چہرہ ہالی ووڈ سمیت پوری دنیا میں موجود فلمی شائقین کے لیے شناسا ہوگیا۔ اس فلم کی سیریز میں بننے والی تمام فلموں میں اس نے کام کیا۔ 2017میں اسی سلسلے کی ریلیز ہونے والی فلم میں بھی اس نے اہم کردار نبھایاہے۔ فلم سیریزکی کامیابی کے بعد اس کوفلمی صنعت میںکام کرنے کے کئی سنہری مواقع ملے۔ جین آسٹن کے ناول پر بننے والی ایک اہم فلم’’Pride and Prejudice‘‘ میں اہم کردار نبھایا۔ 2012 میں لیوٹالسٹائی کے ناول پر بننے والی فلم’’ایناکارنینا‘‘ میں بھی اپنی اداکاری سے فلم بینوں کے دل موہ لیے۔ سائنس فکشن، ایکشن، تھرل، رومان سمیت ہر طرح کی فلموں میں کام کرنے کی صلاحیت رکھنے والی یہ اداکارہ اب پوری دنیا میں اپنا نام کما چکی ہے۔

اس کا اتنی فلموں میں بنا کسی وقفے کے کام کرلینا صرف اسی صورت میں ممکن ہے، جب آپ پر اپنی منزل کو پالینے کاجنون سوار ہوجائے۔ اس نے اپنے کام سے محبت کی اور صرف اپنی ظاہری خوبصورتی کو سہارا نہیں بنایابلکہ عملی طورپر اداکاری جیسے مشکل شعبے میں کرداروں کی نفسیات کو سمجھا، ان کی کیفیت میں ڈھل کر فلمی پنڈتوں اور فلم بینوں کو حیران کردیا۔ یہ اپنے مختصر فلمی کیرئیر میں سینکڑوں ایوارڈز کے لیے نامزد ہوئی، جس میں بہترین اداکارہ برائے’’اکیڈمی ایوارڈ‘‘ اور’’گولڈن گلوب ایوارڈ‘‘ کے علاوہ’’برٹش اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی ویژن آرٹس ایوارڈ‘‘ شامل ہیں، جبکہ بہت سارے ایوارڈز اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی، جس طرح ہالی ووڈ فلم ایوارڈز اوردیگر کئی ایوارڈزہیں۔امریکی بزنس میگزینForbesکے مطابق، ایک مخصوص وقت میں یہ ہالی وو ڈ کی دوسری مہنگی ترین اداکارہ ثابت ہوئی اور زیادہ معاوضہ لینے والی واحد غیر امریکی اداکارہ ہے۔

اس کو اداکاری ورثے میں گھر سے ملی کیونکہ اس کے والدین کا تعلق بھی شوبز سے تھا۔ والدSharman Macdonaldاور والدہ Will Knightlyاداکارہ سے وابستہ رہے۔ اس کی والدہ ڈراما نگاری کے حوالے سے اعزاز یافتہ بھی تھیں۔ انہوں نے تھیٹر اور ٹیلی ویژن میں بھی اداکاری کی۔ اس کی ماں اسکاٹش جبکہ والد انگریز تھے۔ اس نے ابتدائی تعلیم اسٹینلے جونیئر ہائی اسکول ،ٹڈنیکون اسکول اورایشر کالج سے پڑھائی مکمل کی۔6برس کی عمر میں اس پر ایک بیماری کا انکشاف ہوا، اس بیماری کا نام Dyslexiaتھا۔ اس میں لکھنے پڑھنے میں مشکل پیش آتی ہے مگر اس نے ہمت کی، بیماری کو شکست دے کر اسکول میں داخلہ لیااور کامیابی سے اپنی پڑھائی مکمل کی۔ اس بیماری میں انسان پر یہ خوف بھی طاری ہوجاتاہے کہ وہ زیادہ کھائے گا تو اس کاوزن بڑھ جائے گا۔یہ بیماری عمومی طورپر عورتوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ اس کیفیت میں عورتیں خود کو دبلا پتلا کرنے کے لیے کئی طرح کی کڑی مشقیں کرتی ہیں اور ذہنی اذیتیں مول لیتی ہیں۔ کیرانائٹلی بھی ایسی ہی کیفیات میں گھری ہوئی تھی لیکن جلداس نے پنے اس خوف پر قابو پالیا۔

اس نے بچپن میں اپنی ماں کے لکھے ہوئے ایک کھیل، جوکہ مقامی طورپر کھیلا جا رہا تھا، اس میں بھی اداکاری کی۔اس کی توجہ اداکاری کے ساتھ ساتھ مصوری، تاریخ اور انگریزی ادب پر بھی تھی۔ کچھ عرصہ ان مضامین کی محبت میں گزارکر، کلی طورپر خود کواداکاری کے لیے وقف کردیا۔ اس نے اداکاری کی خاطر اپنے دیگر شوق ترک کر دیے، اپنے خوابوں کے حصول کے لیے London Academy of Music and Dramatic Artمیں داخلہ لے لیا۔ بچپن سے اداکاری میں دلچسپی کی وجہ سے اس کو آگے بڑھنے کے اچھے مواقع ملنے لگے۔ 6سال کی عمر میں اداکاری شروع کرنے والی یہ کمسن بچی نے اشتہارات اور ٹی وی کے چھوٹے موٹے کرداروں میں کام کیا۔

شوبز کے میدان میں کامیابی کمانے کے ساتھ کیرانائٹلی نے بدنامی بھی کمائی۔ اس کاایک فوٹوشوٹ، جو اس نے ایک ساتھی اداکارہ Scarlett Johanssonکے ساتھ شوٹ کروایا، وہ بہت متنازعہ ہوا، اس فوٹوشوٹ کے متنازع ہونے کی وجہ ،اس کامکمل طورپر برہنہ فوٹو شوٹ ہونا تھا۔اس کے علاوہ یہ پنا ایک برہنہ شوٹ بھی کرواچکی ہے،جس کے لیے اس کاموقف ہے کہ وہ عورتوں کے حقوق کے تناظر میں احتجاج کے طورپر کیاگیاایک بامقصد کام ہے۔ اس کی بولڈ اور کھلی ڈھلی شخصیت کی وجہ سے FHMاور Maximجیسے بولڈ میگزینز نے ’’ہوشربا عورتوں‘‘ کی فہرست اس کو اوپری اعداد میں جگہ دی۔ اس نے ایک آئرش اداکارJamie Dornanکے ساتھ معاشقہ چلایا، کچھ عرصے بعد اپنی ایک فلمPride and Prejudiceکے ہیروکے ساتھ معاشقہ کیا، جس کانامRupert Friendہے۔ کچھ برس محبت کایہ سفر جاری رہا،پھر اس کارومان ایک موسیقار James Rightonسے پروان چڑھا اور 2013میں دونوں نے شادی بھی کرلی، جو ابھی تک برقرار ہے۔

یہ سوشل ورک بھی کرتی ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اور اقوام متحدہ کی طرف سے بھی انسانی حقوق کے لیے خدمات انجام دیتی رہی ہے، جن میں بالخصوص افغانستان میں عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا شامل ہے۔ اس کی سماجی سرگرمیوں کا محور زیادہ تر افریقی ممالک رہے۔ اس نے اپنے اس مقصد کی خاطر ایتھوپیا کا سفر بھی کیا۔ خیرات کی۔ اپنی کئی چیزیں اور خطیر رقم مدد میں دے دی۔ عورتوں میں ایڈز سے بچاؤ کی مہم کے لیے بھی کام کیا۔اس کاشمار ان چند اداکاراؤں میں ہوتا ہے، جنہوں نے قلیل مدت میں کثرت سے کام کیا اور بے پناہ شہرت سمیٹی، بعض اوقات ایک فنکار کو پوری زندگی بسر کر کے بھی اتنی کامیابی نہیں ملتی۔ بی بی سی کے ایک سروے کے مطابق اس کاشمار ان منتخب افراد میں ہوتا ہے، جنہوں نے برطانوی ثقافت پر اپنے گہرے نقوش چھوڑے۔

معصوم چہرے کی مالک، یہ خوبصورت عورت ایک درد مند دل رکھتی ہے۔ اپنی ذاتی زندگی پر بات کرنا پسند نہیں کرتی، شہرت کی بلندیوں پر فائز ہوکر بھی زمین پر بسنے والے عام انسانوں میں رہنا چاہتی ہے، اس لیے، خود کو اس نے سماجی خدمت سے جوڑ رکھا ہے اور انسانیت کی خدمت میں بھی خواتین کے حقوق اس کی ترجیحات میں سب سے پہلے ہیں۔ خدا کو نہیں مانتی، لیکن خلق خدا کی خدمت میں پیش پیش ہے۔ بظاہر حسین دکھائی دینے والی اس اداکارہ کی روح بھی اتنی ہی خوبصورت ہے، ورنہ احساسات کاشور اس کو نہ ستاتا، جس کی تکمیل میں یہ مادی اور تخلیقی دونوں شاہراؤں پر تیزی سے اپنی منزل کی جانب گامزن ہے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Khurram Sohail

Khurram Sohail

Khurram sohail is a journalist and researcher. He regularly writes on performing arts and literature for various magazines, newspapers and websites. Several books containing his writings on music, art and literature have been published. Readers can contact him at: khurram.sohail99@gmail.com


Related Articles

وقت کے کینوس کا طلسمی رنگ-سنڈی کرافورڈ

خرم سہیل: زندگی کی 50 بہاریں دیکھنے والی یہ حسین خاتون اب بھی بے حد پرکشش ہے اور اپنے بعد آنے والی حسین عورتوں کو بھی شہرت کے سفر میں پیچھے چھوڑ چکی ہے۔

خوبصورتی کی سفیر۔۔۔ کارلا برونی

خرم سہیل: فیشن کی دنیا اور سیاست کے منظر نامے کو دیکھا جائے، تو حسن کی جامع تعریف اور خوبصورتی کی تشریح ’’کارلا برونی ‘‘ہو گی۔

خوبصورتی کی اکائی اور دلکشی کا مجموعہ

خرم سہیل: “کویوکی کاتو”کی بولتی ہوئی آنکھوں کے وسط میں،الف ناک دیکھ کر،اس کے شاہانہ مزاج ہونے کاشائبہ ہوتاہے۔