معیشت کی رسی

معیشت کی رسی

معیشت کی رسی سے
یہ راتبِ شوق کھنچا گیا ہے

فصیلوں کے گارے سے
خواہش کی اینٹوں سے
سب منزلوں اور
رستوں کو پاٹا گیا ہے
نگاہِ سخن تیرے آگے
حقیقت کی اندھی سحر
چن چکی ہے
ضمیر طلب ۔۔۔۔۔
تیری خواہش
ضرورت کی اوندھی بصیرت سے
باندھی
گئی ہے
میں اس شہر کی بستیوں اور
سڑکوں پہ دل کی معیشت کی
رسی سے کھینچی گئی ہوں
Image: Debbie Turner Chavers

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

زمانہ اپنی سختیوں کے ساتھ کھڑا ہے

عذرا عباس: وہ بھوکے پیٹ سہم جائیں گے
پہلے ایک دوسرے کا منہ تکیں گے
پھر اپنی اپنی کھڑکیاں بند کر لیں گے

فلیش بیک سے باہر

نصیر احمد ناصر: ماضی کی ایک تنگ گلی میں کھڑے
چم چم اور گلاب جامن کھاتے ہوئے
تم لوگوں سے یوں مِل رہے تھے
جیسے سب تمھارے ہم جوار و ہم جولی ہوں

تری دنیا کے نقشے میں

ابرار احمد: ہجوم روز و شب میں
کس جگہ سہما ہوا ہوں میں
کہاں ہوں میں
تری دنیا کے نقشے میں
کہاں ہوں میں