مفتی نامہ-قسط نمبر1

مفتی نامہ-قسط نمبر1

ادارتی نوٹ: عرفان شہزاد کا تحریری سلسلہ 'مفتی نامہ' ہلکے پھلکے مزاحیہ انداز میں مذہبی طبقات اور عام عوام کے مذہب سے متعلق معاشرتی رویوں پر ایک تنقید ہے۔ اس تنقید کا مقصد اس شگفتہ پیرائے میں آئینہ دکھانا ہے جو ناگوار بھی نہ گزرے اور سوچنے پر مجبور بھی کرے۔

مفتی نامہ کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

مفتی نامہ قسط نمبر-1
چند روز پہلے مفتی صاحب نے حفظ کی کلاس کے حافظ صاحب کو ان کی کچھ نازیبا اور ناقابل بیان حرکتوں کی وجہ سے نکال دیا اور خاکسار کو بلا بھیجا۔ حکم کے مطابق مدرسے سے ملحق ان کےلیے مخصوص جائے تدریس پر حاضر ہوا، کوئی تین ساڑھے تین بجے سہ پہر کا وقت ہوگا۔ ایک جانب چند شاگرد ایک تازہ فتوی نقل کررہے تھے تو دوسری جانب مفتی صاحب دستار اتارے آج کے "منتخب" اور"معتوب" طالب علم سے کندھے دبوا رہے تھے۔ ایک کان قرات والوں کی جانب تھا ، سنتے جاتے تھے اور بیچ بیچ میں جہاں غلطی ہوتی یا کوئی اونگھتا ہوا پایا جاتاچھڑی اپنے سامنے دھرے دیوان پر دے مارتے۔ مجھے دیکھتے ہی چشمہ درست کیا اور بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ان کی منشاء کے مطابق مودب ہو کر داہنی جانب بیٹھ گیا۔
ایک جانب چند شاگرد ایک تازہ فتوی نقل کررہے تھے تو دوسری جانب مفتی صاحب دستار اتارے آج کے "منتخب" اور"معتوب" طالب علم سے کندھے دبوا رہے تھے۔ ایک کان قرات والوں کی جانب تھا ، سنتے جاتے تھے اور بیچ بیچ میں جہاں غلطی ہوتی یا کوئی اونگھتا ہوا پایا جاتاچھڑی اپنے سامنے دھرے دیوان پر دے مارتے۔

ذرا دیر توقف کے بعد خدمت پر مامور لڑکے کو ( خلاف معمول) چائے اور بسکٹ لانے کو بھیج دیا اور (اور غیر معمولی حادثہ یہ ہواکہ ) جیب سے پیسے بھی نکال کر دے دیئے۔ کچھ دیر ادھر ادھر دیکھتے رہے، ایک دو کاغذ بھی الٹے سیدھے کیے اور پھر بڑی رازداری سے بولے؛
"بھئی وہ اپنا قدیرا تو 'داغی' نکلا"
میں اس 'داغدار' پس منظر سے واقف تھا سو عرض کی،" جی سنا میں نے۔"
کچھ دیر خلا میں گھورتے رہے اور پھر کہا،"چھوٹی موٹی اونچ نیچ تو ہو جاتی ہے، تم بھی جوان آدمی ہو سمجھتے ہو۔ لیکن۔۔۔"
میں نے مزید جھجھکتے ہوئے جواب دیا،"بس اللہ ہدایت دے"۔
اس کے جواب میں انہوں نے سر ہلایا اور نظروں ہی نظروں میں مجھے ٹٹولتے ہوئے بولے،"عصر کے بعد تو فارغ ہوتے ہو نا۔"
سمجھ گیا کہ کچھ تو بلا ہے جو سر پر نازل ہونے کو ہے ابھی بہانہ تراش ہی رہا تھا کہ پھر بولے،"جب تک کوئی اور انتظام نہیں ہوتا ذرا حفظ والوں کا سبق بھی دیکھ لیتے تو بہتر تھا"۔
پریشانی کے عالم میں دوبارہ مفتی صاحب کے در پر حاضری دی، ان کے دربار کا وہی عالم اور شان و شوکت تھی۔ تپاک سے ملے۔ حال چال پوچھا ہم نے اپنا مشاہدہ گوش گزار کیا اور حیرت کا اظہار کیا تو ذرا جزبز ہو گئے۔

ہم نے بہتیرا آئیں بائیں شائیں کی ، یہ بھی عرض کی کہ بندہ حافظ نہیں مگر ایک نہ چلی اٹھنے کو تھے کہ چائے کے لیے روکا اور بصداصرار چائے اور بسکٹ سے تواضع کی۔ چاروناچار نئے مدرس کے انتظام تک ناچیز نے حکم پر عمل کیا۔
ابھی سبق سنتے ایک آدھ دن ہی ہوا تھا کہ ایک بچہ جس نے 2 یا 3 سپارے حفظ کر لیے ہوئے تھے مجھ سے سبق لینے آیا۔ میں نے کہا کہ اب تک تو تمہیں حروف کی پیچان ہو چکی ہوگی۔ تم پڑھو، غلطی ہوئی تو میں بتا دوں گا۔ اس نے کہا کہ وہ نہیں پڑھ سکتا۔ میں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے تم کوشش کرو۔ مگر اس سے ایک لفظ بھی پڑھا نہ گیا۔ مجھے حیرت ہوئی۔ جب زیادہ کرید کی تو معلوم ہوا کہ اس بچے کو ناظرہ پڑھے بغیر ہی حفظ کی کلاس میں بٹھا دیا گیا تھا اور اس نے جو حٖفظ کیا تھا وہ محض آوازوں کو یاد کر کے کیا تھا اسے کسی حرف کی پہچان نہ تھی۔
حیران ہوا اور پریشان بھی کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ ایک طالب علم جو عربی حروف پڑھ نہیں سکتا اور یاد کیے جا رہا ہے ۔ سمجھنے اور سمجھانے کی بحث تو بعد کی ہے مگر کم سے کم عربی حروف کی پہچان تو ہو۔
پریشانی کے عالم میں دوبارہ مفتی صاحب کے در پر حاضری دی، ان کے دربار کا وہی عالم اور شان و شوکت تھی۔ تپاک سے ملے۔ حال چال پوچھا ہم نے اپنا مشاہدہ گوش گزار کیا اور حیرت کا اظہار کیا تو ذرا جزبز ہو گئے۔
عرض کی، "قبلہ یہ کہاں کا طریق ہے کہ بچے کو حروف کی پہچان کے بغیر حفظ پر لگا دیا جائے، ایسے وہ قرآن کیا خاک سمجھے گا، محض ایک رٹو طوطا ہی بن پائے گا"۔ مفتی صاحب بولے،" کوئی بات نہیں۔ یہ بھی قرآن کی برکت ہے کہ وہ بنا پڑھے یاد کر پایا، ماشاء اللہ"۔
اس کے بعد وہ اپنے کام میں منہمک ہو گئے اور میں اپنا سا منہ لیے واپس لوٹ آیا۔ اس مرتبہ انہوں نے چائے کو نہیں روکا۔
Dr Irfan Shehzad

Dr Irfan Shehzad

Dr. Irfan Shehzad completed his Doctorate in Islamic Studies from NUML. He regularly writes for various research periodicals, magazines and websites. Human psychology, Jihad and religious militancy are his areas of study.


Related Articles

یومِ نجات

اس کے بعد جوتے مرمت کرنے کے لئے جگہ جگہ ڈھیر سارے مراکز کھولے جائیں گے جہاں صرف عام آدمی کو بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔ پرانا مالک یا اس کا کوئی وفادار ان مراکز کے قریب سے بھی نہیں گزرے گا۔

پاکستانی طلبہ کے نام ایک خط

تصنیف حیدر: کبھی آپ کے ٹیچر، کبھی آپ کے مدرسہ کے معلم، کبھی آپ کے بزرگ آپ کو یہ بات کیوں نہیں بتاتے کہ جن ملکوں میں کھانے کے پیسے نہیں، وہاں اتنی بندوقیں، اتنے بھاری اسلحے، اس مقدار میں دوسرے ہتھیار کہاں سے آجاتے ہیں۔

سیکولرازم کیوں ضروری ہے؟

برما کے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم اور ان مظلوموں کے حق میں کیے جانے والے احتجاج کو مذہبی رنگ دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مذہب سیاسی مقاصد کے لیے کس قدر آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔