مقامی حکومتیں، سیاسی جماعتیں اور عوامی شکوک و شبہات

مقامی حکومتیں، سیاسی جماعتیں اور عوامی شکوک و شبہات
بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے ابھی بھی رائے عامہ واضح نہیں، لوگوں میں تاحال شکوک و شبہات ہیں اور کیوں نہ ہوں اس سے پہلے بھی دوبار پنجاب میں بلدیاتی انتخابات امیدواران کے کاغذات نامزدگی جمع ہونے کے بعد اس وقت ملتوی کر دیئے گئے جب انتخابی نشانات دیئے جانے تھے۔ وجہ کوئی بھی ہو بلدیاتی انتخابات کے باربار ملتوی ہونے سے عوام بہت کچھ سوچنے پر مجبورہو چکے ہیں۔ اسلام آباد اور گردونواح کے بلدیاتی انتخابات کی تاریخیں بھی تبدیل کی جاتی رہی ہیں جس سے عوامی خدشات اور بھی بڑھے ہیں کہ کہیں سندھ اور پنجاب میں بھی بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر ملتوی نہ ہوجائیں۔ حکومتی ترجمان اورکابینہ کے ایک اہم رکن وفاقی وزیر عابد شیر علی نے تو اس کا برملا اظہار بھی کیا کہ محرم الحرام کے بعد انتخابات کراونے سے کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔ بھلا ہو اعلیٰ عدالتوں کا جنہوں نے مقامی حکومتوں کے قیام اور ملک میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے عوامی مفاد میں اہم فیصلے کیے۔ ان فیصلوں کی روشنی میں یہ انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ مگرحکومت کی اس بارے دلچسپی اورسنجیدگی ابھی بھی نظرنہیں آرہی اور اس میں الیکشن کمیشن بھی پوری طرح سے متحرک اورفعال دکھائی نہیں دیتا۔ الیکشن کمیشن کی عدم دلچسپی کا اظہار سندھ کے حوالے سے عدالت کو لکھے گئے خط سے بھی ہوتا ہے۔
محلے کی چوپال سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک یہی بحث ہورہی ہے کہ آیا بلدیاتی انتخابات ہوں گے یا نہیں۔غیریقینی کی یہ صورت حال اس لیے بھی ہے کہ تاحال سیاسی جماعتوں نے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں حصہ لینے کےلیے اپنی ترجیحات اور حکمت عملی طے نہیں کی

حکومتیں کیوں مقامی حکومتوں کے قیام کے لیے مخلص نہیں اس کی ایک وجہ تو یہ نظر آتی ہے کہ حکمران ٹولہ مقامی حکومتوں کے نظام کو اپنا متبادل سمجھتا ہے۔ حکمران اقتدار کی تقسیم اور وہ بھی گلی محلے کی سطح تک منتقلی کو اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ ہماری حکمران خانوادے اقتدار میں عام آدمی کی شراکت اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ دراصل ایسا جو بھی سوچتا اور سمجھتا ہے وہ ذہنی طور پرپسماندہ ہے۔ مقامی حکومتوں کے قیام اوراس مقصدکے لیے انتخابات کے انعقاد کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ ہماری حکومتوں نے اس سے انکار کرکے آئین کی مسلسل خلاف ورزی کی ہےاور اعلیٰ عدالت کے فیصلوں کو نہ مان کر توہین عدالت کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔ تاہم اب جاری کیے جانے والے مرحلہ وار شیڈول کے آنے کے بعد سے اس پر عملدرآمدبھی ہورہا ہےمگر عوام پھر بھی اس حوالے سے بے یقینی کا شکار ہیں اور تاحال وہ روایتی گہما گہمی دکھائی نہیں دی جو ہمارے انتخابات کا خاصہ ہے۔

محلے کی چوپال سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک یہی بحث ہورہی ہے کہ آیا بلدیاتی انتخابات ہوں گے یا نہیں۔غیریقینی کی یہ صورت حال اس لیے بھی ہے کہ تاحال سیاسی جماعتوں نے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں حصہ لینے کےلیے اپنی ترجیحات اور حکمت عملی طے نہیں کی۔ بڑی سیاسی جماعتوں نے ان انتخابات کو اپنی پہلی ترجیح قرار نہیں دیا اور ان کے لیے سیاسی ایجنڈا پیش نہیں کیا۔ مقامی حکومتوں کے انتخابی دنگل میں سیاسی جماعتیں ابھی تک بھرپور طریقے سے داخل نہیں ہوئیں۔ سیاسی اکھاڑے میں سیاسی جماعتوں کی آمدبالکل کسی فلمی ہیروکی دبنگ انٹری کی طرح ہے جس کے نمودارہوتے ہی شائقین بے اختیار تالیاں پیٹتے ہیں اور خوشی سے سیٹیاں بجاتے ہیں۔ان انتخابات میں ابھی تک کسی سطح پر کسی کی طرف سے دبنگ انٹری نہیں ڈالی گئی۔عوامی دلچسپی کو بڑھانے کی خاطر بھی کچھ نہیں کیا جارہا۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات میں لوگوں کی دلچسپی بھی سیاسی جماعتوں کی دلچسپی سے جڑی ہوئی ہے کیونکہ اس بار یہ انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہورہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے امیدواراپنی اپنی جماعت کے نشانات کے ساتھ انتخاب لڑیں گے۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ پنجاب کے ضلع وہاڑی میں جہاں پہلے مرحلے کے تحت انتخابات ہورہے ہیں وہاں امیدواروں کو نشانات دیئے جا چکے ہیں مگر یہاں سے کسی ایک امیدوار کوبھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کا نشان نہیں دیا گیا کیونکہ میاں برادران نے کسی کو بھی پارٹی ٹکٹ جاری نہیں کیا۔ اب ایسی صورت حال کیوں پیدا ہوئی اس کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ حکمران جماعت کی اس ضلع سے دلچسپی ہی نہیں تھی اور ضلعے کو کھلا چھوڑ دیا گیا ۔ مسلم لیگ (ن) نے مقامی سطح پر گروہ بندی ختم کرانے کی کوشش نہیں کی۔ ضلع میں مسلم لیگ ن کے تین سے زائد گروہ آزاد حیثیت میں انتخاب لڑرہے ہیں۔
انتخابی امیدواران میں صنفی عدم توازن افسوس ناک ہے چیئرمین، وائس چیئرمین اور عمومی نشستوں کے لیے خواتین امیدواروں کی تعدادپانچ فیصدسے بھی کم ہے جس سے لگتا ہے کہ ان انتخابات میں خواتین کی بھرپور شمولیت کا کوئی امکان نہیں ہے۔

بلدیاتی انتخابات کے لیے تاحال رائے دہندگان کو متحرک کرنے اور ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کے لیے سرگرمیوں کاآغاز نہیں ہوسکا۔ انتخابی عمل کے بارے میں بھی عوام کو کچھ زیادہ آگاہی نہیں ہے۔الیکشن کے انعقاد میں سب سے زیادہ اہم کردار ریٹرننگ افسروں کا ہے لیکن ریٹرننگ افسران کے انتخاب اور ان کی تربیت کے حوالے سے بھی کوئی خیر خبر دستیاب نہیں۔ الیکشن کمیشن کے دفاتر عوام کی آسان پہنچ میں نہیں ہیں۔امیدواران کی سہولت، ان کی معاونت اور رہنمائی کے لیے کہیں ڈسک نہیں بنائے گئے۔ کچھ شہروں میں غیرسرکاری تنظیموں نے یہ کام کرنے کی کوشش کی ہے مگر انتظامیہ ان کے ساتھ تعاون کے بجائے ان کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے، سرکاری انتظامیہ نہ خود سے کچھ کرتی ہے اور نہ کسی اور کو کچھ کرنے دیتی ہے۔

پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں عوام کی دلچسپی بتدریج کم ہو رہی ہے۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق سابقہ شیڈول(منسوخ شدہ) کے مقابلے میں امیدواران کی تعداد پچاس فیصد تک کم ہو گئی ہے۔ انتخابی امیدواران میں صنفی عدم توازن افسوس ناک ہے چیئرمین ،وائس چیئرمین اور عمومی نشستوں کے لیے خواتین امیدواروں کی تعدادپانچ فیصدسے بھی کم ہے جس سے لگتا ہے کہ ان انتخابات میں خواتین کی بھرپور شمولیت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ دوسرے مرحلہ میں مخصوص نشستوں کے انتخابات کا شیڈول آئے گا۔اس میں بھی یہ بات طے شدہ ہے کہ خواتین کو مرکزی دھارے میں نہیں آنے دیا جائے گا۔ اگر خواتین کی نشستوں پر براہ راست انتخابات نہیں کرانے تھے تو بھی کم از کم یہ لازمی قرار دیا جاتا کہ سیاسی جماعتیں چیئرمین اوروائس چیئرمین کے لیے کم از کم 33 فیصد خواتین کو لازمی طور پر ٹکٹ دیں مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ اسی طرح اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں پر براہ راست انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے نظرانداز شدہ مذہبی اقلیتیں سیاسی عمل سے مزید اجنبی ہو جائیں گی۔

Related Articles

فوجی مداخلت اور نااہل سیاسی قیادت

تحریک انصاف اور طاہرالقادری کی جدوجہد اگرجمہوریت کے استحکام کی جدوجہد ہوتی تو وزیر اعظم کے استعفٰی اور اپنے جمہوری مطالبات کی منظوری کے لیے آرمی چیف کو ضامن یا ثالث بنانےسے انکارکرسکتے تھے۔

طلبہ تحریک کا تاریخی پس منظر

تعلیم ایک بنیادی سماجی ادارہ ہے اور طلباء اس کا بنیادی رکن ہونے کے ناطے سماجی اور سیاسی سطح پرنہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔زیرِنظر مضمون میں جدید تاریخ کے سیاق و سباق میں طلباء کے سیاسی کردار پر بحث کی گئی ہے۔

Trump soars, but Republicans lose

Donald Trump’s dominance is also bolstered by the inability of other party candidates to consolidate moderate Republican votes.