منجن بیچتے کالم نگار

منجن بیچتے کالم نگار
سب سے بڑا ستم جو ان منجن فروشوں نے ڈھایا ہے وہ یہ ہے کہ ایک ایسا صحافتی ماحول پیدا کردیا ہے جس میں رائج الوقت نظریات سے اختلاف تو دور کی بات ان پر بات کرنے کی گنجائش بھی باقی نہیں رہی
دس سال بعد میں اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہوں کہ ہمارے اردو کالم نگار منجن بیچنے والوں کی طرح روزانہ عوام کے سامنے جہالت ، عقیدت، جذباتیت، روحانیت،پیشن گوئیوں،جھوٹی تاریخ اور شخصیت پرستی وغیرہ کا منجن بیچتے ہیں۔ بیشتر اردو کالم نگاروں کے کسی کالم میں کوئی علمی و عقلی بات نہیں ہوتی جس سے عوام کے شعور میں اضافہ ہو۔سارا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ کس طرح وہ بات کی جائے جس سے موجودہ نظام جوں کا توں برقرار رہے؛ نہ طالبان ناراض ہوں نہ عسکری قیادت ، نہ مذہبی جماعتیں اور نہ عوام- ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے اس ملک کو لوٹنے ، توڑنے، اور تباہ کرنے والے طبقے کے مفادات کو ضرب لگے۔اسی لیے یہ کسی نہ کسی طاقتور گروہ کی گود میں بیٹھ کر ان کے لیے سازگار ماحول بنانے میں مگن رہتے ہیں۔اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے بہت کڑی تفتیش کرنے کی ضرورت نہیں بس ان کی لکھی ہوئی باتوں کو تنقیدی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان اصحاب کے سیاسی تبصرے کسی مستری کی رائے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے کیونکہ ان میں اپنی پسندیدہ جماعت کے حق میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے گئے ہوتے ہیں۔
اردو کالم نگاروں کی ایک خاصیت ان کی نام نہاد روحانیت اور بابوں میں شدید دلچسپی ہے۔ ہر کالم نگار اپنا کوئی نہ کوئی بابا رکھتا ہے اور یوں ظاہر کیا جاتا ہے کہ با با جی کا خاص فیض اور نظر کرم کالم نگار کو حاصل ہے
سب سے بڑا ستم جو ان منجن فروشوں نے ڈھایا ہے وہ یہ ہے کہ ایک ایسا صحافتی ماحول پیدا کردیا ہے جس میں رائج الوقت نظریات سے اختلاف تو دور کی بات ان پر بات کرنے کی گنجائش بھی باقی نہیں رہی۔ جو ایسا کرے گا اس پر فورا ہی غدار ، ایجنٹ، اور کافر ہونے کا الزام لگ جائے گا۔ اس کی بہت عمدہ مثال کچھ عرصہ پہلے دیکھنے میں آئی جب معروف مذہبی دانشور غامدی صاحب نے طالبان کے دینی بیانیے کے مقابل جوابی بیانیہ لکھا ۔ اس بیانیے میں انھوں نے اسلامی اصولوں کا اطلاق جدید ریاست پر کیا ، طالبان کے نظریہ قتال اور خلافت پر نقد کی، اور موجودہ بحران کے خاتمے کے لیے معاشرے میں ایک مکالمے کا آغاز کیا -لیکن ان کے اس کالم کے جواب میں کوئی پچاس کالم لکھے گئے اور ہماری صحافی برادری نے غامدی صاحب کی ستائش کی بجائے انہیں سیکولر، مادہ پرست، اور مغرب زدہ قرار دیا۔
دوسری مثال ڈاکٹر مبارک علی کی ہے جو پاکستان کے چند مستند تاریخ دانوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے قائداعظم کی شخصیت پر کالم لکھا اور بتایا کہ وہ کیا تھے اور کیا نھیں تھے۔ اس کالم میں انھوں مستند حوالوں سے یہ بتایا کہ ہمارے اردو کالم نگار کیسے قائد کی جھوٹی شخصیت لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں جو ارباب اقتدار کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔ اس کالم کے جواب میں انھیں غدار، ملحد اور ایجنٹ کہا گیا۔ہمارے اردو کالم نگاروں کا حال یہ ہے کہ ایک مشہور صحافی نے سٹینلے وولپرٹ جس نے قائد کی سب سے مستند سوانح لکھی ہے کے بارے میں کہا کہ اس نے انصاف نہیں کیا۔
قدرت اللہ شہاب سے لے کر جاوید چوہدری تک ہر ادیب اور صحافی کے بابے اس بات پر کاربند ہیں کہ جسے اللہ نے کوئی مقام نہیں دیا اسے ہم کیوں مقام دیں اس لیے یہ صرف صاحب حیثیت لوگوں کے مادی و روحانی مسائل کا حل کرتے ہیں
اردو کالم نگاروں کی ایک خاصیت ان کی نام نہاد روحانیت اور بابوں میں شدید دلچسپی ہے۔ ہر کالم نگار اپنا کوئی نہ کوئی بابا رکھتا ہے اور یوں ظاہر کیا جاتا ہے کہ با با جی کا خاص فیض اور نظر کرم کالم نگار کو حاصل ہے۔اکثر کالم نگار بابا جی کی تعلیمات، کرامات، فوجی و سیاسی شخصیات کے ساتھ تعلقات اور سیاسی پیشنگوئیوں کے بارے میں لکھنا اپنا مذہبی و روحانی فریضہ سمجھتے ہیں۔ایسا کرنے سے ایک تو یہ ہوتا ہے کہ روحانیت کی پیاسی عوام ان بابوں کے پاس پہنچ جاتی ہےاور کالم نگار کی شخصیت کا "روحانی " پہلو بھی اجاگر ہوتا ہے ۔ کچھ لوگ تو صرف اس لیے کالم پڑھتے ہیں کہ اس میں ان کے بابا جی کا ذکر آجائے گا۔ انتخابات سے پہلے یہی کالم نگار لوگوں کو بتاتے ہیں کہ بابا جی نے فلاں جماعت کی فتح کی پیشن گوئی کی ہے ۔ان لوگوں کے کالم پڑھ کر جب عام بندہ بابوں سے ملنے جاتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ بابا جی اہم لوگوں سے ملنے میں اتنے مصروف ہیں کہ ان کے پاس کمی کمینوں کے لیے وقت نہیں ہے ۔ قدرت اللہ شہاب سے لے کر جاوید چوہدری تک ہر ادیب اور صحافی کے بابے اس بات پر کاربند ہیں کہ جسے اللہ نے کوئی مقام نہیں دیا اسے ہم کیوں مقام دیں اس لیے یہ صرف صاحب حیثیت لوگوں کے مادی و روحانی مسائل کا حل کرتے ہیں۔ ہاں اگر ایک آدھ منٹ کے لیے ملاقات کر بھی لیں تو ان میں اور حکمرانوں کے رویہ میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔
ہمارے ہم عصر کالم نگاروں کی تحاریر میں علمی و صحافتی لحاظ سے تو پستی تھی ہی لیکن اخلاقی پستی کی کوئی حد نہیں ۔ جس کسی کا بھی کسی کالم نگار سے واسطہ پڑا ہے وہ پچھتایا ہی ہے۔ پچھلے دنوں ایک مشہور کالم نگار جوفیس بک پرفہرست احباب میں بھی شامل ہیں سے واسطہ پڑا، موصوف نے تصوف کے بارے میں اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا جس پر ہم نے اپنے تبصرے میں ان کے مؤقف پر نقد کی گستاخی کر ڈالی۔ہمارے اٹھائے سوالوں کے جواب دینے کی بجائے موصوف نے انتہائی بدتمیزی سے جاہل اور گنوار کے لقب سے نوازا اور فیس بک پر ہمارا مقاطعہ کر دیا ۔
شاید اب پاکستانی عوام کا شعور اس حد تک زوال پذیر ہو چکا ہے جہاں عقلی و منطقی بات ان کی سمجھ سے باہر ہے انہیں اپنی نرگسیت کی تسکین کے لیے جذباتی باتیں چاہئیں، انہیں حقیقت سے زیادہ خوابوں میں دلچسپی ہے۔ پاکستانی عوام اب بنانے سے زیادہ مٹانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ انہیں حقیقی تاریخ سے زیادہ گھڑے ہوئے فسانے سننا پسندہے ۔ جو کسی بھی معاملے میں اختلاف رائے کو غداری اور کفر کے مترادف سمجھتی ہے۔ ہمارے عوامی شعور کو ہمہ وقت جہالت، جذباتیت، اور جھوٹ کی خوراک پہلے سے زیادہ مقدار میں درکار ہوتی ہے اور یہ کالم نگار اس ضرورت کو بخوبی پورا کررہے ہیں۔ اس لیے تمام ایسے اردو لکھنے والے جو عقلی و شعوری بات کرنا چاہتے ہیں انھیں اپنا قلم توڑ کر کوئی اور کام کرنا چاہیئے کیونکہ ابھی قوم ان کی باتیں سننے کو تیار نہیں ہے۔


Related Articles

Dar, Dream and Dollar

Lately the news came to fore that Pakistan has earned a huge sum of 1.5 million dollars from brother Saudi Arab as a part of good will gesture for the strong friendship between two nations.

کون جانے نہیں دیتے

بقول باوثوق ذرائع اس نئی نویلی آنکھ کھولتی سیاسی پارٹی کے "عوامی رہنماؤں" کے ملک کے اہم صنعتی شہر فیصل آباد میں اچھے خاصے کاروبار اور بیوپار ہیں