من و تو

من و تو

تمہارے بازؤں کے گھیروں میں

آجانے کے بعد

مجھے ایسا کیوں لگتا ہے

جیسے سردیوں میں گھاس کی لمبی لمبی ڈالیاں

ہوا میں پلکو رے لینے لگی ہوں

جسے سمندر کی سطح پر

ہوائیں پانی کے ساتھ کوئی کھیل کھیلنے لگی ہوں

جسے آسماں پر قوس و قزح کا

رنگدار دائروی جھولا ڈال کر

کائنات پینگیں لے رہی ہو

جسے کوئی سبز ڈال

اپنے آخری سرے پہ

پھولوں کی بے خوابی سمیٹ

کر اپنے حسن کے زعم میں لچکا رہی ہو

تمھارے گھیروں میں آجانے کے بعد

مجھے ایسا کیوں لگتا ہے

جیسے پوری کائنات

مجھ میں سما رہی ہو

Image: James R Eads

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

اوڈ ٹو سموسہ اور دیگر عشرے

جنید الدین: ہم پرانی لائبریریوں میں کھنگالے جائیں گے
جب لڑکے کچھ خط چھپانے آئیں گے

کوئی ایسا شبد لکھے کوئی

کوئی ایسا شبد لکھے کوئی
جسے پڑھ کر اک حیرانی ہو
جسے کھول کے دیکھیں تو اس میں
ہر مشکل کی آسانی ہو

تری دنیا کے نقشے میں

ابرار احمد: ہجوم روز و شب میں
کس جگہ سہما ہوا ہوں میں
کہاں ہوں میں
تری دنیا کے نقشے میں
کہاں ہوں میں