موت کا سلنڈر

موت کا سلنڈر
سلنڈر پھٹنے کے واقعات کی ایک بڑی وجہ منظورشدہ اداروں کے تیار کردہ سلنڈروں کی بجائے سمگل شدہ غیر معیاری سلنڈروں کا استعمال ہے۔ یہ سلنڈر روس، جاپان، چین اور ہندوستان سے سکریپ کی شکل میں لائے جاتے ہیں یا پھر سمگل کیے جاتے ہیں۔
متعدد مہلک حادثات میں سینکڑوں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ میں غیر معیاری گیس سلنڈروں کے استعمال کو روکا نہیں جا سکا۔ غیر معیاری گیس سلنڈروں کی تنصیب کی روک تھام کے قوانین بھی ایسے حادثات پر قابو پانے میں موثر ثابت نہیں ہوئے۔پچھلے دنوں ڈیرہ غازیخان، بہاولپور، کراچی اور حیدرآباد میں ایل پی جی سلنڈر پھٹ جانے سے گاڑیوں میں آگ لگنے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ سی این جی سے چلنے والی گاڑیوں کے سلنڈر پھٹنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ محض چند ماہ میں مختلف شہروں میں درجنوں افراد ایسے واقعات میں جانیں گنوا چکے ہیں۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق یکم جون سے اگست کے آخر تک بیس سے زائد افراد گاڑیوں کے سلنڈر پھٹنے کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں اور پچاس کے قریب آگ میں جھلس کر زخمی ہوچکے ہیں۔
دنیامیں شایدپاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں بغیر کسی روک ٹوک کے کسی بھی علاقے سے، کسی بھی طرح کا سلنڈر منگوا کر، کسی بھی شخص سے اپنی گاڑی میں لگوایا جا سکتا ہے۔ گیس سلنڈر بھروانے کی جگہ جگہ کھلی ہوئی دکانوں میں موثر حفاظتی اقدامات کے بغیر گیس بھری جاتی ہے، یہ امر کسی بھی وقت سنگین حادثات کا باعث بن سکتا ہے۔ سلنڈر پھٹنے کے واقعات کی ایک بڑی وجہ منظورشدہ اداروں کے تیار کردہ سلنڈروں کی بجائے سمگل شدہ غیر معیاری سلنڈروں کا استعمال ہے۔ یہ سلنڈر روس، جاپان، چین اور ہندوستان سے سکریپ کی شکل میں لائے جاتے ہیں یا پھر سمگل کیے جاتے ہیں۔ مالکان گاڑیوں میں گلی محلے میں بیٹھے مستریوں سے یہ سلنڈر نصب کراتے ہیں،ایسا عام طور پر پیسے بچانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ گاڑی مالکان اپنی جیب پر پڑنے والے بوجھ کو لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال کر ہلکا کرتے ہیں۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جاری کردہ فہرست کے مطابق صرف پانچ ادارے ایسے ہیں جنہیں ایل پی جی سلنڈر تیار کرنے کی اجازت ہے جبکہ کچھ کو صرف ایل پی جی کے استعمال کے لیے درکارپرزہ جات بنانے کی اجازت ہے۔ پاکستان میں زیراستعمال سلنڈروں کی تعداد اور طلب ان صنعت کاروں کی استعداد کار سے کہیں زیادہ ہے۔ اس قلت کو پورا کرنے کے لیے سلنڈر درآمد یا سمگل کیے جاتے ہیں۔ گیس کی قلت کے باعث اب حکومت نے سی این جی کٹس کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے تو پبلک ٹرانسپورٹ مالکان نے غیر قانونی طور پرایل پی جی سلنڈر لگانا شروع کردیئے ہیں ۔ ایل پی جی سلنڈر سے چلنے والی یہ گاڑیاں چلتے پھرتے بم ہیں جو کسی بھی وقت معصوم مسافروں کی جان لے سکتی ہیں اس کے باوجودہماری حکومیتں اس مسئلے کوزیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتیں۔مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے تاحال اس حوالے سے مؤثر قانون ساز ی نہیں کی۔آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے ایل پی جی کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے جس کے مطابق اب بس، ٹرک اور ویگن کے علاوہ رکشوں میں بھی یہ گیس استعمال نہیں کی جاسکتی۔ اوگرا، نے یہ پابندی انسانی جانوں کے ضیاع اور حادثات کو روکنے کے لیے عائد کی ہے تاہم پابندی کے باوجود اس کا استعمال روکا نہیں جاسکا ۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے ایل پی جی کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے جس کے مطابق اب بس، ٹرک اور ویگن کے علاوہ رکشوں میں بھی یہ گیس استعمال نہیں کی جاسکتی۔
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ایل پی جی سلنڈر کا زیادہ استعمال طلبہ کو لانے لے جانے کے لیے استعمال کی جانے والی گاڑیوں میں ہورہا ہے ۔ اس کے بعد مزدورں کو فیکٹریوں تک پہنچانے کے لیے استعمال کی جانے والی گاڑیوں اور کھیت سے منڈی تک چلنے والی گاڑیوں کا نمبر ہے۔ عام طور پر شہر اور گردونواح میں چلنے والی گاڑیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر سے بچ جاتی ہیں اور سلنڈرپھٹنے کے زیادہ تر واقعات بھی سکول وین، کارخانوں اورمنڈیوں سے نکلنے والی گاڑیوں اور شہر میں چلنے والے رکشوں میں پیش آتے ہیں ۔ ان گاڑیوں میں لگے غیر معیاری سلنڈرکسی بھی وقت پھٹ سکتے ہیں ۔
گیس سلنڈر کا پبلک گاڑیوں میں استعمال اور اس کے نتیجے میں ہونے والے حادثات کوئی نئی بات نہیں ۔ پاکستان میں پہلی بار اس مسئلے کا نوٹس عدلیہ، حکومت اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے 26 مئی کو گجرات میں ایک سکول وین میں سلنڈر پھٹنے کے واقعے کے بعد لیا۔ اس دھماکے میں سکول ٹیچر اور معصوم طالب علموں سمیت 15 لوگوں کی جان چلی گئی۔پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رٹ پٹیشن پراس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت عدالت کارروائی کی۔ اپنے فیصلے میں انہوں نے حادثے کی ذمہ داری ڈرائیور کے ساتھ گاڑی کے مالک،سکول کے مالک، وزارت پیٹرولیم و گیس،آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی،سیکرٹری آر-ٹی-اے، ضلعی انتظامیہ اور پولیس سمیت کئی اداروں پر عائد کی ۔ انہوں نےایسے واقعات کی روک تھام کے لیے لائحہ عمل کی تیاری اور قانون سازی اور ان قوانین پر یقینی عملدآمد کے احکامات بھی جاری کیے۔ عدالتی حکم پر چند اقدامات کیے بھی گئے تاہم جلد ہی یہ معاملہ بھی روایتی غفلت کا شکار ہوگیا۔ عدالتوں اور عوام کو مطمئن کرنے کے لیے وقتی ہل چل کا چلن اس ملک میں برسوں سے رائج ہے۔ اگر یہی طرزعمل جاری رہا تو حالات بدلنے کی بجائے مزید خراب ہوں گے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے حادثات سے بچنے کی خاطر سنجیدہ اور فوری اقدامات کیے جائیں اور وقتی طور پر عارضی اقدامات کرنے کا رویہ ترک کیا جائے ۔ اس سلسلے میں پہلے سے موجودقوانین پر سختی سے عمل کرتے ہوئے مزید قوانین بنائے جانے چاہیئں ۔ ایسے حادثات میں گاڑی کے مالک اور ڈرائیور کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ تمام ذمہ دار اداروں کےخلاف کارروائی بھی ضروری ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ میں نصب سلنڈروں کی جانچ کے قوانین پر عملدرآمد سے اس مسئلے پر قابو پانے میں خاطرخواہ مدد مل سکتی ہے۔ اس ضمن میں تمام پبلک ٹرانسپورٹ کی صحت کی ازسرنوجانچ بھی ضروری ہے تاہم اہم ترین کام ایل پی جی اور سی این جی کی کھلے عام فروخت کی روک تھام ہے۔

Related Articles

پاکستانی معاشرہ اورآزادئ نسواں کا تصور

آزادئ نسواں کا تصور مغرب سے اٹھا اوروہاں کی عورت نے دنیا کا آدھا بلکہ آدھے سے زیادہ بوجھ اٹھا لیا ہے تو ہمارے ہاں ابھی تک عورت کی برابری، مساوی آزادی اور خود مختاری کا تصور محض مغرب تقاریب اور اخباری بیانات تک محدود ہے ۔

بہار ایسے تو نہیں مناتے

یہ جی اٹھنے کا دن تھا مگر لوگ زمین پر اوندھے منہ پڑے تھے زمین پر سینکڑوں افراد کا خون یہ دہائی دے رہا تھا، "ہماری خوشیوں کے قاتل بہار ایسے تو نہیں مناتے"۔

بھٹو کا پتلا

ڈی اصغر: جب بھٹو کے قصّے کچھ کم ہو جاتے ہیں تو پھر اس کی شیر دل بیٹی کی بات ہوتی ہے۔ جو سب کی بی بی تھی۔ پھر ایک اور نعرہ گونجتا ہے، " چاروں صوبوں کی زنجیر، بے نظیر بے نظیر۔" پھر بی بی صاحب کی مداح سرائیاں ہوتی ہیں۔