"مولے نو مولا نا مارے تے مولا نہیں مر سکدا"

پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری نے سہیل وڑائچ کے کو ایک ٹی وی انٹرویو دیا جس میں اپنی سیکیورٹی کے سوال پر انہوں نے کہا،"مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نہیں مر سکدا"۔پنجابی فلم مولا جٹ کو ریلز ہوئے تین دہائیاں گزرنے کو ہیں لیکن پھر بھی کسی نہ کسی طریقے سے فلم مولا جٹ پاکستانی ثقافت کا حصہ ہیں ۔اس کے یادگار مکالموں کی باز گشت آج بھی پاکستانی معاشرے کی روزمرہ گفتگو میں سنائی دیتی ہے ۔
اس فلم پر ابھی تک بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور بہت کچھ کہا جا چکا ہے ۔کچھ لوگوں کے خیال میں یہ فلم صرف اور صرف وقت کا ضیاع ہے ( جیسا کہ آئی ایم ڈی بی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے تبصرے میں لکھا ہے )پاکستان کےایک بڑے ٹی وی چینل کے ایک میزبان نے اپنے پروگرام میں فلم کے کلپ چلا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ فلم نے پاکستان میں تشدد کا کلچر عام کیا ہے ۔افسوس کہ ان کے پاس اپنے اس دعوے کے حق میں کسی قسم کے کوئی تحقیقی شواہد موجود نہیں تھے جو ان اثرات کا جائزہ لے سکتے لہٰذا انہوں نے اس بارے میں کوئی ٹھوس نتائج پیش نہیں کیے ( ویسے بھی ٹاک شوز اس ملک میں ٹھوس نتائج اور تحقیق کم ہی پیش کرتے ہیں ) ۔فلم کے پرو ڈیوسر سرور بھٹی نے چینل پر کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ کیا ۔ان کا دعویٰ تھا کہ چینل اور میزبان نے ان کی اجازت کے بغیر فلم کے کلپس آن ائیر کئے ہیں۔تین سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس مقدمے کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا،" پاکستان میں قتل کے مقدموں میں انصاف نہیں ملتا کاپی رائٹ کے کیس کا فیصلہ کیسے ہو سکتا ہے "۔ رائل پارک میں واقع ایک دوست کے دفتر میں بیٹھے سرور بھٹی نے کہا ۔" اب تک میں کئی بار کوشش کر چکا ہوں لیکن شنوائی نہیں ہو رہی "۔
ہونٹوں پہ مسکراہٹ سجائے اور دھیمے لہجے میں بات کرنے والے نوری نت کا کردارمارشل لا اتھارٹی کے ساتھ بہت مشابہت رکھتا ہے جو تمام طاقت ور افراد، اداروں ،سیاسی جماعتوں اور گروہوں کو اپنے سامنے جھکانا چاہتا ہے۔
یوں لگتا ہے تنازعات نے مولا جٹ کا ابھی تک پیچھا نہیں چھوڑا۔ فلم پر پہلا تنازع اس کی ریلز کے وقت اٹھاجب سکرینگ کی اجازت کے باوجود سنسر بورڈ نے فلم کی نمائش روک دی ۔فلم انیس سو اناسی میں ریلز ہوئی ۔ملک میں ضیا الحق کا مارشل لا ءنافذ تھا ذوالفقار علی بھٹو پر قتل کا مقدمہ چل رہا ۔سخت ریاستی جبرکا زمانہ تھا ۔'سیاسی مخالفین کا صفایا کرو یا انہیں سزا دے کر ساتھ ملاو 'کی مہم جاری تھی ۔ایسے حالات میں جو تشدد ملکی فضا میں موجود تھا اس کی باز گشت مولا جٹ میں بڑی واضح انداز میں دیکھنے میں آئی ۔ مولا جٹ پر پہلا سیاسی تبصرہ فلم ڈائریکٹر اور مورخ مشتاق گزدرنے پاکستان کی گولڈن جوبلی کے موقعہ پر منظر عام پر آنے والی کتاب "پاکستان سینما " میں کیا ۔ان کے مطابق ہونٹوں پہ مسکراہٹ سجائے اور دھیمے لہجے میں بات کرنے والے نوری نت کا کردارمارشل لا اتھارٹی کے ساتھ بہت مشابہت رکھتا ہے جو تمام طاقت ور افراد ،اداروں ،سیاسی جماعتوں اور گروہوں کو اپنے سامنے جھکانا چاہتا ہے۔
"چار ایریل انیس سو اناسی کو جب فلم کی نمائش دوسرے مہینے میں داخل ہوئی تو ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی "رائل پارک کے دفتر میں سرور بھٹی نے اس بات کی تصدیق کی ۔ سرور بھٹی کے مطابق اس فلم کا خیال فوجی آمریت کے جبری ہتھکنڈوں کی پیداوار ہے،" پانچ جولائی انیس سو ستتر میں ضیاالحق نے مارشل لانافذ کر کے بھٹو کی حکومت ختم کر دی۔اس دوران وکیلوں صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو کوڑے مارے جارہے تھے، ٹی وی اور اخبارات پر سخت سنسر شپ عائد تھی ۔اس دور میں فلموں پہر بھی کڑی سنسر شپ تھی کوئی شخص تھانے دار کے خلاف فلم نہیں بنا سکتا تھا ۔ مارشل لا کے قوانین پولیس اور فوج کے تحت نافذ ہو رہے تھے ۔تھانے دار تو دور کی بات اس دور میں سپاہی کی دہشت بہت زیادہ تھی وہ جاگیردار،سرمایہ دار کسی سے بھی مارشل لا کے نام پہ بھتہ مانگ لیتا تو دینا پڑتا تھا ۔اس ریاستی جبر نے میری سوچ کو ڈھالنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ میں نے یہ فلم انیس سو اٹھہتر میں شروع کی جب مارشل لاء اپنے عروج پر تھا اور میرا کمال یہ ہے کہ میں نے فلم کا سیاسی پہلوعلامتوں میں پیش کیا اگر میں ایسا نہ کرتا توحکام کی پکڑ میں آ جاتا"۔سرور بھٹی کی اس احتیاط کے باوجود فلم کو سرکاری بندش کا سامنا کرنا پڑا۔سنسر بورڈ فلم کے علامتی پیغام پر کوئی واضح فیصلہ نہ کر سکا۔اس بات کو سرور بھٹی اپنی بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں ،" اگر مارشل لاء حکام کو پتہ چل جاتا تو پھرمیں کس بات کا فنکار تھا"۔
دلدار پرویز بھٹی نے پی ٹی وی پر اپنےپروگرام میں کہا کہ اس وقت ملک میں دو چیزیں چل رہی ہیں ایک مولاجٹ اور دوسری مارشل لاءاس جملے کی پاداش میں مارشل لاءحکام نے دلدار پرویز بھٹی پر پابندی عائد کردی ۔
بریخت نے کہا تھا سچ بولنے والے کو اپنے فن میں اس قدر ماہر ہونا چاہیئے کہ وہ سچ بھی بولے اور پکڑا بھی نہ جا سکے ۔مارشل لا حکام نے فلم سنسر بورڈ میں فلم پر پابندی عائد کرنے کے لیے موقف اختیار کیا کہ فلم کا جو پرنٹ سینما گھروں میں چل رہا ہے وہ سنسر شب کے لیے پیش کیے جانے والے پرنٹ مختلف ہے ۔اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا گیا بعدازاں عدالت نے فلم کی سکریننگ کی اجازت دے دی ۔فلم پر اٹھنے والے تنازعات پر ایک لطیفہ سناتے ہوئے سرور بھٹی نے دلدار پرویز بھٹی کا ایک دلچسپ واقعہ سنایا،"دلدار پرویز بھٹی نے پی ٹی وی پر اپنےپروگرام میں کہا کہ اس وقت ملک میں دو چیزیں چل رہی ہیں ایک مولاجٹ اور دوسری مارشل لاء"اس جملے کی پاداش میں مارشل لاءحکام نے دلدار پرویز بھٹی پر پابندی عائد کر دی ۔
مولا جٹ کے بیانیے نے پاکستان سینما کی سمت اور جہت کو تبدیل کر دیا ۔فلم کے اردو بولنے والے ،نرم گفتار ،کرتے پاجامے پہننے والے ہیروز اور اردو بولنے والے طبقے کا بیانیہ سینما کی سکرینوں سےرخصت ہوا اور رفتہ رفتہ دم توڑ گیا۔مولا جٹ تشدد کے اس بیج کا پھل تھی جسے معاشرے میں ایک فوجی آمرنے بویا تھا ۔آنے والے سالوں میں اس تشدد نے نہ معاشرے کی جان چھوڑ ی نہ پاکستان سینما کی ،اور کسی نہ کسی حالت میں یہ تشدد ہمیں معاشرے میں نظر آتا رہا۔
مولا جٹ کی نمائش کے چھتیس سال بعد بھی یہ فلم کسی نہ کسی طریقے سے پاکستانی ثقافتی دھارے میں نہ صرف زندہ ہے بلکہ ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے ۔جس کے کرداروں ،ان کے گرد بنے ہوئے سیاسی بیانیے اور علامتیت کو سیاسی چھلنی سے چھان کر پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ چلتے چلتے سرور بھٹی صاحب نے سلطان راہی سے اپنے اختلاف کی دلچسپ روداد بھی سنائی۔انہوں نے بتایا کہ فلم کے اختتامی منظر جس میں نوری نت اپنی ٹانگ کاٹ لیتا ہے پرسلطان راہی کو اعتراض تھا ان کا خیال تھا کہ ولن کی ٹانگ ہیرو کو کاٹنی چاہیئے نا کہ خود ولن کولیکن ہدایات کار یونس ملک اور ان کا خیال تھا کہ اگر ہیرو(مولا) نوری نت کی ٹانگ کاٹتا ہے تو فلم ایک روایتی فلم بن جائے گی ۔خاصی بحث کے بعد سلطان راہی مرحوم نے اس نکتے کو تسلیم کر لیا یوں پاکستانی کلٹ سینما(Cult Cinema) کے دو بڑے کردار مولا جٹ اور نوری نت وجود میں آئے ۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Aamir Raza

Aamir Raza

The author is a script writer and freelance journalist.


Related Articles

Birds of Sialkot

کوئٹہ کے ماما غلام رسول اور سیالکوٹ کے کامران سلیم کا دکھ ایک ہے مگر رونے کا انداز الگ ہے ۔

بلوچ، بلوچستان اور اردو زبان

عالمی اردو کانفرنس کا ساتواں کنونشن آرٹس کونسل کراچی میں اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے اور کئی ممالک سے کنونشن میں آئے اردو کے چاہنے والے کراچی سے واپس لوٹ چکے ہیں۔

جھروکوں سے جھانکتی کہانیاں

اندرون لاہور کی گلیوں میں راہ نوردی کرتے، لوگوں کے چہروں کے علاوہ قدیم حویلیوں اور مکانوں کے جھروکے اور کھڑکیاں کسی بھی عکاس کی نگاہ کو اپنی جانب ملتزم کرسکتے ہیں۔