مٹری کی کہانی

مٹری کی کہانی

mattri-ki-kahani-2

لوک کہانیاں کسی بھی تہذیب کی اپنی ثقافت، روزمرہ کے رہن سہن اور عام لوگوں کی خواہشوں، اندیشوں اور خیالوں کی ترجمان ہوتی ہیں۔ اب بھی بہت سے گھر کے بزرگ اپنے بچوں کو سونے سے پہلے اس طرح کی لوک کہانیاں سناتے ہیں اور کہانی نسل در نسل تعمیر ہوتی رہتی ہے۔ یہ کہانیاں بڑے ہونے کے بعد ناصرف ان بچوں کی اخلاقی زندگی پر اثرانداز ہوتی ہیں، بلکہ ان کی تخلیقی شخصیت کو بھی نکھارتی ہیں۔ ایرانی تہذیب بھی اپنے آپ میں شاعری، داستانوں اور قصوں کی تہذیب ہے۔ ایک ایرانی لوک کہانی "قصۂ نخودی" کا ترجمہ اسد فاطمی نے لالٹین کے اردو قارئین کے لیے کیا ہے۔

بہت پرانے وقتوں کی یہ بات ہے کہ ایک بہت شاداب سے گاؤں میں دو میاں بیوی رہتے تھے جن کا کوئی بچہ نہ تھا۔ وہ ہر وقت خدا سے یہی دعا کرتے رہتے کہ خدا انہیں اولاد دے۔
ایک دن کیا ہوا کہ وہ عورت شوربے کی پیالی ہاتھ میں لیے جا رہی تھی کہ پیالی میں سے مٹر کا ایک دانہ اچھلا اور تندور میں جا گرا۔ تندور میں گرتے ہی وہ مٹر کا دانہ ایک خوبصورت اور نٹ کھٹ سی بچی بن گیا۔
اسی اثنا میں اس کی ایک پڑوسن جو ہر وقت اس کا دماغ کھاتی رہتی تھی، اس نے دیوار سے سر اوپر کر کے کہا: "اری بہن! میری بیٹیاں جنگل میں پھل پھول چننے جانے لگی ہیں۔ اپنی بیٹی کو بھی ان کے ساتھ بھیج دو جنگل میں پھل پھول چننے"۔
اس عورت کا چونکہ کوئی بچہ نہ تھا، وہ سمجھی کہ وہ ہمسائی کا سر کھا رہی ہے۔ وہ اس بات پر بہت غمگین ہوئی اور ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے رونے لگی۔ مٹر نے رونے کی آواز سنی اور باتیں کرنے لگا، اس نے تندور کے اندر سے آواز سنی: "پیاری اماں! مجھے باہر نکالو اور ان لڑکیوں کے ساتھ جنگل بھیجو!"
عورت حیران اور پریشان سی ہو گئی اور سمجھی کہ وہ خواب دیکھ رہی ہے۔ اسی وقت اس کے کانوں پر آواز پڑی اور اسے اندازہ ہوا کہ آواز تندور سے ہی آ رہی ہے۔ وہ جلدی سے آگے بڑھی اور تندور کے اندر جھانکا اور ایک ننھی منی سی پیاری سی، بالکل ایک مٹر کے دانے جیسی چھوٹی سی بچی تندور میں پڑی ہے۔ وہ بہت خوش ہوئی اور اسے تندور سے باہر نکالا۔ اس نے اسے نہلایا دھلایا، اسے اچھے سے کپڑے پہنائے۔ اس کی بالوں میں مانگ کھینچی۔ اور اس کا نام رکھا مٹری۔ پھر اس نے پڑوسن کے بچوں کے ساتھ جنگل کی طرف بھیج دیا۔
مٹری پڑوسن کے بچوں کے ساتھ سورج ڈوبنے تک پھل پھول چنتی رہی۔ سورج پہاڑ کے پیچھے کہیں چھپ گیا اور سب بچوں نے کہا: "اب ہم گھر لوٹتے ہیں"۔
مٹری نے کہا: "ابھی بہت جلدی ہے۔ تھوڑی دیر اور چن لیں"۔
سب بچوں نے مٹری کی بات مان لی اور سبھی پھر سے جنگل میں پھل پھول چننے لگے۔ اندھیرے میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلنے لگی، اور سبھی بچے اپنا کام ختم کر کے اپنے گھروں کی طرف چل دیے۔ اچانک ایک دیو اندھیرے سے نکل کر باہر آ گیا۔
دیو نے کہا: "بچو بچو، چاند سے بچو! یہ راستہ کہاں اور تم کہاں! یہاں سے آگے جاؤ گے کہاں؟"
مٹری نے کہا: "ہم یہاں سے گھر کی طرف جا رہے ہیں"۔
دیو نے کہا: "چاروں طرف چھایا ہے اندھیرا۔۔ یہاں سے آگے ہے بھیڑیے کا ڈیرا۔۔ وہ آ نکلا بچے، تو کیا بنے گا تیرا!!۔۔ اگر تم مانو، ایک مشورہ ہے میرا۔۔"
بچوں نے پوچھا: "کہیے، ہم کیا کریں اب؟"
دیو نے کہا: " گھروں کو نکلنا صبح سویرے۔۔ آج کی رات رہو گھر میرے۔۔"
مٹری نے کہا: "ٹھیک ہے، ہمیں قبول ہے"۔
اور وہ سبھی دیو کے ساتھ اس کے گھر کی طرف چل پڑے۔ دیو نے انہیں سونے کے کپڑے پہنائے اور جونہی وہ سو گئے اس نے اپنے آپ سے کہا: "آہا! کیسا ان کو میں نے الو بنایا۔۔ بھیڑیے سے ڈرا کے گھر لے آیا۔۔ کچھ دن ان کو کھلاؤں گا، پلاؤں گا۔۔۔ ان کو خوب موٹا تازہ بناؤں گا۔۔ جب ٹھیک سے پل جائے گا ایک ایک بچہ۔۔ مزے سے ان کو چباؤں گا کچا۔۔"
تھوڑی دیر گزری تو دیو نے اونچے سے کہا: "کون کون سوتا ہے، کون کون جاگتا ہے؟"
مٹری نے جواب دیا: "میں جاگ رہی ہوں"۔
دیو نے پوچھا: "آدھی ہے رات ، سوتی ہے خدائی۔۔ پر تم کو نیند ابتک نہ آئی۔۔۔ کیوں بچے؟"
مٹری نے کہا: "مجھے اس طرح نیند نہیں آتی۔۔"
دیو نے کہا: "جھولا جھلاؤں کہ لوری سناؤں۔۔۔ بتاؤ بچی، تمہیں کیسے سلاؤں؟"
مٹری نے جواب دیا: "جب میں گھر میں ہوتی ہوں تو میری اماں سونے سے پہلے حلوا بناتی ہیں اور تلے ہوئے انڈے کے ساتھ مجھے کھلاتی ہیں۔
دیو گیا ، حلوہ اور تلا ہوا انڈہ بنا کر لایا اور لا کر مٹری کے آگے رکھ دیا۔ مٹری نے باقی سب لڑکیوں کو جگایا اور کہا: "اٹھو اور حلوہ اور تلا ہوا انڈہ کھاؤ"۔
سبھی لڑکیوں نے جی بھر کے حلوہ اور تلا ہوا انڈہ کھایا اور پھر جا کر سو گئیں۔
کچھ دیر گزری تو دیو نے اونچی آواز میں پوچھا: "کون کون سوتا ہے، کون کون جاگتا ہے؟"
مٹری نے جواب دیا: "سبھی سو رہے ہیں، صرف میں جاگ رہی ہوں"۔
دیو نے پوچھا: "تم کیوں جاگتی ہو؟"
مٹری نے کہا: "جب میں اپنے گھر میں ہوتی ہوں تو میری ماں ہمیشہ شام پڑنے کے بعد کوہ بلور کی طرف جاتی ہے اور چھلنی سے نُور نَدی کا پانی چھان کر لاتی ہے اور مجھے پلاتی ہے"۔
دیو ایک چھلنی ہاتھ میں لیے کوہ بلور اور نور ندی کی طرف چل دیا۔ وہ چلتا رہا، چلتا رہا، یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔مٹری اور باقی سبھی لڑکیاں نیند سے جاگیں اور انہوں نے دیو کے گھر سے جو چیز پسند آئی، اٹھا لی اور گھر کو چل دیں۔ وہ آدھے راستے تک پہنچی تھیں کہ مٹری کو یاد آیا کہ ایک بہت خوبصورت سونے کا چمچ دیو کے گھر پڑا رہ گیا ہے۔ وہ واپس پلٹ گئی کہ جا کر وہ چمچ اٹھا لے۔ جونہی وہ دیو کے گھر پہنچی، اس نے دیکھا کہ دیو گھر واپس آ گیا پہنچ آیا ہے۔ وہ اپنی جگہ لیٹ گئی اور سونے کا چمچ اٹھانے کے لیے رینگنے لگی۔ اس کوشش میں برتنوں کے ٹکرانے سے کھٹ کھٹ کی آواز پیدا ہوئی جو دیو نے سن لی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر مٹری کو پکڑ لیا۔ اس نے اسے پکڑ کر ایک بوری میں بند کر دیا اور بوری کے منہ کو باندھ دیا اور جنگل چلا گیا تاکہ مٹری کو پیٹنے کے لیے انار کی لکڑی سے ڈنڈا بنا لائے۔
مٹری نے جیسے تیسے، زور لگا کر بوری کی گرہ کھول لی اور باہر نکل آئی۔ اس نے دیو کے پالے ہوئے میمنے کو پکڑ کر بوری میں ڈال دیا اور گرہ دے کر ایک کونے میں چھپ کر کھڑی ہو گئی۔
دیو بغل میں چھڑی دبائے واپس آیا اور اس کے ساتھ زور زور سے اپنے میمنے کو پیٹنے لگا۔ میمنا مارے درد کے زور سے ممیاتا اور چلاتا، اور دیو اسے اور زور سے مارتا جاتا اور کہتا: "پہلے مجھے الو بناتی ہو!۔۔ پھر میرے گھر کی سبھی چیزیں اٹھا لے جاتی ہو۔۔۔ اب میمنے کی طرح ممیاتی ہو!"
جب میمنے نے ممیانا اور تڑپنا بند کر دیا تو دیو نے بوری کو کھولا۔ کیا دیکھتا ہے کہ اس کا لاڈلا میمنا اسی کے ہاتھوں مارا گیا ہے۔ وہ غصے سے پاگل ہو گیا اور دائیں بائیں سونگھنے لگا۔ گھر کے ہر کونے کھدرے سے ڈھونڈنے کے بعد آخر اس نے مٹری کو ڈھونڈ لیا اور اسے پکڑ کر اونچی آواز میں چلایا: "میں تیری تکا بوٹی نہیں بناؤں گا۔۔ میں تمہیں زندہ ہی کھاؤں گا۔۔۔اور تیری شرارتوں سے جان چھڑاؤں گا۔۔"
مٹری نے کہا: "اگر تو مجھے زندہ کھائے گا تو میں تیرے اندر جا کر تیرا پیٹ پھاڑ ڈالوں گی اور باہر نکل آؤں گی"۔
دیو ڈر گیا اور سوچا کہ یہ سچ مچ میری انتڑیاں توڑ ڈالے گی اور میرا پیٹ پھاڑ دے گی۔ اس نے پوچھا: "تجھے ایسے نہ کھاؤں۔۔ تو پھر کیسے کھاؤں؟"
مٹری نے کہا: "پہلے روٹیاں پکاؤ۔ پھر میرے کباب بھوننا اور مجھے روٹی کے ساتھ مزے لے لے کر کھانا۔ تمہیں پتہ ہی ہے کہ روٹی اور کباب کیسے مزے کا کھانا ہے"۔
یہ بات سنتے ہیں دیو کے منہ میں پانی بھر آیا اور جھاگ بن کر اس کی باچھوں سے نکلنے لگا۔ اس کا دل گرما گرم کباب اور تازہ روٹی کے لیےبے چین ہو گیا۔ وہ تیزی سے تندور کی طرف گیا اور اس میں آگ جلائی۔ جونہی وہ روٹی پٹخنے کو تندور میں جھکا، مٹری اس کی بغل سے پیچھے کود گئی۔ اس نے دیو کو ایک زور دار دھکا دیا جس سے وہ جلتے ہوئے تندور کے اندر جا گرا۔ مٹری سونے کا چمچ اٹھا کر واپس اپنے گھر اپنے ماں باپ کے پاس جا پہنچی اور ان کے ساتھ ہنسی خوشی رہنے لگی۔


Related Articles

ریفری‎

جنید الدین: وہ شیشوں کی نفسیات اور شکل کے معاملے میں اکثر پریشان رہا کہ اس کا چہرہ کیسا ہے کیا وہ اتنا ہی پیارہ ہے جتنا اس شیشہ میں نظر آتا تھا یا اتنا ہی بھدا جتنا کہ ساتھ والے شیشہ میں۔

یہ بغاوت بھری نظم سنتی کہاں ہے

کئی بار سوچا
قلم کو معطّل کروں
اور احساس معزول کر دوں
سُکوں سے جیوں
جس طرح سے سبھی جی رہے ہیں

The Outsider

تمام آدمیت متحد ہے اس ایک انسان کے خلاف جو ان میں سے نہیں ہے اور اس اتحاد کے سب روپ مقدس مکر ہیں جو کبھی مذہب تو کبھی علم اور کبھی اخلاق کے روپ دھار لیتے ہیں۔ یہ سب اسی ایک مکر کے روپ ہیں۔