مٹی کی بد ہضمی

مٹی کی بد ہضمی

فضا میں اڑتے
بسنتی رنگوں کی بہار
دیسی بدیسی شرابوں کے ذائقے
ضیافتوں کی رونقیں
سب نصیبوں کے چکر ھوتے ہیں۔
محبوبانہ وارفتگیاں
ادائیں۔
تھرکتے لمحوں کی تھاپ
بستر کی خوشکن شکنیں
تکیوں پہ خوابوں کی اچھل کود
خمار آنکھوں کے رتجگے
سب نصیب سے بندھے ہیں

کوٹھوں کی سیڑھیاں چڑھنے والے
کبھی
تھکی ماندی جوانی
کو کندھے پہ لے کر نہیں پھرتے
کچی جوانیاں
میلے کچیلے محلوں میں
پیوند لگی اوڑھنیوں میں
بھاگتے بھاگتے
شام کے سرھانے گرتی پڑتی دم توڑتی ہیں۔

امیرانہ ڈسٹ بن سے اٹھائی لپ اسٹک
فاقہ زدہ روپ کو سنوارنے سے انکار کرتی
نالیوں میں بہہ جاتی ھے۔
میکے گئی بیوی کے پلٹنے تک
میلی چادر سے کھیلنے کی خواہش رکھتے
افسر کو لتاڑتی غریب دوشیزہ
رات کے تیسرے پہر گاتی ھے

بد نصیبی کے جراثیم
کینسر سے مہلک ھوتے ہیں۔
ھم سے دور رھنے والے خوشحال رھتے ہیں
ھم سے بغلگیر ھونے والے
ان کے ہتھے چڑھ کے
ہمارے ساتھ ہڈیوں کا برادہ بنتے ہیں۔

ہمیں تو مٹی بھی
کھانے سے انکار کر دیتی ہے۔
کیونکہ اسے
بد ہضمی ہو جاتی ہے
بد نصیبی کھانے سے


Related Articles

مرے چراغ

علی اکبر ناطق: مرے چراغ بجھ گئے
میں تیرگی سے روشنی کی بھیک مانگتا رہا
ہوائیں ساز باز کر رہی تھیں جن دنوں سیاہ رات سے

تمنا آنکھ بھرتی ہے

عمران ازفر: وہ قصہ رات کی دیوار پر لکھا ہوا ہے
نہ آنکھوں میں سِمٹتا ہے
نہ سانسوں سے سُلجھتا ہے
کوئی گُل آبی ریشم ہے جو پہلو سے لپٹتا ہے

اگر مجھے

ابرار احمد: اگر مجھے دوڑنا ہی تھا
تو میں دوڑتا چلا جاتا
کسی بھی نا ہموار سڑک پر، آنکھیں بند کیے ہوے
میں کیوں ان دیکھے بھالے راستوں پر
ٹھوکریں کھاتا پھرا