مٹی کی بد ہضمی

مٹی کی بد ہضمی

فضا میں اڑتے
بسنتی رنگوں کی بہار
دیسی بدیسی شرابوں کے ذائقے
ضیافتوں کی رونقیں
سب نصیبوں کے چکر ھوتے ہیں۔
محبوبانہ وارفتگیاں
ادائیں۔
تھرکتے لمحوں کی تھاپ
بستر کی خوشکن شکنیں
تکیوں پہ خوابوں کی اچھل کود
خمار آنکھوں کے رتجگے
سب نصیب سے بندھے ہیں

کوٹھوں کی سیڑھیاں چڑھنے والے
کبھی
تھکی ماندی جوانی
کو کندھے پہ لے کر نہیں پھرتے
کچی جوانیاں
میلے کچیلے محلوں میں
پیوند لگی اوڑھنیوں میں
بھاگتے بھاگتے
شام کے سرھانے گرتی پڑتی دم توڑتی ہیں۔

امیرانہ ڈسٹ بن سے اٹھائی لپ اسٹک
فاقہ زدہ روپ کو سنوارنے سے انکار کرتی
نالیوں میں بہہ جاتی ھے۔
میکے گئی بیوی کے پلٹنے تک
میلی چادر سے کھیلنے کی خواہش رکھتے
افسر کو لتاڑتی غریب دوشیزہ
رات کے تیسرے پہر گاتی ھے

بد نصیبی کے جراثیم
کینسر سے مہلک ھوتے ہیں۔
ھم سے دور رھنے والے خوشحال رھتے ہیں
ھم سے بغلگیر ھونے والے
ان کے ہتھے چڑھ کے
ہمارے ساتھ ہڈیوں کا برادہ بنتے ہیں۔

ہمیں تو مٹی بھی
کھانے سے انکار کر دیتی ہے۔
کیونکہ اسے
بد ہضمی ہو جاتی ہے
بد نصیبی کھانے سے

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

انتظار کا الو

میں پرانا قیدی ہوں مجھ سے
دیواروں سے محبت نہیں ہوتی
ہوتی ہے تو پھر نفرت نہیں ہوتی
میں اپنے گوشت کے محاصرے میں بند
اپنے بدن کے ہراول دستوں کا سپاہی
میں اپنی ناف پر کمند ڈال کر
اس شہر کو گرانے آیا ہوں
تم سے جو ہوتا ہے
تم وہ کر لو

اجتماعی مباشرت

سید کاشف رضا: تاریخ سے اجتماعی مباشرت
ہم نے کھیل سمجھ کر شروع کی
پھر شور بڑھتا گیا

زندگی سے خارج لوگوں کا کوئی عالمی دن نہیں

سدرہ سحر عمران: ہم خدا سے بچھڑنے کے بعد
قبروں کی اجتماعی آبرو ریزی کرتے ہوئے
قتل کر دئیے جاتے ہیں