میرا فلسفہ ٔ حیات

میرا فلسفہ ٔ حیات
(البرٹ آئن سٹائن)
albert-einsteinیہ دنیا بھی کیا بوالعجب شے ہے۔ جہاں ہر کوئی ایک مختصر قیام کے لیے آتا ہے، کسی کو خبر نہیں ہے کہ کس لیے، لیکن کبھی کبھار یونہی ایک الوہی مقصد کی تلاش رہتی ہے۔
روزمرہ زندگی کے زاویہ سے ایک بات ہے جو ہمیں ٹھیک سے معلوم ہے، اور وہ یہ کہ آدمی دنیا میں اس لیے ہے کہ دوسروں کے لیے جیے۔اور خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جن پر ہماری اپنی خوشی، ہنسی اور خوش وقتی کا انحصار ہے اور ایسے ان گنت لوگ جو ہمارے ساتھ باہمی ہمدردیوں کے ایک بندھن میں جڑے ہوئے ہیں۔ میں دن میں کئی بار سوچتا ہوں کہ میری اپنی ظاہری اور باطنی زندگی کس قدر میرے ان ساتھیوں کی محنتوں کی مرہون ہے جو آج میرے ساتھ ہیں، یا گزر چکے ہیں۔اور یہ کہ میں نے ان سے جو کچھ پایا، وہ انہیں لوٹانے میں کس قدر دلجمعی سے اپنی توانائیاں صرف کر سکتا ہوں۔ یہ بات میرے ذہنی سکون کو اکثر تہ و بالا کیے رکھتی ہے کہ میں دوسرے انسانوں کی محنتوں سے مستعار لیے کتنے بھاری قرض اپنے سر چڑھا چکا ہوں۔
میں نہیں مانتا کہ ہمیں فلسفیانہ معنوں میں کبھی بھی کوئی آزادی مل سکتی ہے، کیونکہ ہم اپنے اعمال محض خارجی مجبوریوں کے تحت ہی نہیں، بلکہ داخلی ضرورتوں کے تحت بھی بجا لاتے ہیں۔ شوپنہائر نے کہا تھا؛ "انسان جو ارادہ کر لیتا ہے یقیناً وہ کر سکتا ہے، لیکن وہ یہ کبھی طے نہیں کر سکتا کہ اس نے ارادہ کیا کرنا ہے۔" اس قول نے جوانی میں مجھے بہت متاثر کیا تھا اور ہمیشہ زندگی کی تلخیوں میں مجھے اس سے دلاسا ملتا رہا۔ یہ خیال ایک دائمی تحمل کو نمو بخشتا ہے کیونکہ یہ ہمیں خود اور دوسروں کو بہت ذیادہ سنجیدہ نہیں لینے دیتا۔بلکہ اس سے ایک دلچسپ مزاح کا پہلو نکل آتا ہے۔
کسی کا عمومی انداز میں اپنی زندگی کے وجود اور غایت پر بے تکان سوچتے رہنا،میرے نزدیک ایک سراسر احمقانہ عادت ہے۔تاہم ہر کسی کے اپنی زندگی میں خواہشات اور فیصلوں کے لیے کچھ خاص معیارات ہوتے ہیں۔ جو معیارات میرے سامنے آشکار ہوئے ہیں، اور جنہوں نے مجھے زندگی کے حظ سے معمور کیا ہے، وہ ہیں؛ اچھائی، خوبصورتی اور صداقت۔ مجھے کبھی بھی خوشی اور راحت کے حصول کو اپنا ہدف بنالینا اچھا نہیں لگا؛ ان بنیادوں پر تشکیل دیا گیاکوئی بھی اخلاقی نظام صرف جانوروں کے گِلوں کے لیے موزوں ہو گا۔
فنون لطیفہ اور سائنسی تحقیق کی اس لگن کے جوکھم میں میرے ہم خیال لوگوں کی معاونت کو نکال دیا جائے تو میری زندگی بالکل خالی ہے۔ میں نے بچپن سے ہی انسانی عزائم پر عایدعامیانہ حدود کو حقارت کی نظر سے دیکھا ہے۔ملکیت، حتمی کامیابی، شہرت، عیش و عشرت۔۔ یہ سب ہمیشہ میرے ہاں مردود رہی ہیں۔میرا یہ ماننا ہے کہ سادہ اور منکسر انداز زندگی ہر ایک کے لیے بہترین ہے۔ جسم اور ذہن دونوں کے لیے بہترین۔
سماجی انصاف اور سماجی ذمہ داری میں مجھے ہمیشہ والہانہ دلچسپی رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں مرد و زن سے ذاتی تعلقات کی خواہش کچھ زیادہ نہیں رہی۔ میں ایک اکیلی زین والا گھوڑا ہوں، جو بالکل بھی دوہری تہری بگھی والی گروہی سرگرمی کے لیے نہیں بنا۔میں کبھی بھی ملک یا ریاست کو پورے دل سے نہیں اپنا سکا، یہاں تک کہ اپنے حلقۂ احباب اور اپنے خاندان کو بھی۔ ان بندھنوں کے ساتھ ایک لایعنی تنہائی ہمیشہ جڑی رہتی ہے اور یوں سال بہ سال میری خلوت پسندی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
ایسی تنہائی کبھی کبھار تلخ ہو جاتی ہیے لیکن مجھے دوسرے لوگوں کو سمجھنے اور ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے عمل سے الگ رہنے پر افسوس نہیں ہے۔ میں یقیناً اس سے بہت کچھ کھو بیٹھتا ہوں گا، لیکن مجھے دوسروں کی اقدار، آراؤں اور تعصبات سے آزادی کی شکل میں اس کی تلافی بھی ہو جاتی ہے۔ اور میں نے کبھی بھی ان بنتی بگڑتی بنیادوں کے عوض اپنے ذہنی سکون کو داؤ پر لگانے کا جوا نہیں کیا۔
میرے نزدیک مثالی سیاسی تصور جمہوریت ہے۔ہر فرد کا احترام تو لازم ہے لیکن پرستش بالکل نہیں۔ اگر مجھ پر ناروا بلاضرورت تعریف اور داد نچھاور کی جائے تو یہ قدرت کی ستم ظریفی ہو گی۔ یہ تحسین شاید لوگوں کی، ان نظریات کا ادراک کرنے کی ناآسودہ خواہش سے جَنم لیتی ہے جن میں میَں نے اپنی ناقص سوجھ بوجھ سے کچھ اضافہ کیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ کسی بھی واضح مقصد کے حصول کے لیے لازم ہے کہ غور و فکر انفرادی نظم و ضبط اور مکمل ذمہ داری درکار ہے۔ اندھے مقلدین کو راستہ دکھانے کی بجائے انہیں اپنے راہ نما منتخب کرنے دیا جائے۔ مجھے لگتا ہے کہ سماجی طبقات کو بانٹنے والے امتیازات بے بنیاد ہیں اور حتمی تجزیے میں ان کی بنیاد طاقت پر ہی ہوتی ہے۔ میں قائل ہوں کہ تشدد پر مبنی ہر مطلق العنانی نظام کا نتیجہ ہمیشہ تباہی ہی ہوتا ہے کیونکہ تشدد لا محالہ طور پر اخلاقی پستی کو دعوت دیتا ہے۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ جابروں کے جانشین بدمعاش ہی ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے میں ہمیشہ اس طرح کے نظام ہائے حکومت کے شدید خلاف رہا ہوں، جیسے کہ اس وقت روس، جرمنی اور اٹلی میں ہیں۔ یورپی جمہوری نظام کو جس امر نے بری طرح متاثر کیا ہے، وہ عمومی رائے کے برعکس بذات خود بنیادی نظریۂ جمہوریت نہیں ہے بلکہ اصل خرابی سیاسی قیادت کا عدم توازن اور سیاسی اتحاد کا غیر اصولی کردار ہے۔ ہماری زندگی کی گہماگہمی میں قدر و قیمت قوم کی نہیں بلکہ تخلیقی انفرادیت اور شخصیت کی ہے؛ وہ شخصیت جو فرد میں اعلیٰ اوصاف پیدا کرے جبکہ گروہ اپنے افکار میں ناقص اور بے حس ہوتا ہے۔اسی بات سے ہم گروہی ذہنیت کی بدترین پیداوار یعنی نفرت پر مبنی عسکریت کی طرف آتے ہیں۔ جو شخص جنگی موسیقی کی دھن پرناک کی سیدھ میں چلتے رہنے سے لطف اندوز ہوتا ہے، میرے لیے قابلِ نفرت ہے۔ اسے دماغ غلطی سے ودیعت کیا گیا ہے، اس کے لیے حرام مغز ہی کافی تھا۔ ایک حکم پر اس قدر بے جگری، بے حس تشدد پسندی اور اس قدر نامعقول حب وطنی؛ میں ان جذبات سے ازحد متنفر ہوں۔ جنگ ازحد احقر اور قابل نفرت ہے، میں ایسے کاموں میں حصہ لینے پر ترجیح دوں گا کہ میرا وجود ہی باقی نہ رہے۔میں انسانی فطرت کو اس حد تک تو سمجھتا ہوں کہ یہ برائی بہت پہلے ختم ہو چکی ہوتی اگر عوام کی عقل سلیم منظم مکاتب، کاروباری صحافت اور سیاسی وجوہ کے ہاتھوں باقاعدہ طور پر لاچار نہ کر دی گئی ہوتی۔
ہمارے لیے حسین ترین تجربہ تحیر کا جادو ہے۔ یہ تمام حقیقی فنون اور علم کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ جس شخص کے لیے یہ جذبہ اجنبی ہو، جو حیرت زدہ ہونے کے لیے توقف نہیں کر سکتا اور جو اس تحیر میں اتر نہیں سکتا، وہ زندگی سے عاری ہے، کہ اس کی آنکھیں بند ہیں۔ زندگی کے بھید کی یہ بصیرت خوف کے ساتھ مل کر مذہب کو پروان چڑھاتی ہے۔ناقابل رسائی حقیقت کا وجود، حد درجہ دانائی اور ارفع جمالیات کے ذریعے ممکن ہے۔ جو ہماری محدود استعداد میں ابھی تک اپنی خام شکلوں میں ہی ہے۔ اسی علم اور جذبے کا حصول ہی حقیقی مذہبیت کی بنیاد ہے۔ محض اس لحاظ سے میں مذہبی کہلا سکتا ہوں۔میں ایسے خدا کا تصور نہیں کر سکتا جو اپنی مخلوقات کو جزا اور سزا دیتا ہے۔ جس کی غایت ہمارے معیارات کی تابع ہے۔ اور وہ خدا جو کہ میں آسان لفظوں میں کہوں تو یہ کہ انسانی اخلاقی کمزوریوں کا عکس ہے۔نہ ہی میں اس امر پر یقین رکھتا ہوں کہ فرد اپنی جسمانی موت کے بعد زندہ رہتا ہے۔ اگرچہ کچھ کمزور روحیں خوف اور بے معنی انانیت کے باعث ایسی کج فکری کا شکار رہتی ہیں۔میرے لیے ابدیت تک جاری و ساری شعوری زندگی کے معمے پر غور و فکر کرنا اور کائنات کی حیران کن ہیئت کے بارے میں سوچنا ہی کافی ہے جس کا صرف موہوم ادراک ہی ممکن ہے۔اور میں فطرت میں موجود حکمت کے ایک معمولی سے حصے کو سمجھنے کی عاجزانہ کاوش پر ہی اکتفا کروں گا۔
(ترجمہ: زکی نقوی)

(Published in The Laaltain - Issue 7)


Related Articles

Healing in the Thick Plaster [i]

Translation of Mirza Athar Baig's story “Sakht Plaster me Indemaal” Tonight around six or seven o’ clock I have to

میرے والد کے قاتل کا جنازہ

تصاویر میں ممتاز قادری کی لاش لے جانے والی پھولوں کی پتیوں سے لدی ایمبولینس اور اس کے گرد لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھ کر میرے ذہن میں خیال آیا؛ کہ کیا یہ کسی سزایافتہ قاتل کا اب تک کا سب سے بڑا جنازہ تھا؟

Kalash: Beauty and Plight

Intoxicating is the place, In the shadows of Hindukush Where gods worship the human worth; And define dignity of their