میرا نازک موتی

میرا نازک موتی
میرا نازک موتی
ایک ہی موتی ملا ہے مجھے
مسلسل چمکانے کے لیے
میرا اپنا نازک سا موتی

کبھی آگ مانگتا ہے وہ
کبھی پانی
کبھی مٹی
کبھی ہوا
ماند پڑنے لگتا ہے
بہت تیزی سے
ذرا سی دیر میں
میرا نازک موتی

اسے چمکانے میں مصروف
میں کرتی ہوں
کبھی محبت کبھی نفرت
دوستوں سے
استادوں سے
اوزاروں سے
ہتھیاروں سے
سیاحوں سے
عبادت گاہوں سے

کبھی دور چلی جاتی ہوں
کبھی مل کر بیٹھتی ہوں سب کے ساتھ
موازنے کے لیے اپنے موتی کا
ان کے موتیوں کے ساتھ

کبھی لگتا ہے
غائب ہو رہا ہے نظروں سے
بھٹکتی پھرتی ہوں پھر
اس کی تلاش میں
مل جاتا ہے کبھی پڑا ہوا
درخت کے نیچے
یا دریا کے کنارے
کبھی کسی بچے کے پاس

جب مر رہے ہوتے ہیں لوگ
میرے چاروں طرف
اور مار رہے ہوتے ہیں لوگ
سامنے کھڑے رہنا اچھا ہے
یا چھپ جانا
میرے موتی کی چمک کے لیے
سمجھنا آسان نہیں ہے

سوچا تھا حیران کردوں گی سب کو
ایک دن اپنے موتی کی چمک سے
سناؤں گی اس کی کہانی
تفصیل سے
مگر نہیں سہار پاتا
نظروں کا بوجھ
میرا نازک موتی

لگتا ہے پسند کرے گا
میرے ساتھ ہی غائب ہوجانا
ہمیشہ کے لیے
میرا نازک موتی

Image: Pnina Osguthorpe

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

اٹلس گلوب رکھ دو

نوازش ملک: ٹنل سے باہر جہاں زندگی ہے اسے جیو
گہرا سانس لو
ہوا چلتی دیکھو
اٹلس گلوب رکھ دو

بارہ سال کی ماں

سعد منیر: دنیا میں دو لوگ ہیں
ہندسے
اور
نظمیں

اگر مجھے

ابرار احمد: اگر مجھے دوڑنا ہی تھا
تو میں دوڑتا چلا جاتا
کسی بھی نا ہموار سڑک پر، آنکھیں بند کیے ہوے
میں کیوں ان دیکھے بھالے راستوں پر
ٹھوکریں کھاتا پھرا