میرے والد کے قاتل کا جنازہ

میرے والد کے قاتل کا جنازہ

آتش تاثیر سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے صاحب زادے ہیں۔ اپنے والد سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کے جنازے سے متعلق ان کی یہ تحریر نیویارک ٹائمز اور ایکسپریس ٹریبون پر شائع ہوئی تھی جسے ترجمہ کر کے لالٹین قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

میرے والد 2008 میں پنجاب کے گورنر بنے اور 2011 میں اپنے قتل کیے جانے تک اسی عہدے پر رہے۔ اس زمانے میں وہ توہین مذہب کے پاکستانی قوانین کی زد میں آ جانے والی ایک (بے گناہ) عیسائی عورت کے دفاع کے لیے کوشاں تھے۔ پاکستان کی سنی اکثریت، ملک میں بسنے والی دیگر مذہبی اقلیتوں کو دہشت زدہ کرنے کے لیے توہین مذہب و رسالت کے قوانین کا استعمال کرتی ہے۔ میرے والد نے ان قوانین کے خلاف آواز بلند کی، اور ٹی وی میزبانوں اور مذہبی علماء کے فتووں نے ان کی جان خطرے میں ڈال دی۔ بہت سے لوگوں کی نگاہ میں اس طرح سے وہ خود بھی توہین رسالت کے مرتکب ہو چکے تھے۔ جنوری کی ایک سہ پہر ان کے محافظ ملک ممتاز حسین قادری نے انہیں اس وقت قتل کر دیا جب وہ دوپہر کا کھانا کھانے کو روانہ ہو رہے تھے۔

ممتاز قادری اس قتل کے بعد پورے ملک کا ہیرو بن گیا۔ اسلام آباد میں ایک مسجد بھی اس سے منسوب کر دی گئی۔ لوگ قیدخانے میں اس سے ملنے اور اس کی دعائیں لینے آتے تھے۔
ممتاز قادری اس قتل کے بعد پورے ملک کا ہیرو بن گیا۔ اسلام آباد میں ایک مسجد بھی اس سے منسوب کر دی گئی۔ لوگ قیدخانے میں اس سے ملنے اور اس کی دعائیں لینے آتے تھے۔ ممتاز قادری کو سزائے موت سنانے والے جج کو جان بچانے کے لیے ملک چھوڑ کر جانا پڑا۔ مجھے لگا کہ میرے والد کے قاتل کو کبھی انصاف کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

انصاف سے مایوسی کے اسی عالم میں گزشتہ چند ماہ کے دوران ریاست کا رویہ تبدیل ہوتا دکھائی دینے لگا۔ گزشتہ اکتوبر میں سپریم کورٹ نے ممتاز قادری کی سزائے موت برقرا رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس برس کے آغاز میں صدر پاکستان نے بھی ممتاز قادری کی رحم کی اپیل مسترد کر دی، قانونی حوالوں سے رحم کی یہ اپیل وہ پہلا موقع تھا جب ممتاز قادری نے غلطی کے ارتکاب کا اعتراف کیا۔ اور پھر گزشتہ ماہ کی آخری تاریخ (29 فروری) کو ممتاز قادری کی سزائے موت پر عملدرآمد کی خبر موصول ہوئی۔ سوال یہ ہے کہ اس خبر پر عام لوگوں کا ردعمل کیا ہو گا؟

میں نے لاہور میں رہائش پذیر اپنی بہن سے بات کی۔ ہم پہلی مرتبہ پرامید تھے کہ اسلامی دہشت گردی کا شکار پاکستان شاید اب بدلنے والا ہے۔ پانچ برس قبل ممتاز قادری نے جب ہمارے والد کو قتل کیا تھا، تب سے اب تک بہت کچھ ہو چکا ہے۔ اس دہشت گردی کے باعث ہر حملے کے بعد لگاتار مزید حملے ہوتے رہے ہیں۔ دسمبر 2014 میں دہشت گردوں نے پشاور میں ایک سکول پر حملہ کیا جس میں 132 بچے اتل کر دیے گئے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ پاکستان اس خونریزی اور انتہاپسندی سے تنگ آ چکا ہو؟ کیا لوگ بالآخر یہ تسلیم کرنے کو تیار تھے کہ آسمانی اور شرعی قوانین کے نام پر قتل و غارت گری کرنے والے خود ہی منصف اور خود ہی حاکم بن جایا کرتے ہیں؟ کیا عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کی غارت گری سے اسلام پسندوں کا جوش و جذبہ ماند پڑا ہے؟ میں پرامید تھا کہ شاید ایسا ہو چکا ہے۔

ممتاز قادری کا جنازہ بانی پاکستان محمد علی جناح اور 2007 میں قتل کی جانے والی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے جنازوں سمیت پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے جنازوں میں سے ایک ہے۔
لیکن جب بی بی سی کے ایک رپورٹر نے مجھ سے اس بارے میں سوال کیا تو میں نے ٹال مٹول سے کام لیا۔ میں نے کہا کہ یہ کہنا ابھی قبل ازوقت ہے، ہمیں حکومت پاکستان کے موقف میں آنے والی سختی کو لوگوں کی خواہشات کے ساتھ گڈمڈ نہیں کرنا چاہیئے۔ اگلے روز ممتاز قادری کا جنازہ ہے، جس سے رائے عامہ کا بہتر اندازہ ہو سکے گا۔

اور ایسا ہی ہوا۔

ملک ممتاز حسین قادری کو سفرآخرت پر روانہ کرنے کے لیے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کا ہجوم راولپنڈی کی گلیوں میں امڈ آیا۔ ممتاز قادری کا جنازہ بانی پاکستان محمد علی جناح اور 2007 میں قتل کی جانے والی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے جنازوں سمیت پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے جنازوں میں سے ایک ہے۔ لیکن یہ سرکاری سطح پر منعقد کرایا گیا جنازہ نہیں تھا بلکہ لوگ میڈیا کوریج پر پابندی کے باوجود خود بخود اتنی بڑی تعداد میں اکٹھے ہوئے تھے ۔

تصاویر میں ممتاز قادری کی لاش لے جانے والی پھولوں کی پتیوں سے لدی ایمبولینس اور اس کے گرد لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھ کر میرے ذہن میں خیال آیا؛ کہ کیا یہ کسی سزایافتہ قاتل کا اب تک کا سب سے بڑا جنازہ تھا؟ جنازے کے لیے اکٹھے ہونے والے لوگوں کا یہ ہجوم میرے والد سے نفرت کے اظہار کے لیے نکلا ہے یا ان کے قاتل سے محبت کی وجہ سے؟ یہ تمام لوگ ممتاز قادری سے متعلق اس سے زیادہ نہیں جانتے تھے کہ اس نے میرے والد کو قتل کیا ہے۔ میرے والد کا قتل کرنے سے پہلے ممتاز قادری ایک گمنام آدمی تھا، اور قتل کے بعد وہ جیل میں رہا۔ کیا تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب اس بڑے پیمانے پر سوگواران محبت کی بجائے نفرت کے اظہار کے لیے اکٹھے ہوئے تھے؟

تصاویر میں ممتاز قادری کی لاش لے جانے والی پھولوں کی پتیوں سے لدی ایمبولینس اور اس کے گرد لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھ کر میرے ذہن میں خیال آیا؛ کہ کیا یہ کسی سزایافتہ قاتل کا اب تک کا سب سے بڑا جنازہ تھا؟
میں یہ بھی سوچتا رہا کہ تب کیا ہو گا جب نفرت آمیز نظریات صرف سعودی سرپرستی کے حامل ملاوں کے خطبات تک محدود نہیں رہتے بلکہ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں؟ ایسی صورت حال میں آپ کیا کر سکتے ہیں جب مذہبی پاگل پن چند مساجد یا مدارس تک محدود نہ رہے بلکہ بیس کروڑ کی آبادی کی زندگیوں میں شامل ہو جائے؟

اسلام کی مروجہ تشریح جس نے میرے والد کی جان لی وہ قرون وسطیٰ کا اسلام نہیں جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ یہ روایتی اسلام بھی نہیں ہے۔ یہ بنیادی طور پر جدید اور موجودہ زمانے کا اسلام ہے کیوں کہ یہ اسلام کی ایک بالکل نئی شکل ہے۔ ایک ایسے جنازے کے مناظر دیکھتے ہوئے جس میں شریک لوگ مرنے والے سے محبت کی بجائے، اس شخص کی نفرت میں اکٹھے ہوئے تھے جسے مرنے والے نے قتل کیا تھا، میں اس نتیجے پر پہنچا کہ راولپنڈی میں اکٹھے ہونے والوں کا ہجوم ہمارے زمانے کے انتہا پسند اسلام کا ایک ادنیٰ مظاہرہ تھا۔ اس ہجوم کو توانائی ان نظریات کی مخالفت اور نفرت سے مل رہی تھی جس کے یہ اسلام خلاف ہے؛ یہ اسلام اُس جدیدیت اور مغربی لبرل ازم کے خلاف ہے جس کے حق میں میرے والد کھڑے ہوئے اور انہوں نے توہین مذہب و رسالت کے قوانین کی مخالفت کی۔ میرا اس نتیجے پر پہنچنا ممتاز قادری کے جنازے میں شریک ہونے والے ایک لاکھ لوگوں کو معاف کرنا نہیں ہے بلکہ یہ یاددہانی کرانا ہے کہ یہ لوگ ہمارے ہی ساتھ ہمارے ہی آس پاس موجود ہیں۔

Related Articles

شانتا راما باب 4: بنا اجازت کے اندر آنا منع ہے (ترجمہ: فروا شفقت)

دوسرے ہی دن میں پرائیویٹ ہائی سکول کے پرنسپل وبھوتے کے دفتر پہنچ گیا۔ انھوں نے پوچھا، ’’کیوں رے، اتنے

داعش ہے، داعش نہیں ہے

پاکستان بھی فرانس جیسی ہی غلطی دہرا رہا ہے اور امارت اسلامی کی موجوگی کے حوالے سے معلومات پر خاطر خواہ کارروائی نہیں کر رہا۔

دو معافیاں

یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ الطاف حسین کراچی اور حیدر آباد میں سیاسی اثرو رسوخ رکھتے ہیں اور ایم کیو ایم اب پاکستان کے باقی حصوں میں بھی اپنا ووٹ بنک قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔