میں اور میرا سگریٹ

میں اور میرا سگریٹ

انتباہ: تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔ اس تحریر کا مقصد کسی بھی طرح تمباکو نوشی کو فروغ دینا نہیں ہے بلکہ ایک انفرادی نقطہ نظر کا اظہار ہے۔

میں جب بھی سگریٹ کو ہاتھ لگاتا ہوں تو پلک جھپکتے ہی یہ سوال سلگ اٹھتا ہے کہ میں کیوں ایسا کر رہا ہوں؟ صرف دھواں چھوڑنے کی خاطر؟ اس کے مضر اثرات سے باخبر ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو بے خبررکھنے کی کوشش کیوں کرتا ہوں؟ مجھے اپنی زندگی کے حسین ترین دور یعنی جوانی کی فکرلاحق ہونی شروع ہو جاتی ہے کیونکہ بعض ناصحان کا ماننا ہے کہ سگریٹ جوانی کو تباہ کر دیتی ہے لیکن میں نہیں مانتا کیونکہ جوانی دیوانی ہوتی ہے اور کیا پتہ کل ہو نہ ہو، تو جو کرنا ہے آج ہی کرلو کل کا کیا بھروسہ۔ اسی خاطر ایک اور کش لے کر سوچتا ہوں کہ اس کا فائدہ کیا ہے ؟ کیا میں اپنے پیسے فضول خرچ کر رہا ہوں؟ 130 روپے کی ایک ڈبی زیادہ سے زیادہ ایک یا ڈیڑھ دن ہی چلتی ہے تو میں ان پیسوں سے کیوں نہ کوئی پھل خریدلوں تاکہ صحت کو نقصان کی بجائے فائدہ پہنچا سکوں۔ لیکن پھر میں سوچتا ہوں کہ پھل سے مجھے لگاؤ نہیں اور سگریٹ سے ہے تو کیوں نہ اپنا شوق پورا کروں۔

ہاں کچھ لوگ مجھے مضرِصحت بھی کہتے ہیں لیکن میں اس دوست سے بہتر ہوں جو دوست ہوتے ہوئے تمہیں نقصان پہنچاتا ہے۔
ایک دن میں نے سگریٹ سے پوچھا کہ تم میں کیا خصوصیت ہے کہ پاکستان کا ہر ستائیسواں شخص تمہیں اپنے ساتھ رکھنے پر مجبور ہے۔ سگریٹ پہلے میرے منہ تک آیا، ایک زبردست کش دے کر کہا کہ بھئی میں خود تو کسی کے جیب میں نہیں گھستا نہ مجھ میں یہ صلاحیت ہے کہ کسی کے ساتھ زبردستی کروں لیکن تم مجھے یہ بتاؤکہ تمہارا سب سے عزیز، پیارا اور مخلص دوست کون ہے جو ہر وقت تمہارے ساتھ رہتا ہے؟ میں سوچ میں پڑ گیا اور سوچ سوچ کے بھول ہی گیا کہ سگریٹ میرے جواب کا انتظارکر رہا ہے۔ اتنے میں سگریٹ ایک بار پھر میرے منہ تک آیا اور مجھے ایک اور کش دے کر خود ہی جواب دینا شروع کیا اور کہا کہ بھئی مجھے پتہ ہے تمہارا کوئی ایسا دوست نہیں جو ہر وقت تمہارے ساتھ رہے، تمہیں مصروف رکھے، تمہارا غم بانٹے، تمہاری خوشیوں میں شریک ہو، تمہارے ساتھ دن رات ایک ہی جگہ پر رہ کر باتیں کرے، تمہاری تنہائی کو ختم کرنے کی کوشش کرے اور وہ بھی بغیر کسی لالچ کے۔ آج کل مخلص دوست کہاں ملتے ہیں؟ اب تو دوست بھی بغیر کسی لالچ کے کسی کے ساتھ دوستی نہیں کرتے۔ میں تو بے جان ہوں اور پھر بھی دن رات تمہارے ساتھ رہتا ہوں۔ تم سوتے ہو تو تمہیں شب بخیر کہتا ہوں، تم اٹھتے ہو تو تمہارے لئے تم سے پہلے جاگ کر تمہیں صبح بخیر کہتا ہوں۔ جب زیادہ خفا ہوتے ہو تو تمہیں مصروف رکھتا ہوں۔ ہاں کچھ لوگ مجھے مضرِصحت بھی کہتے ہیں لیکن میں اس دوست سے بہتر ہوں جو دوست ہوتے ہوئے تمہیں نقصان پہنچاتا ہے۔ میں تو صاف کہتا ہوں کہ مجھ میں برائی زیادہ اور اچھائی کم ہے اگر مجھ سے دوستی کرنی ہے تو کرلو، نہیں کرنی تو نہ کرو، میں کسی کو دوستی پر مجبور نہیں کرتا، مگر جب دوست بنوں تو ساری زندگی دوست کا ہاتھ کبھی نہیں چھوڑتا۔ البتہ اگر دوست مجھے چھوڑنا چاہے تو میں ناراض بھی نہیں ہوتا بلکہ اس کے واپس آنے کا انتظارکرتا ہوں۔ اگر وہ واپس آئے تو نہایت گرمجوشی کے ساتھ اسے خوش آمدید کہتا ہوں اور اگر پوری زندگی پلٹ کر نہ دیکھے تو کوئی گلہ نہیں کرتا اور انتظار میں رہتا ہوں، میرا انتظار کبھی ختم نہیں ہوتا۔

میں سگریٹ سے مخاطب ہوا اور اس سے ہاتھ ملانے کی کوشش کی لیکن جب اسے دیکھا تو کش لے لے کر میں نے اس کی جان لے لی تھی اور وہ ہنسی خوشی ایش ٹرے میں پڑا میری طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا
میں غور سے اسے سنتا رہا اور آرام سے ساتھ ساتھ گہرے گہرے کش بھی ساتھ لیتا رہا۔ پھر سوچنے لگا کہ یار اس بے چارے کا کیا قصور ہے، یہ تو نہایت بے ضرر چیز ہے۔ کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کرتا، بے وفائی نہیں کرتا، نہ کسی کو گالی دیتا ہے نہ کسی کو مارتا ہے۔ نہ اس میں لالچ کا عنصر ہے اور نہ اس میں خودغرضی۔ کم از کم ہم انسانوں سے تو بہتر ہے جو بغیر کسی لالچ کے کسی کے ساتھ ہاتھ بھی نہیں ملاتے۔ جہاں تک ہوسکے اپنے عزیز واقارب اور دوست اور احباب کو نقصان پہنچانے کی پوری کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اپنی غرض و لالچ کی خاطر دوست یہاں تک کہ بھائی کی جان لینے سے بھی نہیں کتراتے۔

پھر میں سگریٹ سے مخاطب ہوا اور اس سے ہاتھ ملانے کی کوشش کی لیکن جب اسے دیکھا تو میں نے کش لے لے کر اس کی جان لے لی تھی اور وہ ہنسی خوشی ایش ٹرے میں پڑا میری طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا اوریہ کہہ کر مجھے مطمئن کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اگر ایک چلا گیا تو اپنے قریب دیکھو میرے اور ساتھی بھی تمہارا ساتھ دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیں ان میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں۔ میں دوسروں کی خاطر جان دے سکتا ہوں لیکن کسی کی تکلیف اور تنہائی برداشت نہیں کرسکتا۔ یہی کہہ کر اس نے مجھے خداحافظ کہا اور میں ساری رات یہی سگریٹ پھونک پھونک کر اور کھانس کھانس کر یہی سوچتا رہا کہ دنیا کے دوستوں سے یہ سگریٹ ہزار گنا بہتر ہے جو ہر وقت، ہر پل اور ہر موقع پر اپنے دوست کا ہاتھ کبھی نہیں چھوڑتا۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

بھٹو کی پھانسی اور ہمارا ادب

4 اپریل 1979 ہمارے سماج میں جہاں سیاست کے اندر ایک مستقل تلخی گھولے جانے کا عکاس ہے وہیں یہ دن ہمارے ادب کو نئی جہت ملنے کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ میں جب اس حوالے سے اپنی یادوں کو کھنگالتا ہوں تو مجھے یاد آتا ہے کہ ڈاکٹر فیروز صاحب نے ایک مضمون اس وقت کے معروف جریدے پاکستان فورم میں لکھا تھا اور اس کا عنوان تھا 'بھٹو فیلیا، لوگ بھٹو سے محبت کیوں کرتے ہیں'۔ یہ مضمون اگرچہ سیاسی غرض سے لکھا گیا تھا مگراس میں ادبی چاشنی موجود تھی۔

طلبہ سیا ست کے احیاء کی ضرورت

سیاست کا لفظ ہمارے ہاں عمومی طور پر ایک منفی تاثر رکھتا ہے۔ایسے میں طلبہ جن کو مستقبل کا معمار سمجھا جاتا ہے ،سیاست کا رخ کریں تو گویا خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو جاتی ہیں۔

بلدیات، بلدیاتی انتخابات اور چند خامیاں

ضابطہ اخلاق میں اس بات کا خیال نہیں رکھآ گیا کہ پولنگ اسٹیشن کے قرب و جوار میں ہونے والے جھگڑوں پر کون کارروائی کا حکم دے گا۔