میں اور میرے ایم۔ فل والے (قسط اول)

میں اور میرے ایم۔ فل والے (قسط اول)
میری ایم فل کی کلاس میں کل ستائس بچے ہیں اور میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس میں سے کم سے کم بیس لوگ ایسے ہیں جو اگر گزشتہ صدی میں اشرف صبوحی کے ہاتھ آ جاتے تو ان کے خاکوں کا ایک عدد مجموعہ اور تیار ہو جاتا۔ میں خود کو بھی ان بیس میں ہی شمار کرتا ہوں۔ حالاں کہ اس کی کوئی خاص وجہ نہیں، بس طبیعت کی بات ہے کہ سواد اعظم سے انحراف کو مکروہ جانتی ہے۔ مختلف النوع اور مختلف المزاج جماعت ہے جو اسی سانحہ کی مانند ایک جگہ آ کر جمع ہو گئی ہے جس طرح ہزاروں سال قبل کچھ ستارے آپس میں ٹکرا کر ایک انجم رنگ و نور پیدا کربیٹھے تھے۔ ہر شخص کا اپنا ایک تشخص ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کوئی ایسا نہیں جس کے وجود میں آنے کے لیے نرگس ہزاروں سال اپنی بے نوری پہ نہ روئی ہو،جبکہ واقعہ یہ ہے کہ ہمارے وجود میں آ جانے کے بعد وہی نرگس پر ملال اپنی بصارت چھوڑ بصیرت پہ آنسو بہارہی ہے۔ بہر کیف یہ جملہ معترضہ تھا، لیکن حقیقت یہ ہی ہے کہ جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے۔ مثلاً باری باری دیکھ لیجیے۔ سر فہرست کلاس کی رونق (رونق رضائی نہیں بلکہ رونق حقیقی)ایک صاحب ہیں جو شعر و شاعری کا ایسا ذوق لے کر پیدا ہوئے ہیں کہ بعض اوقات شعر سنانا شروع کرتے ہیں تو شاعری کی قسمت پر رشک آنے لگتا ہے، کیسا ستھرا ذوق ہے۔ ایک کے بعد ایک، بنا رکے، میر سے غالب،ولی سے سراج، درد سے سودا، مومن سے شیفتہ،حالی سے جوش اور فراق سے ناصر تک سب سنا دیتے ہیں۔ فیض اور فراز کا کیا ذکر کہ ان دونوں کی روحیں آں جناب کے وجود میں گھٹنوں گھٹنوں تک دھنسی ہوئی ہیں۔ میں ان کا بڑا معترف ہوں کہ رئیس اعظم ہیں اور اکثر میرے شعروں پر بھی خوب داد دیتے ہیں۔ خود بھی شاعر ہیں اور ایسے شاعر کہ شاعر مشرق بھی فن سخن وری میں ان کے سامنے زانو تلمذ طے کرے۔ ان کی سخن وری اور سخن گوئی کی یہ خاص بات ہے کہ شعر کہتے غالب کی طرح ہیں اور پڑھتے مفتی صدرالدین آزردہ کی مانند ہیں۔ اگر کسی صاحب کو یہ نہ معلوم ہو کہ مفتی صاحب کس طرح شعر پڑھا کرتے تھے تو وہ یا تو خلیل الرحمن اعظمی کے بڑے بھائی کی مفتی صاحب پر لکھی ہوئی کتاب پڑھ لے یا ہمارے دوست کو سن لے۔ حالاں کہ بیگ صاحب نے دلی کا آخری مشاعرہ میں مفتی صاحب کے شعر پڑھنے کا جو انداز رقم کیا ہے میں اس سے اختلاف نہیں کرتا پر کیا پتا کیوں مجھے جہلمی زیادہ معتبر معلوم ہوتے ہیں۔

وصف شاعری کے علاوہ بھی ان میں بہت سی باتیں ایسی پائی جاتی ہیں جس سے دنیا و ما فیہا کی رنگارنگی کی جھلکیاں مترشح ہوتی نظر آتی ہیں، مثلاً آںجناب کی چال کو ہی لے لیجیے۔ جس وقت حضرت مستانہ جوگی کی مانند مکمل اطمنان خاطر کے ساتھ دور سے آتے ہوئے دکھائی پڑتے ہیں تو مجھے حالی کی نظم مدوجزر اسلام یاد آجاتی ہے۔ چھوٹا ساقد اس پر بلا کی اچھال کود،کرتا پاجامہ زیب تن کیے ہوئے، بڑی بے پروائی سے اپنی منزل کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ میں جب جب ان کو اس عالم میں دیکھتا ہوں تو مجذوب شاعر محمد علی تشنہ کا وہ شعر ذرا سی ترمیم کے ساتھ میرے لبوں پر جاری ہو جاتا ہے کہ:

ہاتھ پڑتا ہے کہیں پاؤں کہیں پڑتا ہے
تم کو ہے سب کی خبر اپنی خبر کچھ بھی نہیں

دو ایک مرتبہ میں نے رئیس بھائی سے اس کا ذکر بھی کیا ہے کہ آپ کے چلن کا تو مجھے علم نہیں پر آپ کی چال اتنی اچھی ہے کہ میں اس پر ہزاردل و جان سے قربان ہونے کو بھی کم جانتا ہوں کہ بھلا ایسی شاعرانہ اور مستانہ گردش پا کہاں دیکھنے کو ملے گی کہ جس کو دیکھ کر بیک وقت دنیا کے کئی ایک عظیم فن پارے ذہن میں طواف کرنے لگیں۔ چال ڈھال کے علاوہ ان کی گفتار،کردار، خلوص، ناراضگی، جلال، حسن پرستی، محبت،شعلہ بیانی، قد کاٹھی، ہاتھ پاوں، چہرہ مہرہ، چشمہ،رومال،گھڑی سب کے سب اتنے معنی خیز ہیں کہ ناسا والے اگر ان سب کا برسوں مشاہدہ کریں تو بھی کسی آخری فیصلے پر نہیں پہنچ سکتے کہ اسے حیثیت کذائی کے کس خانے میں رکھا جائے گا۔ لہذا رئیس بھائی کی پوری شخص کا تعارف کسی طور ممکن نہیں اس لیے اتنے پر ہی اکتفا بہتر ہے۔

علامہ کے بعد فہرست میں جو نام سب سے اوپر ہے وہ ہماری کلاس میں پائی جانے والی ایک ایسی لڑکی کا ہے جس کو شائد اس بات کا علم بھی نہ ہو کہ میں یعنی میں،محترمہ کا ہم جماعت ہوں، یہ کچھ میری ہی ذات تک محدود نہیں، بلکہ مجھے یقین ہے کہ کلاس کا سب سے متحرک اور عزت دار شخص بھی اگر کلاس روم کے دروازے کے باہر کھڑے ہو کر ان سے پوچھ لے کہ کیا آپ مجھے جانتی ہیں تو یقیناً بلا توقف محترمہ انکار میں گردن ہلا دیں گی۔ ان کا یہ انداز بے پروایانہ انہیں کس طرح نصیب ہوا؟ یہ خود اپنے آپ میں بہت دلچسپ سوال ہے۔ حالاں کہ وہ ہمہ وقت بہت سمٹی اور سہمی ہوئی رہتی ہیں پر انہیں غالباً اس بات کا علم نہیں کہ مرکز نگاہ ہونے کے لیے پھیلنے سے سےزیادہ سکڑنا کام آتا ہے اورمیری مشاہداتی رگ تو کچھ اس نوع کی واقع ہوئی ہے کہ جو جتنا سکڑتا ہے میں اس کو اتنا ہی زیادہ غور سے دیکھتا ہوں۔ محترمہ کو شائد اس کا علم بھی نہ ہو کہ میں نے انہیں رجسٹریشن کے اس ہنگامی روز ہی دریافت کر لیا تھا جس دن سب کو اپنے کاغذات بنوانے اور جمع کروانے کی جلدی تھی، اور کیوں نہ کر لیتا کہ جہاں ہر شخص مجھ سمیت ایک قسم کی گھبراہٹ، جلد بازی اور حیرانی و پریشانی کے عالم میں گرفتار تھا، وہاں صرف ایک صورت ایسی نظر آ رہی تھی جس پر تسکین کا ایساجلوہ چھایا ہوا تھا کہ اس روز اگر اس لفظ کے راست معنی کسی کو سمجھانا ہوتے تو میں نور اللغات اور فرہنگ آصفیہ کا سہارا لینے کے بجائے، اس ہنگامی ماحوم میں بس انگلی سے ان صاحبہ کی جانب اشارہ کر دتا کہ دیکھیے تسکین اس کو کہتے ہیں۔ چھوٹا سا منہ، اس پر اسلامی شعائر کی پندہ سو سالہ تاریخ کا بوجھ،سیاہ برقع اور اس پر رنگین اسکارف جس کو دیکھ کر بالکل ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی عربی شیخ نے اپنی مراد بر آنے پر کعبے کے لیے دو رنگی غلاف بنوا کراے۔ کے۔ 47 کےزور پر اس پر چھڑوا دیا ہے۔ سب سے الگ تھلگ ایک کونے میں بیٹھی خدا معلوم کس عالم میں کھوئی ہوئی تھیں کہ یہ شور و غل اور چیخ پکار بھی اطمنان صوری و معنوی میں کسی طرح مخل نہیں ہوتا تھا۔ اس روز تو میں بھی ذرا جلدی میں تھا اس لیے بہت دیر تک ان کی اس کیفیت سے محظوظ نہ ہو سکا پر اگلی مرتبہ تقریبا تین مہینے بعد جب کلاس میں ان صاحبہ کی صورت دیکھی تو حیران رہ گیا کہ جیسا موسم گرما میں چھوڑا تھا ویسا ہی موسم سرما میں پایا۔ رائی برابر بھی کوئی کمی یا زیادتی نہیں آئی تھی،وہی چھوٹے چھوٹے خد و خال،وہی ابتدائے سخن سے اتنہائے سخن تک کی خاموشی، وہی سکون،اطمینان، بے پرائی اور وہی عالم بے نیازی۔ چونکہ مجھے ان کے اس انداز نے متاثر کیا تھا اس لیے دو ایک کلاسوں کے بعد میں نے محترمہ سے کچھ رسم و راہ پیدا کرنے کی کوشش کی کہ جانوں تو صحیح کہ آخر اس تسکین مسلسل کا راز کیا ہے۔ پر اس عمل میں میں بری طرح ناکام رہا،اور اسی روز ان کی ایک اور صفت مجھ پہ روشن ہوئی کہ محترمہ صرف پر سکون نظر ہی نہیں آتی ہیں، بلکہ واقعتا ساکن ہیں،کسی سے! مطلب کسی سے بھی، کسی طرح کی گفتگو یا بات چیت کرنا ان کے یہاں قطعا ممنو ع تھا،اور مجال ہے کہ کوئی انہیں اپنے اس فیصلے سے رائی برابر بھی ہلا دے۔ وہ خاموش ہیں اور صرف خاموش۔ شروعات میں تو مجھے یہ اپنا ہی وضع کردہ مفروضہ معلوم ہوا،لیکن دھیرے دھیرے جب میرے چند ایک ہم جماعت دوستوں نے بھی اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا تو میرا یقیں محکم ہونے لگا۔ آپ یقین جانیں کہ چھ مہینے میں میں نے اور میرے من جملہ احباب نے صرف چار مرتبہ انہیں کچھ کہتےسنا ہے۔ اس میں سے بھی تین مرتبہ تو محترمہ نے باعث مجبوری ہی اپنی زبان کھولی کہ ہماری کلاس میں سیمینار پیپر پڑھنے کی جو روایت ہے اس کو پورا کرنا ہر طالب علم پر فرض ہے،لہذا ہر سیمینار کے بعد سوال جواب کا بھی ایک سیشن ہوتا ہےتوآخری بار میں نے ان کے منہ سے صرف یہ جملہ سنا تھا کہ" کوئی سوال ہے؟" اتنا کہہ کے وہ اپنی جگہ سے چل دیں۔ ان کی بلا سے کوئی سوال پوچھتا ہے تو پوچھا کرے پر انہیں کسی بھی نوع کے جواب سے اپنی خاموشی زیادہ عزیز ہے۔ میں سوالات کاٹوکرا لیے یہ چلاتا ہی رہ گیا کہ اس سوال کا جواب دے دیجیے پر وہ ایک بار اپنی جگہ سے ہٹیں تو گفتار کے سارے سوتے سوکھتے ہی نظر آئے۔ میں اکثر ان کی خاموشی کو دیکھ کر خود سے کہتا ہوں کہ دیکھو یہ ہوتی ہے شخصیت،چپ ہے تو ایسی چپ کہ اس کی داد دیئے ہی بنے اور ایک تم ہو کہ دس منٹ بھی خاموش رہ لو تو تالو میں کھجلی ہونے لگتی ہے۔

اب آگے جن صاحب کا ذکر میں کرنے والا ہوں ان کے متعلق میں پہلے ہی یہ بتا دوں کہ میں ان سے واقعتاً بہت ڈرتا ہوں، اس لیے نہیں کہ وہ بہت لحیم شحیم اور لمبے چوڑے ہیں، بلکہ اس لیے کیوں کہ ان کے سامنے کچھ کہنے کے لیے اس وقت تک منہ نہیں کھولا جا سکتا جب تک کہنے والے کو آخری حد اپنی بات کے حدیث متواتر کی طرح مصدقہ ہونے پر یقین نہ ہو۔ غیر معتبر اور غیر معیاری باتوں پہ کان دھرنا ان کے مذہب میں قطعا حرام ہے۔ مجھ سے اگر کوئی پوچھے کہ آپ کی کلاس میں کتنے ادیب پائے جاتے ہیں تو میں بلا جھجک اپنے گزشتہ ادیبو ں،صوفیوں،حکیموں،عالموں اور سائنسدانوں کے اس جملے سے استفادہ کرتے ہوئے یہ کہہ دوں گا کہ ہماری جماعت میں کل ساڑے تین ادیب ہیں۔ دو شخصیات تو بہت ہی گہری اور پیچیدہ ہیں لہذا اس دو غزلہ کا ذکر اپنے مقام پر آگے کیا جائے گاپر آدھا میں خود کو تصور کرتا ہوں کہ ان ادیبوں کی ادبی صلاحیت کو شناخت کرنے کے لیے مجھ میں اتنی ادبیت کا پایا جانا تو اشد ضروری ہے۔ پر تیسرا نام سوائے شاہد ملک کے اور کسی کا نہیں ہو سکتا۔ شاہد بھائی کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ان کی موجود گی میں اگر کسی کا وجود مجھے کلاس میں سب سے زیادہ غیر ضروری معلوم ہوتا ہے تو وہ سامنے بیٹھے اس شخص کاہوتا ہے جو اس بات کا خیال کیے بنا کہ شاہد ملک اس کلاس روم میں موجود ہیں، اپنی پروفیسری کے حق کا استعمال کرتا رہتا ہے۔ کیا ان اساتذہ کو اتنا بھی علم نہیں کہ شاہد ملک کے سامنے کس طرح سے پیش آنا ہے؟ کیا بات کہنی ہے اور کیا نہیں کہنی۔ اس پر میں صرف کف افسوس ہی مل سکتا ہوں کہ شاہد کی ذات کا ادراک ہر کسی کو نہیں ہو سکتا۔ شاہد بھائی کی ادبی فراست کیا ہے ؟اگر یہ بات کسی کو معلوم کرنی ہے تو وہ ایم فل کے ان دو برسوں کے درمیان جے این یو چلا جائے اور ان سے ملاقات کر کے کسی بھی نوع کا ادبی سوال ان سے پوچھ لے۔ اس کو خود ان کی فہم و فراست کا علم ہو جائے گا۔ کسی بھی غیر ضروری سوال کا وہ جواب نہیں دیں گے، اس لیے نہیں کہ انہیں سامنے والے سے کوئی چڑ ہے،بلکہ اس لیے کہ اس سوال کا جواب دینے سے ان کی شخصیت مجروح ہوگی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ میں شدت سے یہ چاہتا ہوں کہ مجھے اور شاہد ملک کو مرنے کے بعد ایک ہی قبر میں دفن کیا جائے تاکہ جب منکر نکیر من ربك؟ من دينك؟ اور من نبيّك؟ پوچھتے ہوئے قبر میں داخل ہوں تو شاہد بھائی انہیں ڈانٹ کر بھگا دیں کہ یہ کیا حماقت آمیز سوالات پوچھتے چلے آرئے ہو،دفع ہو جاو اور اب کی آنا تو کوئی ڈھنگ کا سوال نامہ تیار کر کے لانا، ورنہ اس طرف پٹھکنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ شاہد بھائی دیکھنے میں لکھنو اور بولنے میں بنارس ہیں۔ آہستگی سے بولتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فہمیدہ ریاض کو مردانہ قالب عطا کردیا گیا ہے اور زور سے بولتے ہیں شہاب نامہ کی جلالی آئتیں یاد آ جاتی ہیں۔ اکثر اوقات ان کا انداز درمیانہ ہوتا ہے جس میں ان دونوں حالتوں کا امتراج پایا جاتا ہے،لہذاایسی صورت میں شاہد بھائی شمیم حنفی کی جوانی معلوم ہوتے ہیں۔ خوبصورت کرتا اور چوڑی موری کا پاجامہ ان پر بہت کھلتا ہے، حالاں کہ بعض مستند ذرائع سے مجھے اس بات کا بھی علم ہوا ہے کہ علامہ پینٹ شیرٹ بھی پہنتے ہیں، پر میں نے کبھی انہیں اس طرح کے لباس میں نہیں دیکھا۔ ان کا چشمہ ان کی ذات کا استعارہ ہے۔ جب جب وہ اپنا چشمہ اتار دیتے ہیں تو ان کی شخصیت میں ایسا تضاد پیدا ہو جاتا ہے جیسا گوپی چند نارنگ کی تقریر اور فاروق ارگلی کی تحریر میں پایا جاتا ہے۔ حالاں کہ میں ان کے متعلق کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا پر حد ادب بھی کوئی چیز ہے کہ ایک ادیب حقیقی کے تعلق سے تو اس کا پاس رکھنا ہی چاہیئے۔

اس کے بعد اس فہرست میں لیاقت کا نام آتا ہے۔ لیاقت کے بارے میں یہ بات سب سے زیادہ درست ہے کہ وہ ایک سچا مسلمان ہےاور صرف مسلمان نہیں بلکہ کشمیری، سنی، بریلوی مسلمان ہے۔ یعنی کریلا وہ بھی نیم چڑھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ خواہ اس کا تین وقت کا کھانا چھٹ جائے، پرپانچ وقت کی نماز نہیں چھٹتی، کشمیری سنی اور پوری دنیا میں پائے جانے والے ہر رنگ ونسل کے دیوبندی۔ یہ ہی وہ دو جماعتیں ہیں جن کے لئے علامہ اقبال نے یہ شعر کہے تھے کہ:

جاکے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریب
زحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریب
نام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریب
پردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریب
امرا نشہ دولت میں ہیں غافل ہم سے
زندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سے

یہاں لفظ غریب سے دونوں معنی مراد لیے جا سکتے ہیں اور ملت بیضا علامہ نے دیوبندیوں کم کشمیریوں کے لیے زیادہ استعمال کیا ہے جس کی ایک معقول وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ علامہ کا خاندان کشمیر سے ہی ہجرت کر کے پنجاب پہنچا تھا۔ لیاقت میں تین باتیں بیک وقت ایسی پائی جاتی ہیں جن کا امتزاج بہت عجیب و غریب ہے،عجیب و غریب ان معنی میں کہ میں کبھی یہ سمجھ ہی نہیں پایا کہ حضرت کے ان اطوار کو کس طرح میں ایک ہی شخصیت کا حصہ سمجھوں۔ نمبر ایک وہ عاشق مزاج ہیں، نمبر دو وہ مقابلہ جاتی امتحانات کی حد تک سنجیدہ طالب علم ہیں،اور نمبر تین وہ بلا کے مذہبی ہیں۔ یہ تنیوں باتیں ایسی ہیں جن کو ملا کر لیا قت بنا ہے۔ مذہب اور عشق ان دونوں کے تال میل کو میں اس تناظر میں تو ایک خانے میں رکھ سکتا تھا جبکہ لیاقت پیلا چوغا اوڑھ کر دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہوجاتے اور کم سے کم درجے میں وارثی سلسلے کے صوفی نما لوگوں کی طرح در در بھٹکتے پھرتے۔ مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے،علامہ نے عشق کے سلسلے میں ولی دکنی کے اس شعر پر عمل کرنا زیادہ بہتر جانا ہے کہ :

شغل بہتر ہے عشق بازی کا
کیا حقیقی و کیا مجازی کا

اور ان کا زور عملی زندگی میں حقیقی سے زیادہ مجازی پر ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ ابھی تک حضرت کسی ایسے معاملے میں رنگے ہاتھوں نہیں پکڑے گئے پر گمان غالب ہے کہ جلد ہی ایسی کوئی رپورٹ جے این یو کے گلیاروں میں اڑتی نظر آ جائے گی۔ تب ولی کی اسی غزل کا دوسرا شعر بھی ان کی ذات پر صادق آجائے گا کہ :

ہر زباں پر ہے مثل شانہ مدام
ذکر تجھ زلف کی درازی کا

میں نے لیاقت میں آخری حد تک ایک مخلص انسان کی جھلک دیکھی ہے۔ پر مجھے اس کی دو باتوں پر ہمیشہ غصہ آ جاتا ہے۔ ایک جب وہ اردو بولتا ہے اور دوسرا جب وہ کشمیری میں بات کرتا ہے۔ اس غصے کی وجہ بھی صرف یہ ہے کہ جب لیاقت صاحب اردو بولتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کشمیری بول رہے ہیں اور کشمیری بولتے ہیں تو معلوم ہی نہیں ہوپاتا کہ کیا بول رہے ہیں۔ ان دونوں حالتوں میں میں بس ان کا منہ تکا کرتا ہوں جس کے جواب میں وہ بات کرتے کرتے اپنے مخصوص انداز میں زور سے ہنس دیتے ہیں اور ہماری ناقابل ترسیل گفتگو کا سلسلہ اس ہنسی پر ہی منقطع ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Taleef Haider

Taleef Haider

Taleef Haider is a student of M. Phil. Urdu at Jawahar Lal Nehru University. He is a poet and has written many critical essays for various literary magazines.


Related Articles

پاکستانی مصنوعات کا جائزہ اور فوائد

سوال: پاکستان کی مصنوعات کا جایزہ لیں اور فوائد بھی لکھیں
جواب :پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ امیر ملک ہے۔ اس کی مصنوعات کا مقابلہ دنیا کا کوئی ملک نہیں کر سکتا ۔

!! مولانا کے نام ایک پریم پَتر۔۔

شہادت کی بات ہو تو ہمارے 'ملاوں' نے 'دلیل و منطق اور فہم و فراست 'کی آخری حدووں کو کامیابی

KOGON PLAN; An Appraisal

The author acknowledges the influence of Ibn-e-Safi as the source of his inspiration, but Kogon Plan transcends the scope of Ibn-e-Safi’s novels in almost all aspects of artistry.