میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں

میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں
میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں، بلکہ میں آج ان سب کے ساتھ کھڑاہوں جنہیں چیک پوسٹوں پر اپنے محب وطن ہونے کا ثبوت دینے کے لیے گھنٹوں کھڑے ہونے پڑا۔ میں ہر اس سینے کے سامنے ڈھال بننا چاہتا ہوں جو سرکاری بندوق کے سامنے صرف اس لیے ہے کہ اس نے بتایا تھا کہ اس کا نوالہ اس سے چھین لیا گیاہے۔مجھے ہر وہ بستی وہ قریہ وہ شہر عزیز ہے جہاں فوجی جیپوں کے نشانوں تلے زندگی روند دی گئی اور جہاں اجتماعی قبروں میں آزادی کے متوالے مورچہ سنبھالے بیٹھے ہیں۔ میں ہر اس گولی کی آواز سن رہا ہوں جو کسی بدن کو چھید کر اس سے اس کی سیاسی شناخت کا حق چھین لیتی ہے۔ میں بھی بے وطن ہوں ان کی طرح جو پناہ گزین ہیں اور جنہیں بتایا گیا ہے کہ وہ ابھی اپنے گھروں کو نہیں لوٹ سکتے۔ مجھے بھی تمہاری ہی طرح پیدا ہوتے ہی غدار قرار دیا گیا تھا۔ میری روح کا محاصر جاری ہے اور میرے سینے پر بھی فوجی دستے گشت کر رہے ہیں۔
میرے ہاتھوں میں وہی پرچم ہے جسے لہرانا غداری ہے، میرے ہونٹوں پر بھی وہی گیت ہے جسے گنگنانے سے قومی ترانے میں خلل آنے کا امکان ہو، میرے پاس وہ سب کتابچے بھی ہیں جنہیں ضبط کرنا سرکاری حکم ہے۔
مجھے بھی اپنے موسموں، اپنے جھرنوں، اپنی دھوپ، اپنے بادل اور اپنی بارش کو اپنا کہنے سے روک دیا گیا ہے۔ ہمیں بھی اپنے کھیتوں یا دریاوں یا درختوں یا پہاڑوں یا جنگلوں یا گلیوں، بازاروں اور چوراہوں کی تعریف سے منع کر دیا گیا ہے۔ ہمارے حلیے بھی تمہارے حلیے کی طرح مشکوک ہیں اور ہمارے چہرے بھی تمہارے چہروں کی طرح مشکوک ہیں۔ ہمارے قہقہے بھی ریاست کے خلاف سازش اور ہمارے آنسو بھی غداری کے مترادف ہیں۔ مجھ پر بھی تمہاری ہی طرح اپنی مرضی سے سانس لینے کا مقدمہ قائم ہے۔
میرے ہاتھوں میں وہی پرچم ہے جسے لہرانا غداری ہے، میرے ہونٹوں پر بھی وہی گیت ہے جسے گنگنانے سے قومی ترانے میں خلل آنے کا امکان ہو، میرے پاس وہ سب کتابچے بھی ہیں جنہیں ضبط کرنا سرکاری حکم ہے۔ میرے پیروں میں وہ بیڑیاں ہیں جو فرار ہونے کی خواہشوں کو قید کرنے کو ڈالی گئی ہوں۔ میرے ہاتھوں میں وہ ہتھکڑیاں بھی ہیں جو غاصب کا گریبان پکڑنے کے ارادے کو مسدود کرتی ہیں۔ میرے جسم پر سگریٹوں کے داغ بھی ہیں اور میرا چہرہ میری موت سے پہلے ہی مسخ کر دیا گیا ہے تاکہ مجھے پہچانا نہ جا سکے۔ میرے سامنے وہ پہاڑیاں بھی ہیں جو مجھے سرکاری دستوں سے محفوظ رکھتی ہیں اور وہ جنگل بھی جہاں فوجی بوٹوں کے لیے راستہ نہیں ہے۔
میں نے وہ پیاس اپنے گلے میں اترتی اکثر محسوس کی ہے جو تمہارے لہجے کو سنگلاخ کرتی ہے، وہ بھوک میری پسلیوں سے چپکی ہوئی ہے جو تمہیں انکار کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ میں نے خواب میں کئی بار ڈر کر چلانے کی کوشش کی ہے جب تمہارے منہ پر ہاتھ رکھ کر تمہیں چلانے سے منع کیا گیا۔ میں نے بارہا خود کو گمشدہ دیکھا ہے ، مجھے سرکاری فہرست میں اکثر اپنے بیٹے، بھائی اور شوہر کا نام نہیں ملااور میرے باپ کو بھی کئی بار سادہ کپڑوں والے اٹھا لے گئے ہیں۔ میرے خون میں تمہاراغصہ کئی بار کھولا ہےاور میں نے بہت بار نگران آنکھوں کو اپنے جسم پر منڈلاتے محسوس کیا ہے۔تمہاری ماوں کے ہاں پیدا ہونے والے بہت سے ان چاہے بچے میں نےجنے ہیں۔
کیا فرق پڑتا ہے کہ سرکار پاکستان کی ہو یا بھار ت کی ؟ کیا فرق پڑتا ہے کہ فوجی بندوقوں کی گولیوں سے چھلنی ہونے والے بلوچ ہیں یا کشمیری؟ کون جانتا ہے کہ تربیت کون اور کہاں دے رہا ہےیااپنا حق مانگنے والا فلا ں بنگالی، فلاں بلوچ یا فلاں کشمیری ہے؟
میں بھی اسی قید خانے کے اندھیرے میں ہوں جہاں تمہاری نظموں کو پھانسی دی گئی۔ میرے لفظ بھی سرکار نے اپنے ناخنوں سے کھرچے ہیں۔مجھے بارہااپنے نظریات کی تلاشی دینی پڑی ہے، میری وابستگیوں کو تفتیش کے لیے بلایا گیا ہے اور میرے ذہن پر رات کے اندھیرے میں چھاپے مارے گئے ہیں۔ میرے ڈالے ہوئے ووٹ پر خون کی مہر لگی ہوئی ہے اور وہ گنتی میں نہیں آئے۔ میری مٹی کا بدن چیر کر اسے اسی طرح لوٹا گیا ہے جیسے تمہاری کانوں، کھیتوں اور دکانوں کو لوٹا گیا ہے۔ میری ہڑتال، جلسے اور جلوس اخباروں سے اسی طرح غائب ہیں جیسے تمہارے مقتولین کی گنتی سرکاری اعدادوشمار میں نہیں آئی۔ میرے گم شدگان بھی اتنے ہی لاپتہ ہیں جتنے تمہارے اٹھائے جانے والے بے نام و نشاں ہیں۔
کیا فرق پڑتا ہے کہ سرکار پاکستان کی ہو یا بھار ت کی ؟ کیا فرق پڑتا ہے کہ فوجی بندوقوں کی گولیوں سے چھلنی ہونے والے بلوچ ہیں یا کشمیری؟ کون جانتا ہے کہ تربیت کون اور کہاں دے رہا ہےیااپنا حق مانگنے والا فلا ں بنگالی، فلاں بلوچ یا فلاں کشمیری ہے؟ مجھے مارنے والوں اور تمہیں مارنے والوں کی وردیوں کا رنگ کچھ بھی ہو، زبان کچھ بھی ہو، عہدہ کچھ بھی ہو، طریقہ کار کچھ بھی ہو میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں۔ تمہارا نام، ولدیت، پتہ، قومیت اور شناخت کچھ بھی ہو میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں۔
Muhammad Shoaib

Muhammad Shoaib

Muhammad Shoaib is the editor of news section and is responsible to communicate with the correspondents' network of Laaltain.


Related Articles

دہشت گردی کے خلاف جنگ نظریاتی ہے۔

طالبان سے مذاکرات کا سلسلہ جسے چند مذہبی جماعتوں اور تحریک انصاف کے سوا کسی پاکستانی کی حمایت حاصل نہیں تھی عملاً اس وقت مکمل طور پر رک گیا جب طالبان کی طرف سے 2010 میں اغواء کیے گیے 23ایف سی اہلکاروں کو طالبان نے دردناک طریقے سے شہید کر دیا۔

یہ کہنا غلط ہے کہ پنجابی طالبان، پاکستان فرینڈلی طالبان ہو گئے ہیں

پنجابی طالبان بنیادی طور پر پاکستان کی فرقہ وارانہ جماعتوں کا مجموعہ ہے جس میں لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ، جیش محمد، حرکت الانصار جو پہلے حرکت المجاہدین کہلاتی تھی اور آجکل انصارالامہ کہلاتی ہے، جیسے گروہ شامل ہیں۔

فائدہ کس میں ہے؟

نظریاتی سیاست ہمارے ملک میں ناپید ہوچکی ہے، کسی زمانے میں جب کسی سیاسی جماعت کے بارے میں بات کی جاتی تھی تو ساتھ ہی یہ بھی ذکر ہوجاتا تھاکہ فلاں جماعت دائیں بازو کی ہے اور فلاں جماعت بائیں بازو کی ہے(عام طور دائیں بازو سے مراد قدامت پرست اور بائیں بازو سے مراد ترقی پسند لیا جاتا ہے)، مثلاً جماعت اسلامی، پاکستان تحریک انصاف ، پاکستان مسلم لیگ اور جمعیت علمائے اسلام دائیں بازو کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی بائیں بازو کی جماعتیں کہلاتی ہیں، ان جماعتوں کے کارکنوں یا اُن کے حامیوں کے بارے میں کہا جاتا ہےکہ اُن کے خیالات یا اُن کی سوچ دائیں بازو یا بائیں بازوکی ہے (ان لوگوں کو رائٹسٹ اور لیفٹسٹ کہہ کر بھی پکارا جاتا ہے)۔