میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں

میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں
میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں
میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں
لیکن دنیا!
جب تو کووّں کی آواز میں گاتی ہے
چڑیوں کی چہکار کا رنگ
ترے کپڑوں پر مدہم پڑ جاتا ہے
تیرے چہرے کی جھریوں میں
مَیں کرنیں گوندھنے آتا ہوں
تو دھوکے سے جلتا سورج میری جیب میں رکھ دیتی ہے
مخمور ہوا کی دھیمی آہٹ میں جب شام ٹہلتی ہے
میں تیرے ساتھ لپٹ کر
تیرے جُوڑے میں مہکے مہکے پھول سجانا چاہتا ہوں
لیکن تو چہرے پہ غلاظت مل لیتی ہے
تو اپنی عیّار ہنسی سے
شفاف دلوں کی ننھی خوشیاں ڈس لیتی ہے

 

چم چم کرتی بھری بھرائی دنیا!
تیری سنگت بڑی ہی ظالم دشمن ہے
میں تجھ کو گلے لگا لوں لیکن
تیری قبا میں پوشیدہ ہے
سب چوری کا مال
تیری جھلمل سطح کے نیچے
پھیلا ہے مایا کا جال

 

اگر ترے سینے کی گولائیاں
گوتم کےَ سر جیسی ہوں
میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں

Zahid Imroz

Zahid Imroz

Zahid Imroz is a poet, writer and physicist. He has published two books of poems. He teaches physics and also works on global peace and security.


Related Articles

عمر کے رقص میں

نصیر احمد ناصر: لاجوردی خلا
ہے ازل تا ابد
جست بھر فاصلہ
روشنی! روشنی!!

کچرے کی حکومت

زاہد امروز: جب اس ہنگامے کا شور
ہماری نیند آلودہ کرتا ہے
ہم کروٹ کروٹ کڑھتے ہیں

من و تو

ثروت زہرا: تمھارے گھیروں میں آجانے کے بعد
مجھے ایسا کیوں لگتا ہے
جیسے پوری کائنات
مجھ میں سما رہی ہو