میں خود کو پکارنا چاہتا ہوں

میں خود کو پکارنا چاہتا ہوں
میں خود کو پکارنا چاہتا ہوں
میں نہیں جاننا چاہتا
کہ مجھے کس نے گلی کے کونے میں دیکھا تھا؟
جب ایک آنکھ میرا جسم چھوڑ کر
کسی پچھلی صف میں گر گئی تھی
اور دوسری سے میں دیکھتا رہا بے پناہ سفید چہروں کو
جن کی سرخی اخبارو ں نے جذب کر لی
میں ایک سطر سے زیادہ نہیں جی سکا

 

موت ۔۔۔ایک ایسی کتیا
جو مجھے دیواروں میں قید نہیں دیکھ سکی
میں زندگی پر بھونکتے بھونکتے باؤلا ہو گیا
لیکن میری زنجیر ٹوٹنے میں نہیں آئی
میرا باپ ۔۔۔۔
کس قبر پہ پھول چڑھا کرزور زور سے ہنستا ہے
میں نہیں جا نتا !!
خدا کی قسم !
میں نہیں جانتا
میری ماں دروازے سے اپنا دو پٹہ باندھ کر
کس پر چیختی ہے ۔۔۔باہر مت جاؤ
وہ تمہاری خوشبو سونگھ لیں گے!!

Image: Bryan Charnley

Sidra Sahar Imran

Sidra Sahar Imran

Sidra Sehar Imran holds a Masters degree in Urdu. She is one of the prominent names of Contemporary Urdu prose poetry circle.


Related Articles

چلو کوئی بات نہیں

میں سکوت کے آخری چند لفظ کی استعارہ آواز میں
ٹوٹ گئی ہچکی کا بدن ہوں
میں خدا کی سوچ کا وزن ہوں
یہ دنیا، یہ طوفانِ نوح میں گھری ہوئی مٹی
اور اس مٹی میں ایک اکیلا تنکا
سینہ پھاڑ کر کہتا ہے
میرے اعصاب ہیں ایک ایک ذرے کے جذبات
میں ستاروں کے حلق میں اٹھتی جلن ہوں

ایک یاد رہ جانے والا خواب

حفیظ تبسم: ہم ہررات خوابوں میں
زیادہ تیزی سے
کشتی بنانا شروع کردیتے ہیں
جو دور کہیں ہرروز پانی کے اوپر تیرتی ہے
غائب ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔

"کوئی تو آبلہ پا دشت جنوں سے گزرا"

ہمارے حصے میں آئی ہوئی خالی قبریں
کب کی بھر چکی ہیں !