میں لاشوں کی مساوات کا قائل ہوں

میں لاشوں کی مساوات کا قائل ہوں
دہشت گردوں کا عقیدہ بھی ہے، مذہب بھی اور شاید خدا بھی، یہ تو دہشت گردوں کا نشانہ بننے والے ہیں جن کی خون آلود لاشوں کی اب کوئی قومیت، شناخت، عقیدہ، مذہب یا خدا باقی نہیں رہا۔ اب انہیں کسی عقیدے، مسلک اور خدا کی ضرورت نہیں رہی۔ ہم جو یہ بحث کرنے کے لیے زندہ بچ گئے ہیں کہ مرنے والوں کو ان کے عقیدے کی بنیاد پر قتل کیا جانا چاہیئے تھا یا نہیں اور یہ جھگڑا کر رہے ہیں کہ کیا مارنے والوں کا ہمارے، تمہاریے یا کسی تیسرے چوتھے کے عقیدے سے کوئی تعلق ہے یا نہیں، ہمارے لیے بھی مرنے والوں کی اس کے سوا کوئی اہمیت نہیں کہ اب انہیں کس رنگ میں رنگا جائے اور ان کی موت کی ایسی تعبیروتشریح کو کیسے رد کیا جائے جو ہمارے لیے قابل قبول نہیں۔

عین ممکن ہے کہ اگر مرنے والے اس دھماکے، فائرنگ یا حملے میں زندہ بچ جاتے تو اپنے اپنے فیس بک صفحے پر اسلام کی تشریحات پر الجھ رہے ہوتے؟ عین ممکن ہے کہ فیس بک پر اپنی ڈی پی کو فرانسیسی پرچم سے رنگنے والے اور ایسا کرنے والوں کو کوسنے والے کسی دھماکے میں ایسے ہی مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں یا طاقتور امریکہ کی خارجہ ترجیحات کی وجہ سے مارا جاچکا ہوتا۔ وہ تمام خواتین و حضرات جو دہشت گردوں کے ہاتھوں مرنے والوں کی قومیت، عقیدہ اور حلیہ دیکھ کر خوش ہونے یاسوگوار ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں سے درخواست ہے کہ تاحال مر جانے والوں کے لیے شناختی کارڈ جاری کرنے، انہیں کلمے پڑھانے یا قومی ترانے یاد کرانے کا کوئی طریقہ ایجاد نہیں ہوا اس لیے فی الحال زندہ لوگوں کا تو پتہ نہیں لیکن اپنی مرضی کے بغیر مار دیئے جانے والے مردے فی الحال مساوی ہیں۔ پیرس، شام، پاکستان، افغانستان، برما، نیویارک، لندن، ممبئی، بغداد ہر جگہ ایک جیسے مردے اور ایک جیسے مظلوم ہیں۔ ان لاشون کی جانب سے تاحال نہ تو کوئی مذمتی بیان جاری ہوا ہے نہ ان کی جانب سے کوئی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کی ہلاکت پر اسلام یا مسلمان یا غیر اسلام یا غیر مسلمان کا گھن چکر چلایا جائے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ایک لاشہ اپنی شناخت کی وجہ سے دوسری لاشوں سے زیادہ اہم کیسے ہو سکتا ہے؟ یا یہ کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں پیرس کی کسی گلی، بار یا اسٹیڈیم میں مرنا زیادہ اہم ہے یا شام، افغانستان اور پاکستان میں؟ یہ سوچنا کتنا ضروری ہے کہ ایک مسلمان مردے کو ایک غیر مسلم مردے اور ایک غیر مسلم مردے کو ایک مسلمان مردے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں
حقیقت یہ ہے کہ لوگ مارے جارہے ہیں بھلے مارنے والے مسلمان تھے یا نہیں تھے، مرنے والوں کو کوئی نہ کوئی مار رہا ہے بھلے مارنے والے مسلمان تھے یا نہیں تھے۔ مرنے والے اسلام اور غیر اسلام کی بحث سے دور جا چکے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک گروہ ہے جو اسلام کو غلبے کے لیے استعمال کر رہا ہے اور لوگوں کی جان لے رہا ہے اور ایک گروہ وہ بھی ہے جو ان اسلامی جنگجووں کے وجود سے انکاری ہے اور سمجھتا ہے کہ جو لوگ اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے اپنے جتھے کے سوا ہر کسی کو قتل کیے جا رہے وہ مسلمان ہی نہیں اور ان کا سلام سے کوئی تعلق نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایک لاشہ اپنی شناخت کی وجہ سے دوسری لاشوں سے زیادہ اہم کیسے ہو سکتا ہے؟ یا یہ کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں پیرس کی کسی گلی، بار یا اسٹیڈیم میں مرنا زیادہ اہم ہے یا شام، افغانستان اور پاکستان میں؟ یہ سوچنا کتنا ضروری ہے کہ ایک مسلمان مردے کو ایک غیر مسلم مردے اور ایک غیر مسلم مردے کو ایک مسلمان مردے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں؟ ایک شیعہ لاشہ ایک سنی لاشے یا بریلوی لاشے اور دیوبندی لاشے سے کتنا زیادہ پارسا ہے؟ اور کیا زندہ لوگوں کو مردوں کی سوگوارانہ درجہ بندی کا حق حاصل ہے بھی کہ نہیں؟ میں کسی لاشے پر اس لیے ماتم کروں گا کیوں کہ وہ شام میں مرا تھا اور کسی پر اس لیے خاموش رہوں گا کیوں کہ وہ پیرس کی گلیوں میں مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں مارا گیا ہے؟ تمہارا مردہ میرے مردے سے افضل ہے اور میرا مردہ تمہارے مردے کی نسبت زیادہ مظلوم، زیادہ خون آلود اور زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔ فیس بک پر کس سانحے کا احتجاج کیا جائے اور کس غارت گری کو مرنے والوں کی حکومت، مذہب اور خارجہ پالیسی کا نتیجہ قرار دے کر جان چھڑ ا لی جائے؟

کیا کوئی ہے ہم میں سے جو دہشت گردوں کے ہاتھوں مرنے والون کی مساوات پر یقین رکھتا ہو اور سمجھ سکے کہ ہم سب کے مردے اپنی اپنی بدبو کے ساتھ اپنے اپنے قاتلوں کی جانب اشارہ کر رہےہیں؟ کوئی ہے جو کھل کر مرنے والوں کے ساتھ سیاسی، مذہبی یا مسلکی بنیادوں کی بجائے محض انسانیت کی بنیاد پر اظہار یکجہتی کر سکتا ہو؟ کون ہے جو ہتھیار چلانے والوں کے ساتھ ساتھ بنانے اور بیچنے والوں کی مذمت بھی کر سکے ؟ کسی کو احساس ہے کہ ہتھیار بند مذہبی جنونی اسلام کو امن کادین قرار دینے والوں کو بھی اسی بے رحمی سے قتل کرتے ہیں جس سفاکی سے وہ اسلام کو دہشت گردی کی وجہ قرار دینے والوں کی جان لیتے ہیں؟ کون ہے جسے پتہ ہو کہ یورپ اور امریکہ کی خارجہ پالیسی کی زدمیں آکر وہ بھی عدم استحکام کا شکار ہیں جو کسی شدت پسند تحریک کو چندہ نہیں دیتے اور وہ بھی جو محضاپنی گلی، محلے، عبادت گاہ تک محدود رہنا چاہتے ہیں؟ کیا کسی کو احساس ہے کہ قتل کے جواز تراشنے والے بھی اتنے ہی قاتل ہیں جتنے اس جواز کو استعمال کر کے ہتھیار پکڑنے والے؟ کیا کوئی یہ تسلیم کرنے کو تیار ہے کہ اس قتل و غار ت کے لیے امریکہ اور یورپ کی اسلحہ پسند خارجہ پالیسی بھی اسی قدر ذمہ دار ہے جس قدر اسلام کی شدت پسند سیاسی تشریح؟

کیا کوئی یہ تسلیم کرنے کو تیار ہے کہ اس قتل و غار ت کے لیے امریکہ اور یورپ کی اسلحہ پسند خارجہ پالیسی بھی اسی قدر ذمہ دار ہے جس قدر اسلام کی شدت پسند سیاسی تشریح؟
آو ہم سب لاشوں کی مساوات پر ایمان لے آئیں اور یہ تسلیم کریں کہ ہم سب سے غلطیاں ہوئی ہیں اور ہوتی رہیں گی جو لوگوں کی جان لینے کی وجہ بنتی آئی ہیں اور بنتی رہیں گی۔ ہم نے اپنے مذہب کے شدت پسند رحجانات کی نفی کرنے اور انہیں غلط قرار دینے کی کوئی کوشش نہیں کی اور ہم نے ہی اپنی حکومتوں کی خارجہ پالیسی پر تنقید نہیں کی۔ ہم نے ہتھیاروں کے لیے چندے دیئے ہیں اور ہم نے ہی ان حکومتوں کو ووٹ دیئے ہیں جنہوں نے دوسرے ملکوں میں مداخلت کی ہے۔ آو ہم لاشون کی مساوات پر ایمان لے آئیں۔ ہمیں ان چند حکمرانوں اور چند مذہبی جنونیوں کو یہ باور کرانا ہے کہ ہم ان کے ہاتھوں مرنے والوں کو بھلا نہیں سکتے اور اب ہم ان کے شدت پسند مذہبی عزائم اور توسیع پسند خارجہ پالیسی کی حمایت کو تیار نہیں۔ میرے لیے یہ ماننا زیادہ اہم ہے کہ کسی بھی انسان کو کسی بھی انسان کی جان لینے کا اختیار نہیں، بجائے اس کے کہ میں یہ بحث کروں کہ کس کے عقیدے، مذہب اور خدا کے نام پر قتل کرنا کتنا درست یا کتنا غلط ہے؟ میں لاشوں کی مساوات کا قائل ہوں اور کسی دوسرے کے مردے سے اس کی شناخت کی بناء پر نفرت کرنے کو تیار نہیں۔ میں زندہ بچ جانے والوں کی مساوات کا بھی قائل ہوں اور انہیں قتل کرنے کی خاطر کسی بھی قسم کا جواز تلاش کرنے کو تیار نہیں۔
Muhammad Shoaib

Muhammad Shoaib

Muhammad Shoaib is the editor of news section and is responsible to communicate with the correspondents' network of Laaltain.


Related Articles

نثری نظم کا تخلیقی جواز

نصیر احمد ناصر: دراصل ہر نظم اپنی ہیئت یا ساخت خود لے کر آتی ہے۔ تخلیق کے بعد اس کی تراش خراش تو کی جا سکتی ہے لیکن تخلیقی عمل کے دوران اسے زبردستی "نظم" یا "نثری نظم" نہیں بنایا جا سکتا۔

خدا کے لیے بحران کی صدیاں

ریحان نقوی:خدا کے وجود پر بحث جاری رہے گی اور مذہبی علماء، فلسفی اور سائنس دان خدا کے وجود پر مختلف اور متنوع آراء کا اظہار کرتے رہیں گے۔

My Three Heroes

There is no single definition of a hero. In my opinion, however, a hero is someone who leads his people to reality. Political heroes in particular help their nations become pragmatic...