میں نے شاعری کی انتہا دیکھ لی تھی!

میں نے شاعری کی انتہا دیکھ لی تھی!
میں نے شاعری کی انتہا دیکھ لی تھی!
نانا جی کے ساتھ
کھیتوں میں کام کرتے ہوئے
برساتی ندی کے پار بیلے میں
بکریاں چَراتے ہوئے،
مکو کی جھاڑیوں کو چھیڑتے ہوئے
اور کیکر کی چھاؤں میں بیٹھ کر
اچار کے ساتھ روٹی کی سرشاری میں
نشیبی نالے سے پانی پیتے ہوئے
میں نے دیکھا شاعری کو
انتہا پر، اپنے اصلی روپ میں
ابتدا کا تو معلوم نہیں
تب پتا تھا نہ اب
لیکن انتہا کو پہلے دیکھ لینا
عینک کے بغیر
حقیقت کی بےلباسی میں، سر تا پا برہنہ
زنگی اور موت کے باہم آمیز نشے سے کم نہ تھا
نانا جی کی باتوں سے
میں نے خاموشی سیکھی
اور خدا کی نظمائی ہوئی فطرت سے
آسمانی گیتوں کی بازگشت
جو زمین کی سب سے نچلی تہوں سے پھوٹ رہی تھی
ابھی کسی ارسطو، کسی نیرودا کو میں نہیں جانتا تھا
اور کسی شاعر کا
میرے اندر ظہور نہیں ہوا تھا
فقط نانا جی تھے
اور میں تھا
اور اونچے نیچے کھیت تھے
اور ہوا تھی
اور بادل تھے
اور اچانک امنڈ آنے والی بارش تھی
اور ان سب کے درمیان
خواہ مخواہ پھیلی ہوئی
ایک اَن مَنی سی تنہائی تھی
جو تب سےاب تک
اُسی ایک پوز میں ٹھہری ہوئی ہے
جس پوز میں اسے کائناتی فریم کے اندر چپکایا گیا تھا
بس ہمارے منظر نامے بدل گئے ہیں
نانا جی ہمیشگی کی نیند سو چکے ہیں
اور میں ہموار ہوتی ہوئی آبائی قبروں سے دُور
اپنے نواسے کی انگلی پکڑ کر
قریبی پارک میں
اُسی کی طرح چھوٹے چھوٹے قدموں سے بھاگ رہا ہوں
اور شاعری کسی پلے لینڈ میں
کبھی نہ رکنے والاجھولا جھول رہی ہے !!

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir is one the most eminent, distinct, cultured and thought provoking Urdu poets from Pakistan. He is considered as a trend setter poet of modern Urdu poems among his contemporaries. His poetry has been translated into various languages and has several poetry collections to his credit. A lot of his work is yet to be published.


Related Articles

اے میرے سوچنے والے بیٹے

شہزاد نیر: سو میرے سوچنے والے بیٹے !
تم نے خاموش رہنا ہے
تمہاری خاموشی میں تمہاری زندگی ہے

سمجھدار چُپ

چھوٹے سے میلے کا ایک منظر ہے
چھوٹا سا ادنیٰ سا آدمی ہے
دو چھوٹٰ بچیاں ہیں
پر جسے نہیں آنا چاہیے
ایسے کسی میلے میں
سب سے چھوٹی بار بار روتی ہے

بہتی آنکھوں کا خواب

سلمیٰ جیلانی: انصاف کی تلاش میں
بہتی آنکھوں نے
اندھے رستے پر پڑی
بند گھڑی کی سوئی میں
مجھے پرو دیا ہے