میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں

میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں

ابھی بس ذہن میں ایک موہوم سا خاکہ ہے کہ مجھے کچھ لکھنا ہے۔ کیا؟ اس کا علم نہیں اور جہاں تک میں اپنے لکھنے کے مزاج سے واقف ہوں مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ ابھی بہت دیر تک مجھ پر یہ واضح نہیں ہو پائے گا کہ میں آخر کیا لکھنا چاہتا ہوں ۔ یہ کون سی تحریک ہے جو مجھے اندر سے بار بار کچوکا لگاتی ہے کہ کچھ لکھو۔ ایسا ہر وقت تو نہیں مگر ہر اس وقت ہوتا ہے جب میں سنجیدگی سے کچھ پڑھنے بیٹھتا ہوں یا ان اوقات میں بھی جب میں تنہا ایک کونے میں پڑا اپنے پرانے احباب اور اطراف اور محبوباوں کے بارے میں سوچا کرتا ہوں۔ کچھ لکھنے کا عمل میرے لیے بہت زیادہ لطف اندوز ہوتا ہے ایسا کہ مجھے اس میں وصل کی سی لذت محسوس ہوتی ہے۔ جن لوگوں نے وصل کا مزا نہیں چکھا ہے وہ اس سوندھی خوشبو کے سونگھنے سے بھی اس لذت کے متعلق جان سکتے ہیں جو کچی مٹی پر پانی کے پڑنے سے اٹھتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کچھ زیادہ الجھی ہوئی تعبیر ہو لیکن مجھے اس وقت اس سے بہتر تعبیر یاد نہیں آتی۔ کچھ لکھنے سے مجھے ایک قسم کی تقویت ملتی ہے، خواہ وہ کچھ بھی ہو۔ اب اس کے معنی یہ نہیں کہ میں کسی دکان دار کا کھاتا لکھنے میں بھی تقویت ہی محسوس کروں گا۔ میری مراد کچھ ایسا لکھنے سے ہے جو میرے ماضی، میرے تعلیمی رشتے یا روحانی تجربے سے جڑا ہو ۔کسی پر تنقید یا تحقیق لکھنے میں بھی مجھے کچھ خاص لطف نہیں آتا۔ مگر میں یہ بھی ٹھیک ٹھیک نہیں بتا سکتا کہ کیا کیا لکھنا مجھے پسند ہے ۔ میرے ذہن میں ہزاروں چیزیں چلتی ہیں ، ہر وقت اور میں ان میں سے اپنے مضامین یا اپنے لکھنے کے موضوعات کو چنتا رہتا ہوں۔ بہت سے موضوعات میرے ذہن سے مہینوں چمٹے رہتے ہیں مگر میں ان پر نہیں لکھ پاتا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ میں خود کو ان موضوعات کے قابل جان کر بھی ان پر لکھنے سے گریز کرتا رہتا ہوں یا پھر یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ لکھنے کے عین وقت وہ موضوعات خود مجھ سے کہیں دور چلے جاتے ہیں ۔جن موضوعات سے مجھے عشق ہے میں ان پر بھی نہیں لکھ پاتا۔ میں لکھنے کے لیے اکثر خود کو تیار رکھتا ہوں اور کچھ لکھنے کی خواہش میں ان موضوعات تک پہ لکھ جاتا ہوں جو میری دانست میں ابھی لکھے جانے کے لیے مزید وقت چاہتے تھے۔ مگر میں ان سے لکھنے کے دوران ایسے چمٹا رہتا ہوں جیسے میں ان کے ساتھ وصل کی حالت میں ہوں۔ لکھنا میرے لیے ایک طرح کی غذا ہے اور میں اس کو اپنے لیے ناگزیر تصور کرتا ہوں حالاں کہ مجھے اپنے اطراف میں کئی لوگ ایسے نظر آتے ہیں جو مجھ سے بہتر لکھتے ہیں یا مجھ سے بہتر لکھنے کے متعلق جانتے ہیں مگر لکھتے وقت میں اپنے ان تمام احباب سے نہ خائف ہوتا ہوں اور نہ ان سے کسی اثر کے قبول کرنے کا خواہش مند۔ میں اپنے ذہن پر لکھنے کے اوقات میں بس ایک روحانی اثر محسوس کرتا ہوں اور اس کے زیر اثر لکھتا چلا جاتا ہوں۔

ادھوری تحریر لکھنا میرا محبوب مشغلہ ہے میں جتنا لکھتا ہوں یا پھر یہ کہوں کہ جتنا لکھے کو ایک مکمل صورت عطا کرپاتا ہوں اس سے پچاس گنا زیادہ میں ایسی ادھوری تحریریں لکھتا ہوں جن میں نہ میرا کوئی واضح موقف ہوتا ہے اور نہ داخلی اظہار۔ ان تحریروں کو میں لکھ کر کاٹتا نہیں بلکہ ایک خالی بکس میں بند کر دیتا ہوں۔ یہ خالی بکس میری ہزاروں نا مکمل تحریروں سے بھرا ہوا ہے جو مجھے مکمل تحریروں کے بالمقابل زیادہ لطف عطا کرتی ہیں۔ لکھنے کی خواہش میں میں اکثر موضوعات کا تعین کیے بنا ہی لکھنے بیٹھ جاتا ہوں اور اکثر ایسی تحریریں بھی لکھ کر اٹھتا ہوں جو بلا سر ،پیر مکمل تحریر ہونے کا دعوی کرتی ہیں ۔ میں اپنے لکھنے سے کبھی بیزار نہیں ہوتا بلکہ اس کو میں اپنے لیے ایک قسم کا طلسم تصور کرتا ہوں جس کے کونوں میں میری روح کے ٹکڑے بکھرے ہوتے ہیں ۔ جب جب میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں تو میرے اندر سے ایک قسم کا اضمحلال جنم لیتا ہے ، ایسا کہ جس سے مجھے مسرت محسوس ہوتی ہے اور جب میں لکھنے کی شروعات کرتا ہوں تو دھیرے دھیرے میرا اضمحلال ایک قسم کی تازگی میں تبدیل ہونے لگتا ہے اور جب مجھے اپنے لکھنے کے عمل سے اکتاہٹ یا بیزاری محسوس ہونے لگتی ہے یا میں کسی تحریر کو مکمل کر لیتا ہوں تو میں لکھنا فوری طور پر بند کر دیتا ہوں ۔ لکھنا میری ذات کا اسم اعظم ہے جس سے میں اپنا ادراک حاصل کرتا ہوں ۔ مجھے جب تک لکھنے کے عمل سے عشق نہیں ہوا تھا میں پڑھنے کے متعلق اسی قسم کے سحر میں گرفتار تھا مگر جب سے لکھنے کی عادت نے میرے بدن میں پیر پھیلائے ہیں میں لکھنے کو پڑھنے کی اگلی منزل سے تعبیر کرنے لگا ہوں۔

میں ہزاروں موضوعات پر لکھنا چاہتا ہوں ایسے موضوعات جو میرے ذہن کی سرنگوں میں کلبلا رہے ہیں، جن میں لاکھوں طرح کی رنگ برنگی روشن لکیریں ہیں ،جس میں سورج کے مانند حرارت ہے اور خواب کے مانند سحر انگیزی ۔ ایسے موضوعات مجھے مستقل اپنی جانب بلاتے ہیں اور میرے ذریعے صفحہ قرطاس پر بکھرنے کو بے چین رہتے ہیں ۔ لکھنا میرے لیے الہام نہیں نہ یہ کوئی وحی کی طرح کا غائب نکتہ ہے ،بلکہ لکھنا مجھے اپنے حق میں زندگی سے معمور اور حقیقتوں سے آشنا نظر آتا ہے ۔ اس لیے میں لکھنے کے عمل کو ایک رنگین خواب کا عمل سمجھتا ہوں جس میں تعبیر کی ایسی گنجائشیں پائی جاتی ہیں جو ہماری زندگیوں کو راست طور پر متاثر کرتی ہیں ۔ لکھنے کے عمل سے گزرنے سے پہلے جب مجھ میں موضوعات کا وفور ہوتا ہے تو مجھے لکھنا اپنی محتاجی معلوم ہونے لگتا ہے ۔ ایسا کچھ کہ کوئی نوائے سروش ہے جو صریر خامہ کی جانب مجھے کھینچے لیے جا رہی ہے ۔ لکھتے وقت میں خود کو ایک انجان سی طاقت میں گھرا ہوا پاتا ہوں اس لیے بعض اوقات یوں لگتا ہے کہ میرا لکھا میرا اپنا نہیں بلکہ ایک غیرمرئی قوت کا اظہار ہے۔ مجھے لکھنے کے لیے زبان کا تصنع اور اظہار کی باریکیوں کا سراغ لگانا بھی ضروری معلوم نہیں ہوتا بلکہ سلیس اور سادہ طرز اور اسلوب جس میں اپنے باطن کا عکس اتر آئے زیادہ معنی خیز معلوم ہوتا ہے ۔ جب جب میں لکھنا چاہتا ہوں تب تب میں خود کو انسانوں کے دکھ درد اور خیالات اور نظریات سے قریب پاتا ہوں ،ایک ہیجانی کیفیت میں گرفتار جس میں تاریخ ، سیاسیات ، مذہب ، معاشرتی علوم اور سائنس کی مختلف جہات مجھے انسانی محررومیوں سے آگاہ کراتی ہیں، اس لمحے میں کسی بلا تکان بولنے والے مشاق مقرر کی مانند خود کے باطن میں داخل ہو کر چیخنے لگتا ہوں۔ خود کو الگ الگ موضوعات پر بولتے ہوئے انسان کے دکھوں کے درمیان پھنسا لیتا ہوں اور ان کی تکلیفوں سے گھر کر ان کا مداوا تلاش کرنے کا مشتاق بنا لیتا ہوں۔ لکھتے وقت میں خود میں ہٹلر اور مسولینی ، مارکس اور لینن، محمد اور موسی، کرشن اور ارجن، رام اور بدھ، کبیر اور خسرو، نانک اور جائسی، سارتر اور روسو، ملٹن اور ابوالمعالی ، حالی اور سر سید ،داغ اور امیر مینائی اور غالب، میر اور فیض سبھی کو یکجا پاتا ہوں۔ کسی کو کسی سے دور اور قریب ، ادنی اور اعلی سمجھے بنا میں ان سب کو اپنا دوست ، رقیب اور ہم منصب سمجھنے لگتا ہوں ۔ لکھنے کی خواہش مجھے اند ر سےایک اوتار بنا دیتی ہے یا یوں کہوں کہ ایک انسان جو خود میں سب سے بڑا اوتار ہے۔

میں جتنا کچھ خود سے بولتا ہوں یا خود کو جتنے بولے ہوئے کی گردش میں گھرا پاتا ہوں اس کا ایک فی صد بھی لکھ نہیں پاتا ۔ میں جانتا ہوں کہ میرے اندر کا وہ شور جو مجھے لکھنے پر مجبور کرتا ہے وہ میرے اندر کا ایک انوکھا طلسم ہے جو مجھے اظہار سے تحریر کی وادی تک لاتے لاتے ارسال سےبے بہرہ کر دیتا ہے ، میرے وجود کی گتھیوں سے کھیل کر مجھے کتاب کے اندھے صحرا میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے ، پھر بھی میں لکھتا ہوں کیوں کہ لکھنا میرا محبوب مشغلہ ہے اور میں اس عمل کے تئیں خود کی نکیل کو تھامے رکھتا ہوں ۔ میں لکھنے کو خود سے بہتر اور خود کو لکھنے کے برابر بنانے کے عمل میں سر گرداں رکھنا چاہتا ہوں کیوں کہ میں ایک ایسی بات لکھ دینا چاہتا ہوں جس کی تکرار میرے باطن میں کہیں دور تک اور دیر تک کھنکتی رہتی ہے ۔ اسی لیے میں لکھتا ہوں اور اسی لیے میں لکھتے رہنا چاہتا ہوں۔

میں اپنے لکھے سے کبھی پوری طرح مطمئن بھی نہیں ہوتا کیوں کہ مکمل اطمینان مجھے لکھنے سے دور کرتا ہے۔ ایک منز ل سے دوسری منزل کی جانب جانے سے روکتا ہے ۔ لکھنے کے عمل کو اسی لیے میں مینڈک کی چھلانگ سے تعبیر کرتا ہوں جس میں ابدی اچھال نہیں پایا جاتا ۔ میں جب جب کچھ لکھنے کی شروعات کرتا ہو تو مجھ میں ایسی ہی توانائی جمع ہوتی ہے جیسی ایک مینڈک میں اچھلنے سے پہلے پائی جاتی ہے اس توانائی کا انقطاع مجھے ایک تحریر سے دوسری تحریر کی جانب بڑھنے پر مہمیز کرتا ہے اور اسی سے میں اپنے موضوعات کے تنوع کا سراغ بھی لگا پاتا ہوں۔ ایسی ہزاروں باتیں جو میں لکھنے کے درمیان اور اس سے قبل یا بعد میں محسوس کرتا ہوں انہی باتوں سے مجھے اپنے لکھے پر خوش یا دکھی ہونے کا حوصلہ ملتا ہے ۔ جب میں اپنے کسی لکھے سے بہت زیادہ خوش یا بہت زیادہ دکھی ہوتا ہوں تو میں اس کو قلم زد کر دیتا ہوں کیوں کہ مجھے اس میں اعتدال کا پرتو نظر نہیں آتا ۔ حالاں کہ میں اس زار سے بھی اچھی طرح واقف ہوں کے کسی لکھے کو کبھی کاٹا نہیں جا سکتا ۔ میں لکھنے کی چال بازیوں کو لکھنے کا سب سے گہرا وار کرنے والا ہتھیار سمجھتا ہوں ۔ جو ایسا نوکیلا ہے کہ ایک بار وجود میں آ کر کبھی عدم کا سفر نہیں کرتا۔ دنیا میں جتنے لکھنے والے گزرے ہیں میں ان سے کچھ الگ نہیں لکھنا چاہتا اور نہ ہی مجھ میں کچھ نیا لکھنے کی خواہش ہے ،لکھنے کے حوالے سے میں صرف ایک امر کو سب سے زیادہ معنی خیز سمجھتا ہوں اور وہ امر خود لکھنے کا عمل ہے۔ مجھے لکھنے کی تاریک دنیائیں اپنی طرف بلاتی ہیں اور میں اس بیمار بوڑھے شخص کی طرح تیزی سے اس کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہوں جو موت کی جانب سفر کرتا ہے۔ لکھنے کے لیے مجھے نئی دنیاوں اور نئی کہانیوں کی یا نئی مثالوں کی بھی جستجو نہیں ہوتی میں تو بس ایک ایسی بات لکھنے کو ہی سب سے بہتر سمجھتا ہوں جو انسان کی عقلوں کے عین مطابق ہو۔ مجھے زندگی اور لکھنا ایک سکے کے دو رخ معلوم ہوتے ہیں کیوں کہ جب تک انسان لکھنے کے عمل سے واقف نہیں ہوتا وہ زندگی کے نہا خانہ وحشت سے بھی آشنا نہیں ہوپاتا۔ میں لکھنے کی سعی میں خود سے ہزاروں جھوٹ بولتا ہوں جن کو اپنی عیاریوں اور مکاریوں سے خود پر سچ بنا کر نازل کرتا ہوں اور اس سچایوں کی دیواروں سے لگ کو روتے ہوئے نوشتہ دیوار تحریر کرنے میں سر گرداں ہو جاتا ہوں ۔ میں تقدیر سے بہتر اور تعبیر سے گہرا فن پارہ لکھنے کی خواہش میں الجھا رہتا ہوں اور ایسے میں میں کچھ بھی لکھ جانے کو بے کار نہیں سمجھتا اور قاعدوں سے الگ رہ کر لکھنے کو ہر لکھے سے اعلی جانتا ہوں، لہذا !میں ایسا ہی کچھ لکھنا چاہتا ہوں ۔

Taleef Haider

Taleef Haider

Taleef Haider is a student of PhD Urdu at Jawahar Lal Nehru University. He is a poet and has written many critical essays for various literary magazines.


Related Articles

شو جی کا بیاہ

جب آہوتی دینے کا وقت آیا تو سب دیوتاوں کے نام کی آہوتی دی گئی، لیکن شو جی کا نام کسی نے نہیں لیا۔ یہ دیکھ کر بھوانی کو اتنی تکلیف ہوئی کہ وہ سب کے سامنے یگیہ کی آگ میں کود پڑی اور پیشتر اس کے کہ کوئی اسے بچائے، وہ جل کر راکھ ہوگئی۔

سنگترے کے بنجر پیڑ کا گیت

گارسیا لورکا کی نظم ‘Song of a barren orange tree’ کا ترجمہ

Smoke

Maida Aslam Haji Habib was driving on in silence with his wife sitting beside him. The spatter of rain falling