نئے پڑھنے والوں پر وہ ثقافتی بوجھ نہیں ہے جو ہماری نسل پر تھا؛ اجمل کمال سے گفتگو

نئے پڑھنے والوں پر وہ ثقافتی بوجھ نہیں ہے جو ہماری نسل پر تھا؛ اجمل کمال سے گفتگو
اجمل کمال فکشن نہیں لکھتے، لیکن اردو زبان میں فکشن کا شاید ہی کوئی اچھا قاری ہو جو ان کے نام سے واقف نہ ہو۔ وہ کراچی سے چھپنے والے ایک اہم ادبی جریدے "آج" کے ایڈیٹر اور کتابوں کے پبلشر ہیں۔ بحیثیت مترجم وہ انگریزی، ہندی اور فارسی زبانوں سے فکشن کا ایک گرانقدر ذخیرہ اردو میں منتقل کر چکے ہیں۔ "لالٹین" نے ان کے ساتھ ایک مفصل نشست کا اہتمام کیا ہے تاکہ قارئین "آج" کہانیوں کےگرانقدر ادبی خزانے کو ہم تک پہنچانے والے کی اپنی کہانی اور خیالات جان سکیں۔
لالٹین:رسالہ"آج" کے تعارف میں کیا کہیے گا، اس کے اجرا کا خیال کیسے آیا، آغاز سے لے کراب تک کیا مسائل شاملِ حال رہے؟
اجمل کمال: "آج" کا کام میں نے 1981ء میں شروع کیا، تب میں 23 برس کا تھا۔ مطالعہ کی عادت تھی، تو مجھے خیال آیا کہ اردو میں، اور دوسری زبانوں میں جو کچھ لکھا جا رہا ہے، ان کو ملا کر دیکھا جائے۔ تب میں حیدر آباد میں تھا، پہلا شمارہ 1981ء میں حیدرآباد سے نکلا تھا۔ تو کچھ ایسے نئے رجحانات تھے، جن کو ہمارے روایتی ادبی رسالے جگہ نہیں دیتے تھے، مثلا نثری نظم کا اس میں کافی حصہ تھا۔ پھر اس میں بھارت، ایران اور دوسری جگہوں سے تراجم اس میں شامل کیے۔ پولینڈ کے ایک شاعر کی نظمیں تھیں، پھر بورخیس سے ہم نئے نئے متعارف ہوئے تھے۔ اس کے تراجم کا ایک سیکشن بنایا تھا۔ پھر ہم اسے چلا نہیں سکے، پھر سن 89 میں ہم اسے دوبارہ شروع کر سکے۔۔ اس کے بیچ میں ہم نے ایک نمبر نکالا جو میلان کنڈیرا پر تھا، 1986ء میں۔ تو بنیادی طور پر یہ ایک قاری کی حیثیت سے یہ کوشش تھی کہ دوسرے قاریوں کو بھی اپنے مطالعے میں شامل کیا جائے۔ ایک مترجم بھی ایسے ہی ہوتا ہے، کہ آپ مختلف چیزیں پڑھتے ہیں تو اسے ایک خاص ترتیب میں پیش کرتے ہیں۔ یہ ایک قاری کا دوسرے قاریوں کے ساتھ ایک مکالمے کی طرح ہے۔
اس کی سرکولیشن تو بہت تھوڑی سی ہے، پانچ سات سو کاپیاں چھپتی ہیں۔ میں نے ایک بینک میں نئی نئی نوکری شروع کی تھی، ایک ڈویلپمنٹ بینک تھا۔ تو وہاں سے ہمیں سال میں چار بونس ملتے تھے، یوں چار شماروں کے پیسے نکل آتے تھے۔ شروع میں ہم نے اشتہار لینے کی کوشش بھی کی، لیکن مجھے اندازہ ہو گیا کہ اس سے میگزین کی آزادی سلب ہو جاتی ہے۔ یا یوں بھی ہوتا ہے کہ کسی ادارے کا پی آر او غزل گو ہوتا ہے یا اس کی بھتیجی غزل گو ہوتی ہے۔ لیکن غزل تو ہم چھاپتے نہیں ہیں۔ پھر ویسے بھی اتنے محدود قارئین والے رسالے کو اشتہار دے کر کسی کو کوئی فائدہ بھی نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ کارپوریٹ کی ایک طرح کی سماجی ذمہ داری ہی ہوتی ہے، لیکن وہ اس کو سماجی ذمہ داری کی بجائے اپنی مہربانی سمجھتے ہیں۔ پھر میں نے اس کی قیمت کم کرنے کا سوچا۔ ہم اپنے لکھنے والوں اور ترجمہ کرنے والوں کو کچھ پیسے نہیں دیتے، اور زیادہ تر کام میں خود ہی کرتا رہا۔ تب ایپل کا ایک پروگرام تھا، اس کا نام تھا نستعلیق نظامی۔ میرے پاس ایک چھوٹا سا ایپل کا کمپیوٹر تھا، اس پر میں سبھی خود کمپوز کیا کرتا تھا۔ اس کی سبھی پیسٹنگ وغیرہ بھی میں خود ہی کرتا تھا۔ تو لے دے کے اس پر ہماری لاگت وہی بنتی تھی جو اس کی چھپائی کی لاگت تھی۔ تو میرا خیال یہ تھا کہ رسالے کا جو خرچہ ہے، وہ اس کے پڑھنے والوں کو اٹھانا چاہیے۔ تو میں نے اس کی لاگت کو اتنا کم کر لیا تھا کہ اگر ڈھائی سو کے قریب اس کے سبسکرائبر ہوں تو اس سے اس کا خرچہ نکل آتا تھا۔ تو اب کوئی چار سو کے قریب ہیں۔ جب تک میں بینک میں کام کرتا تھا کوئی دس سال، تو تب میرا ذریعہ معاش وہ تھا، تو اس کے بعد انہوں نے ایک گولڈن ہینڈ شیک اسکیم نکالی، وہ لے کر میں نے وہ نوکری چھوڑ دی۔ ان پیسوں سے ہم نے کراچی صدر میں ایک دفتر خرید لیا، ایک چھوٹی سی کتابوں کی دکان بھی بنا لی۔کچھ میں نے خود لکھنا شروع کیا۔ کچھ عرصہ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ کے لیے لکھا، آج کل کے لیے لکھتا رہا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے لیے کوئی ایک سال لکھا۔ مطلب یہ کہ یہ رسالہ کوئی ذریعۂ آمدن نہیں ہے اور نہ ہی میں نے کبھی بنانا چاہا۔

لالٹین:رسالے کے مشمولات کیا ہیں، اور اس کے اہم ادبی سنگِ میل کیا رہےہیں؟
اجمل کمال: ابتدا میں تو صرف ادب ہی تھا، اور وہ بھی صرف فکشن اور شاعری۔ تو بعد میں ہم نے ایران کے بارے میں ایک پولش لکھاری ریشارد کاپوشینسکی کی ایک پوری کتاب ترجمہ کر کے اس میں شائع کی، Shah of Shahs اس کا نام تھا، لیکن یہ ناول یا کسی باقاعدہ تخلیقی ادبی صنف میں نہیں آتی تھی۔ تو ہمارے کچھ پڑھنے والوں نے کہا کہ کیا اس کو ادب کہنا چاہیے؟ اگر ایک شخص نے کسی معاشرے کو اتنی باریک بینی سے دیکھ کر اسے بیان کیا ہو، میں تو اسے ادب کہوں گا۔ اس بحث سے ادب کے بارے میں میرا اپنا تصور خاصا وسیع ہوا اور اس سے اس کے فارمیٹ میں کچھ تبدیلی آئی۔ تو سن 94ء میں ہم نے ایک پورا شمارہ نکالا بوسنیا کے بارے میں۔ وہاں نسلی بنیادوں پر لڑی گئی ایک سول جنگ چل رہی تھی بوسنیا ۔ کراچی میں بھی اس وقت ویسا ہی ہو رہا تھا۔ تو ہم نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ بوسنیا اور کراچی کی صورت حال میں کیا باتیں مشترک ہیں۔ ظاہر ہے کہ عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ یہ سب ایک ادبی پرچے کے محیط سے باہر کی چیز ہے۔ لیکن اس وقت ہمیں اس اعتراض کی زیادہ پروا نہیں رہی تھی۔ پھر کچھ لوگوں نے کہا کہ ایسا ہی کام کراچی کے موضوع پر بھی ہونا چاہیے۔ لیکن کراچی پر کیا گیا اس نوعیت کا کام ہمارے علم میں نہیں تھا۔ تو کوئی ایک سال کی مشقت سے ہم نے "کراچی کی کہانی" کے نام سے دو جلدوں میں ایک نمبر چھاپا۔ کراچی پر جتنا بھی مواد تھا، وہ یا تو انگریزی میں تھا، یا پھر سندھی میں تھا۔ ہم نے اس سے منتخب مواد کو ترجمہ کروایا۔ کراچی چونکہ لاہور کی طرح بہت پرانا شہر نہیں ہے، ہم نے اس کی تاریخ ٹریس کی۔ اور مختلف کمیونیٹیز کے درمیان ابلاغ کی کمی تھی، سندھی والوں کو اردو والوں کے موقف کا پتہ تھا اور نہ اردو والوں کو سندھیوں کے موقف کا۔ تو ہم نے سب کے موقف کو یکجا کر کے ایک مجموعی منظر ابھارنے کی کوشش کی۔
"آج" کے زیادہ تر پڑھنے والے، چاروں صوبوں کے چھوٹے شہروں سے قارئین کی پہلی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ بہت دلچسپ لوگ ہیں۔ ان پر اس طرح کا ثقافتی بوجھ نہیں ہے، جس طرح کا ہماری نسلوں کے اوپر تھا۔ دوسرا یہ کہ ان کے ہاں زبانوں کے درمیان کی عداوت نہیں ہے۔
اردو کے قریب کی زبانوں کو ہم نے مربوط انداز میں ترجمہ کرنے کی کوشش کی۔ مثلا ہندی، فارسی اور عربی۔ تو اس پر ہم نے مختلف ادیبوں مثلا مارکیز، میلان کنڈیرا اور نرمل ساہنی وغیرہ پرکئی ایک خصوصی شمارے نکالے۔ اس میں زیادہ تر ترجمے شامل کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب آپ ایک سہ ماہی نکالتے ہیں تو ضروری نہیں کہ آپ کو تین ماہ میں اپنے مطلوبہ معیار کا کافی مواد بھی مل جائے۔ ایسے میں یا تو آپ کو وہ تاخیر سے نکالنا پڑے گا، یا پھر آپ نے اپنے ذہن میں جو معیار رکھا ہوا ہے، اس پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔کئی بار یوں بھی ہوتا ہے کہ پورے پرچے میں کوئی طبعزاد چیز نہیں ہوتی، صرف ترجمے ہوتے ہیں۔ پھر ہم کتابیں بھی شائع کرتے رہے۔ جریدے کا تو رفتہ رفتہ قارئین کا ایک حلقہ بن گیا، لیکن کتابیں زیادہ نہیں بکتی تھیں۔ تو پھر یوں کیا کہ طویل افسانہ یا خوددنوشت وغیرہ، ہم نے پوری پوری اپنے جریدے میں چھاپنی شروع کر دیں۔ سب سے لمبی چیز ہم نے چھاپی وہ ساڑھے چار سو صفحوں کا ایک ناول تھا، وہ ہم نے پورے کا پورا ہی ایک پرچے میں شامل کر لیا تھا۔ خالد طور کا ایک ناول تھا "بالوں کا گچھا"۔۔ ان کی کہانی "کانی نکاح" کا مجھے پتہ چلا کہ وہ ایک بہت غیر معمولی کتاب تھی، ان کی ایک اور کہانی مجھے ملی، وہ فنون میں چھپی تھی۔ تو اس کو ہم نے ری پرنٹ کیا۔ تو اس سے ہمیں نیا زاویہ یہ ملا کہ ایسی چیزیں جو شائع ہو چکی ہیں، لیکن لوگوں کی پوری توجہ نہیں لے پائیں، ان کو شامل کیا جائے۔ تو لاہور کے ایک صاحب تھے حمید شیخ۔ جو پاکستان ٹائمز میں تھے اور لاہور کے بارے میں ایک کالم لکھا کرتے تھے۔ تو انہوں نے اردو کا ایک ناول لکھا تھا، جس کا نام تھا گینڈا پہلوان۔ تو وہ بہت ایکسٹرا آرڈینری تحریر تھی۔ تو یوں ہوتا رہا کہ جو اچھی چیز سامنے آئی، قارئین تک پہنچاتے رہے۔

لالٹین:"آج" کے قارئین زیادہ تر کون لوگ ہیں؟
اجمل کمال: "آج" کے زیادہ تر پڑھنے والے، چاروں صوبوں کے چھوٹے شہروں سے قارئین کی پہلی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ بہت دلچسپ لوگ ہیں۔ ان پر اس طرح کا ثقافتی بوجھ نہیں ہے، جس طرح کا ہماری نسلوں کے اوپر تھا۔ دوسرا یہ کہ ان کے ہاں زبانوں کے درمیان کی عداوت نہیں ہے۔ ہمارے ساتھ تو یوں تھا کہ اردو کے اہل زبان اور پنجاب کے اردو لکھنے والوں کے درمیان ایک کشمکش تھی، اور سب کچھ اسی بنیاد پر دیکھا جاتا تھا۔ نئے پڑھنے والے چونکہ اس سبھی قصے سے بے خبر ہیں تو وہ چیزوں کو زیادہ براہ راست انداز میں دیکھتے ہیں۔ پھر یہ ہے کہ اعلی درجے کی تعلیم سے ان کو محروم رکھا گیا ہے۔ ان کو اردو سکھائی گئی ہے اور اردو ان کو آتی ہے۔ تو وہ انگریزی میں لکھا گیا عالمی ادب تو پڑھ نہیں سکتے، اسی لیے وہ ترجموں کی بہت قدر کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ بہت ماڈرن لوگ ہیں اور وہ ساری دنیا کا ادب پڑھنا چاہتے ہیں۔ ان سے جب بھی ملنا جلنا ہوتا ہے تو بڑی تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ رسالہ تو میں نے اپنے باطنی اطمینان کے لیے نکالا تھا، اس میں اشتہار وغیرہ بھی نہیں ہوتے، جس سے اس کی آزادی بھی برقرار رہتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جس طرح کا اطمینان میں چاہ رہا تھا، وہ تو مجھے مل ہی رہا تھا، لیکن جب پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگوں تک پہنچ بھی رہا ہے، تو کچھ اضافی خوشی ہوتی ہے۔
شناخت کا جو مسئلہ تھا، اس نے ریاست کے ویژن کو بہت محدود کر دیا۔ ہم نے بالکل دفاعی انداز اختیار کر لیا کہ ہم نے یہ جو ملک بنایا ہے، اس کا جواز گھڑنے کی ضرورت ہے۔آئیڈیالوجی کی حدود نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا۔ تعلیم کے معیار کو بہت نقصان پہنچا۔

لالٹین:بحیثیت مترجم، آپ اردومیں ادبی، علمی اور صحافتی تراجم کی صورتِ حال کو ماضی کے مقابلے میں، اور فارسی، عربی اور ہندی وغیرہ کے مقابلے میں کس مقام پر دیکھتے ہیں؟
اجمل کمال:ان زبانوں میں ترجمے کی بڑی اہمیت ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ جدت جو ہے، وہ ان کے ہاں بھی مغرب سے ہی آتی ہے۔ ان کی زندگی تو بدل گئی ہے لیکن ان جدید زندگیوں کی تشریح کرنے والی چیزیں ظاہر ہے کہ مغربی زبانوں میں ہیں۔ ان زبانوں نے ترجمے کے ذریعے خود کو مالا مال کیا ہے۔ مثلا عربی میں بہت ترجمے ہوئے ہیں۔ فارسی میں بڑے منظم انداز میں بہت ترجمے ہوئے ہیں۔ فرانسیسی ادب کی کوئی ایسی اہم کتاب نہیں ہو گی جو فارسی میں ترجمہ نہ ہوئی ہو۔ انگریزی سے بھی، اور انگریزی کے توسط سے دوسری زبانوں سے بھی۔ لیکن اس طرح کا منظم کام یہاں مقامی سطح پر تو نہیں ہوا۔ ہمارے ہاں ترجمہ تو شروع ہو گیا تھا جونہی یہاں پرنٹنگ پریس آیا ہے۔ جنوبی ایشیاء کی زیادہ تر زبانوں میں پرنٹنگ شروع ہوئی تھی بائبل کے ترجمے سے۔ اردو میں بھی بائبل کا ترجمہ ہوا۔ تو اس کے بعد اردو کی پبلشنگ، صحافت اور دوسرے میدانوں میں لوگوں نے کام شروع کیا۔ انہوں نے پھر انگریزی سیکھی، اور وہ ترجمے کا ایک بہت بڑا دور تھا۔شروع میں جو ترجمے ہوتے تھے، وہ ذاتی کوششیں ہوتی تھیں۔ ریاست کا اس میں کچھ خاص عمل دخل نہیں تھا۔ پاکستان بننے کے بعد ریاست کی ترجیحات وہ نہیں رہیں، وہ رہنی بھی نہیں چاہئیں تھیں، لیکن لوگوں کا خیال تھا کہ حالات بہتری کی طرف جائیں گے۔ لیکن شناخت کا جو مسئلہ تھا، اس نے ریاست کے ویژن کو بہت محدود کر دیا۔ ہم نے بالکل دفاعی انداز اختیار کر لیا کہ ہم نے یہ جو ملک بنایا ہے، اس کا جواز گھڑنے کی ضرورت ہے۔ آئیڈیالوجی کی حدود نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا۔ تعلیم کے معیار کو بہت نقصان پہنچا۔
صحافتی ترجموں کی بات کی جائے تو پہلے فرائیڈے ٹائمز کا اردو ورژن نکلا کرتا تھا "آج کل" کے نام سے، اس اخبار کے خالد احمد صاحب بتاتے تھے کہ انہیں ترجمہ کروانے میں بہت مشکل پیش آتی تھی۔ کیونکہ جن لوگوں کو اردو آتی تھی، وہ بڑے بنیاد پرستانہ قسم کے مدارس کے پڑھے ہوئے ہوتے تھے، اور جن کے نظریات معتدل ہوتے تھے، انہیں اردو آتی نہیں تھی۔ لیکن اب ہم دیکھتے ہیں کہ صحافتی تراجم جیسا کہ اردو اخبارات میں چھپنے والے انگریزی سے ترجمہ شدہ کالم جو مشاہدے میں آتے ہیں، ان کا معیار بہت بہتر ہوا ہے۔ ایاز امیر ہیں، پہلے اردشیر کاووس جی کا کالم چھپتا تھا۔ ادبی تراجم کی بھی اب طلب بڑھی ہے، تو ان کی رسد میں بھی بہتری آئی ہے۔ ان کا معیار تو ظاہر ہے کہ مختلف ہوتا ہے، بہت اچھے تراجم بھی چھپتے ہیں، بہت برے تراجم بھی ۔ یہ تو میرے خیال سے ہر جگہ ہوتا ہے۔ جب اس کی مارکیٹ بڑھے گی مقابلہ بھی بڑھے گا اور معیار بہتر ہو گا۔ فارسی میں بھی یہی ہے۔ میں 1991ء میں ایران گیا تو وہاں میں نے مارکیز کی کتاب کے تین الگ الگ ترجمے دیکھے۔ اسی طرح حال میں گیا تو دیکھا کہ ارون دھتی رائے کے ناول کے دو ترجمے دستیاب تھے۔ تو یہ اسی بات پر منحصر ہوتی ہے کہ ترجمے کی صنعت کتنی بڑی ہے، اس کے قارئین کتنے زیادہ ہیں۔
دنیا کی جتنی بھی ثقافتیں ہیں، سب ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوتی ہیں۔ ہم اس طرح کی دو ٹوک اصول بندی نہیں کر سکتے۔ مختلف ثقافتوں میں بہت سی چیزیں مشترک بھی ہوتی ہیں اور مختلف بھی۔

لالٹین:ایک اچھاادبی ترجمہ ایک ثقافت سے دوسری ثقافت کے ادب کو منتقل کرتے ہوئے، پہلی ثقافت کے اثرات کو کس حد تک ڈھال لیتا ہے اور کس حد تک برقرار رکھتا ہے؟
اجمل کمال:دنیا کی جتنی بھی ثقافتیں ہیں، سب ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوتی ہیں۔ ہم اس طرح کی دو ٹوک اصول بندی نہیں کر سکتے۔ مختلف ثقافتوں میں بہت سی چیزیں مشترک بھی ہوتی ہیں اور مختلف بھی۔ مثال کے طور پر ہندی ہمارے قریب کی زبان ہے، جب ہندی زبان سے ترجمہ کر کے ہم نے ایک نمبر نکالا، تو اس میں سے کوئی پانچ فیصد لفظ ایسے ہوں گے جو ہمیں تبدیل کرنا پڑے۔ جملے کی ساخت اورافعال تمام کے تمام وہی ہیں۔ وہاں ثقافتی فرق جو ہے وہ اصل میں ذیلی ثقافتوں کا فرق ہے۔ اسی طرح فارسی کا اردو پر بہت اثر رہا ہے۔ ایک زمانے میں فارسی ادب کی یہاں وہی حیثیت رہی ہے جو آج کل یہاں انگریزی ادب کی ہے۔ تو ثقافتی طور پر فارسی سے ہم کافی زیادہ واقف ہیں۔ شعری اصناف میں تو ہمیں فارسی سے کچھ خاص فرق نہیں ملتا۔ لیکن فکشن میں آئیں تو ہمیں کافی فرق ملتا ہے۔ اسی طرح آپ لاطینی امریکا کو لے لیں۔ مثلا مارکیز کا ہم نے ترجمہ کیا۔ وہ جغرافیائی طور پر اتنے دور کی ایک ثقافت تھی، دیکھیے وہ کس طرح ہمیں اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس میں ایک ناول تھا ‘Chronicle of a death foretold’، تو وہ غیرت کے نام پر قتل کے بارے میں تھا۔ تو اس کہانی میں کرداروں کے جو محرکات ہیں، وہ بڑی آسانی سے ہمارے یہاں کے لوگوں کو سمجھ آتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ معاشرے بھی نوآبادیاتی دور سے گزرے تھے۔ یہ ساری چیزیں انہوں نے دیکھی تھیں۔ اس کے بعد گلوبلائزیشن اور ان کے فطری ذخائر کا جس طرح استحصال ہوتا رہا۔ ترجمہ اپنی جگہ ایک یہ سوال بھی پیدا کرتا ہے کہ جب اتنی ساری قدریں ان کے ساتھ مشترک ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہاں کے لکھاریوں میں وہ بات نہیں آتی۔جہاں پر ثقافتی معاشرتی فرق آتے ہیں، وہاں بھی بہت کچھ سیکھنے کو پڑا ہوتا ہے۔ ہم نے ایک ہسپانوی ناول شائع کیا جو گاؤں سے شہروں کی طرف ہجرت کے بارے میں تھا۔ لیّامازاریس کا ناول تھا، "ییلو رین"۔ ہمارے ہاں جو گاؤں سے شہر کو ہجرت آبادی میں اضافے کی وجہ سے ہوتی ہے، وہاں مسئلہ کی وجہ بڑھتی آبادی نہیں ہے۔ وہ ایک شخص کی کہانی ہے، جو اپنے گاؤں میں اکیلا رہ گیا ہے، وہ مر رہا ہے، اور گاؤں بھی اس کے ساتھ مر رہا ہے۔ تو شہر سے دیہاتوں کی طرف جو ہجرت ہے، وہ ہماری زندگیوں کی ایک نہایت اہم حقیقت ہے۔ جو شہر بنے ہیں، وہ بھی یونہی بنے ہیں، اور ہمارے دیہات جو تبدیل ہوئے ہیں، وہ بھی ایسے ہی تبدیل ہوئے ہیں۔ ایسے مراحل کو سمجھنے کے لیے بہت سی دوسری ثقافتوں کی لکھی گئی تحریریں بہت مدد دے سکتی ہیں۔
جب آپ کا جاپانی زبان سے ترجمہ کرتے ہوئے کسی ایسے لفظ سے سامنا ہوتا ہے جس کے لیے کوئی دیسی لفظ نہیں ملتا، تو بہتر یہی سمجھا جاتا ہے کہ اس کے لیے انگریزی لفظ ہی استعمال کر لیا جائے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کے لیے اتنا ہی نامانوس فارسی یا عربی لفظ استعمال کیا جائے، کہ وہ لفظ ہمارا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ وہ لفظ کم ہمارا ہے، لیکن انگریزی کا ایک لفظ اگر ہمارے عام استعمال میں آ گیا ہے، وہ زیادہ ہمارا ہے۔

لالٹین: ایک ادبی ترجمہ کرتے ہوئے، کسی پڑوسی ثقافت کی مشابہہ زبان سے اپنی زبان میں میں ترجمہ کرتے ہوئے، ان مشابہتوں کے بیچ سے تخلیقی گنجائشیں کس طرح نکالی جا سکتی ہیں؟
اجمل کمال:یوں کرتے ہوئے مترجم کی اپنی ترجیحات اور اس کی اپنی شخصیت شامل ہو جاتی ہے۔ مثلا زبان، افعال سے بنتی ہے۔ جب آپ فارسی سے اردو میں ترجمہ کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ آپ کو افعال سبھی اردو کے لانا پڑتے ہیں۔ باقی چیزوں کے ناموں کی اتنی اہمیت نہیں ہوتی۔ صادق ہدایت کے ناول "بوف کور" کا ترجمہ کرتے ہوئے فارسی کے ساتھ ساتھ میں نے ایک انگریزی ترجمے سے بھی مدد لی تھی۔ اس میں ایک جگہ آیا کہ ایک طاق کے اوپر ایک کوزہ رکھا ہے۔ انگریزی ترجمے میں کوزے کے لیے 'کپ' کا لفظ استعمال کیا گیا تھا، لیکن کپ اور کوزہ ہمارے لیے بہت مختلف مزاج کے لفظ ہیں۔ فارسی سے بہت سے مطالب ہمارے ہاں مشترک ہیں۔ اور اس طرح آپ بہت سی اصل چیزوں کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ دوسری مثال میں نجیب محفوظ کے ایک ناول کی مثال دوں گا، جسے ہمارے لیے فہمیدہ ریاض نے انگریزی سے ترجمہ کیا تھا۔ تو انہوں نے ہمیں کہا کہ کسی طرح انہیں اس کا اصل عربی متن بھی منگوا کر دیا جائے۔ انہیں عربی بہت نہیں آتی تھی لیکن پھر بھی اصل متن سے بہت فرق پڑا۔ اس میں اس کی مرکزی کردار جو خاتون تھی، اس کا نام لکھا تھا ڈوریا (Doria)، لیکن عربی میں اس کا نام تھا درّیہ۔ تو کلمہ نویسی کے بہت سے مسائل اس سے حل ہو جاتے ہیں۔ پھر اس میں ایک اور جملہ تھا؛ “the coffin was brought to the courtyard” تو جب آپ اردو میں Coffin کا ترجمہ کریں گے تو پہلا لفظ تابوت آپ کے ذہن میں آئے گا۔۔ لیکن عربی متن میں اس کی جگہ لفظ تھا میّت۔۔ تو میّت کا لفظ ایسا ہے جو ہمارے لیے بالکل اپنا اپنا ہے۔ تو جب میّت صحن میں لایا گیا، اور تابوت لایا گیا، تو دونوں کی ثقافتی فضا بڑی مختلف ہوتی ہے۔ انگریزی اب بہت سی ثقافتوں کو جوڑنے والی زبان بن گئی ہے۔ مثلا جب آپ کا جاپانی زبان سے ترجمہ کرتے ہوئے کسی ایسے لفظ سے سامنا ہوتا ہے جس کے لیے کوئی دیسی لفظ نہیں ملتا، تو بہتر یہی سمجھا جاتا ہے کہ اس کے لیے انگریزی لفظ ہی استعمال کر لیا جائے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کے لیے اتنا ہی نامانوس فارسی یا عربی لفظ استعمال کیا جائے، کہ وہ لفظ ہمارا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ وہ لفظ کم ہمارا ہے، لیکن انگریزی کا ایک لفظ اگر ہمارے عام استعمال میں آ گیا ہے، وہ زیادہ ہمارا ہے۔ جب آپ زبان کو مائیکرو سطح پر دیکھتے ہیں تو اس میں مترجم کی اپنی ترجیحات کا بھی بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم کسی دوسرے کی ترجیحات کو غلط نہیں کہہ سکتے۔ البتہ ہم امتیاز کر سکتے ہیں۔
ایک نوجوان جب غزل لکھنا شروع کرتا ہے تو پہلے دس پندرہ سال تک تو وہ اس غیر یقینی حالت میں رہتا ہے کہ وہ بحر میں ہے یا نہیں۔ اسے کوئی بھی یہ کہے کہ وہ بحر سے خارج ہے تو وہ اعتماد کھو بیٹھتا ہے۔ اس کے میٹرز جو ہیں وہ یہاں کے نہیں ہیں۔ اور پھر بہت سے لوگ خلیفے بن جاتے ہیں کہ ہمیں عروض پر کامل دسترس حاصل ہے۔ عروض ایک دوپٹے کی طرح ہیں، جو آپ ایک عورت کو دے دیتے ہیں اور آپ کی ساری زندگی اس کو سنبھالنے میں گزر جاتی ہے۔

لالٹین:ادبی میلوں کے روز افزوں رجحان کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
اجمل کمال: یہ ایک طرح کی ادبی سماجی سرگرمی ہے۔ جیسے ہمارے ہاں ایک روایت تھی ادبی نشست کی، اس میں لوگ جمع ہوتے تھے جو بڑی حد تک ہم خیال ہوتے تھے۔ وہ ایک چیز کو سنتے تھے، اس پر اپنی رائے دیتے تھے۔ تو یہ ایک طرح سے اس کی وسیع تر شکل ہے۔ اس کی افادیت محدود ہے۔ کیونکہ اس سے یوں ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ادبی میلوں کو پڑھنے کا نعم البدل سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ ادبی نشستوں کے بارے میں بھی مجھے یہی اعتراض تھا کہ وہاں لوگ آتے ہیں اور ادب کے بارے میں گفتگو کر سن کر یہی سمجھتے ہیں کہ ہم نے ادب پڑھ لیا۔ جبکہ یہ پڑھنے کا جو کام ہے، یہ محفل میں بیٹھ کے نہیں ہو سکتا۔ اس کا اتنا ہی فائدہ ہے کہ وہاں جا کے آپ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ کون سی چیز پڑھنے کے لائق ہے۔ اس کے بعد آپ اس چیز کو حاصل کر کے گھر جا کر پڑھیں۔ ایک لکھاری نے ایک چیز اکیلے بیٹھ کر لکھی ہے، تو اس کو اکیلے بیٹھ کر ہی پڑھا جانا چاہیے۔ ادبی میلوں میں یوں ہوتا ہے کہ لوگ جاتے ہیں، اور ادب پر گفتگو میں حصہ لے کر سمجھتے ہیں کہ ان کی ادب کی پیاس بجھ گئی ہے۔ یہ لوگوں کا اپنا انتخاب ہے۔ باقی یہ ہے کہ وہاں بہت سے لوگوں کو ملنے کا موقع مل جاتا ہے۔ وہ بھی ایک مثبت بات ہے۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ ان میں کتابوں کے اسٹالز ہوتے ہیں۔ تو ایسی اچھی کتابیں جو بری تقسیم کاری کی وجہ سے دوسرے شہروں تک نہیں پہنچ پاتیں، وہ آپ کو وہاں مل جاتی ہیں۔ تو اگر آپ عام طور پر ان سے بہت زیادہ کی توقع نہ رکھیں تو مجموعی طور پر وہ اچھی چیز ہے۔

لالٹین:"آج" کے گوشۂ شاعری میں صرف نثری نظم ہی کیوں؟
اجمل کمال: اس کی وجہ صرف اتنی تھی کہ غزل تقریبا ہر رسالے میں چھپتی ہے۔ تو اس کو ظاہر ہے کہ ہمارے رسالے کی سرپرستی کی ضرورت نہیں ہے۔ غزل جو ہے، وہ باقی ہر کہیں یعنی فارسی میں، عربی میں اور ہندی میں۔۔ ہر جگہ اس کی ایک ہی ہیئت ہے۔ تو شاعری میں ایسا تو مناسب نہیں ہے ناں کہ شاعر جو کہنا چاہ رہا ہے، اس کی ہیئت کی وجہ سے اس کو بدل کر کہنا پڑے۔ تو میرے خیال سے نثری نظم جو ہے وہ آج کی شاعری کی اصل ہیئت ہے۔ غزل جو ہے وہ میرے خیال سے شاعری کی مصنوعی قسم کی ہیئت ہے۔ اس کا آپ کے اپنے اندر کے شاعرانہ اظہار سے کم تعلق ہوتا ہے پھر ہمارے پاس جگہ بہت محدود ہوتی ہے۔ ہم نے اپنے پیسوں سے چھاپنا ہوتا ہے۔ تو میں اس کی ضرورت نہیں سمجھتا کہ غزل کو ہمارے رسالے میں بھی چھاپا جائے۔
ایک نوجوان جب غزل لکھنا شروع کرتا ہے تو پہلے دس پندرہ سال تک تو وہ اس غیر یقینی حالت میں رہتا ہے کہ وہ بحر میں ہے یا نہیں۔ اسے کوئی بھی یہ کہے کہ وہ بحر سے خارج ہے تو وہ اعتماد کھو بیٹھتا ہے۔ اس کے میٹرز جو ہیں وہ یہاں کے نہیں ہیں۔ اور پھر بہت سے لوگ خلیفے بن جاتے ہیں کہ ہمیں عروض پر کامل دسترس حاصل ہے۔ عروض ایک دوپٹے کی طرح ہیں، جو آپ ایک عورت کو دے دیتے ہیں اور آپ کی ساری زندگی اس کو سنبھالنے میں گزر جاتی ہے۔ وہ جیسے ارشد محمود صاحب کہتے ہیں ناں کہ دوپٹے کا کوئی استعمال تو ہے نہیں۔ وہ صرف اس کی خود اعتمادی ختم کرنے کے لیے اس کو تھمایا جاتا ہے۔ کہ موٹرسائیکل پر بیٹھتے ہوئے کہیں پہیے میں نہ آ جائے۔ فیض صاحب کا ایک مکالمہ ہوا تھا ناظم حکمت سے۔ تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کی شاعری میں کس طرح کے ماترے استعمال ہوتے ہیں۔ فیض نے کہا کہ ہماری شاعری میں تو سبھی فارسی کے میٹرز ہوتے ہیں، جو کہ حقیقت ہے۔ تو ناظم حکمت بہت حیران ہوئے۔ ان کے لیے یہ سمجھنا بہت مشکل تھا کہ آپ ایک زبان کی شاعری کا پورا فارمیٹ باہر سے درآمد کر لیں۔ تو اب بھی جس آدمی نے غزل میں تیس چالیس سال گزارے ہوں، ان سے آپ یہ بات کہیں تو وہ آپ کو ماریں گے۔ کہ یہ تو ہماری اپنی اصناف ہیں۔ غزل میں اس طرح کے اعتراضات ہیں میرے۔
ہمارے ملک اور ہمارے معاشرے میں جس طرح کی زندگی ہے، اس کی تشریح کے لیے سب سے مناسب میڈیم فکشن ہے۔ اس سب کچھ کا نقشہ کھینچنے کے لیے ہمیں جزویات کی ضرورت ہوتی ہے، اور اس طرح کی جزویات ہم شاعری میں نہیں لا سکتے۔ شاعری میں ایک مرکوز قسم کا احساس ہوتا ہے، ایک خاص قسم کے احساس کا مرکوز قسم کا اظہار ہوتا ہے۔ فکشن اسی احساس کا پھیلاؤ ہے۔

لالٹین:فکشن کی طرف جھکاؤ کی کوئی شخصی وجہ؟
اجمل کمال: ہمارے ملک اور ہمارے معاشرے میں جس طرح کی زندگی ہے، اس کی تشریح کے لیے سب سے مناسب میڈیم فکشن ہے۔ اس سب کچھ کا نقشہ کھینچنے کے لیے ہمیں جزویات کی ضرورت ہوتی ہے، اور اس طرح کی جزویات ہم شاعری میں نہیں لا سکتے۔ شاعری میں ایک مرکوز قسم کا احساس ہوتا ہے، ایک خاص قسم کے احساس کا مرکوز قسم کا اظہار ہوتا ہے۔ فکشن اسی احساس کا پھیلاؤ ہے۔ معاشرے کے مختلف کرداروں کے رویے، ان کا مکالمے اور اظہار کا انداز۔۔ فکشن کے ساتھ بنیادی دلچسپی کی وجہ تو یہ ہے۔ ہمارے ہاں جو ایک طرح کا تکلف تھا کہ بالکل کتابی سی زبان لکھنی ہے۔ تو وہ اچھے فکشن کے راستے میں آ جاتا تھا۔ مثلا احمد ندیم قاسمی نے گاؤں کی زندگی کے بارے میں لکھا۔ لیکن ان کے کردار جو زبان بولتے ہیں، وہ بالکل شہری زبان ہے۔ تو آپ کو اس پر یقین کرنے میں مشکل ہوتی ہے۔ تو اب وہ تکلف بڑی حد تک ٹوٹ رہا ہے۔ مثلا خالد طور صاحب جب لکھتے ہیں، تو وہ اس کے مکالمے تک پنجابی میں لکھتے ہیں، اور اسی علاقے کی پنجابی، جس کے بارے میں وہ لکھ رہے ہوتے ہیں۔ آپ اس کو بدل نہیں سکتے۔ جو چیز زیادہ مشکل ہو جاتی ہے، اس کو وہ قوسین یا حواشی میں لکھ دیتے ہیں، لیکن وہ اس کو مسخ نہیں کرتے۔ تو ظاہر ہے کہ جس کردار کے بارے میں آپ لکھ رہے ہیں، وہ اپنی زندگی گزار رہے ہیں، تو وہ بے تکلفی سے بات کرتے ہیں۔ اس میں گالیاں بھی ہوتی ہیں۔ لیکن خالد طور صاحب ایک نفیس آدمی ہیں، وہ گالیاں والیاں نہیں لکھتے، لیکن جیسے بہت سے دوسرے لوگ آج کل لکھ رہے ہیں۔ مرزا اطہر بیگ ہیں جیسے، وہ اس کو ویسے ہی لکھتے ہیں۔ کرداروں کی زندگی میں جتنا تشدد ہے، ان کی زبان میں بھی اتنا ہی تشدد ہو گا۔ تکلف کی حدیں بھی ٹوٹ رہی ہیں۔ یہ سب کام سب سے اچھی طرح فکشن میں ہو سکتا ہے۔

لالٹین:آپ فکشن کےایک جیّد قاری ہیں،آپ کےخیال میں افسانے کی مغربی روایت نے کہانی کی لوک اورکلاسیکی روایت پر کیااثرات مرتب کیے ہیں؟
اجمل کمال: افسانے کی روایت تو ہمارے ہاں مغرب سے ہی آئی ہے۔ ہمارے ہاں جب افسانہ لکھا جانے لگا تو شروع میں روسی روایت سے اکتساب کیا گیا۔ ہمارے لکھنے والے اپنے آپ کو یہاں کا نمائندہ سمجھتے تھے اور مغرب کو وہ دوسری دنیا سمجھتے تھے، ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہی کام یہاں کی دوسری زبانوں میں بھی ہو رہا ہے۔ کہانی تو ہوتی ہی لوک ہے، لوگ جو سناتے ہیں وہ کہانی ہے، اس کی طرف ان کی توجہ کم گئی۔ تو دس پندرہ بڑے لکھاریوں کو چھوڑ کے، باقی سب ایک طرح سے کہانی میں بطور صنف میں اضافے کرتے تھے۔ ان کا یہ مطلب نہیں ہوتا تھا حقیقی زندگی سے فارم اور کانٹینٹ نکالا جائے۔ جب بھی آپ کسی ادبی نشست میں جاتے ہیں تو یہی بات رہتی ہے کہ سب سے پہلے یہ بات طے کر لی جائے کہ یہ افسانہ ہے یا نہیں، یہ تو بیوقوفی کی بات ہے۔ پھر انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ان کی برابر کی زبانیں بھی وہ اثر لے رہی ہیں۔ کچھ ان کو دیکھیں کہ انہوں نے کیا کچھ اثر لیا۔ تو اردو اس لحاظ سے تو آس پاس کی زبانوں سے بہت پیچھے ہے۔

Related Articles

Change Through Music

Taimur Rahman is an academic, political activist and a musician. He is the band leader and spokesperson for the music group named Laal.

بلوچ مزاحمت کاروں سے ایک اپیل

تمام بلوچ رہنماوں کو حربیار مری کی طرح واضح الفاظ میں ایسی کاروائیوں کی مذمت کرنی ہوگی جو بلوچ یا غیر بلوچ عوام کے مفادات کو نقصان پہنچائیں ۔

پنجاب یونیورسٹی: داخلوں کے لئے این ٹی ایس ٹیسٹ کی شرط ختم، طلبہ کے تحفظات

این ٹی ایس ٹیسٹ تمام یونیورسٹیز کے طلبہ کو یکساں معیار پر پرکھنے کا ذریعہ تھے اس لئے انہیں ختم کرنے کی بجائے ڈیپارٹمنٹس اور یونیورسٹیز کے ٹیسٹ ختم کئے جاتے تو بہتر تھا۔