ناف کٹوانے کی سزا

ناف کٹوانے کی سزا

کائناتی برتن میں آنسو اتنے جمع ہو گئے ہیں
کہ بارش کی بھی ضرورت نہیں
بچہ اور مذہب جڑواں ہیں۔
ماں کھارے پانی کی گھڑتی بچے کو دیتی ھے
مذہب یہ پینے سے انکار کر کے
رنگ نسل اور خطہ میں بٹ جاتا ھے۔

خدا بہت مصروف ہے
وہ چاھتا ہے۔
انسان ناف سے ناف ملانے تک فارغ رہے۔
مگر وہ انگور کی بیل کاشت کرتا کرتا
نشے کے گھونٹ کو حلق سے اترنے تک
لڑکیوں کے قد و قامت کو تاڑتا ہے۔
مگر چند رشتوں کے بھنور میں پھنس کر
خدا کی طرح مصروف ھو جاتا ھے۔

وہ دن رات
خمیر بوتا کاٹتا
اپنے بدن کی مٹی کھرچتا رھتا ھے۔
اچانک ایک دن بلی
پنچہ مار کر مٹی کے ڈھیر کو
اڑاتی خوب ہنستی ھے۔

انسان خدا سے روٹھا روٹھا
زمین سے صرف دو گز جگہ مانگتا ھے۔
کپاس کا پھول
درزی کو دھاگہ
جولاھے کو لٹھا دیتا رہتا ھے۔
بیلچہ زمین کا دل کھود کر روٹھے انسان کو
سونے کی جگہ دینے کے لئے
ایک منٹ بھی نہیں سوتا

وقت کے دیوتا کو فرصت نہیں ملتی۔
اور وہ لٹھے میں ملفوف ضدی کو
کبھی جلاتا ھے
کبھی مٹی میں بو دیتا ھے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

انسانی حقوق کا بینر(جس پر چیونٹیاں رینگ رہی ہیں)

حفیظ تبسم:سلمان حیدر!
تمہاری نظمیں اس دریا کے لئے ہیں
جس میں انسانوں کی لاشیں بہتیں
پہچان سے عاری ہیں

آج کی تازہ خبر جو کل بھی تازہ تھی

محمد حمید شاہد: اندھیرا
بولائے ہوئے کتے کی طرح
گلیوں میں الف ننگا بھاگ رہا ہے

کائنات کا آخری اداس گیت

نصیر احمد ناصر: کوئی اپنی غیر مرئی انگلیوں سے
پیانو کو چھیڑتا ہے
اور کہیں بہت قریب سے
ساکن اور بےآواز آسمانی گیت سنائی دے رہا ہے

  • Syed Sultan Abbas

    صفیہ بیبی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ایک فارسی کا شعر اکثر گنگنایا کرتے تھے جسکا نفس مضمون کچھ اس طرح ہےکہ انسان دنیا میں برہنہ صرف دوگز لٹھے کی تلاش میں آتا ہے؛دوسرا واقعہ کوروں اور پانڈوں کی جنگ کا ہے کہ جس میں ارجن کے سارے بھائ قتل گاہ میں مارے جانےکےبعد جب سورگ میں پہنچتے ہیں تو انسے سوال ہوتا ہےکہ دنیا میں سب سےحیرت زدہ کردینے والی بات تم نے کیا دیکھی تو ان میں ارجن جواب دیتا ہے کہ سب سے زیادہ حیران کن بات یہ دیکھی کہ ہماری آنکھوں کےسامنے ہمارے پیارے دم توڑتے ہیں اور ہم ان واقعات سے عبرت نہیں پکڑتے؛آپکی اس نظم میں سبق بھی ہے؛درس عبرت بھی اور انسان کی کم ماۂگی کی نہایت اعلی تصویر کشی بھی؛ بے حد جاندار نظم؛بہت سی تحسین؛سلامت رھیں؛سدا سکھی رھیں