نرم گھاس میں سرگوشیاں

نرم گھاس میں سرگوشیاں
نرم گھاس میں سرگوشیاں

شاعر:ہانس بورلی
ترجمہ: زاہد امروز

زندگی ہمیشہ
موت کے ہم راہ ہانپتی ہوئی دوڑ نہیں ہوتی

زندگی فقظ
حقیر مقاصد کی طرف دس ہزار مشقت بھرے قدم نہیں

نہیں ، زندگی بہت وسیع ہوتی ہے
نرم گھاس میں سرگوشیاں بن جانے کے لئے

زندگی بہت وسیع ہوتی ہے
کچھ لمحے زندگی اور موت کو بھول جانے کے لیے
لیکن تمام مصروف لوگ
سنہرے بید سے بنے اپنے کھانے کے کمروں میں
تنخواہی لفافوں اور گھڑیوں کے ساتھ
ایک ایک لمحے کے بخیل ہوتے ہیں
اُن کے دل کی صدائیں
لوہے اور مشینوں کے شور میں ڈوب جاتی ہیں

لیکن جنوبی ہواؤں میں نرم گھاس
سرگوشیوں میں گیت گنگناتی رہتی ہے
جنہیں اُن کے دل فیکٹریوں کے فرش پہ یاد کرتے ہیں

تنہا پرندے
سورج کی روشنی میں تیرتے رہتے ہیں
اور تیرتے ہوئے خوشی میں گانے لگتے ہیں
Zahid Imroz

Zahid Imroz

Zahid Imroz is a poet, writer and physicist. He has published two books of poems. He teaches physics and also works on global peace and security.


Related Articles

ہائے ماں

ثمینہ تبسم: اب میں جب بھی سپارا کھولتی ہوں
مُجھ کو پھر سے ڈراتا ہے وہ خواب

بابے کی ہٹی

نصیر احمد ناصر: میں جب چھوٹا بچہ تھا
بابے کی ہٹی پر
ایک پڑوپی گندم سے
مٹھی بھر نُگدی اور مکھانے مِل جاتے تھے

ایک دن مجھے مار دیا جائے گا

قرۃ العین فاطمہ: مجھے معلوم ہے مجھے مار دیا جائے گا
کسی بھی طرح
گولی سے یا تیز دھار آلے سے
کسی بھی وجہ سے
یا بغیر کسی وجہ کے
ایک دن مجھے مار دیا جائے گا