نظریہِ پاکستان یا نظریہِ حکمران؟

نظریہِ پاکستان یا نظریہِ حکمران؟

youth-yell

چند روز قبل کچھ قریبی احباب نے میری توجہ پشاور سے جاری ہونے والے اخبار " روزنامہ آج" میں شائع کئے گئے ایک اشتہار کی جانب مبذول کروائی جوخیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں صفائی کیلئے خاکروب کی خالی آسامیاں پر کرنے کے حوالے سے مورخہ19 مارچ 2017 کے ایڈیشن میں ضلعی ناظم بنوں کے حکم پر ٹی ایم اے بنوں کی جانب سے جاری کیا گیاتھا ۔سرکاری اداروں میں آسامیوں کیلئے ایسے اشتہاروں کا اجراء بظاہر ایک معمول کی کاروائی ہے تاہم اس اشتہار کے متن کے پیش نظر یہ یقیناًایک نہایت غیر معمولی اور توجہ طلب اشتہار تھا۔ اشتہار میں خاکروب کی آسامیوں کیلئے درخواست گزار کی اہلیت میں مذہب کی شرط عائد کی گئی تھی جبکہ قابل قبول مذاہب کے نام بھی درج کیئے گئے تھے جن میں عیسائی، ہندو، بالمیکی کے ساتھ ساتھ شیعہ مسلک کو بھی بطور مذہب د رج کیا گیا تھا ۔ بظاہر اشتہار میں مذہب کی شرط آسامیوں کو غیر مسلموں کے لیے مختص کرنے کی کوشش دکھائی گئی تاہم اسمیں ایک مسلمہ اسلامی مکتب فکر "شیعہ " کے اضافے کا مقصد ایکطرف تو مکتبِ تشیع کی توہین و تضحیک اور اس مسلک کا نام بطور علیحدہ مذہب درج کر کے اسے غیراسلامی قرار دینا تھا تو دوسری جانب یہ پاکستان کے نظریہ اساسی سے انحراف اور قومی وحدت و اخوت کو سبوتاژ کرنے کی سازش تھی۔ یہ اشتہار د راصل اس تکفیری سوچ کا آئینہ دار تھا جس کے بیج ضیائی آمریت کے تاریک ترین دور میں اسلام دشمن قوتوں کے ایما پر بیرونی دنیا سے برآمد کر کے سرزمین پاکستان میں بوئے گئے، تاریخ اسلام کے اوائل سے ہی سر اٹھانے والے فتنہِ خوارج کی طرز پر فساد، عصبیت اور دہشت سے انکی آبیاری کی گئی اور عالمی شیطانی قوتوں اور انکے آلہ کاروں کے سرمائے سے پروان چڑھایا گیا جس سے ایسی خاردار فصل تیار ہوئی جسے کاٹتے ہوئے پوری قوم بلا تفریقِ مکتب و مسلک لہو لہان ہو چکی ہے۔

روزنامہ" آج" میں شائع ہونے والا یہ اشتہار اپنی نوعیت کے اعتبار سے ملکی تاریخ کا پہلا واقعہ تھا جس میں ایک سرکاری دفتر کی آسامیوں کیلئے سرکاری فنڈ کے استعمال سے دیئے جانے والے اشتہار کے ذریعے کچھ عناصر نے اپنے مذموم منافرانہ مقاصدکے حصول کی خاطر مکتب تشیع کو براہ راست نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم اگر ماضی کا مطالعہ کیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ اشتہار نظریہ پاکستان سے انحراف کرتے ہوئے مکتبِ تشیع کو دبانے کی اس طویل غیر اعلانیہ مہم کی ایک کڑی ہے جس میں وطن عزیز کو اسلامی فلاحی ریاست کے بجائے ایک مخصوص گروہی سٹیٹ ثابت کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ اس مہم کا آغاز جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء دور میں ہوا جب اسلامائزیشن کے بہانے پاکستان کو اسلامی کے بجائے مکتبی و گروہی سٹیٹ بنانے کا اعلان کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے متنازعہ قوانین متعارف کرواکر وطن عزیز میں بسنے والے شیعہ مکتب فکر کے افراد کی حق تلفی کی گئی،کبھی زکوٰۃ آرڈیننس جاری کر کے مکتب تشیع کو اپنے عقائد کے خلاف حکومتی نظام کا پابند بنانے کی کوشش کی گئی تو کبھی پولیس ایکٹ میں متنازعہ ترمیم کے ذریعہ مذہبی جلوسوں پر پابندیاں عائد کی گئیں، مارشل لائی حکومت کے ان غیر جمہوری و غیر آئینی اقدامات کے رد عمل میں اپنے آئینی حقوق اور وطن عزیز پاکستان کے نظریہ اساسی کے تحفظ کی غرض سے مکتب تشیع کی جماعت تحریک نفاذ فقہ جعفریہ وجود میں آئی جس نے طویل احتجاجی تحاریک چلا کر حکومت کو مجبور کر دیا کہ وہ ان ناروا فیصلوں اور منفی اقدامات کو واپس لے۔ بعدازاں شریعت بل کے نام پر ملک میں مخصوص مکتب فکر کو بالا دست اور دیگر کو زیر دست بنانے کی کوشش کی گئی جسے ملتِ تشیع کے راہنما آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی جانب سے یہ کہ کر مسترد کیا گیا کہ " 73 کا آئین ملک میں اسلامی اور جمہوری اقدارکے تحفظ کی مکمل ضمانت فراہم کرتا ہے لہٰذا اسکی موجودگی میں کسی اور بل کی ضرورت نہیں کیونکہ شریعت بلوں سے نہیں نیک دلوں سے نافذ ہوتی ہے"۔ حکومت کے اس اقدام کے منفی اثرات کو سمجھتے ہوئے دیگر محب وطن قوتوں نے بھی اس بل کو مسترد کر دیا جسکے باعث یہ سازش ناکام ہوئی۔

ضیاء دور میں ہی وطن عزیز میں دہشتگردی کے سلسلے کا آغاز ہوا، ہتھوڑا گروپ سے لے کر کلاشنکوف کلچر اور ملک کے طول و عرض میں نشہ کی لعنت کی ترسیل تک ، ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے والے اکثر مسائل نے اسی دور میں جنم لیا ۔ مسلح گروپوں کی تخلیق کی گئی اور انہیں پھلنے پھولنے کیلئے مسلکی چھتریوں کے سائے فراہم کر کے ان سے دین و عقیدہ کا نام پر سیاسی مقاصد کے حصول کا کام لیا گیا، سیاستدانوں اور حکمرانوں کی سرپرستی نے ان گروپوں کو معاشرے میں قوت و اختیار فراہم کیاجبکہ جوابا ان گروپوں نے اپنے سرپرستوں کے جائز و ناجائز امور سرانجام دیکر انہیں مذید طاقتور بنایا ۔یہ گروپ سیاسی و سرکاری نگہداشت میں پرورش پاتے رہے یہانتک کہ انہیں یہ بات سمجھ آگئی کہ عسکری قوت کے حصول کے علاوہ اپنا ایک سیاسی چہرہ بھی متعارف کروایا جائے جسکے ذریعے ایوانان اقتدار تک رسائی حاصل کی جائے اور ملک میں قانون سازی کے عمل پر اثر انداز ہوکر اپنے مذموم مقاصد کا حصول زیادہ موثر اندز میں یقینی بنایا جائے، لہٰذا قومی خدمت کے بجائے فرقہ وارانہ بنیادوں پر انتخابی سیاست میں حصہ لینے والی شدت پسند پارٹیاں منظر عام پر آئیں جنہوں نے اپنے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے بیرونی امداد کے بل بوتے پر معا شرے میں عدم برداشت اورتشدد کے کلچر کو فروغ دیا اور مختلف مکاتب کے مابین معمولی نظریاتی اختلافات کو بہانہ بنا کردہشتگردی و قتل و غارت گری کا بازار گرم کر کے، قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا اسلام و پاکستان دشمن ایجنڈا آگے بڑھایا۔ دہشتگردی کے اولین واقعہ میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے لاہور کے علاقہ کرشن نگر کے رہائشی علامہ محمد جعفر زیدی کا بہیمانہ قتل کیا گیا،انکے بعد اہلحدیث مکتبِ فکر کے مولانااحسان الہٰی ظہیر کو نشانہ بنا کر قتل کیا گیا اور یوں فرقہ و نظریہ کے نام پر دہشتگردی کا آغازہو گیا جس کا دائرہ وقت کے ساتھ وسیع کیا جاتا رہا اور دہشتگردی میں اضافہ ہوتا رہا۔

وطن عزیز پاکستان جسے تمام مکاتب فکر کی یکساں میراث قرار دیا گیا تھا،جسے اسلام کی عظیم تعلیمات و روایات کی روشنی میں عدل و انصاف اور مساوات کا عملی نمونہ بننا تھا،اور جو اپنے تمام باسیوں کے لیے مساوی حقوق کا ضامن تھا، کی باگ ڈور ایسے عناصر کے ہاتھ آگئی جو روز اول سے قیام پاکستان کے حامی ہی نے تھے۔ حکمرانوں کی جانب سے ایسے اقدامات اور پالیسیاں تشکیل دی گئیں جن سے اہلِ تشیع کے نظریاتی تشخص کی نفی ہواور ملک میں اسکے وجود کی علامات تک کو مٹایا جا سکے۔ دین و وطن کے دشمنوں کی جانب سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت دہشتگردی کا رخ ایسے پروگراموں، مقامات اور آثار کی جانب پھیردیا گیا جن سے قومی سطح پر دین اسلام اور مشاہیر اسلام سے محبت و مودت اور انکی صبر و برداشت، عفو و درگزر، مساوات اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کی آفاقی تعلیمات کا ابلاغ ہوتا ہو، لہٰذا ملک بھر میں مساجد ، امامبارگاہوں، میلاد اور عزاداری کے پروگراموں یہانتک کہ اولیائے کرام کے مزارات تک کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا۔ ایسے حالات میں حکمرانوں کی اولین ذمہ داری دہشتگردوں اور انکے سہولت کاروں کے خلاف کاروائی کر کے اس فتنہ سے قوم کاتحفظ یقینی بنانا تھاتاہم حکومتوں کی جانب سے دہشتگردوں کے بجائے دہشتگردی کا نشانہ بننے والوں کے خلاف طاقت، رعب اور دبدبہ کا استعمال کیا گیا۔سالہاسال سے جاری میلاد اور عزاداری کے پروگراموں کو محدود و مسدود کرنے کی سازشیں کی گئیں،جسکے لیے انتظامیہ کے ذریعہ بانیانِ مجالس و جلوسہائے عزاداری ، اور متولیان مساجد و امامبارگاہ پر ناجائز دباؤ ڈال کر آئین پاکستان کے آرٹیکل20 کی شق "الف " اور "ب" میں تفویض شدہ حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی جبکہ ان غیر آئینی اقدامات کے سامنے حرفِ انکار بلند کرنے والوں کے خلاف مقدمات اور " شیڈول فور "جیسے حربے استعمال کیئے گئے جن کے ذریعے مکتب تشیع سے متعلق بیگناہ اور امن پسند افراد کی کثیر تعداد کو جکڑ کر ایک طرف تو ان کا معاشرتی و اقتصادی استحصال کیا گیا جبکہ دوسری جانب ان اقدامات سے دہشتگردوں کے عزائم کو براہ راست اعانت فراہم ہوئی ۔

آئین پاکستان کے آرٹیکل 25کی شق نمبر 1 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مخصوص مکتبِ فکر کی بالا دستی قائم کرنے اور دیگر کو دیوار سے لگانے کے ایجنڈے پر عمل کیا گیا۔ آرٹیکل 27 کی شق نمبر1سے انحراف کرتے ہوئے سرکاری اداروں میں خاص مکتب سے متعلقہ شخصیات کو ترجیحا ملازمتیں دی گئیں جبکہ تعلیمی اداروں میں اسی مکتب فکرکے نظریات و عقائد کو درسی نصاب کا حصہ بنا کر دیگر کی نفی کی جاتی رہی۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل نمبر22 کی شق نمبر1 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں مکتب تشیع (فقہ جعفریہ) سے تعلق رکھنے والے طلباء کا جداگانہ نصاب دینیات کا حق غصب کیا گیا اور شیعہ دینیات کی تعلیم کے لئے سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی بھرتیوں پر کوئی توجہ نہ دی گئی تاکہ ایک مخصوص مکتب کی تعلیمات کا ہی ابلاغ ممکن بنایا جاسکے۔ اس عمل میں سرکاری میڈیا اور حکومتی تعلیمی اداروں کے استعمال کے علاوہ ملک بھر میں مخصوص طرز فکر کے مدارس کا قیام عمل میں لا کرسرکاری سرپرستی میں انہیں پروان چڑھایا گیا۔ حکومتی حمایت یافتہ مخصوص نظریاتی یلغار کے آثار ملک کے حساس اداروں میں بھی نظر آنے لگے اور نوبت بہ ایں جا رسید کہ شجاعتِ حیدری کی وارث اور نشانِ حیدر کی امین بہادر افواجِ پاکستان میں جذبہ جہاد اورفتح و ظفر کی ضمانت تصور کیئے جانیوالے " نعرہِ حیدری "کو بھی اسی مخصوص فکر کے تحت بند کروا کر ا فوجِ پاکستان کو پاکستانی کے بجائے مخصوص مسلک و مکتبِ فکر کی فوج ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ غرضیکہ ہر وہ عمل اختیار کیا گیا جس سے ثابت کیا جاسکے کہ ملک میں ایک مخصوص مکتب کی اجارہ داری ہے جبکہ دیگر کا وجود اگر ہے بھی تو برائے نام ہے۔ میڈیا پر بھی ایسی ہی امتیازی پالیسیوں کا تسلسل جاری رکھا گیا، اہل تشیع سے متعلق اگر نماز عید کی خبر بھی دکھائی جاتی ہے تو ویڈیو کلپ میں ہاتھ کھولے ہوئے قیام کی جگہ رکوع یا سجدہ کی حالت میں دکھائی جاتی ہے، وطن کی حفاظت میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہونے والے کسی شیعہ فوجی یا پولیس اہلکار کی نماز جنازہ کی ادائیگی بھی فقہ جعفریہ کے مطابق نہیں دکھائی جاتی ۔ نظریہ پاکستان کے فلسفے سے انحراف کرتے ہوئے وطن عزیز میں اسلامی قوانین کے نفاذ و تشریح کیلئے قائم اداروں بشمول اسلامی نظریاتی کونسل، رویت ہلال کمیٹی ، متحدہ علماء بورڈ اور دیگر کمیٹیوں میں بھی مخصوص مکتب فکر کاتسلط ہے جبکہ انمیں مکتب تشیع برابری کی سطح پر نمائندگی سے آجتک محروم ہے ، حکومتوں کی جانب سے ان اداروں کی نشستوں کو سیاسی سودا بازی کیلئے ا ستعمال کیا جاتا ہے اورایسے غیر نمائندہ عناصر کو مقرر کیا جاتا ہے جو دین سے زیادہ حکمرانوں کے وفادار اورمطیع ہوں جبکہ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ان اداروں کی سربراہی کبھی بھی مکتب تشیع سے تعلق رکھنے والے نمائندوں کی نہیں دی گئی جسے محض اتفاق تصور نہیں کیا جا سکتا ۔

اولیائے کرام کے مزارات کسی ایک فرق و مکتب نہیں بلکی پوری انسانیت کے لیے دینی و روحانی تسکین اورتکمیلِ حاجات کے مراکز تصور کیے جاتے ہیں، تاہم ان مقامات کو بھی نہ بخشا گیا اوران مزارات میں مدفون اولیائے کرام کے تشخص اور پہچان کو مجروح کرنے کی سازشیں کی گئیں۔ دہشتگرد حملوں کے علاوہ اولیائے کرام کے مزارات سے کہیں تزئین و آرائش اور کہیں وسعت کے بہانے ہر اس نشانی کو ہٹانے اور مٹانے کی کوشش کی گئی جو سرکاری حمایت یافتہ مخصوص مکتب فکر کے نظریات و عقائد سے ذرا بھی مختلف نظر آئے۔ خود وفاقی دارلحکومت اسلام آبادمیں واقع مشہوراور جلیل القدر بزرگ حضرت شاہ عبدالطیف المعروف بری امامؒ اور آبپارہ میں حضرت بابا سخی محمود بادشاہؒ (والد حضرت شاہ عبدالطیف بری امامؒ ) کے مزارات کی مثالیں ہی کافی ہیں جہاں حضرت شاہ عبدالطیف المعروف بری امامؒ کے مزار پر درج آپ کے مکمل اسم گرامی تک میں تبدیلی کرکے آپکا سلسلہ اپنے حقیقی حسب و نسب سے الگ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی اور قبر مبارک پر آویزاں کلماتِ توحید و رسالت و ولایت کی تختی کو ہٹا دیا گیا، جبکہ مزار پر عرس کی تقریبات ا ور عزاداری کے پروگراموں کو بھی بند کر دیا گیا۔ اسی طرح اسلام آباد میں ہی آبپارہ کے مقام پر واقع حضرت بابا سخی محمود بادشاہؒ (والد حضرت شاہ عبدالطیف بری امامؒ ) کے مزار پر بھی قدیم آثار اور تبرکات کو بغض و عناد اور دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا جس پر انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے مجرمانہ خاموشی اور عدم کاروائی انکی شرکتِ جرم کی واضح دلیل ہے ۔ ماضی میں ایسے ہی مسائل کے مستقل حل کے لئے مکتب تشیع کی جانب سے جداگانہ محکمہ اوقاف کا تقاضا کیا جاتا رہا ہے تاکہ مزارات اور دیگر دینی مراکزکے اصل تشخص کومحفوظ اور ان کی مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنایا جا سکے، اس حوالے سے 21 مئی 1985کو اہل تشیع کی جماعت تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی اور اسوقت کے وزیر اعظم پاکستان محمد خان جونیجو کے مابین ہونے والے موسوی-جونیجو معاہدے میں موجود مطالبات میں سے ایک مطالبہ جداگانہ محکمہ اوقاف کا بھی تھا جس پرحکومت کی جانب سے تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کو تمام مسلمانوں کی جائے پناہ اور اپنی زندگیاں اسلامی اصولوں اور قوانین کے روشنی میں استوار کرنے کے لیے تجربہ گاہ سے تعبیر فرمایا تھا، وطن عزیز پاکستان کا قیام کسی مخصوص مکتب یا فرقہ نہیں بلکہ اسلام کے نام پرعمل میں لایا گیا تھا جس میں تمام مکاتب فکر کو اسلام کے فلسفہ مساوات کے مطابق یکساں حقوق حاصل ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل نمبر 2 کے تحت پاکستان کا سرکاری مذہب کوئی مکتب یا فرقہ نہیں بلکہ اسلام ہے جبکہ آرٹیکل 227کی رو سے ملک میں تمام قوانین قرآن و سنت کی روشنی میں وضع کیے جائیں گے اور کسی بھی فرد کے لئے قرآن و سنت کی وہی تعبیر معتبر تصور ہوگی جو اس کے اپنے مکتب فکر کی تشریح سے موافق ہو۔ وطن عزیز پاکستان مختلف مکاتب فکر پر مشتمل ایک خوبصورت گلدستہ ہے جسمیں مختلف پھولوں کی صورت تمام مکاتب فکر اپنا تشخص اور پہچان برقرار رکھتے ہوئے باہم اتحاد و یگانگت اور اسلامی اخوت کے تحت زندگی بسر کریں ۔ پاکستان کے نظریہ اساسی کی بنیاد وہ آفاقی اسلامی نظریہ ہے جو تمام امت مسلمہ کو بلا تفریق مسلک و مکتب ایک قوم قرار دیتا ہے ،ہر قسم کی عصبیت سے پاک یہی و ہ نظریہ ہے جسکا پرچار اور اطلاق نہ صرف پاکستان کی بقا و سلامتی کی ضمانت ہے بلکہ دنیا بھر میں زبوں حالی اور شکستگی کا شکار امت مسلمہ کے لیے ایک قوم کی حیثیت سے متحد ہو کر مصائب و آلام کے گرداب سے نکلنے کی کنجی ہے البتہ" تقسیم کرو اور حکومت کرو" (Divide and Rule) کے فلسفہ کے پیروکار پاکستانی حکمرانوں کی متعصبانہ پالیسیوں کے باعث ملک مسائل سے دوچار ہوااور مخصوص فکر کی بالادستی قائم کر کے دیگر مکاتب کو انکے جائز حقوق سے محروم کرنے کے اقدامات نے انہیں احساس محرومی سے دوچار ا ور قومی وحدت کو بری طرح متاثر کیا جبکہ نظریہ پاکستان سے انحراف کے باعث اس مملکت خداداد کے باسی ان ثمرات سے بھی محروم رہے جنکا خواب بانیِ پاکستان نے دیکھا تھا۔لہذٰا اگر آج ہمیں پاکستان کو صحیح معنو ں میں قائد ا عظم ؒ کا پاکستان بنانا ہے تو " نظریہ پاکستان" اور" نظریہ حکمران" میں سے نظریہ پاکستان کا چناؤ کر نا ہوگا جووطن عزیز پاکستان میں امن و آشتی اور ترقی و خوشحالی کے قیام کا واحد ذریعہ ہے۔
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

گائے کا گوشت کھانے پر بھی عورت کا ریپ ہو سکتا ہے

ملیحہ سرور: یہ نہایت گھناونی بات ہے کہ ہمارے ہاں 'عزت' کی خاطر جان قربان کرنے کو مستحسن خیال کیا جاتا ہے۔ اور یہ اس سے بھی گھناونا عمل ہے کہ ریپ کرنے والوں کو معاشرہ طرح طرح سے تحفظ دیتا ہے۔

ایم کیو ایم کے گلے شکوے

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قومی اسمبلی، سندھ اسمبلی اور سینٹ سے استعفے دینے سے پیدا ہونے والے بحران کی سو فیصد ذمہ دار وزیراعظم نواز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار پر عائد ہوتی ہے۔

Trump soars, but Republicans lose

Donald Trump’s dominance is also bolstered by the inability of other party candidates to consolidate moderate Republican votes.