نظم-سرمد صہبائی

نظم-سرمد صہبائی

تم کس خواہش کی مستی میں
میرے دکھوں کو
اپنے دلاسوں کی جھولی میں ڈال سکو گے
جھوٹے دلاسوں کی یہ جھولی
میرے تُند دکھوں سے چھلنی ہو جائے گی
اور تیرے یہ لوے لوے ہاتھوں کی ڈھارس
نفرت سے کمھلا جائے گی

کیسے کھلے گا تیری بانہوں کے کُندن میں
میرا یہ سیال دکھ اور میرے صدمے
تیرے بدن کے ان جیتے سیار سموں میں
میرا لہو کیسے جاگے گا

تم اپنے مخمور لبوں کے
سرخ کفن سے
کیسے میری نعش کا نقشہ ڈھانپ سکو گے
کیسے اپنے اندیشوں سے
میرے خدشے بھانپ سکو گے

Image: Paul Kurucz

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Sarmad Sehbai

Sarmad Sehbai

Sarmad Sehbai is a prominent Pakistani Poet, Playwright and Director. His poetry is known for fresh imagery and modern idioms. He wrote his first tele-play "The Lampost" in 1968 after joining PTV. Three collections of his poetry has been published so far. He also wrote a film "Mah-e-Meer" which was praised by critics and public alike.


Related Articles

پکچر پزل

ناصرہ زبیری: یہ اپنے ٹکڑوں کو جب سمیٹے
اور ان کو پھر جوڑنے کا سوچے
تو پچھلی ترتیب بن نہ پائے
یہ اپنی پہچان بھول جائے

سُر منڈل کا راجا

پورب پنچھم باجنے والا ایک خدا کا باجا
نام ہمارے بجوائے گا سُرمنڈل کا راجا

اندھیرا ہونے کے بعد چہل قدمی

اس طرح کی ایک چھٹے بادلوں والی صاف آسمان کی رات
روح کو آزاد اونچا اڑانے کو کافی ہوتی ہے
ایک تھکا دینے والے دن کے بعد
گھنٹہ گھر کا منظر کافی متاثر کرتا ہے
ہلکے سے بور کرنے والے
اٹھارہویں صدی جیسے احساس کی مانند