نظم لکھنے سے پہلے ایک نظم

نظم لکھنے سے پہلے ایک نظم

کون مرے اِس سچ کو سچا جانے
میرا سچ جو اِس اَن حد باغیچے کے اِک گوشے میں کھِلا ہوا معمولی پھول ہے
کون اِس پھول کی خوشبو چننے آئے
کس کو اِتنی فرصت!

کبھی کبھی تو میں اِس باغ کے باترتیب کیاروں میں
کھِلے ہوئے پھولوں سے ڈر جاتا ہوں
جن کے رعب تلے دب جاتی ہیں
میری ننھی خوشیاں
میرے مسکانے کی معصوم سی خواہش
اِن پھولوں کی سچائی کو سچ کرنے کی خاطرہی تو ہے
گل بانوں کا سارا پانی، ساری محنت
ایسے میں میری خود رَو سچائی کو جھوٹے بھی گر جھوٹا جانیں
تو خود انصاف کرو
میں کس کو جھٹلاؤں؟

میں نے تو بس اپنے اثبات کی خاطر
اپنے پہلو میں ایک کلی کو ساتھ کیا
جو نہ شبِ حشر کی ملکہ
نہ روزِ اجر کی رانی
جس نے اپنے اثبات کی خاطر
نہ کوئی کہرام کیا
نہ کوئی ہنگام کیا
بس اتنا سا کام کیا
خاموشی سے مجھ بے نام کا نام لیا
Image: Salavador Dali

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Zahid Imroz

Zahid Imroz

Zahid Imroz is a poet, writer and physicist. He has published two books of poems. He teaches physics and also works on global peace and security.


Related Articles

مٹی میں دبا دل

حسین عابد:
آنسو میں گُٹھلی نہیں ہوتی
لیکن وہ بہت دیر تک دبا رہے
تو پیڑ بن جاتا ہے
جس پہ دو آنکھیں آتی ہیں

چند سستے احوال

میں نے شہر پر 
زنا بالجبر کا مقدمہ دائر کر دیا ہے 
مگر میرے بھائیو 

ہیجڑا

سینہ بند اپنے لیئے میں بھی منگانا چاہوں
مجھ کو حالانکہ یہ معلوم بھی ہے سب کی طرح
کہ مری چھاتیاں وہ پھل بھی نہیں جن کے لیئے
کوئی جنّت بھی لٹا کر نہ پشیماں ٹھہرے