نعمت خانہ - انیسویں قسط

نعمت خانہ - انیسویں قسط
اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

انجم باجی کو مایّوں بٹھا دیا گیا۔ باہر والے دالان کے مشرقی کونے والا برآمدہ جس کے سامنے باورچی خانے کی جالی تھی، داسے میں دو تین رنگین چادریں لٹکا کر پردہ کر دیاگیا۔ انجم باجی باندوںکے ایک پلنگ پر پیلے کپڑے پہنے بیٹھی تھیں۔ پیلا جمپر، پیلی شلوار اور پیلا دوپٹہ — اُن کے پاس صرف لڑکیاں اور عورتیں ہی بیٹھی رہتی تھیں۔ محرم مرد تو کبھی کبھی اندر جاسکتے تھے۔ مگر نامحرم مرد کا اندر آنا بالکل منع تھا۔ حالانکہ گھر کے وہ مرد بھی جن سے انجم باجی کا پردے کا رشتہ نہیں تھا، اُن کے پاس نہیں آتے تھے۔ تمیزن نام کی ایک بہت موٹی گوری اور تقریباً بڑھیا نائن اُن کو روز صبح و شام اُبٹن ملنے آتی اور انجم باجی کا رنگ واقعی روز بروز نکھرتا جاتا۔ میراثنیں بھی آتیں۔ وہ ڈھولک پر گیت گاتیں اور حرارے بھی دیتیں تاکہ انجم باجی کے اوپر کسی آسیب یا جن کا سایہ نہ پڑ سکے۔

انجم باجی کا مجھ سے پردہ نہ تھا۔ میں تو چودہ پندرہ سال کا ایک نابالغ بچّہ تھا۔ میں آزادی اور بے فکری کے ساتھ انجم باجی کے پاس پردوں میں گھسا بیٹھا رہتا تھا۔ میرا رنگ تھوڑا سانولا ہے، اس لیے میں نے بھی اُبٹن لگایا۔ اُس ابٹن کی مہک مجھے آج تک یاد ہے۔ پیلے کپڑوں میں انجم باجی سونے کی بنی ایک دمکتی ہوئی مورتی سے مشابہہ تھیں۔ اپنی سہیلیوں کے ساتھ وہ کبھی کبھی ہی مسکراتیں ورنہ اپنی ازلی پاکیزگی کی اُداسی میں گم رہتیں۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا جب وہ اکیلی رہ جاتیں اور صرف میں اُن کے پاس بیٹھا رہ جاتا۔ ایسے لمحات میں، انجم باجی اپنے اُبٹن لگے گورے پیلے ہاتھ میرے سر پر پھیرتیں اور زیادہ تر ایک ہی بات دہراتیں۔

’’گڈّو میاں! میں چلی جاؤں گی تو تم رونا مت۔ بتاؤ رو ؤگے تو نہیں؟‘‘ میں اُن کی آواز میں بھی پیلاپن محسوس کرتا۔
’’نہیں۔‘‘

مگر پھر ہوتا یہ کہ وہ خود ہی آہستہ آہستہ رونے لگتیں۔ ایک بے آواز سا رونا جیسے ایک خاموش بارش درختوں پر گرتی ہے۔ جب درخت ساکت و جامد ہوتے ہیں۔ آس پاس کہیں کسی ہوا کا گزر نہیں ہوتا۔

صرف اُن کے آنسو گرتے۔ ان آنسوؤں کو وہ اتنی جلدی جلدی اپنے پیلے دوپٹّے سے پونچھ دیتیں کہ وہ ٹھیک سے نظرہی نہیں آتے، یا اگر نظر آتے ہوں گے تو دوپٹّے کے زرد لہرئیے، اُن آنسوؤں کو بھی جذب کرکے پیلا کر دیتے تھے۔
اور یہ سب تو ہونا ہی تھا۔ آخر اُن کے ہاتھ پیلے ہونے والے تھے۔

ایک دن آفتاب بھائی نے مجھے پیار سے اپنے پاس بلایا۔ ’’گڈّو میاں۔‘‘
میں نفرت سے بھرا ہوا اُن کے پاس پہنچا۔ اُنھوں نے اپنی جیب سے دو کتھئی رنگ کی گولیاں نکالیں اور کہا، ’’گڈّو میاں! یہ گولیاں اپنی انجم باجی کو دے آؤ، کہنا کہ گرم دودھ سے کھانی ہیں۔‘‘
’’کیا اُن کی طبیعت خراب ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ہاں! اُن کے سر میں شدید درد رہتا ہے۔ یہ سر درد کی دوا ہے۔ فوراً جاکر دے آؤ۔‘‘
آفتاب بھائی محلّے کے ایک ڈاکٹر کے یہاں کمپاؤنڈری کرنے لگے تھے اور اکثر گھر والوں کو چھوٹی موٹی بیماری میں مفت دوائیاں لاکر دیتے رہتے تھے۔

میں نے اُن دو کتھئی گولیوں کو حقارت اور نفرت کے ساتھ دیکھا۔ مجھے ایک بار پھر انجم باجی پر شدید غصہ آیا۔ اُن کے سرمیں درد تھا تو وہ مجھ سے کہتیں۔ میں اُن کا سردبا دیتا۔ آفتاب کی لائی ہوئیں یہ ذلیل گولیاں بھلا کیا کریں گی؟ مگر طوعاً وکرہاً مجھے وہ گولیاں لے جاکر انجم باجی کو دینی ہی پڑیں۔ اُس وقت وہ واقعی اپنا سر پکڑے بیٹھی تھیں۔ نہ جانے کیوں مجھے انجم باجی پہلے سے زیادہ دُبلی بھی نظر آئیں۔
’’دودھ لاؤں؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’نہیں۔ بعد میں کھاؤں گی۔‘‘ انجم باجی نے گولیاں اپنے زرد دوپٹّے میں باندھ کر گانٹھ لگا لی۔
مگر دودھ کے نام پر مجھے دودھ جلیبیاں یاد آگئیں۔ میں بچپن سے ہی تھوڑا چٹورا بلکہ بدنیت تو تھا ہی۔
’’لو دودھ جلیبی۔‘‘ انجم باجی نے ایک کٹوری میری طرف بڑھا دی۔

مایّوں میں اُنہیں نمک دینا بھی بند کر دیا گیا تھا۔ وہ صرف میٹھا کھا سکتی تھیں۔ زیادہ تر دودھ جلیبی۔ جو بھی عورت اُن سے ملنے آتی، تو کسی برتن میں دودھ جلیبی لے کر ضرور آتی۔ ورنہ انجم باجی کے ہاتھ میں ایک دو روپے دودھ جلیبی کے نام پر تھماکر چلی جاتی۔ یہ ایک رسم تھی جس کا سب سے زیادہ فائدہ میں اُٹھا رہا تھا۔ میں شکم سیر ہو ہوکر دودھ جلیبی کھا رہا تھا۔ دسمبر کی راتوں میں تیز ہوائیں چلتی ہیں۔ بے حد سرد، ان ہواؤں میں مایّوں کے پردے زور زور سے پھڑپھڑاتے۔ برآمدے میں ہاتھ پیر گلا کر رکھ دینے والی سردی چلی آتی۔ انجم باجی پیلے غلاف اور پیلے استر والی رضائی میں سکڑی بیٹھی یا گھٹنے موڑے لیٹی رہتیں۔ ان کی سہیلیاں بھی اپنی اپنی رضائیوں میں گھسی پتہ نہیں کون کون سی باتیں کرتیں رہتیں۔ ہنسی اور ٹھٹھولے کرتی رہتیں پھر رات جب زیادہ گزر جاتی اور باہر آنگن میں کہرا اتنا شدید پڑنے لگتا کہ داسے میں لٹکی ہوئی لالٹین کی روشنی تک کالی نظر آنے لگتی تو سب اونگھنے لگتے۔
مجھے بھی نیند آنے لگتی اور میں وہاں سے اُٹھ کر اندر والے دالان میں اپنی چارپائی پر آکر لیٹ جاتا اور لحاف اوڑھ لیتا۔ جہاں میرا کن کٹا خرگوش لحاف میں گھسا پہلے سے ہی میرا انتظار کر رہا ہوتا۔
مگر اُس رات مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔ ایک تو یہ کہ رات کے کھانے میں قورمہ تیار کیا گیا تھا اور یہ پتہ چلتے ہی میرا دل دھڑکا تھا اور میں ایک جاسوس کتّے کی مانند چوکنّا ہو گیا تھا۔ آج قورمہ پکناشاید ایک بدشگونی ثابت ہو۔ مگر پھر میں نے یہ بھی سوچا کہ کسی تقریب میں تو ایسے کھانے پکتے ہی ہیں۔ تو یہ میرا محض وہم بھی ہو سکتاہے اور دوسری بات یہ کہ ان دنوں میری چھٹی حس زیادہ متحرک اور فعال نہ تھی۔ میں اپنی تمام تر ذہنی اور جسمانی توانائیوں کے ساتھ محض انجم باجی کی شادی میں ہی مگن تھا۔
انجم باجی کی شادی میں صرف تین دن باقی بچے تھے۔ میں اپنے لحاف میں کبھی ایک طرف کروٹ بدلتا، کبھی دوسری طرف۔ پورے گھر میں سناٹا تھا۔ شاید اس لیے بھی کہ کل رَت جگے کی رسم ہونی تھی۔ انجم باجی کی طرف، مایوں میں بھی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اُن کی سہیلیاں بھی تھک کر سوگئی تھیں۔

باہر دسمبر کی ہواؤں کے سرد اور وحشت ناک جھکّڑ چل رہے تھے۔ ان ہواؤں میں، داسے میں لٹکی لالٹین کبھی اِدھر ڈولتی کبھی اُدھر۔ جس کے سبب دالان میں دیواروں پر پڑنے والی، اشیا کی پرچھائیاں باربار اپنا رُخ بدلتیں، اور ہر رُخ مجھے پُراسرار اور ڈراؤنا محسوس ہوتا۔

اچانک مجھے کچھ آہٹ سی محسوس ہوئی۔ جیسے کوئی اُٹھ کر آنگن میں جارہا ہیو۔ مجھے تھوڑا خوف محسوس ہوا،مگر میں اپنے آپ کو روک نہیں سکا۔ جاسوسی ناول پڑھتے پڑھتے میرے اندر ایک بے تُکا، بے محل اور بچکانہ تجسّس بہت پیدا ہوگیا تھا۔

میں دبے پاؤں اُٹھا، کہرے میں ایک سایہ، باورچی خانے کے دروازے پر نظر آیا۔ میں تو انجم باجی کے تاریک سائے کو بھی پہچان سکتا تھا۔ اُن کے ہاتھ میں کوئی برتن تھا۔ کچھ ہی لمحوں میں میں نے اُس برتن کو بھی پہچان لیا۔ یہ دودھ جلیبی کی ایک چھوٹی سی بالٹی تھی۔ وہ اِسے باورچی خانے میں رکھنے جارہی ہیں۔ میں نے سوچا۔ مگر یہ مایوں کے پردے سے اُٹھ کر باہر کیوں آرہی ہیں اور وہ بھی باورچی خانے میں؟

مگر نہیں۔۔۔! میں ٹھٹک گیا۔ باورچی خانے کی دہلیز پر ایک اور سایہ بھی موجود تھا۔
طویل القامت سایہ، جس نے انجم باجی کا ہاتھ پکڑ کر زور سے اندر کھینچا تھا۔ پھر باورچی خانے کا دروازہ اندر سے بند ہوگیا۔
میں جلدی سے زینے کی چوتھی سیڑھی کی طرف پہنچا۔

یہاں بیٹھ کر باورچی خانے کی جالی میں سے اندر کا منظر نظر آسکتا تھا۔ میں نے دیکھا— باورچی خانے میں اندھیرا ہے بھی اورنہیں بھی۔ مٹّی کے تیل کی ڈبیہ جل رہی ہے جس کی دھندلی روشنی اندھیرے سے بہت مشابہ ہے۔
آفتاب بھائی نے انجم باجی کو بری طرح جکڑ رکھا ہے۔ وہ اُن پر ایک آدم خور درندے کی طرح چھائے ہوئے ہیں۔
’’تم کتّے ہو، کتّے، ذلیل کتّے۔‘‘ انجم باجی کے منھ سے آواز نکلتی ہے۔ آفتاب بھائی نے ایک زور دار تھپّڑ اُن کے گال پر رسید کیا۔
’’کتّے— تونے مجھے وہ گولیاں کیوں کھلائیں؟‘‘ انجم باجی رونے لگیں۔
’’اس لیے۔۔۔ اس لیے کہ تیرا خصم پہلی رات کا مزہ نہ لوٹ سکے۔‘‘

’’مگر مجھے پرواہ نہیں۔ میں اسی حالت میں تجھے ابھی اسی وقت۔۔۔‘‘ آفتاب بھائی کی آواز ایک شیطانی آواز تھی۔
پھر وہ انجم باجی کو دھکا دے کر فرش پر گرا دیتے ہیں۔ مٹّی کے تیل کی ڈبیہ کی روشنی میں، مایّوں کے پیلے پاکیزہ لباس میں اُبٹن سے مہکتا ہوا اُن کا جسم، باورچی خانے کے کھرنجے کے فرش پر بے سدھ پڑا ہے۔

آفتاب بھائی اس جسم پرجھکتے ہیں۔ اب منظر صاف نہیں ہے۔ میں زینے کی چوتھی سیڑھی پر اُچک اُچک کر دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مجھے کچھ نظر نہیں آتا— مگر نہیں مجھے آواز نظر آتی ہے۔ میں آواز دیکھتا ہوں، آواز نہیں بلکہ آوازیں جیسے کوئی کسی بکری کو ذبح کرتا ہے۔تیز تیز سانسیں، دبی دبی چیخیں جو دسمبر کی کالی سردی کی وحشت ناک ہواؤں میں کبھی اُبھرتی ہیں، کبھی دب جاتی ہیں۔ آم کا درخت اِن ہواؤں میں لگاتار جھومے جارہاہے جیسے پاگل ہو گیاہو۔

میری کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ مجھے زور کی سردی لگ رہی ہے۔ میرے دانت کٹکٹا رہے ہیں۔ چھت کی ویران منڈیروں پر سے گھومتی، چکراتی ہوئی ہوا زینے کی سیڑھیوں پر ہوک رہی ہے۔ میں اپنی پیٹھ پر اِس ہوا کے بھیانک وار کو محسوس کرتا ہوں، جیسے کوئی میری پیٹھ پر دوہتّڑ مار مار کر بین کر رہا ہو۔ سنّاٹے میں ایک رونے کی آواز۔۔۔شاید زمانہ گزر گیا ہے۔ جب جاکر باورچی خانے کا دروازہ کھلا ہے۔ وہاں سے باہر آکر طویل القامت سایہ تاریک آنگن میں کہیں غائب ہوگیا ہے۔

میں اپنے سُن ہو گئے، برف جیسے پیروں سے لڑکھڑاتا ہوا ٹھوکریں کھاتا ہوا، زینے کی چوتھی سیڑھی سے نیچے اُترتا ہوں۔ میں آرہا ہوں— بغیر کچھ سوچے سمجھے، بنا کسی ارادے کے، میں باورچی خانے میں آرہا ہوں اور میرے دانت زور زور سے بج رہے ہیں۔ پیٹ میں اینٹھن ہو رہی ہے۔

میں آگیا — میں باورچی خانے میں آگیا۔
مٹّی کے تیل کی ڈبیہ کی اُس منحوس کالی روشنی میں، میں دیکھ رہا ہوں۔ انجم باجی چولہے سے پیٹھ لگائے گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی ہیں۔

اُن کے لمبے کالے بال کھل کر فرش کو چھو رہے ہیں۔ ان کی پیلی، مایّوں کی شلوار پر قورمے کے دھبّے ہیں، کیا قورمے کی دیگچی اُلٹ گئی ہے؟

قورمہ۔۔۔؟ نہیں، اب مجھے صاف دکھائی دینے لگا ہے۔
یہ قورمہ نہیں ہے۔۔۔ یہ خون ہے، یہ خون کے تازہ دھبّے ہیں۔ یہ دھبّے اُن کے دوپٹّے پر بھی ہیں۔ جو مڑا تڑا، بے چارگی کے ساتھ چولھے پر پڑا ہوا ہے۔ اور۔۔۔ اور جمپر پر بھی ہیں۔ مایّوں کے کپڑے خون سے سن گئے۔

فرش پر دودھ جلیبی کی بالٹی کھل کر ایک طرف لڑھک گئی ہے۔ دودھ کی ایک سفید لکیر کھرنجے پر آگے رینگتے رینگتے، اچانک رُک گئی ہے۔ ایک کاکروچ اُس لکیر پر بیٹھا ہے۔ مجھے دھوکہ ہوا ہے، جیسے دودھ جلیبی میں بھی خون مل گیا ہے۔
باورچی خانے میں اُبٹن کی خوشبو ہے، مگر اب اس میں خون کی بو بھی تیزی سے شامل ہوتی جارہی ہے۔

خون۔۔۔ یہ کیسا خون ہے؟ کون سا خون ہے؟
وقت سے پہلے شروع ہو گئی ماہواری کا؟
کنوارے پن کے ضائع ہوجانے کا؟
یا دونوں کا؟

شاید دونوں خون آپس میں اس طرح گھل مل گئے تھے جیسے دُکھتی آنکھوں سے نکلنے والے پانی میں آنسو۔
کچھ نہیں معلوم— یہ ایک ایسا بھید ہے جس کا علم کسی کو نہیں۔
’’گڈّو میاں۔۔۔‘‘ انجم باجی گُھٹی ہوئی آواز میں چیختی ہیں۔

وہ اُٹھتی ہیں اور مجھ سے لپٹ کر زاروقطار رونے لگتی ہیں۔ اُن کے رونے کی آواز باہر چلنے والی سرد اور دانت کٹکٹا کر رکھ دینے والی ہوا معلوم ہوتی ہے۔
’’تم کسی سے کچھ کہوگے نہیں، تمھیں میری قسم ہے۔‘‘ وہ ہچکیاں لیتی ہیں۔
میں چپ رہتا ہوں۔
’’اگر تم نے کسی سے کچھ بھی کہا، تو میں مرجاؤں گی۔ سنا تم نے گڈّو میاں! تمھاری انجم باجی مرجائے گی۔‘‘ وہ مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔
میں رونے لگتا ہوں۔

انجم باجی چولھے پر پڑا اپنا پیلا، خون سے سنا دوپٹّہ اُٹھاتی ہیں اورمیرے آنسو پونچھنے لگتی ہیں۔ دوپٹّے میں خون ملے اُبٹن کی بو آتی ہے جو سیدھی میری آنکھوں میں اُتر جاتی ہے۔ مگر وہ آنکھوں تک ہی نہیں ٹہرتی، آنکھوں سے آگے بھی ایک دنیا ہے، وہ اُسی دنیا میں پھیل جاتی ہے۔

وہ ڈگمگاتے ہوئے پاؤں کے ساتھ، میرا ہاتھ پکڑے پکڑے باہر آتی ہیں۔ مجھے لپٹا کر پیار کرتی ہیں۔
’’گھبرانا نہیں۔۔۔ مجھے ذرا سی چوٹ آگئی ہے۔ میں ٹھیک ہوجاؤں گی۔ یہ خون اُسی چوٹ سے نکلا ہے۔‘‘
انجم باجی نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا ہے۔ اور اُسی طرح کانپتے،لرزتے پیروں کے ساتھ غسل خانے کی طرف چلی گئی ہیں۔ جہاں سے تھوڑی دیر بعد باہر آکر وہ واپس چپکے سے مایّوں جاکر بیٹھ جائیں گی۔

میں آنگن میں خاموش کھڑا ہوں۔ میرے اوپر کہرا گر رہا ہے۔ میں آسمان کی طرف نظر اُٹھا تا ہوں۔ سوائے سیاہی کے مجھے کچھ نظر نہیں آتا۔

میں اپنے بالوں کو چھوتا ہوں۔ کہرے نے اُنہیں گیلا کر دیا ہے۔ میرے ہاتھ بھی گیلے ہوجاتے ہیں۔ میں ان ہاتھوں کو سونگھتا ہوں۔ وہاں ایک عجیب بو ہے۔ ایسی بو جس میں اُبٹن، مہندی، پھول، قورمہ، دودھ جلیبی اور خون تک کی بُو شامل ہے۔
باہر اندھیری گلی میں کوئی آوارہ بلّی زور سے چیختی ہے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Khalid Javed

Khalid Javed

Khalid Jawed is an Urdu novelist, short story writer, social critic and essayist. Some of his works include Aakhri Dawat, Nematkhana and Maut ki Kitab, critically acclaimed for his unique style and narrative. He is also an Associate Professor in the Urdu Department of Jamia Milia Islamia, New Delhi


Related Articles

نعمت خانہ - دوسری قسط

خالد جاوید: ہوا جانتی تھی کہ سارے گناہوں کو، سارے چٹورپن اور ساری بدنیتی کو اُدھر ہی جانا ہوتا ہے چاہے وہ سب بچپن کے کھیل ہی کیوں نہ ہوں۔

نعمت خانہ - پہلی قسط

خالد جاوید: ہوا ہی وہ چشم دید گواہ تھی جس نے دیکھا کہ وہ اپنے ہی گھر میں ایک اکیلے مگر اُداس کالے چور کی طرح داخل ہوا۔ گھر پتہ نہیں بن رہاتھا یا گر رہا تھا یا کہ کھنڈر بن رہاتھا۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا، صرف ہوا جانتی تھی۔

نعمت خانہ - اکیسویں قسط

خالد جاوید: غصّے کا وہ تاریک سایہ، وہ میرا ساتھی، اچانک طویل القامت ہوگیا۔ وہ میرے قد سے بہت اونچا اورلمبا ہوگیا۔ وہ مجھ سے باہر آنا چاہتا تھا۔ اور میں اپنے ٹھگنے قد کے ساتھ مکمل طور پر اُس کی دسترس میں آتا جارہا تھا۔ وہ اب میرا ساتھی نہ ہوکر میرا آقا بنتا جارہا تھا۔