نعمت خانہ - اٹھارہویں قسط

نعمت خانہ - اٹھارہویں قسط
اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

دسمبر کا مہینہ آپہنچا۔ ایک شاندار مہینہ جس میں کہرے سے لدی راتیں کالی پلٹن کی طرح سڑکوں پرمارچ کرتی ہیں اور سڑکوں کا کلیجہ کانپنے لگتا ہے۔ یہ ایک باوقار مہینہ ہے۔ اُداسی اسے اور بھی زیادہ وقار اور تمکنت بخشتی ہے۔ رات کو تیز، سرد ہواؤںکے پاگل جھکّڑوں میں انسان کا مقدّر اپنی خطرناک تاریخ لکھتا ہے۔ دسمبر میں صبح کی دھوپ ایک ٹھٹھری ہوئی دھوپ ہے۔ دھوپ کو بہت وقت لگتا ہے، بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ اپنی گرمی اور تپش کو واپس لانے میں اور جب تک سورج دوبارہ، دسمبر کے قہر سے کمزور ہوکر مغرب کی خندق میں لڑھکنے لگتا ہے۔

گھر کے آنگن تک میں کہرا جیسے اپنے پیروں پر چلنے لگا ہے۔ کہرے کے پیر نکل آئے تھے۔ اندھیرا کہرے سے اپنی بازی ہار گیا۔ وہ روشنی کا اتنا مقابلہ نہ کر سکتا تھا۔

کالی سردی کے لوتھڑے چاروں طرف گر رہے ہیں۔ ذرا سی حرارت بھی نہیں اور اگر ہے بھی تو، سردی کی اِس کالی راکھ میں، ایک تنہا انگارے کی مانند، دبی چھپی پڑی ہے۔ آسمان کہرے کی دُھند سے غائب ہے۔ اُس کا نیلا رنگ کہیں نہیں ہے۔ یہ ایک ادھورا آسمان ہے، بغیر ہاتھ پیروں کا۔ ایک کٹا پھٹا آسمان، ایک کمزور اور معذور فلک۔

انجم باجی کی شادی اِن خطرناک، مگر شاندار سردیوں میں ہوگی، ایک طرح سے اُن کے شایانِ شان مگر میرے لیے؟

مجھے اُس وقت تک کچھ پتہ نہ تھا کہ دسمبر میری زندگی کو ہمیشہ کے لیے ایک ایسی ریل گاڑی بناکر رکھ دے گا جو ایک سنسان، چھوٹے اسٹیشن پر اس لیے رُکی کھڑی رہے گی کہ کہرے میں اُسے کوئی سگنل نہ نظر آتا تھا۔ نہ ہرا، نہ لال۔ ریل گاڑی کی دھواں اُگلتی ہوئی سیٹیاں، اس کے گلے میں ہی پھنس کر رہ جائیں گی۔

انجم باجی کی شادی کا دن اور تاریخ طے ہوگئے۔ گھر میں ہر طرف چہل پہل ہونے لگی۔ دور کے رشتہ دار بھی آکر ہمارے گھر رہنے لگے۔ مگر اِس کے باوجود ایک گہرا سناٹا مجھے ہر وقت محسوس ہوتا تھا۔ ممکن ہے کہ اس کی ایک وجہ سخت سردیاں اور دِن رات چھائے رہنے والا کہرا ہو۔ اس ٹھنڈ میں ہڈّیاں گلا کر رکھ دینے والی ہوا میں، رات کے وقت کوئی آنگن میں نہیں اُٹھتا بیٹھتا تھا۔ مگر باورچی خانے میں رات گئے تک رونق رہتی۔ رشتہ دار لڑکیاں، شادی شدہ عورتیں اور بوڑھی خواتین بھی چولہے کی گرم راکھ کے آگے باتوں کی محفل سجائے رکھتیں۔ صرف قہقہے ہی گونجتے رہتے اگرچہ کبھی کبھی مجھے کچھ کانا پھوسیوں کا بھی شبہ ہوا۔ میں ایک بھوت کی طرح باورچی خانے کے آس پاس منڈلاتا رہتا۔

دن میں نسبتاً سناٹا ہوتا، کیونکہ زیادہ تر لوگ شادی کی تیاری اور لباس اور زیورات خریدنے کے سلسلے میں بازار گئے ہوتے۔ مگر دن میں کبھی کبھی آفتاب بھائی آتے، سگریٹ منھ میں دبائے اور اُن کی بے رحم اور بھوری آنکھیں، کینہ اور بغض سے چمکتی نظر آتیں۔ اُن کا بلڈاگ جیسا دہانہ کچھ اور نیچے کو لٹک جاتا تھا۔ وہ مجھے بہت قابل نفرت نظر آنے لگے، پہلے سے بھی زیادہ۔ وہ بہت عجیب دن تھے۔
ایک طرف آفتاب بھائی کی پُراسرار اور خطرناک تانکا جھانکی میرے لیے ناقابل برداشت ہوگئی تھی اور دوسری طرف انجم باجی سے بھی مجھے ایک ایسی خاموش مگر بھیانک شکایت پیدا ہوگئی تھی جسے میں آج تک کوئی نام نہیں دے سکا۔اور نہ ہی اس کی کوئی وجہ تلاش کر سکا۔ ظاہر ہے کہ وجہ بچکانہ رہی ہوگی، مگر اِس بچکانے پن کی بھی تو کوئی وجہ ہوگی؟

میں پریشان اور اُلجھا اُلجھا نظر آنے لگا۔ میں نے گھرکے افراد سے بولنا چالنا تقریباً چھوڑ دیا۔ مجھے باربار پیشاب کی حاجت ہوتی۔ مجھے رُک رُک کر پیشاب آتا اور ہر وقت سانس سی پھولی محسوس ہوتی۔ میں ایک ناقابل فہم قسم کی بے چینی سے دوچار رہنے لگا۔ انجم باجی بھی کبھی کبھی اپنی پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ مجھے دیکھتیں۔ وہ اُن دنوں بہت اُداس نظر آتیں۔ مجھے اُن کی اُداسی پر غصہ آتا، اور میں جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہوکر اپنے خیالوں میں اُنہیں بے لباس کرنے کی کوشش کرنے لگتا۔ اگرچہ اس گھناؤنے فعل میں مجھے کبھی کامیابی نہ حاصل ہوسکی۔

اب میں سوچتا ہوں کہ اگر انجم باجی مجھے اُن دنوں اُداس اور افسردہ نہ نظر آتیں تو میری زندگی کا رُخ کُچھ اور ہی ہوتا۔ اگر انجم باجی، آفتاب بھائی کے لیے مغموم اور غمگین نہ ہوکر اپنے ہو نے والے دولہا کے خوابوں میں، مسرت اور آرزو سے بھری ہوئی مگن رہتیں تو پھر یہ کرّہ ارض اپنی گردش کا انداز بدل دیتا۔

آفتاب بھائی میرے لیے نفرت کا ایک آفاقی تصوّرتھے۔ ایک گھناؤنی اور باسی خراب مچھلیوں سے آتی ہوئی سڑاندھ۔ اِس نفرت کی بُو گھر کے ہر گوشے میں رینگتی پھرتی تھی۔

ایسا کیوں تھا؟

مجھے نہیں پتہ۔ واقعی مجھے نہیں پتہ۔ انسانوں کا سب سے بڑا المیہ تو یہی ہے (اورکم از کم میرا المیہ تو واقعتا یہی ہے) کہ انھیں جو معلوم ہونا چاہئیے وہ آخری سانس تک نہیں معلوم ہو پاتا اور ایک بھید، ایک اسرار ہی بنا رہتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک مُردہ آدمی جس سے بڑا اسرار کائنات میں اور کوئی نہیں ہے۔ انسان کی لاعلمی اور اُس کی لاش مترادف ہیں۔ ایک راز دوسرے راز سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ پھر اِسی دنیا کی کالی سردی اور کہرے میں گم ہو جاتا ہے۔

مگر وہ — جس کا علم نہیں ہونا چاہئیے، وہ انسانوں کی احمق کھوپڑیوں پر لاسے کی طرح لٹکا رہتا ہے اور جس پر دنیا بھر کی سازشیں، محبتیں، نفرتیں اور خواہشیں اِسی طرح آکر چپکتی، گرتی اور پھنستی رہتی ہیں جیسے آسمان میں اُڑنے والے کبوتر لاسے پر۔
ایک دن میرا غصہ اپنی حدوں کو پار کرگیا۔ میں نے اپنے سرکے بال نوچ ڈالے اور اپنے ہاتھوں کے ناخنوں کو باورچی خانے کی دیوار پر زور زور سے رگڑا۔ میں نے خاموشی، تنہائی میں اپنے پیروں کو زور زور سے زمین پر مارا، کیونکہ میں نے انجم باجی کو سسکیاں لے کر روتے ہوئے دیکھا تھا۔ اور وہ بھی ایک کونے میں آفتاب بھائی کے شانے پر سر رکھ کر۔

یہ کتنا گھناؤنا اور کریہہ منظر تھا۔ اس کا کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا تھا۔
ناک سڑا دینے والی نفرت کے کاندھے پر ایک پاکیزہ خوشبو کا قالب۔

میں برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ ایک پاکیزہ، پیلی سفیدی کو ایسی سفیدی میں مدغم ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا جس میں لال رنگ چھپا ہو —لال رنگ۔ جسم میں خون کی زیادتی جسم میں زیادہ خون ہونا، بھدّا تھا اور ہوس کی نشانی بھی۔
ہاں ہوس کی نشانی—!

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Khalid Javed

Khalid Javed

Khalid Jawed is an Urdu novelist, short story writer, social critic and essayist. Some of his works include Aakhri Dawat, Nematkhana and Maut ki Kitab, critically acclaimed for his unique style and narrative. He is also an Associate Professor in the Urdu Department of Jamia Milia Islamia, New Delhi


Related Articles

نعمت خانہ - سولہویں قسط

خالد جاوید: کیا کسی نے بھی اس پر غور کیا کہ محض روح کی پاکیزگی کے ڈنکے پیٹتے رہنے سے ہی کچھ نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ تو جسم کا ہے، جسم کی پاکیزگی ہی اصل شئے ہے۔

نعمت خانہ - چوبیسویں قسط

خالد جاوید: تو مجھے یرقان ہوا تھا۔ شام ہوتے ہوتے مجھے گھر اور دنیا کی ہر شے پیلی نظر آنے لگی۔ میرے پیشاب کا رنگ ہلدی کی طرح ہو گیا۔ میرے جسم کی کھال پر جیسے زرد سفوف سا مل دیا گیا تھا جو شاید بستر پر بھی جھڑتا رہتا تھا۔

نعمت خانہ - تیسری قسط

خالد جاوید: لوہے کے پرانے زنگ لگے نل کو بائیں ہاتھ سے پکڑے، وہ اِسی جگہ ساکت و جامد کھڑاتھا اور اُس کا بایاں پیر گیلی لیس دار مٹّی میں پنڈلی تک اس طرح دھنسا ہوا تھا، جیسے اُس پر پیلی مٹّی کا سخت اور مضبوط لیپ چڑھایا گیا ہو اور ٹوٹی ہوئی ہڈی ہِل جُل نہ سکتی ہو