نعمت خانہ - بیسویں قسط

نعمت خانہ - بیسویں قسط
اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

مجھے نہیں یاد— اب مجھے یاد نہیں۔ انجم باجی کی شادی کی کوئی اور تفصیل مجھے نہیں یاد سوائے اس کے کہ سرخ جوڑے میں ملبوس ایک بے حد دُبلی پتلی دلہن روتی سسکتی گھر سے رخصت ہو گئی اور میںگھر کی چوکھٹ پر کھڑا،خاموش اس کی پالکی کو جاتا دیکھتا رہا۔

بہت دنوں بعد، شاید تین سال بعد جب انجم باجی اپنے شوہر کے ساتھ سعودی عرب سے واپس آئیں تو میں اُنہیںپہچان نہ سکا۔ وہ بہت موٹی اور گول مٹول سی ہوگئی تھیں۔ جس کی وجہ سے ان کا قد ٹھگنا سا محسوس ہوتا تھا۔ ان کا پورا جسم قیمتی زیورات سے لدا ہواتھا، مگر وہ ایک الگ داستان ہے جسے میںکسی اور وقت کے لیے اُٹھا رکھتا ہوں۔

انجم باجی کی شادی کے بعد مجھے اتنا اکیلاپن نہیں محسوس ہوا جس کی مجھے توقع تھی۔ اس کا سبب شاید میرے اندر پلتے رہنے والا ایک خطرناک اورپُراسرار غصّہ تھا۔ میں نے اپنے وجود کے نہاں خانوں میں پوشیدہ اس غصّے کے ساتھ جینا سیکھ لیا تھا۔ یہ ایک لال پیلا غصہ نہ ہوکر ایک سیاہ غصہ تھا جس میں مجھے کچھ نظر نہ آتھا اور یہی بات میرے سکون کا باعث تھی۔ غصّے کے اس سیاہ سائے سے میںہمیشہ بغل گیر رہتا تھا۔اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے ساتھی کو جکڑے رہتا تھا۔ کئی ماہ گزر گئے۔میںاپنی پڑھائی بھی دل لگاکر کرتا رہا۔ آفتاب بھائی، اُسی ڈاکٹر کے یہاں ایک کمرے میں رہنے لگے، جہاں وہ کمپاؤنڈری کرتے تھے۔ ہفتوں مہینوں میں کبھی گھر آتے اور وہی نفرت انگیز سگریٹ پھونکتے رہتے۔ جس کی بُو میں ہزاروں میں پہچان سکتا تھا۔ اُڑتے اُڑتے یہ خبر بھی آئی کہ اُنھوں نے چھپ کر شادی کر لی ہے۔ پتہ نہیں، میں تو اُن کے پاس جاتا بھی نہیں تھا جبکہ اُنھوں نے مجھے کئی بار بلایا بھی تھا۔ میں آفتاب بھائی سے اِس لیے نہیں ملتا تھا کہ ایک دن تو مجھے اُن سے ملنا ہی تھا۔ میں اپنے وجود میں پلنے والے تاریک غصّے کے حکم کی تعمیل کرتا تھا اور آفتاب بھائی سے ملنے کے لیے مجھے اُس کے اشارے کا انتظار تھا۔

انجم آپا کے گھر ہفتے میں دو تین بار ضرور جاتا تھا مگر اب ہم جاسوسی ناولوں کی باتیں نہیں کرتے تھے، خود میری دلچسپی بھی جاسوسی ناولوں میں کم ہو گئی تھی۔ میں غیر ملکی ادب کے تراجم پڑھنے لگا تھا۔ خاص طور پر روسی ادب کے شاہکار ناولوں کے تراجم۔

انجم آپا کو اِن چیزوں سے نہ تو کوئی دلچسپی تھی ا ور نہ ہی اُن میں اتنی صلاحیت تھی کہ وہ اُنہیں سمجھ سکتیں۔ جہاں تک میرا سوال تھا تو میں چار پانچ ماہ میں ہی بہت بڑا ہوگیا تھا۔ میری شکل و صورت یا قد میں کوئی واضح تبدیلی آئی ہو یا نہیں مگر میرے جسم کے اندر رہنے والی روح کی عمرمیری جسمانی عمر سے بہت زیادہ ہو گئی تھی۔ اتنی زیادہ کہ کبھی کبھی میری روح کے پیر میرے جسم کی چادر سے باہرنکلنے لگتے تھے اور میں گھبرا کر اپنے غصّے کا کالا،بھیانک ہاتھ تھام لیا کرتا تھا۔ ایسے وقتوں میں وہی مجھے سہارا دیتا تھا۔

مگر انجم آپا سے مجھے اُنسیت ہمیشہ سے تھی اور بارہا میں نے یہ بھی سوچا ہے کہ شاید وہ مجھے بہت چاہتی تھیں۔ انجم باجی سے بھی زیادہ۔ لیکن اس کا اظہار وہ کبھی نہ کرسکیں۔ اس کی کچھ وجوہات رہی ہوں گی جن کا علم مجھے تب ہرگز نہ تھا، البتہ اب میں کچھ اندازہ لگا سکتا ہوں۔ بہرحال ان باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے انجم آپا سے اُنسیت تھی یا اُنسیت کا التباس تھا کیونکہ شاید میں خود اس بات کے لیے تڑپ رہا تھا کہ کوئی مجھے چاہے، کوئی۔۔۔ یعنی کوئی لڑکی۔ اپنی ماں کے فوت ہوجانے کے بعد سے انجم آپا بہت پریشان، بدحال اورافسردہ سی رہنے لگی تھیں۔ اور اُن کے والد جلد ہی اُن کا بیاہ کر دینے کے لیے سرگرداں تھے۔

میں اکثر سوچتا کہ انجم آپا کو کچھ لطیفے سناکر ہنسنے ہنسانے پر مجبور کر دوں مگر یہ مجھ سے کبھی ممکن نہ ہو سکا کیونکہ اوّل تو مجھے لطیفے یا دہی نہیں رہتے تھے اور اگرکوئی لطیفہ یاد کرکے میں سنانا بھی چاہتا تو میرا ساتھی، اُن دنوں کا وہ کالا،پُراسرار غصہ مجھ سے اپنی بانھیں چھڑانے لگتا۔

نہیں، ہرگز نہیں! میں کسی بھی قیمت پر اپنے غصّے سے جدا نہیں ہوسکتا تھا۔ میرے لیے گلا پھاڑ کر ہنسنا حرام تھا، اسی لیے میں انجم آپا کو کبھی خوش نہ کر سکا مگر اُن کی خالی اور اُداس آنکھوں میں اپنے لیے پیار کی ایک ایسی چمک ہمیشہ دیکھتا رہا جو جگنو کی چمک سے مماثل تھی۔ جلتی بجھتی— پھر جلتی پھر بجھ جاتی۔

مگر یہ سلسلہ آگے نہ چل سکا۔ آخر ایک دن بہت خاموشی اور سادگی کے ساتھ انجم آپا کا نکاح پڑھا دیا گیا اور اِس طرح وہ گول، چپاتی کی مانند، چیچک زدہ چہرہ جو مجھے بہت اپنا اپنا سا لگتا تھا میری دنیا سے دور ہوگیا۔ وہ چہرہ جس کو دیکھ کر ہمیشہ مجھے بھوک لگنے لگتی تھی اور میری آنتیں کڑکڑانے لگتی تھیں۔ اُسی منحوس لال گھونگھٹ میں چھپ کر پالکی میں گم ہو گیا جس طرح انجم باجی کا چہرہ ایک دن گم ہو گیا تھا۔

مگر مجھے اُس وقت یہ علم نہیں تھا کہ چہرے واپس آتے ہیں۔ لوگ واپس آتے ہیں، بھلے ہی اُن کے رویے، اُن کے جسم اور اُن کی روحیں بدلی ہوئی ہوں۔

انسانوں کا یہی مقدّر ہے۔ ازل سے اور ابد تک یہی رہے گا۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

نعمت خانہ - چھٹی قسط

خالد جاوید: مجھے ہندو دھرم کا یہ خیال باربار چونکاتا رہتا ہے کہ جس طرح ہون کنڈ میں اناج اور غلّہ وغیرہ ڈالاجاتا ہے، اُسی طرح معدہ بھی ایک قسم کا ہون کنڈ ہے۔

نعمت خانہ - نویں قسط

خالد جاوید: میں واپس اپنے زمانے میں آ گیا۔ میں نے اپنے روٹھے ہوئے حافظے کو دوبارہ ایک ٹھوس شے کی طرح اپنے سامنے پایا اور میں نے اُسے اپنے دماغ کے خلیوں میں گویا ہاتھوں سے پکڑ پکڑ کر اندر محفوظ کر لیا۔

نعمت خانہ - چوبیسویں قسط

خالد جاوید: تو مجھے یرقان ہوا تھا۔ شام ہوتے ہوتے مجھے گھر اور دنیا کی ہر شے پیلی نظر آنے لگی۔ میرے پیشاب کا رنگ ہلدی کی طرح ہو گیا۔ میرے جسم کی کھال پر جیسے زرد سفوف سا مل دیا گیا تھا جو شاید بستر پر بھی جھڑتا رہتا تھا۔