نعمت خانہ - تئیسویں قسط

نعمت خانہ - تئیسویں قسط
اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

آخر وہ گلی آگئی جس کے بائیں موڑ پر میرا گھر تھا۔
وہاں ایک جم غفیر تھا۔

نیلی بتّی والی، پولیس کی ایک گاڑی گلی کے موڑ پر کھڑی تھی۔ میں ہمت سے کام لیتے ہوئے آگے بڑھتا گیا۔ اب میرا خوف ہی میرا حوصلہ اور میرا سہارا تھا اور پیروں کی کپکپاہٹ ہی میرے چلنے کی طاقت تھی۔ یہ نہ ہوتی تو شاید میرے پیر پتھّر کے ہوجاتے۔

گھر خاکی وردی والوں سے بھرا ہوا تھا۔ حالانکہ لاش پوسٹ مارٹم کے لیے لے جائی جاچکی تھی۔ پولیس والے ایک ایک کا بیان لے رہے تھے۔ نورجہاں خالہ اور اچھّن دادی تک کا بیان لیا گیا، جب میری باری آئی تو میں نے کہہ دیا کہ صبح سے اسکول میں تھا۔ اورابھی آیا ہوں۔ پولیس کو میرے اوپر کوئی شک نہیں ہوا۔ ورنہ اسکول سے یہ معلوم کیا جاسکتا تھا کہ میں آج اسکول نہیں پہنچا تھا، مگر قسمت نے میرا ساتھ دیا۔
بعد میں،پولیس کے چلے جانے کے بعد بڑے ماموں نے مجھ سے یہ بازپرس ضرور کی کہ میں نے اُن کا کہا کیوں نہیں مانا۔ مگر وہ صرف ایک باز پرس نہیں تھی کیونکہ بعد میں انھوں نے گہری سانس لے کر یہ بھی کہا تھا کہ اچھا ہی ہوا کہ میں اسکول گیا ہوا تھا۔ شاید اُنہیں یہ اندیشہ ہوا ہو کہ اگر میں گھر پر ہوتا تومیری جان بھی خطرے میں پڑسکتی تھی۔

’’یہ ضرور کنپٹی مار کا کام ہے۔‘‘چھوٹی خالہ نے کہا۔

اُن دنوں ایک مجرم جو نفسیاتی مریض تھا، لوگوں کے گھروں میں گھستا پھرتا اور کسی ہتھیار کے ذریعہ کسی بھی تنہا شخص کا قتل کرکے چلتا بنتا۔ پولیس کو ابھی تک اُسے گرفتار کرنے میں کامیابی نہیں ملی تھی۔

کچھ دیر بعد ایک پولیس انسپکٹر کچھ سپاہیوں کے ساتھ دوبارہ آیا تھا۔

’’ہو سکتا ہے کہ یہ اس کنپٹی مار کا کام ہو۔ مگر اُس کے قتل کرنے کا طریقہ بالکل الگ ہے۔ وہ اپنے عجیب و غریب ہتھیار سے ہی آدمی کی جان لیتا آیا ہے۔ مگر ممکن ہے کہ وہ ہتھیار اُس سے کہیں گر گیا ہو یا چھوٹ گیا ہو۔ اس لیے ہم نے تو گھر کی تلاشی لے ہی لی مگر آپ لوگ بھی اپنے طور پر اس امکان کو نظرانداز نہ کریں اور اُس ہتھیار کو تلاش کرنے کی کوشش کریں۔‘‘

پولیس والے چلے گئے تھے مگر ہمارا گھر رشتہ داروں سے اور محلے والوں سے بھر گیاتھا۔

تھوڑی دیر بعد مجھے بہت زور کی سردی لگنے لگی۔ میرے دانت بجنے لگے۔ میرے اوپر لحاف ڈال دیا گیا۔ میں نے کسی کو کہتے سنا۔ ’’بچّہ ہے— بری طرح ڈر گیا ہے، اسے بخار آرہا ہے۔‘‘

اور یقینا وہ آرہا تھا۔ میں نے بخارکے قدموں کی دھمک کو اپنے کانوں کے ٹھیک قریب سنا۔ میری کنپٹیاں تپتی ہوئی سلاخوں جیسی ہوگئیں۔ ماتھا اس طرح جل رہا تھا کہ اُس پر چنے بھونے جاسکتے تھے۔ میں جس بستر پر لیٹا تھا اس کی چادر اتنی گرم ہوگئی تھی کہ لگتا تھا تھوڑی دیر میں دھواں دے کر سلگنے لگے گی۔

میں ہوش سا کھونے لگا۔ مجھے لگا کہ میں باہر سڑک پر پڑا ہوا ہوں۔ اور میرے اوپر چیل کوّے اُڑ رہے ہیں۔ مری یادداشت بخار کے بھبکوں میں پرزے پرزے ہوکر ہوا میں اُڑ رہی تھی۔

کیا میرے دماغ پر بھی فالج گر گیاہے۔ کیا یہ فالج کی بارش ہے؟ ایک گرم تپتی جلتی ہوئی بارش؟ میں نے ہوش کھوتے ہوئے سوچا۔ اس کے بعد صرف کچھ آوازیں تھیں جو میں سنتا تھا۔ اور ا نہیں آوازوں سے مجھے اپنے زندہ ہونے کا گمان گزرتا تھا۔

’’ایک سو پانچ اعشاریہ سات۔‘‘
’’ایک سو چھ۔‘‘

باربار کوئی میرے منھ اور بغل میں کوئی لجلجی سی سلائی لگا دیتا تھا۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Khalid Javed

Khalid Javed

Khalid Jawed is an Urdu novelist, short story writer, social critic and essayist. Some of his works include Aakhri Dawat, Nematkhana and Maut ki Kitab, critically acclaimed for his unique style and narrative. He is also an Associate Professor in the Urdu Department of Jamia Milia Islamia, New Delhi


Related Articles

نعمت خانہ - ساتویں قسط

خالد جاوید: میں اُن کی رنگت سے ہی لپٹا رہنا چاہتا تھا۔ کاش! وہ سفید اُجلا رنگ انجم باجی کے جسم کی کھال سے نہ چپکا ہوتا۔ کاش! وہ رنگت اُن سے ماوراہوتی، کہیں خلا میں،یا ہوا میں، یا آسمان میں اور تب میرے گناہوں کے اندھیرے اتنے گاڑھے نہ ہوتے۔ وہاں کچھ سفیدی باقی رہتی۔

نعمت خانہ - پندرہویں قسط

خالد جاوید: میں ابھی بس اُن قبروں تک ہی پہنچا ہوں گا کہ میں نے اپنے پیچھے ایک زور کی دھمک سنی۔ ایک ایسی دھمک جس کے ساتھ ساتھ ایک پُراسرار سی سنسناہٹ بھی شامل تھی۔ میں واپس مڑا۔ ادھر شوربلند ہورہا تھا۔

نعمت خانہ - چودہویں قسط

خالد جاوید: ہمارے گھر کے تقریباً تمام افراد کی اکثر سوتے میں اپنے ہی دانتوں سے زبان کٹ جاتی تھی۔ جیسے وہ ایک لذت آگیں یا وحشت انگیز خواب دیکھتے تھے۔