نعمت خانہ - تیرہویں قسط

نعمت خانہ - تیرہویں قسط
اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اور پھر بارش آگئی۔ وہ تو اُمس اور حبس کے ریشوں میں پہلے ہی سے پوشیدہ تھی۔ ایک رات جب میں نے اپنی کلائیوں اور چہرے کو انگلیوں سے چھوا، تب ہی مجھے محسوس ہوگیا کہ وہ آپہنچی ہے۔

رات کے تقریباً تین بجے ہوں گے۔ جب بادلوں کی زبردست گرج اور چمک کے ساتھ پانی برسنے لگا۔ ساتھ میں بارش کی ازلی رفیق ہوا بھی آئی۔ اُمس کی دیوار ٹوٹ کر گر گئی اور میں باہری دالان میں ٹین سے لگے داسے سے لگ کر کھڑا ہوگیا۔ برابر میں سنبل کا پنجرہ لٹک رہا تھا۔ ہوا کے تیز جھونکے میں داسے میں لٹکی ہوئی لالٹین بھک سے بجھ گئی۔ سارا گھر تاریک ہوگیا۔ ایک بار بہت زور سے بجلی چمکی تو میں نے دیکھا کہ طوطے نے اپنے پروں میں منھ چھپا لیا ہے۔

اندھیرے میں، بارش کے بھیانک شورمیں مجھے بھی ڈر لگنے لگا۔ چھتوں کے پرنالوں سے زبردست آواز پیدا کرتا ہوا پانی بہہ رہاتھا۔
بارش کے شور میں اچانک میں نے ایک مختلف اور پُراسرار آواز سنی۔ ایک عجیب سی سرسراہٹ اور پھنکار زینے کے قریب بنے مرغیوں کے ڈربے کی طرف سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔ پھرباورچی خانے کے دروازے پر، پھر آم کے درخت کے قریب اور پھر معدوم ہو گئی۔ یہ بارش کی آواز ہرگز نہ تھی۔ بارش کا زور بڑھتا جارہا تھا۔ مجھے سردی اور خوف دونوں محسوس ہوئے۔ میںجلدی سے اندر جاکر اپنے پلنگ پر لیٹ گیا اور چادر میں منھ ڈھانپتے ہی مجھے گہری نیند آگئی۔

صبح جب میری آنکھ کھلی تو بارش ہورہی تھی۔ گھر میں کچھ ہلچل سی محسوس ہوئی۔ معلوم ہوا کہ ڈربے میں بند ساری مرغیاں مر گئی ہیں۔

اچھّن دادی نے بتایا کہ رات ناگ کا گزر اِدھر سے ہوا تھا۔ وہ اتنا زہریلا ہے کہ اس کی پھنکار سے ہی مرغیاں اور کبوتر مردہ ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ سانپ اِس گھر کا بہت پرانا مکین ہے، جب یہ گھربن رہا تھا تب ہی سے، یہ اس کی بنیادوں میں رینگتا اور سرسراتا ہوا دیکھاگیا تھا۔ اس کے اثر سے جانور تو کئی بار مر چکے ہیں مگر کسی انسان کو اس ناگ نے کبھی نہیں ڈسا۔

اچھّن دادی یوں تو غپ مارنے میں مشہور تھیں مگر اُن کی اس بات کی تائید گھر کے دوسرے افراد نے بھی کی۔ اگر رات کا وقت ہوتا تو مجھے بہت ڈر لگتا مگر اُس وقت تو مجھے اُس ناگ کو دیکھنے کا تجسّس پیدا ہوگیا۔ رات اور دن کا یہی تو فرق ہے۔ انسان روز ایک دوہری زندگی جیتا ہے۔ دن میں کچھ اور رات میں کچھ بلکہ ایک دوسری زندگی۔ زمین کی گردش کوئی معمولی واقعہ نہیں، اِسے ہمیشہ یاد رکھنا چاہئیے۔ اس امر کو فراموش کرنا ہمیشہ خطرناک نتائج کا موجب ہوا کرتاہے۔

آپ نے ناگ کو دیکھا ہے؟ میں نے اچھّن دادی سے پوچھا تھا۔ ’’ہاں، کئی بار۔ جب میں تیرہ سال کی تھی اور اُس کے بعد بھی کئی بار۔ اس کے اوپر یہ بڑے بڑے بال ہیں۔ وہ بہت پرانا ہے اور بالکل کالا۔ ایسا کالا کہ اُس کے آگے چراغ نہیں جل سکتا۔‘‘ اچھّن دادی نے جھرجھری لیتے ہوئے جواب دیا۔

’’وہ اکثرباورچی خانے کی کوٹھری میں بھی دکھائی دیا ہے۔‘‘ نورجہاں خالہ نے کہا تھا۔ مگر اُس پُراسرار سانپ کو دیکھنے کی آرزو میرے دل میں ہی رہ گئی۔ میں جب تک اپنے گھر میں رہا، مجھے وہ کبھی نظر نہ آسکا۔ مگر اب مجھے اُسے نہ دیکھ پانے کا کوئی ملال یا افسوس نہیں ہے کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ میرے دل میں بھی ایک اتنا ہی زہریلا، اتنا ہی کالا اور اتنا ہی عمر رسیدہ ایک ناگ کنڈلی مارے بیٹھا ہے۔ میں یہ جواپنی یادداشتیں لکھ رہا ہوں یا سنا رہا ہوں، یہ اپنے دل کے اس سیاہ ناگ کو پٹاری میں بِٹھا کر اُس کے سامنے بین بجاکر تماشہ دکھانے کے ہی مترادف ہے۔یہ ہمت اور جان جوکھوں کا کام ہے، میں تو خیر اپنی عدالت کو ڈھونڈھ رہا ہوں یا عدالت مجھے شکاری کتّے کی طرح سونگھتی پھر رہی ہے، مگر تم سب کیا کر رہے ہو؟

میں نے تو اپنا کوبرا دکھا دیا۔ یہ رہا میرا ناگ، مگر تم بھی تو اپنے اپنے ناگ، اپنے اپنے کوبرے دکھائو۔ اے نیک دل اور شریف انسانو!
اس وقت میری یاددشت کو بہت زیادہ محنت کرنا یا بھٹکنا نہیں پڑ رہا ہے۔ بارش کی یاد، میرے حافظے کو اِس طرح اپنے ساتھ لیے لیے چل رہی ہے جیسے بادل پانی کو لے کر چلتا ہے۔ بارش کتنی بھی اندھیری ہو، وہ یادداشت کے لیے ایک کبھی نہ مٹنے والے اُجالے کی مانند ہوتی ہے۔ اب کچھ دیر تک میں جو بھی لکھوں گا وہ تحریر قلم کی سیاہی کے ذریعے نہیں بلکہ ٹین پر ٹپ ٹپ گرتی ہوئی بارش کے ذریعے خودبخود وجودمیں آ جائے گی۔ بارش کی دھند اور اُس کی بوندیں، اس کی بوچھار اور جھاوٹ اور سیاہ بادلوں سے منڈھا ہوا آسمان یہ سب میرے کاغذ قلم ہیں۔ بارش ہی وہ لفظ ہے جس کے سہارے میں بغیر لکنت کے، اپنی فرّاٹے دار زبان میں اُس سیلن زدہ اور بھیگے ہوئے زمانے کو حفظ کر سکتا ہوں۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Khalid Javed

Khalid Javed

Khalid Jawed is an Urdu novelist, short story writer, social critic and essayist. Some of his works include Aakhri Dawat, Nematkhana and Maut ki Kitab, critically acclaimed for his unique style and narrative. He is also an Associate Professor in the Urdu Department of Jamia Milia Islamia, New Delhi


Related Articles

نعمت خانہ - تئیسویں قسط

خالد جاوید: میں ہوش سا کھونے لگا۔ مجھے لگا کہ میں باہر سڑک پر پڑا ہوا ہوں۔ اور میرے اوپر چیل کوّے اُڑ رہے ہیں۔ مری یادداشت بخار کے بھبکوں میں پرزے پرزے ہوکر ہوا میں اُڑ رہی تھی۔

سر بُریدہ خواب

اسد رضا: ایک دن میں گلی میں چل رہا تھا میں ہر دو قدم پر رک جاتا کہ میرا سایہ میرے ساتھ آ ملے لیکن وہ ہمیشہ کی طرح کسی انتظار میں پیچھے ٹھہرجاتا ایسے میں میرا دل کیا کاش شکر دوپہر ہو جائے اور دھوپ تمام سایوں کو نگل جائے اور یہ آنکھ مچولی ختم ہو۔

مٹری کی کہانی

لوک کہانیاں کسی بھی تہذیب کی اپنی ثقافت، روزمرہ کے رہن سہن اور عام لوگوں کی خواہشوں، اندیشوں اور خیالوں