نعمت خانہ - ستائیسویں قسط

نعمت خانہ - ستائیسویں قسط
اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

پھر یوں ہوا کہ پاخانے میں چیونٹے نظر آنے لگے۔ شروع شروع میں تو کسی نے اس طرف دھیان نہیں دیا، ویسے بھی پرانے زمانے کا بڑے بڑے اور اونچے اونچے قدمچوں والا پاخانہ تھا اور قدمچوں کی اینٹوں کی دراڑوں میں کیڑے مکوڑے تو رہتے ہی تھے۔ چھپکلیاں اور سانپ کے چھوٹے چھوٹے بچّے اکثر وہاں آتے تھے اور اُس زمانے میں یہ کوئی خطرناک یا غیر معمولی بات بھی نہیں سمجھی جاتی تھی۔ اگلے وقتوں کے لوگ ان چیزوں کے عادی تھے۔

مگر جب وہاں کالے کالے اور بڑے سے چیونٹوں کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہوتا ہی گیا اور قدمچوں پر سکون سے بیٹھنا مشکل ہوگیا تو سب کو فکر لاحق ہوئی۔ دشواری یہ بھی تھی کہ چیونٹوں کو مار ڈالنے یا مسل ڈالنے پر بھی پابندی تھی۔ تب ایک دن بڑے ماموں نے بتایا کہ اُن کے پیشاب پر تو چیونٹے بری طرح یلغار کر دیتے ہیں۔

خودمیں نے بھی کئی بار محسوس کیا تھا کہ بڑے ماموں کے پاخانے سے واپس آنے کے بعد، خاص طور پر، وہاں بے شمار چیونٹے فرش اور موری میں رینگتے ہوئے یا چپکے ہوئے نظر آتے تھے۔

بہت دنوں سے بڑے ماموں کا وزن گھٹتا جارہا تھا۔ ان کا بھاری بھرکم چہرہ سُت کر رہ گیا تھا اور آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے بن گئے تھے۔ پہلے اُن کی اچھی خاصی توند تھی مگر اب اُن کا پیٹ پچکا ہوا نظر آتا تھا۔ ان کے سارے کپڑے ڈھیلے ہوگئے تھے۔

آخر جب اُنہیں بہت زیادہ کمزوری محسوس ہونے لگی تو وہ اپنے خاندانی حکیم کے پاس گئے اور اس طرح پاخانے میں چیونٹوں کی فوج ہونے کا بھید کھُل گیا۔

بڑے ماموں کے پیشاب میں نہ جانے کب سے شکر آرہی تھی اور وہ بھی تھوڑی بہت نہیں، بہت زیادہ۔
اُنہیں خطرناک اور شدید قسم کی ذیابیطس ہوگئی تھی۔ اُن کے لبلبے نے تقریباً کام کرنا بند ہی کر دیا تھا۔
حکیم نے پتہ نہیں کون کون سی جڑی بوٹیوں سے اُن کا علاج شروع کر دیا اور کھانے میں میٹھا بالکل بند کر دیا۔

بڑے ماموں کو میٹھابہت پسند تھا۔ ان سے روکھا سوکھا کھانا نگلا تک نہ جاتا تھا۔ اُن کے لیے پرہیز کا کھانا پکتا تھا جس کو وہ اکثر غصّے میں اُٹھا کر پھینک دیتے تھے۔ اگر کبھی اُن کوباورچی خانے سے کوئی اشتہا انگیز خوشبو آجاتی تو وہ بچوںکی طرح رونے لگتے۔ گھر کے باقی افراد اُن سے چھپ چھپ کر کھانا کھانے لگے۔

ایک دن بڑے ماموں نے اپنی گردن کی بائیں طرف ایک چھوٹی سی پھنسی دکھائی۔
’’ذرا دیکھنا،گڈّو میاں، یہاں کیا ہے؟‘‘ اُنہوں نے پھنسی پر اپنی خشک انگلی پھیری۔
میں نے غور سے دیکھا، ایک بہت چھوٹی سی، سرخ رنگ کی پھنسی تھی۔
’’کچھ نہیں ذرا سا دانہ ہے۔‘‘ میں نے کہا۔

’’ہاں مگر بہت تنّا رہاہے۔۔۔ لاؤ ذرا آئینہ تو لے کر آؤ۔‘‘
میں بھاگ کر دالان میں کارنس پر رکھا آئینہ اُٹھا لایا۔
’’لاؤ مجھے دکھاؤ۔‘‘

میں نے آئینہ میں اُنہیں گردن پر نکلا وہ چھوٹا اور معمولی سا دانہ دکھایا۔ وہ مطمئن ہوگئے مگر یہ لگاتار کہتے رہے کہ دانہ دردبہت کر رہا ہے۔ پھر اُنہوں نے خود کو یہ کہہ کر بھی تسلّی دی کہ چونکہ یہ دانہ گردن کی بالکل رگ پر ہے۔ شاید اس لیے اتنی تکلیف کر رہا ہے۔

مگر دوسرے دن اُس دانے میں پیلے رنگ کا مواد پیدا ہوگیا۔ اور وہ خاصا پھول بھی گیا۔

حکیم نے دانے پر پان کے ساتھ کسی مرہم کا لیپ لگانے کے لیے دیا، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔بلکہ دانے میں تکلیف اور جلن اتنی بڑھ گئی کہ بڑے ماموں رات بھر کراہتے رہے۔
صبح ہوتے ہوتے اُن کی گردن پر ایک بڑا سا پھوڑا موجود تھا اور وہ بخار سے جل رہے تھے۔
اب خاندانی حکیم سے کام چلنے والا نہیں تھا۔ بڑے ماموں کو اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اُن کا معائنہ کیا اوراس پھوڑے کی وجہ خون میں شکر کی حد سے بڑھی مقدار تجویز کی۔ مگر ڈاکٹروں نے پھوڑے کا آپریشن اُس وقت تک ملتوی کر دیا جب تک کہ شکر نارمل نہ ہوجائے۔
بڑے ماموں کے پیروں میں بھی چھوٹے چھوٹے سے زخم تھے۔

انھیں انسولین کے انجکشن دیے جانے لگے۔ وہ بات بات پر رونے لگتے اور میں اپنی چھٹی حس سے یہ بتا سکتا ہوں کہ وہ موت سے گھبرا کرنہیں روتے تھے۔ موت تو شاید، ان کی دانست میں کسی غیر معین عرصے کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی (جیسا کہ ہر شخص سوچتا ہے کہ دوسرے مریں تو مرتے پھریں، شاید اُن کی اپنی موت ہمیشہ کے لیے ملتوی ہی رہے۔ لوگ زندگی کی کتاب میں اپنا اِندراج کرانے کے لیے ہمیشہ قطار میں کھڑے رہتے ہیں۔ افسوس کہ اس عرصے میں کب اُن کا نام نادیدہ ہواؤں میں اُڑ کر موت کی کتاب میں، ایک زیادہ سیاہ روشنائی میں درج ہوجاتا ہے اُنہیں اس کی ہوا تک نہیں لگتی۔)

بہرحال میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ اسی وجہ سے پریشان ہوکر اور گھبرا کر روتے تھے کہ انھیں کھانے میں وہ اشیاء نہیں مل رہی تھیں جو اُنہیں بہت مرغوب تھیں اور اُن کی نظر میں خدا کی نعمتیں تھیں جن سے وہ محروم ہوگئے تھے۔

وہ دن باورچی خانے پر بڑے سخت گزر رہے تھے۔ اگر کبھی چھپ کر قورمہ یا بریانی پکائے جاتے تو اُس کے ساتھ ساتھ چولہے کے آنولے پر مولیوں کی بجھیا یا گوبھی بھی چڑھا دی جاتی تاکہ مولی اور گوبھی کی ناک سڑا دینے والی بو میں بریانی کی مہک دب کر رہ جائے۔ یعنی باورچی خانہ اُس وقت بالکل دنیا کے مماثل بن گیا تھا جہاں ہر نفیس شے کوکیچڑ سے پوت دینے کا عمل ابتدائے آفرینش سے ہی جاری ہے۔

مسئلہ صرف جمعرات کا ہوتا جب گھر میں مولی یا گوبھی یا کسی بھی ایسی چیزکا پکنا ممنوع تھا جس پر فاتحہ ہوسکتی تھی۔ جمعرات کو اوّل تو دال کبھی پکتی ہی نہیں اور اگر پکتی بھی تو اُس میں لہسن پیاز کا بگھار لگنے کا تو سوال ہی نہ تھا۔

جمعرات کو، سہ پہر ہی سے بڑے ماموں اپنے باندوں کے پلنگ پر بیٹھ کر باورچی خانے کی طرف بے حد چوکنّے ہوکر دیکھتے رہتے تھے۔ اور باربار ناک کے نتھنے سکوڑ کر، وہاں سے آنے والی خوشبوؤں کی تاک میں رہتے۔

دونوں وقت ملنے سے پہلے، سینی میں لگاکر جب کھانے پر فاتحہ دی جاتی تو وہ دُور بیٹھے دیکھتے رہتے اور پھر بچّوں کی طرح رونے لگتے۔ روتے وقت اُن کی گردن کا پھوڑا اور بھی زیادہ بڑا اور پھولا ہوا نظر آتا تھا۔ پھوڑے کے آس پاس کی سرخی ساری گردن پر پھیل جاتی۔ گردن کی ساری رگیں پھول جاتیں اورایسا لگتا جیسے یہ پھوڑا ابھی ابھی پھوٹ جائے گا اور اِس کا سارا کچ لہو اور مواد باہر نکل جائے گا۔

کچھ دنوں تک تو گھر کا ہر فرد بریانی اور قورمہ کھاکر اپنے آپ کو مجرم سمجھتا رہا۔ مگر یہ کب تک چلتا؟

آخر سب کی اپنی اپنی آنتیں تھیں اور اپنے اپنے دانت، اپنے اپنے وجود کے نہاں خانوں میں وہ سب قید تھے۔آہستہ آہستہ بڑے ماموںکا رونا روزمرّہ کے معمول میں شامل ہوگیا اور گھر کے افراد نے اُن کے رونے پیٹنے سے متاثر ہونا چھوڑ دیا۔ بڑے ماموں اُس بلّی کی مانند نظر انداز کیے جانے لگے جو باورچی خانے کے سامنے بیٹھ کر مسکین اندازمیں، منھ بنابناکے اور پلکیں جھپکا جھپکاکے کھانا پکتے یا انسانوں کو کھانا کھاتے دیکھتی رہتی ہے۔ اور کسی پر کوئی اثرنہیں ہوتا۔

کئی ماہ گزر گئے اور تب یہ کرشمہ نمودار ہوا۔

بڑے ماموں کی گردن کا پھوڑا آہستہ آہستہ دبنے اور سکڑنے لگا۔ اس کے اندر کا مواد سوکھنے لگا اور آس پاس پھیلی ہوئی سرخی کم ہونے لگی۔ دیکھتے دیکھتے کچھ ہی دنوں میں وہاں بس ایک چنے کی دال کے دانے برابر ایک گلابی سی گانٹھ ہی رہ گئی۔ یہ ایک عجیب کرشمہ تھا جو ڈاکٹروںکی سمجھ میں بھی نہ آیا۔ جیسے چندعناصر سے دنیا کی تشکیل ہوتی ہے۔ اس کا حجم بڑھتا ہے، وہ ارتقا کے سفر کی طرف گامزن ہوتی ہے۔ پھر ایک دن وہ سکڑنے لگتی ہے۔ واپس اپنے عناصر کی جانب لوٹتی ہے اور پھر یہ عناصر خلا میں اِدھر اُدھر بہت دور کہیں بکھر کر رہ جاتے ہیں۔ بڑے ماموں کا پھوڑا دراصل اُن کی گردن پر ایک کائنات کا بننا اور بگڑنا تھا (نمودار ہوکر معدوم ہوگئی(کائنات)) مگر پھوڑے کے دبنے کے بعد وہ بہت بوڑھے نظر آنے لگے۔وہ ہر وقت کھانستے رہتے اور اُن کی سانس دھونکنی کی طرح چلتی رہتی۔ اُن کی یادداشت نے تقریباً کام کرنا بند ہی کر دیا۔ آنکھوں میں ایک عجیب سی اجنبیت آکر بیٹھ گئی۔ اور کسی نے تو نہیں مگر مجھے اُن کی آنکھوںکی رنگت بھی بدلی بدلی لگی۔ مجھے اُن کی آنکھیں پیلی پیلی بھی نظر آنے لگیں۔ ممکن ہے کہ یہ میرا دھوکہ ہو کیونکہ پیلا پن تو ہمیشہ ہی میرے اعصاب پر سوار رہتا ہے۔

تھوڑے عرصے بعد سننے میں آیا کہ بڑے ماموں کے گردے خراب ہورہے ہیں۔ ان کا ہلنا پھرنا تقریباً بند ہوتا گیا۔ ذیابیطس کی وجہ سے اُن کے پاؤں میں پہلے ہی سے زخم تھے، اُن کے منھ اور پیروں پر سوجن بھی آگئی۔ اُس زمانے میں، مجھے بہت سی باتوں کی تمیز نہیں تھی۔ مگر اب جبکہ میں خود پکّی عمر کو پہنچ چُکا ہوں اور یہیاد داشتیں لکھ رہا ہوں تومیری سمجھ میں یہ بات آگئی ہے کہ اُن کی سب سے بڑی بیماری تو بڑھاپا تھی۔ ان کی عمر ہوگئی تھی۔ بُڑھاپے اور بیماری میں جسم تقریباً غیر حاضر رہتا ہے۔ سارے کام بُڑھاپا اور بیماری ہی نپٹاتے ہیں۔

مجھے یاد نہیں کتنا عرصہ گزر گیا۔ اُن کی بیماری اوراُن کی عمر طویل ہوتی گئی۔ شاید پھر سے سردی آگئی تھی۔ مجھے آج بھی اپنی پرانی بچپن کی رضائی یاد ہے۔ وہ رضائی جس کے اندر کی روئی دُھند کے ٹکڑے بن کر فضا کی مبہم پہنائیوں میں معدوم ہو گئی۔ مگر میرے بچپن کے جسم کے اند ربھرے خون کی ایک مٹھّی بھر حرارت اُس روئی کے اندر کہیں پھنسی رہ گئی ہے۔

موسم کو بدلتے کیا دیر لگتی ہے۔ وہ انسانوں سے بھی زیادہ تغیر پذیر ہے۔ انسانوں کو، بے چارے عام انسانوں کو بدلتے بدلتے بہرحال بہت وقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آدمی کو اس کنارے سے اُس کنارے کے قریب پہنچتے پہنچتے تاریک پانیوں میں ڈوب کر اوپر آنا پڑتا ہے اور تب جاکر کہیں وہ اِس قابل ہوتا ہے کہ اعتماد کے ساتھ اپنی یادداشت، اپنے حافظے کو فراموش کر سکے۔ اپنی آنکھوں کی رنگت کو بدل سکے۔ لوگوں کے نام بھلا سکے یا اُنہیں غلط طریقے سے پکار سکے۔ اب اُس کے پھیپھڑے، اطمینان کے ساتھ اپنی پھولتی ہوئی سانسوں پر شادماں ہوسکتے ہیں۔ اپنی کھانسی پر فخر کا اظہار کرسکتے ہیں۔ اب وہ آدھی رات کو میٹھا کھانے کے لیے کسی سے کچھ فرمائش کرنے پر جھجک نہیں محسوس کرتے۔

یہ تغیر، یہ تبدیلی اُس کی انا سے ایک مستقل نجات کا نام ہے۔ بیماری میں ایک بوڑھا، سنکی، کمزور اور تقریباً ہر منظرنامے سے غیر حاضر جسم ہی دراصل ایک مکمل انسان ہے۔ مکمل طور پر اخلاقی، ریاضی کے ’اکائی‘ کے ہندسے کی مانند اپنی ہی روشنی میں چمکتا ہوا، گزرے اور پچھلے وقتوں کے گناہوں کو، نفرتوں کو، محبتوں اور رفاقتوں کو، سب کو کچلتا ہوا، دربدر کرتا ہوا، ساری خواہشوں کو ساری شہوتوں کو، بس ایک ’خواہش‘ کے سفید پردے جیسے کفن سے ڈھکتے ہوئے۔

بس ایک ’’خواہش‘‘، میٹھا کھانے، مٹھائی کھانے کی عظیم خواہش کے سفید اُجلے بے داغ پردے کو ہر جذبے پر ڈال کر ڈھانپتے ہوئے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Khalid Javed

Khalid Javed

Khalid Jawed is an Urdu novelist, short story writer, social critic and essayist. Some of his works include Aakhri Dawat, Nematkhana and Maut ki Kitab, critically acclaimed for his unique style and narrative. He is also an Associate Professor in the Urdu Department of Jamia Milia Islamia, New Delhi


Related Articles

نعمت خانہ - چوبیسویں قسط

خالد جاوید: تو مجھے یرقان ہوا تھا۔ شام ہوتے ہوتے مجھے گھر اور دنیا کی ہر شے پیلی نظر آنے لگی۔ میرے پیشاب کا رنگ ہلدی کی طرح ہو گیا۔ میرے جسم کی کھال پر جیسے زرد سفوف سا مل دیا گیا تھا جو شاید بستر پر بھی جھڑتا رہتا تھا۔

نعمت خانہ - پہلی قسط

خالد جاوید: ہوا ہی وہ چشم دید گواہ تھی جس نے دیکھا کہ وہ اپنے ہی گھر میں ایک اکیلے مگر اُداس کالے چور کی طرح داخل ہوا۔ گھر پتہ نہیں بن رہاتھا یا گر رہا تھا یا کہ کھنڈر بن رہاتھا۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا، صرف ہوا جانتی تھی۔

نعمت خانہ - چھبیسویں قسط

خالد جاوید: موت کیا ہوتی ہے، اس کا چہرہ کیسا ہوتا ہے، وہ کس طرح چلتی ہے، کسی طرح آتی ہے؟ ان میں سے کسی بات سے میں آشنا نہ تھا۔ مگر جلد ہی وہ وقت بھی آنے والا تھا اگرچہ مجھے اس کا ذرا سا احساس تک نہ ہوا۔