نعمت خانہ - سولہویں قسط

نعمت خانہ - سولہویں قسط
اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اُنہیں دنوں نورجہاں خالہ کی رشتے کی ایک بھتیجی جو ایک قریبی تحصیل میں رہتی تھی، شہر میں علاج کرانے کے لیے آئی۔ وہ ہمارے گھر ہی ٹھہری، اُس کا نام ’’انجم بانو‘‘ تھا۔

وہ اپنے بھائی کے ساتھ آئی تھی جو قصبے سے رساول کی ہانڈی بھی ساتھ لایا تھا۔ مٹّی کی ہانڈی جس پرلال کاغذ منڈھا ہوا تھا۔ ان دنوں یہ روایت تھی کہ ہمارے گھر سے جب کوئی کسی رشتے دار کے یہاں دور گائوں یا قصبے جاتا تو رساول کی ہانڈی لے کر ضرور جاتا اورجو رشتے دار ہمارے یہاں آتے وہ بھی رساول کی ہانڈی لے کر آتے۔ یہ ہانڈی اپنی بناوٹ اور ہیئت کے اعتبار سے ہمیشہ مجھے پُراسرار ہی نظر آئی۔ اگرچہ رساول میں بھی بہت شوق سے کھاتا تھا۔

انجم بانو عمر میں میرے برابر تھی۔ اس کے جسم میں خون کی کمی تھی۔ وہ زرد رنگ کی تھی۔ ممکن ہے کہ اس کی رنگت پہلے گوری رہی ہو مگر اب اُس کی تمام کھال زرد تھی۔ اس کی پیلی رنگت کا موازنہ انجم باجی کی رنگت سے نہیں کیا جاسکتا تھا۔ جو کہ اُنہیں فطرت کی طرف سے دیا گیا ایک خوبصورت اور پاکیزہ رتحفہ تھا۔اس کی آنکھیں بڑی بڑ ی اور خالی خالی سی تھیں۔ جس کی پتلیوں میں صرف پیلا رنگ لگا ہوا تھا۔ جب وہ مسکراتی تو اُس کی پتلیوں کا یہ پیلا رنگ ہلکی سی سرخی میں تبدیل ہوتا نظر آتا مگر فوراً ہی معدوم ہوجاتا۔

دوپٹے میں اُس کے سینے کا اُبھار بہت غور سے دیکھنے کے بعد ہی محسوس ہوتا ورنہ وہ صرف ایک سپاٹ سینہ تھا۔ میری عمر اب اتنی ہوگئی تھی کہ میں عورت کے تئیں خاص جنسی دلچسپی بھی لے سکتاتھا۔ اور یقینا مجھے انجم بانو سے ایک خالص جنسی دلچسپی پیدا ہوگئی۔ ممکن تھاکہ آگے چل کر اس میں محبت کا عنصر بھی شامل ہو جاتا کیونکہ محبت اور جنس ایک دوسرے کے اس طرح پیچھے لگے رہتے ہیں جیسے اُمس کے پہلے بارش یا حبس کے پیچھے پیلی آندھی۔ مگر ایسا نہ ہو سکا، اس کی وجوہات تب تو نہیں مگر اب میں تھوڑا تھوڑا سمجھ سکتاہوں۔

انجم بانو کی آنکھوں میں بھی ایک پیاس تھی۔ ایک سخت جنسی پیاس جو کسی بھی جوان لڑکی، جو بیمار رہتی ہو، میں غیر معمولی طور پر پائی جاتی ہے۔ صرف ایک ہفتے کے اندر اندر ہم دونوں نے ایک دوسرے کی آنتوں۔۔۔ معاف کیجیے گا، آنکھوں کو مکمل طور پر پڑھ لیا۔
ایک سنسان سی دوپہر میں، میں چپکے سے اُٹھ کرباورچی خانے میں آگیا۔ وہ باہری دالان میں بیٹھی مسورکی دال بین رہی تھی۔
باورچی خانے میں آکر میں نے اُسے اشارہ کیا۔ وہ پہلے تو خاموشی سے دال بینتی رہی پھر ایک چوکنّی بلی کی طرح اُس نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ اور دال کی سینی لیے لیے، دبے پائوں، بلّی کی چال چلتی ہوئی باورچی خانے میں آگئی۔

میں اُسے اندر کوٹھری میں لے گیا جہاں روشندان سے چھن چھن کر دوپہر کے سورج کی روشنی اندر آرہی تھی۔ مجھے کوئی پہل نہیں کرنی پڑی، وہ تو آتے ہی مجھ سے بری طرح لپٹ گئی اور مجھے دیوانہ وار چومنے لگی۔ اس کی سانسوں سے آم کے اچار کی بو آرہی تھی۔ میں نے اُس کے پستانوں کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہاں کچھ بھی نہ تھا یا اگر تھا تومیری انگلیوں کو محسوس نہ ہوسکا۔

مگر وہ بالکل ہی ہوش کھو بیٹھی۔ اس نے میرا ایک ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر زور سے چپکا لیا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی عورت کے پستان باہر کو اُبھرے ہوئے یا بڑے بڑے ہیں یا نہیں۔ شاید جس طرح کچھ انسانوں کے ایک آدھ دانت مسوڑھوں کے اندر ہی رہتے ہیں۔ اور زندگی بھر باہر نہیں نکلتے۔ اسی طرح کچھ عورتوں کے پستان سینے کی نامعلوم، پُراسرار گہرائیوں میں چھپے رہتے ہیں۔ اور مرد کے ہاتھ لگنے سے باہر آنے کے لیے تڑپ اُٹھتے ہیں۔

وہ بری طرح تڑپ رہی تھی۔ اس کی سانسیں بہت تیز ہوگئیں۔ اس کی دھونکنی سی چلنے لگی۔لگا کہ جیسے اس کے پھیپھڑے پھٹنے والے ہیں۔ آم کے اچار کی بُو بڑھتی گئی۔ مجھے آم کی بو یا خوشبو سے نفرت تھی جو آج تک قائم ہے۔ میں بدمزہ ہونے لگا۔ اور پھر دھیرے دھیرے خوف زدہ بھی۔

اُس کے پیلے چہرے پر روشندان سے آتی ہوئی دھوپ کی کرن پڑ رہی تھی۔ مجھے اچانک اُس کا پیلا چہرہ اور پیلا جسم بہت پاکیزہ نظر آیا۔

یہ جسم بیمار تھا، اس جسم میں خون نہیں بنتا تھا۔ آدمی کے جسم میں زیادہ خون ہونا ہوس کی نشانی ہے اور بھدّا بھی۔
مگر انجم بانو کی ہوس اُس کی روح میں پوشیدہ تھی اور اُس بھیانک ہوس اور شہوت کا ساتھ دینے میں اُس کا بیمار، خون کی کمی کا مارا ہوا، یرقان زدہ جسم ساتھ نہیں دے سکتا تھا۔ اس لیے وہ جسم ایک خزاں رسیدہ پتّے کی طرح لرزنے اور کانپنے لگا۔ انجم بانو کی روح کی پیاس نہ جانے کتنی صدیوں کی پیاس تھی اور یہ پیاس اس لیے بے قابو تھی کہ انجم بانو کا جسم بہت بیمار تھا۔ روح جسم پر اپنی شہوت، اپنی خواہش اور اپنی ہوس کے وار پہ وار لگاتی جارہی تھی۔ وہ اس کمزور، بیمار مگر پاکیزہ جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر ہلاک کر دینے کے درپے تھی۔

میں انجم بانو سے دور ہٹ گیا۔ وہ میری طرف بڑھی۔ میں نے اُسے جھٹک دیا۔ اس کی بڑی بڑی خالی آنکھوں میں انڈے کی سی زردی آکر بیٹھ گئی۔ ایسا لگا جیسے اُسے مرگی کا دورہ پڑنے والا ہو۔ وہ دھم سے زمین پر بیٹھ گئی۔ اس کے دانت بھنچنے لگے اور پورا جسم اکڑنے لگا۔ اس کا پیلا جسم اچانک ناقابل یقین طور پر سیاہ پڑنے لگا۔ انجم بانو پیلی سے کالی ہوگئی۔ میرے سامنے، ہاں بالکل میری آنکھوں کے سامنے۔

مگر میں واضح طور پر کہہ سکتا ہوں کہ وہ ایک مقدس سیاہی تھی۔ ہوس زدہ روح نے پاکیزہ جسم سے بدلہ لیا تھا۔ مگر جسم نے بھی روح کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔ میں تھوڑی دیر تک، ڈرا ڈرا اُسے یونہی دیکھتا رہا پھر جلدی سے باورچی خانے سے باہر نکل گیا۔
انجم بانو تین دن اور ہمارے گھر میں رہی مگر نہ میں نے اُس کی جانب دیکھا اور نہ اس نے میری طرف نظر اُٹھائی۔ تین دن بعد اُس کا بھائی آکر اُسے واپس لے گیا۔ مگر اس بار بھی وہ لال کاغذ منڈھی رساول کی ہانڈی لانا نہیں بھولا تھا۔ ڈاکٹروں نے اُس کا مرض لاعلاج بتایا تھا۔ اسے ایک بہت خطرناک بیماری تھی۔ اس کا جسم خون بناتا ہی نہیں تھا، سوائے اس کے کہ اُسے خون چڑھایا جاتا رہے۔ اور کوئی چارہ نہ تھا۔

کیا کسی نے بھی اس پر غور کیا کہ محض روح کی پاکیزگی کے ڈنکے پیٹتے رہنے سے ہی کچھ نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ تو جسم کا ہے، جسم کی پاکیزگی ہی اصل شئے ہے۔ انسان کو چاہئیے کہ شعور بالذات کی بات تو بہت ہو چکی، اب ذرا بدنام زمانہ مادّے کی بات بھی ہو جائے۔ مادّے کو بھی اُس کاجائز حق دیا جائے۔ آخر کب تک روح اپنے اعمال کی سزا جسم کو دیتی رہے گی۔

روح نے کیا سوچا ہے کہ اگر کبھی جسم اس کے احکام کی تعمیل کرنے اور اُس کی غلامی کرنے سے انکار کر دے تو؟ تو پھر شاید دنیا کی تاریخ دوسری طرح سے لکھی جائے گی۔

ایک عرصے بعد میں نے سنا کہ انجم بانو کاانتقال ہوگیا۔ وہ جب تک زندہ رہی اُس کے جسم میں لگاتار خون چڑھایا جاتا رہا۔ مگر پھر اُس کے جسم نے دوسروں کا خون بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ جب بھی اُسے خون کی بوتل چڑھائی جاتی۔ تو اُس کے بعد اس کی ناک، کانوں اور منھ سے خون باہر آنے لگتا۔ مرنے سے ایک ماہ پہلے انجم بانو نے کھانا پینا بالکل چھوڑ دیا تھا۔ اس کی آنتیں بالکل صاف اور پاک تھیں اور پرانی آلودگی، بدنیتی، چٹورے پن اور بھوک کے ہر نشان سے عاری تھیں۔
آخر انجم بانو کے جسم کی پاکیزگی نے سب کو ہراکر رکھ دیا۔

افسردہ کر دینے کے لیے انسان کے پاس کتنی باتیں، کتنی یادیں ہوتی ہیں اور خوش ہونے کے لیے بہت کم۔ ماضی کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ ماضی کی مسرتوں اور خوشیوں کو بھی اگر یاد کریں تو وہ بھی ایک اُداسی اور افسردگی میں ہی بدل جاتی ہیں۔ گزرا ہوا وقت ہوبہو سامنے نہیں آتا— وہ ایک پریت کی خوفناک شکل میں سامنے آتا ہے۔ مردہ بندر کے پنجے یا ہڈی کی طرح۔

اکتوبر کا مہینہ بھی گزر گیا اور نومبر کا مہینہ آپہنچا۔ نومبر کا مہینہ دراصل کوئی مہینہ ہی نہیں۔ اس کا اپنا کوئی موسم ہی نہیں۔ یہ ایک زوال پذیر مہینہ ہے۔ اندھیری ڈھلان پربے جان چٹانوں کی طرح لڑھکتے ہوئے، نومبر کے یہ دن، راتوں کے ہاتھ مضبوط کرتے ہوئے۔ آنے والے سرد، گاڑھے، ہوائوں کے شور سے لدے پھندے، دسمبر کے اندھیروں کے انتظار میں پہلے سے ہی صفیں باندھیں، سیلوٹ کرتے ہوئے،نومبر کے یہ دن جو سال کے بارہ مہینوں میں کہیں اپنی کوئی انفرادی یا باوقار چھاپ نہیں چھوڑتے۔ موسم کے اعتبار سے، یہ معمولی، حقیر دن، گرتے ہوئے، جلدی سے غائب ہوتے ہوئے۔ ان کی چھاپ صرف اُن بدنصیبوں پر ہی پڑتی ہے جن کے سینے پر نومبر کا کوئی لڑھکتا ہوا پتھّر آکر ٹھہر گیا ہو۔

روح کے پاگل پن کی سزا جسم کو جھیلنا پڑتی ہے۔

انھیں دنوں ایک پاگل بندریا نے ہمارا گھر دیکھ لیا۔ وہ بندریا ہر وقت حیض سے ہوتی رہتی تھی اور جب موقع ملتا، کسی نہ کسی کو کاٹ کھاتی۔ اُس زمانے میں مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ بندریوں کو بھی حیض ہوتا ہے، مگرجب میں نے اُس بندریا کی دُم پر خون کے دھبے دیکھے تو میں سمجھ گیا۔ آخر سائنس کے مطابق بندر ہی تو انسانوں کے آبائواجداد ہیں۔ انھیں حیوانوں کی ساری لعنتیں، انسان بھی بھگت رہے ہیں۔

رات کو سوتے وقت، ہر شخص کو خوف تھا کہ کہیں سوتے میں بندریا نہ آکر کاٹ لے۔ محلّے میں بہت سے لوگوں کو اس نے سوتے میں کاٹ لیا تھا۔

دن میں وہ، چھتوں اور منڈیروں پر اِدھر اُدھر کودتی پھاندتی اور بھٹکتی پھرتی اور رات میں پتہ نہیں کہاں دُبک کر بسیرا کرتی۔
میں نے اُسے دیکھا تھا،وہ ایک قوی الجثّہ بندریا تھی جس کی آنکھوں میں پاگل پن اور ایک بے قابو اور بے تُکا غصّہ بھرا رہتا تھا۔ اسے کوئی بیماری تھی۔ وہ شاید ہمیشہ حیض سے ہوتی رہتی تھی۔ یہ کوئی ایسی حیران کن بات نہیں۔ جسم کے اندر ہزارہا پُراسرار پہلو ہوتے ہیں۔ اس پاگل بندریا کی وجہ سے جاڑے کے یہ شروعاتی دن بڑی دہشت میں گزر رہے تھے، مگر ایک دن یہ مسئلہ حل ہو گیا۔ وہ سامنے والے گھر کی تین منزلہ عمارت کی چھت پر کودتے کودتے اچانک ٹپ سے سڑک پر گر پڑی۔ سارا محلہ اُسے دیکھنے بھاگا۔ میں بھی گیا۔

وہ سڑک پر مردہ پڑی تھی۔ اس کے منھ میں ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا پھنسا ہوا تھا۔ اس کے جسم کا نچلا حصّہ خون سے سنا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں جن میں وہی پاگل غصہ لگاتار اب آسمان کی طرف تاکے جارہا تھا۔ شام ہو رہی تھی، مغرب کی اذان ہونے لگی۔ میں نے سوچا کیا بندریا نے بھی خودکشی کی ہے۔ لوسی کی طرح؟ ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو یا نہ ہو۔ بڑھتی ہوئی تاریکی نے سڑک پر پڑی بدنصیب بندریا کی لاش کو ڈھک دیا۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Khalid Javed

Khalid Javed

Khalid Jawed is an Urdu novelist, short story writer, social critic and essayist. Some of his works include Aakhri Dawat, Nematkhana and Maut ki Kitab, critically acclaimed for his unique style and narrative. He is also an Associate Professor in the Urdu Department of Jamia Milia Islamia, New Delhi


Related Articles

نعمت خانہ - ساتویں قسط

خالد جاوید: میں اُن کی رنگت سے ہی لپٹا رہنا چاہتا تھا۔ کاش! وہ سفید اُجلا رنگ انجم باجی کے جسم کی کھال سے نہ چپکا ہوتا۔ کاش! وہ رنگت اُن سے ماوراہوتی، کہیں خلا میں،یا ہوا میں، یا آسمان میں اور تب میرے گناہوں کے اندھیرے اتنے گاڑھے نہ ہوتے۔ وہاں کچھ سفیدی باقی رہتی۔

نعمت خانہ - اٹھارہویں قسط

خالد جاوید: مجھے اُس وقت تک کچھ پتہ نہ تھا کہ دسمبر میری زندگی کو ہمیشہ کے لیے ایک ایسی ریل گاڑی بناکر رکھ دے گا جو ایک سنسان، چھوٹے اسٹیشن پر اس لیے رُکی کھڑی رہے گی کہ کہرے میں اُسے کوئی سگنل نہ نظر آتا تھا۔

نعمت خانہ - تیسری قسط

خالد جاوید: لوہے کے پرانے زنگ لگے نل کو بائیں ہاتھ سے پکڑے، وہ اِسی جگہ ساکت و جامد کھڑاتھا اور اُس کا بایاں پیر گیلی لیس دار مٹّی میں پنڈلی تک اس طرح دھنسا ہوا تھا، جیسے اُس پر پیلی مٹّی کا سخت اور مضبوط لیپ چڑھایا گیا ہو اور ٹوٹی ہوئی ہڈی ہِل جُل نہ سکتی ہو